Thu, Feb 25, 2021

یہ جو مزدورہیں کتنے مجبور ہیں
مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ
استاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد
9396227821

ہاتھ اور پاؤں بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں
فخر کرتا ہوں کہ کھاتا ہوں فقط رزق حلال
اپنے اس وصف قلندر پہ تو مغرور ہوں میں
سال تو سارا ہی گمنامی میں کٹ جاتا ہے
بس یکم مئی کو یہ لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
بات سنتا نہیں کوئی میری ایوانوں میں
سب کے منشور میں گو صاحب منشور ہوں میں
اپنے بچوں کو بچا سکتا نہیں فاقوں سے
ان کو تعلیم دلانے سے بھی معذور ہوں میں
یوم مزدور ہے چھٹی ہے مرا فاقہ ہے
پھر بھی یہ دن تو مناؤں گاکہ مزدور ہوں میں
مجھ کو پردیس لیے پھرتی ہے روزی واصف
اپنے بچوں سے بہت دور بہت دور ہوں میں

مزدوری کا پیشہ بہت ہی دشوار ترین پیشہ ہے، مزدور ہر معاملہ میں بنیادی کردار کرتے ہیں؛ مگر ان کی محنتیں خاک وعرق میں بہہ ہوجاتی ہیں، ان کی مشقتیں کبھی عمارتوں کی بنیاد ںمیں دفن ہوجاتی ہیںتو کبھی خلاؤں کا سفر کرتے ہوئے گوشۂ گمنامی کے حوالہ ہوجاتی ہیں، ہر کام کی کامیابی میں مزدوروں کا بڑا کردار ہوتا ہے، مزدور طبقہ اپنے خون پسینہ کو خاک میں ملا ڈالتا ہے اور وہی سب کی نظر میں ایک گھسٹا پٹا طبقہ تصور کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ رہنے کو لوگ تیار نہیں ہوتے ، ان کے ساتھ کھانے کو عیب تصور کیا جاتاہے ، ان کے ساتھ ہنسنے بولنے کو وقار کے خلاف محسوس کیا جاتا ہے، ان کی ضروریات کا خیال کرنے کو حماقت گردانا جاتا ہے، ان کے دکھ درد سمجھنے کو ناعاقبت اندیشی جیسے طعنوں سے نوازا جاتا ہے، ان کے ساتھ تعلقات کو اپنی عزت و شہرت کے لیے ایک کلنگ ماناجاتا ہے، آخر یہ کیا فلسفہ ہے؟ اس زہریلی سوچ نے انسانی بنیادوں کو پامال کردیا ہے ، اس منحوس نظریہ نے انسانیت نوازی کی قدروں کو گھٹا کر رکھ دیا ہے ، اس بے معیار پیمانے نے امیر و غریب، بڑے وچھوٹے، مفلس ورئیس اور زردار وفقیرکو خوب تولنے کی کوشش کی ہے،ایسی گھٹیا نظروفکر کے نتیجہ میں لوگ جسمانی اعتبار سے تو انسان اور نظریاتی اعتبارسے حیوان ہونے لگ گئے، ہمدردی کے جذبات ماند پڑگئے، غریبوں کے خون پر اپنے خوشی کے دئیے جلانے آسان ہوگئے، مجبوروں کے آنسوؤں کو ریا اور تصنع قرارد یا جانے لگا، ا ن کی سسکیوں کو نظرانداز کیا جانے لگا، ان کی ہچکیوں کا مزاق اڑایا گیا، ان کی پگڑیوں سے جوتوں کی دھول صاف کروائی گئی، عزت کے دوبول ان کے لیے انمول ہوگئے، سوکھی روٹیاں ان کا مقدر بن گئیں، لوگوں کی گالیاں ان کی سماعتوں کا ایک لازمہ بن گیا، حقارت آمیز جملے ان کے لیے مزدوری ملنے کے اشارئیے ہوگئے،اب وقت نے تو یہاں تک کروٹلینا شروع کردیا کہ راستہ چلتے بیل ،بکریاں ، خنزیرا ورکتے تک ڈرائیوروں کو نظر آنے لگے؛ مگرانسانی بدن لیے ہوئے مزدوران کی آنکھوں سے اوجھل ہونے لگ گئے، راستہ میں پڑی کسی بوری پر گاڑی چلانے کی ہمت نہ کرنے والے ڈرائیور اب بے لگام سڑکوں پر چلنے والے مزدوروں کوروندنے سے بھی نہیں جھجک رہے ہیں، ، وہ زندہ رہیں یا موت کی گھاٹ اترجائیں، ایک بے حس وبے جان سامان کی طرح انہیں ٹرکوں کے بالائی حصہ پر لاد کر ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل کیا جارہا ہے ،ان کے مزاج ومذاق تو کجا ان کی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی جارہی ہے، ان کی چیخ وپکار سننے والا اب کوئی نہیں رہا، حکومتوں نے آنکھیں بند کرلی ہیں، وزیروں نے ان کے مسائل سننے سے بچاؤ کے لیے اپنے گوش سماعت پربے حسی کا پہرہ دے رکھا ہے ،ان کی درد بھری داستان کرسیوں تک پہونچنے سے قاصر ہے، ان کی آواز میں اتنی اڑان نہیں کہ ایوان بالا کے ممبران تک رسائی کر سکے، ارے آواز میں اتنی بلندی آبھی کیسے سکتی ہے کہ اس نظر انداز طبقہ کے پاس نہ اپنے کھانے پینے کا درست نظام ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی میسر، یہ بچی زندگیہی کو بچالیں تو بسا غنیمت ہے، ان کی آواز میں نہ دم رہا اور نہ ہچکیوں وسسکیوں میں کچھ خم رہا، اب وہ مردہ بشکل زندہ اپنیزندگی کے دن کاٹ رہے ہیں، جس مزدوری کی فکر نے انہیں وطن چھوڑنے اورشہرو ںکی خاک چھاننے پر مجبور کیا تھا، شہروں کی جس رنگارنگی نے ان کی آنکھوں کوخیرہ کر رکھا تھا، اب وہ ایک سراب کے سوا کچھ نہیں، آج انہیں اپنے ہی وطن کی مٹی سے بوئے وفا آ رہی ہے، آج احساس ہورہا ہے کہ ہم چاہے بھوکے سوکھے نہ رہیں ؛ اگراپنے وطنمیں رہتے تو اطمینان و سکون کی سانس لے پاتے، مزدوروں کے ساتھ نارواک سلوک کی ایک طویل داستان ہے، یہ کوئی نیا سلسلہ نہیں او رنہ کوئی نیا مسئلہ ہے ؛ بلکہ مزدور طبقہ ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔
ملک کی موجودہ سنگین صورت حال میںمزدوروں کے دکھے دلوںسے یہ صدابلندہورہی ہے کہ کوئی ہے کہ جس کے گوش سماعت کو ہماری سسکیاں، ہچکیاں اور بولیاں ٹکرارہی ہوں؟ کوئی مزد وروں کے حال پر ترس کھانے کے لیے تیار ہے؟ارے ان مزدوروں کے پاؤںکے آبلوں کو کوئی دیکھ لیتا، ان کے ماتھے سے ٹپکنے والے پسینہ کو محسوس کر پاتا ہے، ان کے پاؤں سے خون چھلنی سا ٹپک رہا ہے، ان کے آنکھوں کو دیکھ کر کہیے کہ یہ نیند کا خمار ہے، یا غموں کا انبار ہے، یا خونی آنسؤوں کا سمندر ٹھاٹے مار رہا ہے ، یا اشک سوکھ کر جم جمائے ہیں، ان کے پیروں میں یہ پُھلاؤ کیسا ہے ؟ سوجن ہے یا راہ چلنے کا دوشانہ،ارے یہ اس ٹرک میں جانوروں اور بکروں کی طرح انسانوں ہی کو بھرا جارہا ہے؟ اس میں تو ایک دوسرے پر اڑے پڑے ہیں، مجبوری اتنی ہے کہ مرد وعورت کی تمیز بھی ختم ہوگئی، بیوی اپنے شوہر کے قریب ہے یا کسی اجنبی کے ؟ بچے اپنی آغوش مادر میں ہیں یا کسی کونے میں، اس ٹرک میں اتنے لوگ سما سکتے ہیں یا نہیں؟ ان فکروں کااب وقت کہاں ؟ ان باتوں پر نظر کرنے کی مہلت کہاں؟ ہم لاچاروں کو کون پوچھنے والا ہے، بس جان بچ جائے اور ہم اپنے وطن چلے جائیں یہی غنیمت ہے، یہ سڑکوں پر ہی کیوں سو رہے ہیں، ان کے چہروں پر اداسی کیوں ہے، ان معصوم اور ننھے شہزادوں کی آنکھوں میں اشک کیسے ؟ ان کا کیا قصور ہے؟ ان کے چہروں پر بے چینی کیسی؟ ان کے معصوم ماتھوں پر بَل او رشکن کیسے؟ارے ان کے پاؤں میں چپل تک نہیں، ارے یہ بھی دیکھو ماں نے اپنے چپل اپنے معصوم لخت جگر کو پہناکرخود دھوپ کی تپش اور راستہ کی سنگلاخی کو برداشت کر رہی ہے، بس فکر یہ ہے کہ میرے لخت جگر کو کوئی کانٹا نہ چبھ جائے ، کوئی پتھر نہ لگ جائے، کوئی کنکر زخمی نہ کردے، اب دوسری جانب نظر پڑی تو اشک آنکھوں سے تھم نہ سکے اور تھم کیسے سکتے ہیںکہ یہ پانچ سالہ معصوم ہے اور اس کو دیکھو اس کی عمر تو صرف چارسال ہے ار ے اس کو بھی دیکھ لوکہ اس کی عمر تو صرف تین سال ہے ، یہ بھی ننھے ننھے قدم دوڑا رہا ہے اور روتا جارہا ہے، ارے دیکھو تو سہی اس معصوم کے پاؤں میں چیل بھی نہیں، اس کی ماں بھی ننگے قدم پیدل ہی چل رہی ہے، ارے اس معصوم کے پاؤں میں بھی چیل نہیں ہے، ماں لاچاری سے چور ہوکر اپنے لخت جگر کے پاؤں میں پَرنی(پلاسٹک کَوَر) پہنارکھا ہے ، ارے ہاں صاحب! ہم غریبوں کے لیے یہ پلاسٹک کوَر کسی جوتے سے کم نہیں، ارے اس معصوم کو دیکھو، نیند کی تاب نہ لاسکا، اورچلتے سوٹ کیس پرہی سو گیا، اس ماں کی حالت زار بھی تو دیکھو ، ایک کاندھے پر یک بچہ، دوسرے کاندھے پر دوسرا بچہ اور ہاتھ میں وزنی جھولا، ہائے میرے رب!آزمائش نے انتہا کردی،ان معصوم بوڑھی ماؤں کو دیکھو! جن کے نہ ہاتھ میں بوجھ اٹھانے کی سکت ہے اور نہ پاؤں میں چلنے کی قوت، ان کے جھرّی دار چہرے اور بھی زیادہ کیوں مرجھا گئے ہیں؟ ان کے جوان بیٹوں کے دیکھے خواب آج چکنا چور ہوگئے ،وقت نے ان کے بیٹوں کی جانب سے ملنے والی راحت کے بجائے خود انہیں مبتلائے مصیبت کرڈالا،خود میں راستہ چلنے کی طاقت تو نہیں؛ مگر لپلپلاتے لب یہ کہہ رہے ہیں کہ بیٹے! چلے چلو! ہماری منزل زیادہ دور نہیں ہے ، یہ زندگی اور جیون ہے ، خوشی ہو یاغم ہمیں جینا ہی پڑے گا، اگر زندگی کا کڑوا زہر اسی کوکہتے ہیں تو ہمیںپینا ہی پڑے گا، اس زہر کو پی کر اگر منزل آجاتی ہے تو ہم بھی کسی غازی اور بازی گر سے کم نہیں ؛ اگر اس زہر نے ہمیں موت کی نیند سلادیا تو پروردگار ہماری اس دنیا کی تکلیف کو آخر ت کی راحت میں تبدیل کردے گا، ہمیں یا تو ہمت سے جینا پڑے گایا بزدلی کی موت مرنا پڑے گا؛ مگرہاں میرے بیٹے ! میں نے اپنے خون سے بنا دودھ تجھے بزدل بنانے کے لیے نہیں پلایا، ایک باہمت ، جفاکش اور فولاد شکن جوان بنانے کے لیے تجھے دودھ پلایا تھا، اگر تو بزدل ہوجائے تو ہماری ان قربانیوں کا کیا ہوگا؟ بیٹا! یہ وقت تو تم آج دیکھ رہے ہو، جب تم چھوٹے تھے، تمہیں دودھ پلانے کے لیے بھی ایسی ہی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ، بیٹا! وہ کھیت وکھلیان مجھے یاد آرہا ہے جس میں مزدوری کر کے میں نے تمہارے ننھے لبوں پر مسکان لائی تھی، تمہارے ہاتھوں میں کھلونے آئے تھے، تمہارے پاؤں میں سیٹی والا جوتا آیا تھا، بیٹا! ہمت نہ ہارو، ہمارا سوائے خدا کے کوئی نہیں، یہ بے وفا دنیا ہمارے ساتھ کیا وفا کرے گی، اگر کوئی رحم کرسکتا ہے تووہ بس خدا کی ذاتہے، ادھر بیویاں اپنے شوہر وں سے گلہ کر رہی ہیں کہ آخر آپ نے کیسی آزمائش میں ہمیں ڈال دیا؟ کیاہمیں شہر یہی دن دکھانے کے لیے لایا تھا؟شہر کی خوشی اسی کا نام ہے ؟پھر اچانک شوہر کے مرجھائے چہرہ کو دیکھ کر کہتی ہے کہ ارے آپ تو سنجیدہ خاطر ہوگئے ، میں یوں ہی کہہ رہی تھی، میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا، دیکھو ہم نے کتنا بڑا فاصلہ طے کر لیا ہے ، اب ہماری منزل تھوڑی ہی دور ہے، پھر ہم اپنے وطن چلے جائیں گے ، ہمارے بچوں کو ان کی دادی اور نانی ماں ہمسے چھین کر اپنے سینے سے چمٹالیں گی، کتنا پیارا سماں ہوگا؟کیسا دلفریب منظر ہوگا؟کیسی محبت جاگے گی؟ ادھر بچے رو تے روتے کہتے جارہے ہیں، اماں بھوک لگی ہے ، بابا کچھ کھانے کی چیز دو نا، اسی کشمکش میں وہ راہ گیر مزدور کیا سوچ رہا ہوگا، ادھر ماں کا بوڑھاپن، ادھر بیوی کی لاچارگی، ادھر بچوں کا بلبلانا، کاش ایسی آزمائش دیکھنے سے پہلے ہی موت کی نیند سوجاتا، یہی سوچ وفکر نے اور نہ رکنے والے قدم نے اسے منزلوں کا سفر طے کرادیا، وہ بچوں کو اپنے شانوں کا جھولا بنا کر سلا رہا ہے ، ایک طرف بیوی اور دوسری طرف شوہر نے اپنے دوش ناتواں پرلکڑی کا جھولا بناکر اپنے شہزادوں کواس میں سلا کر جانب منزل رواں ہیں، ارے کیاان مزدوروں دھوپ نہیں لگ رہی ہے ؟ ان کے سر گرم نہیں ہورہے ہیں؟دھوپ کی چلچلاہٹ ان میں چڑچڑاہٹ پیدانہیں کر رہی ہے؟ ن کے قدموں کو گرمی اور دھوپ کی تپش نہیں پکڑ رہی ہے ، ہاں ہاں کیوں نہیں! سب کچھ ہورہا ہے ؛ مگر مزدوری اور مجبوری تو اسی کا نام ہے، دکھ سمجھنے والا کون ہے ؟ان مزدوروں نے تو دھوپ ہی کو اپنا سائبان بنا رکھا ہے کہ ہمارے سروں پر کچھ نہیں ، دھوپ کا تو سایہ ہے ، شارب مورانوی نے کہہ پڑتا ہے کہ ؎
سروں پر اوڑھ کر مزدور دھوپ کی چادر
خود اسے اپنے سر پہ سائبان سمجھنے لگے
ان مزدوروں کو بڑے محلوں میں رہنے والوں کی طرح نرم بستر پر کروٹ بدل بدل کر نیند کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، انہیں نیند کی گولی کھانے کی ضرورت نہیں، ارے یہ اتنے تھک چکے ہیں کہ اب سڑک پر ہی نیند ان کا انتظار کر رہی ہے ، انہیں نرم اور مخملی قالینوں کی ضرورت نہیں،یہ لب سڑک بھی لیٹ جائیں تو نیند ان کا استقبال کرلے، واہ منور رانا تم نے کیسا شعر کہا، جو کچھ نہ کچھ وقفہ بعد زندہ ہوجاتا ہے کہ؎
سو جاتا ہے فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر
مزدور کوئی نیند کی گولی نہیں کھاتا
ان مزدوروں کے لب سڑک سونے پر کوئی شور نہ کرے ، ان کی نیند میں کوئی خلل نہ کرے، ان کے آرام میں کوئی دراڑ نہ ڈالے، یہ بڑے تھکے ہیں،ان کے سر بوجھ سے ذرا ہلکے ہوئے ہیں، ان کے شانوں میں کافی درد ہے، چلتے چلتے ان کی کمر اکڑ چکی ہے ، ان کی آنکھوں نے نیند کے جوش مارتے دریا اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں، ان کی مجبوری انہیں ہرجگہ خواب گاہ بنانے پر مجبور کر رہی ہے ، کوئی یہ کہہ کر ان کو عار نہ دلائے کہ یہ بیچ سڑک پر سو رہے ہیں اور شور نہ کرے اور شور کیسا؟ گاڑیو ںکا شور، ہارنوں کا شور، باتوں کا شور،تھکاوٹ اورغنودگی نے سب شور کو ختم کردیا ، نفس انبالوی نے بھی سچ کہا تھا کہ؎
اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا
بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں
ارے نیند بھی کیسی کہ دیکھو ان مزدور وں نے تھک ہار کر ایسا سویاہے کہ بعض نے تو ہمیشہ کے لیے سونے کی نیت کرلی ہے ، غم زندگی نے اس درجہ لاچار کر دیا کہ چلتے چلتے ٹرین کی پٹریوں پر ہی محو خواب ہوگئے اور شوق وطن ایسا نرالا کہ اس امتیاز کی بھی تمیز نہ رہ سکی کہ کہاں سونا ہے اور کہاں سے بچنا ہے؟ مجبوری نے ایسا تھکا دیا کہ ٹرین کی پٹریوں کا بھی احساس جاتا رہا اور وہیں پر محو خواب ہوگئے ، پتہ نہیں نیندکیسے امنڈ کر آئی؟ آنکھوں نے کیسے خواب دیکھنے شروع کردئیے؟ نیند اور موت کا کیسارشتہ جڑ گیا؟ ادھر بہن بیٹیاں انتظار میںراہ تک رہی ہیں ، مگر انہوں نے راہ چلنے اور مجبوری کی ایسی تھکن اوڑھ لی کہ اس چادر کو ہٹاکر اپنا چہرہ دکھانا بھی گوارا نہیں کیا، چیختی چلاتی ٹرین کی ہاہاکار آواز بھی ان کی نیند میںفرق نہ لا سکی، اور وہ کر تے بھی تو کیا کرتے، مال دار وزدار ان کی مجبوریوں کودیکھ کر سوائے تماشہ کے او رکیا بناتے ؟ ان کی ویڈیوگرافی کے علاوہ اور کیاکرتے ؟ ان پر میڈیا کی گرم بازاری چل پڑتی ، ان کے نام پر اینکر اورڈبیٹکر اپنی روٹیاں توڑتے اور جیب بھرتے، خیر ریل گاڑی آئی اور سب مجبور مزدورںکے چیتھڑے اڑا گئی، صبح دیکھا تو صرف گٹھریوں اور بکھری پگڑیوں کے علاوہ اورکچھ نہیں بچا، عمران پرتاب گڑھی نے سچی ترجمانی کی ؎
وہ جو مزدور تھے کتنے مجبور تھے
کس قدر درد میں نیند میں چور تھے
نیند اور موت کا ایسا رشتہ جڑا
چیختی ریل کی پٹریاں رہ گئیں
صبح بکھری وہی گٹھریاں رہ گئیں
کچھ پھٹی دھوتیاں پگڑیاں رہ گئیں
جانے کیسی تھکن اوڑھ کر سوگئے
جانے کس خواب کے شہر میں کھو گئے
نیند سے آخری نیند جس دم ملی
گُھٹ کے سینہ میں کچھ ہچکیاں رہ گئیں
پیٹ اور بھوک ہی کے لیے تھا سفر
پیٹ ہی ان کو پھر لے چلا ان کے گھر
ان کی فریاد پہونچی نہ دلی تلک
چند بکھری ہوئی روٹیاں رہ گئیں
پتھروں پر لہو ہی لہو رہ گیا
خون بکھرا ہوا چار سو رہ گیا
ان کی چیخیں فضاؤں میں گم ہوگئیں
راہ تکتی ہوئی بیٹیاں رہ گئیں
دیش میں ان کے جانے کا یوں غم ہوا
فیس بک اور ٹوئیٹر پہ ماتم ہوا
اس حکومت کی پتھر دلی دیکھیے
اَن سنی ان سنی سسکیاں رہ گئیں
خاک میں ان غریبوں کا خوں مل گیا
دیکھ کر پتھروں کا بھی دل ہِل گیا
ریل کی پٹریوں تک ملی سسکیاں
پھر بھی چپ دیش کی کرسیاں رہ گئیں
اب دیکھو عیدآنے والی ہے، لوگ خوشیاں منانے کی تیاری کر رہے ہیں، نئے کپڑے سلے جارہے ہیں، جوتے چپلوں کی دوکانوں پر قطار بندھی ہوئی ہے، شیرنی کی دوکانیں امنڈتے انسانی سروں کو دیکھ کر اپنی کم مائیگی کا احساس جتا رہی ہیں، کراکری کے شوروم سجائے جارہے ہیں، ملبوسات کے شوروم خوب چمک دمک دکھا رہے ہیں، ہر جگہ چراغاں ہورہا ہے، عید کے دن چھوٹے بچے بھی نئے کپڑے پہن کر کھولونوں کی دوکانوں پر لائن لگائے کھڑے ہیں، آج کے دن بھی یہ مزدور اپنے سرکل او راڈے پر اوزار لیے کھڑا ہے ، دن کا ایک حصہ گزر چکا ہے، سورج اب مائل بہ زوال ہے، آدھا دن گزر چکا ہے، ادھر مزدور آج بھی پریشان ہے کہ کوئی ہمیں کام پر لے جائے اور ہمارے گھر بھی چولہا جل جائے، ادھر مزدور کے معصوم بچے محلے کے بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے ، ہاتھوں پر گھڑی اور آنکھوں پر نیا چشمہ دیکھ کر حسرت بھر رہے ہیں کہ کاش ہمارے ابا بھی ہمیں ایسی چیزیں دلاتے ، ادھر دیوالی کے موقع پر پٹاخے چھوڑے جارہے ہیں ؛ مگر مزدورکے دل سے آہ نکل رہی ہے کہ تم نے اتنے پیسوں کو کیسے دلیری اور خوشی کے ساتھ آگ لگادی ؟ کاش اس کا آدھا سا حصہ بھی ہمیں دے دیتے تو ہمارے ایک مہینہ کے کھانے کا بند وبست ہوجاتا ، کیا کیا جائے؟ آخر مزدوری ایک مجبوری کا نام ہے ،ان غمگین مناظر کی تاب نہ لاکر جمیل مظہری کہہ پڑتے ہیں؎
ہونے دو چراغاں محلو ںمیں کیا ہم کو اگر دیوالی ہے
مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدوروں کی دنیا کالی ہے
ایسے صبر آزما اور مصائب کن حالات میں بھی لوگ مزدوروں کو ہی طعنہ دیتے ہیں کہ جب یہ اتنی سنگلاخ وادی ہے تو اس میں قدم رکھنے کی ضرورت کیا تھی؟ یہ پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟یہ جملے بظاہر بڑے برفیلے اور خوب میٹھے تو ضرورہیں؛ مگر ان کے پیچھے چھپی کڑواہت کا احساس سوائے مزدوروں کے اور کس کو ہو سکتا ہے ؟ جس پر گزرتی ہے وہی ان حالات کو سمجھ سکتا ہے ، سمندر کے کنارے پر رہنے والا اندرونی تہہ کو کہاں ناپ سکتا ہے ؟سمندر کی گہرائی کااندازہ اسی کو ہوتا ہے، جو غوطہ لگانے کا فن جانتا ہے ، مزدوروں کو ان کے پیشہ پر طعنہ دینا تو آسان ہے ؛ مگر مزدور کیوں مزدور ہوا ؟ اس احساس کو سمجھنے کے لیے سینہ میں خون کا لوتھڑا نہیں؛ بلکہ ایک زندہ دل ہونے کی ضرورت ہے، مزدور یوں ہی مزدور نہیں ہوتا، حالات اور مصائب اسے اس مشق ستم جھیلنے پر مجبور کردیتے ہیں ، ستم ظریفی بوجھ برداری تک کا سفر طے کرادیتی ہے ، منور رانا تم بھی کیسے جہاں دیدہ نکلے ، جو کہا بڑے دکھے دل سے کہا یا دکھے دلوں کی کہاکہ ؎
بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے
اسٹیشن پر رہتے رہتے لوگ قلی ہوجاتے ہیں
یکم مئی مزدوری کا عالمی دن ہے ؛ مگر کہاں اس دن مزدوروں کو راحت ملتی ہے؟ کئی مزدور پیشہ افراد ایسے ہیں کہ جن کو یہ تک پتہ نہیں کہ آج ہمارا عالمی دن منایا جارہا ہے ، جب کہ ایک تلخ مگر روشن حقیقت یہ ہے کہ اس دن بھی مزدوروں کا کوئی فائدہ نہیں، ان کے نام پر سیاست کو فروغ دیاجاتا ہے، ان کے دل میں پوری نہ ہونے والی ایک آس بٹھادی جاتی ہے ، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے مخملی نمک مل دیا جاتا ہے،ان کے نام پر ادارے تو بند کردئیے جاتے ہیں؛ مگر مزدور کے ہاتھ میں وہی کدال ، وہی پھاؤڑا، وہی ہَل، وہی جھولا اوروہی ٹوکرا موجود ہوتاہے،شاید زندہ دل ہی یہ احساس کر سکے کہ یہ دن بھی مزدوری کا عالمی دن نہیں؛ بلکہ اس دن مزدوروں کا مذاق بنایا جاتاہے، سب آکر ان کے بے بسی کے ترانے بڑے معیاری ملبوسات اور عمدہ انداز میں گاتے ہیں، مزدوروں کو چھٹی کہاں؟ آج بھی وہ مزدوری نہ کرے توفاقہ ہوجائے، افضل خان نے سچا شعرکہا تھا کہ؎
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
اب کتنا کہا جائے اور کیا کیا سنا جائے ، مزدوروں کی بے بسی اب اشکوں کوتھمنے نہیں دیتی، بے ساختہ ان کی مجبوری اشک رواں کرڈالتی ہے، ان کی لاچاری اور بے بسی کی تصویرں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں، ان کی داستان غم تڑپادیتی ہے، ان کی معصوم اولاد کی معصومانہ آہیں اور درد وتڑپ سنگ دل کو بھی موم بنانے کے لیے کافی ہے ، ان کے خواتین کے مرجھائے چہرے سب کو محو حیرت کر ڈالتے ہیں، ان کی ماؤں بہنوں کی تمناؤں اور آرزؤں کا ملیامیٹ ہوجاناغیرت دلائے بغیر نہیں چھوڑتا،بس آخر میںیہ کہنا بھی ضروری معلوم ہوتاہے کہ مزدوری کو مجبوری کا مقام نہ دیا جائے ، اسے پیشہ کو تو بزرگوں نے کیمیا سے تعبیر کیا ہے ، اسی کد یمین اور عرق جبین کو کیمیا سے تشبیہ دی گئی ہے، رسول مکرمﷺ نے ان کی پیشہ کو پسند فرمایا ہے ، ان کے ہاتھ کی کمائی کو سب سے پاکیزہ قراردیا ہے ، ان کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ان کا حق اداکرنے کا حکم فرمایا ہے، مزدور بظاہر کمزور ضرور ہیں ؛ مگر ان کے بغیر مال داروں کے عیش وعشرت کا دیوالیہ نکل سکتا ہے ؛ اگر مزدور نہ ہوں تو یہ محلات کی بلندی بھی نہیں، مزدوروں کو اگر نظر کردیاجائے تو تاج محل کا حسن ، قطب مینار کی بلندی، چار مینار کا وقار، جامع مسجد کا معیار، مقبرۂ ہمایوں کی دل کشی، ہفت گنبدان کی خوب صورتی،گولکنڈہ جیسے بڑے بڑے قلعوں کی شوکت ، گول محل کی عظمت، ہوا محل کا نرالا پن، لال قلعے کی رفعت اور تمام تاریخی وراثتوں کی وقعت سب بھسم ہوجائے گی، ان کا وجود اور ان کی شہرت وزینت سب مزدوروں کی رہن منت ہے؛ اگر ان سے مزدوروں کو علیحدہ کر دیاجائے تویہ چیزیں سوائے خواب وسراب کے کچھ بھی نہیں۔ چلتے چلتے مزدوروں سے بھی کہہ دوں کہ تمہاری دنیا قدر کرے نہ کرے، اللہ رسول کی نگاہ میں تمہاری محنت کی بڑی قدر ہے اور ایک وقت آئے گاکہ لوگ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ
مجبوری کے افسردہ حوالوں سے سحر ہوگی
مزدور ترے ہاتھوں کے چھالوں سے سحر ہوگی