Tue, Mar 2, 2021

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
آہ!استاذ محترم حضرت مفتی سعید احمدصاحب پالن پوریؒ
مفتی سید ابراہیم حسامی قاسمیؔ
استاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآ باد
9396227821

۔1441ھ کا ماہ صیام الوداعی کروٹیں لے رہا تھاکہ اچانک یہ الم انگیزخبر بڑی برق رفتاری کے ساتھ پورے ملک ہی نہیں؛ بلکہ سارے عالم میںآتش بیاباں کی طرح گشت کر گئی کہ آج وہی چراغ بجھا ہے جس کی لو قیامت تھی، دل یقین کرنے کو تیار نہیں، زبان بیاں کرنے سے قاصر، خبر سنتے اور پڑھتے ہی نہ جرأت گفتار رہی، نہ ہی قوت استفسار، بس آنکھیں اشک بار ، قلب گراں بار، ذہن پرغم سوار، ہر کوئی بے قرار اورسارا عالم سوگوار ہوگیا،پورا بدن نڈھال ہوگیا جب خبرملی کہ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری کا انتقال پُرملال ہوا۔
یقینااس کار گہہِ حیات میں کچھ ایسی شخصیات ضرورہوتی ہیںجو اپنے زرین ،تاریخی اورمعیاری کارناموں کی بنا پر’’ثبت است برجریدۂ عالم دوام است ‘‘ کی سچی مصداق ہوتی ہیں، ان کے انمٹ نقوش قلوب ِانسانی کی تختیوں پر وہ یاد گار تحریریں رقم کرجاتے ہیں جنہیں بھولے نہیں بھلایا جاسکتا، ان کی یاد تڑپاتی رہتی ہے، ان کا چشمۂ فیض جاری رہتا ہے ، وہ ایسے ساقیٔ سرمست ہوتے ہیں کہ رند ان حرم ان پر فدا ہوئے جاتے ہیں، وہ ایسے باصفا ہوتے ہیںکہ ان سے تعلق بنانے کو ہرکوئی ترستا ہے، ایسی شخصیات کی جدائی سے صرف اہل تعلق ہی رنجور نہیں ہوتے ؛ بلکہ اجنبی قلوب بھی اس صاعقۂ دل فگارپر اشکِ آرزو بہانے پر مجبور ہوجاتے ہیں، ان کی خوب صورت یادیں راہ حیات کی تاریکیوں میں شمع فروزاں کا کام کر جاتی ہیں،ان ہی سعادت نصیب ہستیوں میں استاذ کامل، فرق باطلہ کے لیے سنگ حائل، صدق ووفا کے قائل،علوم شرعیہ ، عقلیہ ونقلیہ میں باکمال فاضل،حق وباطل کے مابین حدفاصل، پیکر علم وعمل ، صاحب رشد وفضل ، خاتَم المحدثین حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری ؒکی ذات والاصفات ہے۔
حضرت مفتی صاحبؒ کی وفات حسرت آیات نے ہرکسیکو رنجیدہ کر دیا ، ہر طبقہ میں غم کی لہر دوڑ پڑی ، ہر کوئی اس سانحۂ دل فگار سے رنجور اور سوگ واضطراب سے مجبور ہے، درس گاہیں ماتم کناں ہیں کہ وہ علم وفن کا بحربیکراں رخصت ہوگیا، علمی اداروں میں سوگ و ہنگامہ ہے کہ علوم نبوی ﷺ کی ایک عظیم و روشن شمع خاموش ہوگئی، اہل ارادت وعقیدت بے قرار ہوگئے کہ آج ہم ایک عظیم مصلح اور سچے مربی کے چلے جانے کی بنا پر یتیم سے ہوگئے، تنظیمیں نالہ کناں ہیں کہ اب ہماری خبرگیری کون کرے گااور ہمیں غلط کاری پرکون ٹوکے گا؟اہل قلم ومصنفین سوگوار ہیںکہ علمی، فکری، ادبی،تاریخی، اصلاحی اور فقہی عناوین پر تیز گامی سے چلنے والا ایک جاں بازقلم ٹوٹ گیا،فقہی سیمنار نوحہ زن ہیں کہ بڑی عرق ریزی ودانش مندی اور تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے والا فیصل الوداع کہہ گیا، علم حدیث سے وابستہ لوگ گِریَہ گَر ہیں کہ اب احادیث نبویہ کی واضح اور دل چسپ ودل نشیں تشریحات کون کرے گا؟ فن حدیث کے تشنگان بے چین ہیں کہ فن حدیث کے اسرار رموز کا واقف کارچل بسا، اہل تعلق میں شوربپا ہے کہ ہمارے تعلق کی معراج کہاں گم ہوگئی؟ اہل خاندان سوگوار ہیں کہ ہمارے خاندان کاوہ چشم وچراغ کہاں بجھ گیاکہ جس کے وجود کی روشنی نے ہمیں ہر تاریکی سے امان دے رکھی تھی، امت کا غیورطبقہ پریشان ہے کہ ہماری اس متاع عزیز کو موت کے بے رحم پنجوں نے ہم سے چھینکر سب کو اداس کردیا؎
ویران میکدہ ہے غم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اس بے قرار دل کو اب کیسے قرار آئے گاکہ وہ انمول شخصیت جو اپنے ناز و اندازسے ہر خاص وعام کو گرویدہ بنانے کا ہنر رکھتی تھی،جن کے لب ناز سے نکلنے والے جملے سندہوا کرتے تھے، جن کی دینی وعلمی خدمات اور ایمانی جذبات پرتمام فرشی نازاں تھے، جن کے انداز تخاطب پر سب رشک کناںتھے، جن کی فہمیدہ صلاحیتں چہاردانگ عالم میں مشہور تھیں،جن کے مزاج ومذاق پر سب فدا تھے،جن کے حقانی مزاج پر سب کو اعتماد تھا، جن کی نکتہ سنجی سب کو غرق حیرت کردیتی تھی، جن کے خیالات و افکار میںحجۃ الاسلام وحکیم الامت کی جھلک محسوس ہوتی تھی، جن میں دوغلا پن یا مداہنت نام کو نہیں تھا، جن کی حق بیانی پر ہر کوئی مٹا جاتا تھا،جن کا انداز بیان بڑا برفیلا اور سلجھا ہوا ہوتا تھا، جن کے مقبول درس نے دارالعلوم دیوبندکی چہار دیواری کے دائرہ تک محدود رہنا گوارا نہیں کیا؛ بلکہ سارے عالم میںاپنی مقبولیت کا سکہ جماکر ہی دم لیا، جن کا مقبول درس ہزاروں تشنگان علم کے لیے سامان تسکین تھا، حق ہے کہ آپ کا درس سننے دیوبند کا سفر کیا جاتا تھا، آپ سے ملاقات کرنے کو لوگ اپنے نصیب کی معراج تصور کرتے تھے، آپ کی نجی مجلسیں بھی علمی دھوم سے خالی نہ تھیں، زبان سے نکلنے والا ہر جملہ علمی شان رکھتا تھا،وہ حق پسندی کے ایک شناور تھے،فردِ قدآور تھے، مسلک حق کی للکار تھے، باطل کے لیے آہنی تلوار تھے، جرأت میں شاندار تھے، افکارصحیحہ کے آئینہ دار تھے، قلب حزیں کے لیے سکوں کا سامان تھے، وہ عطائے رحمان تھے،حق کی شان تھے، سنیت کی پہچان تھے،چھوٹوں پر مہربان تھے، جماعت علماء کی شان تھے، زندوں کی آبرو تھے، خردوں کی آرزو تھے، سراپا جستجو تھے، پیار کی گفتگو تھے، طالبان علم وعمل کے لیے نمونہ تھے،علم کے گنجینہ تھے، شوق کے زینہ تھے، ذوق کے خزینہ تھے، ایک چلتا پھرتا کتب خانہ تھے، راہ وفا کے راہی تھے، حق کے سپاہی تھے، اعلائے کلمہ ٔ حق کی خاطرکسی کی پرواہ کئے بغیر واضح موقف پیش کرنے میں آپ عنقاء تھے،جن کے قلم میں بلا کی روانی اور اثر کی جولانی تھی، وہ لکھتے نہیں تھے ؛ بلکہ اپنے قلبی جذبات کو کاغذ پر اتاردیتے تھے،ان کے احساسات و جذبات بھی شرع کے ترجمان تھے، زبان حق شناس کا ملکہ تھا کہ جب بھی بولتے ، بالکل سچ اور حق بولتے، نہ ڈرتے ، نہ گھبراتے، نہ اتراتے ، نہ کتراتے اور نہ ہی خوف کھاتے تھے، کتابوں کی ٹھوس صلاحیت میں مثالی تھے،کردار میں عالی تھے،لغویات سے خالی تھے،حب خدا و رسول میں غالی تھے،وہ صرف درسی کتاب ہی کے استاذ نہیں ؛ بلکہ کتاب زندگی کے استاذ کامل تھے،انہوں نے کبھی علم کے علاوہ دوسرا مشغلہ اپنانا گوارا نہیں کیا، تجارت کا ارادہ بھی کیا تو ایسا پیشہ اختیار کیا کہ تجارت بھی ہو جائے اور علم بھی تقسیم ہوجائے، وہ اہل دل کے لیے قندیل وفا تھے، وہ بحر سلوک کے ایک پوشیدہ دُرّ گراں بار تھے، وہ شریعت کے پیکر، طریقت کے خوگر، حق کے رہبر، اللہ کے دلبر،محبوب ساقیٔ کوثر، شاہراہ علم کے بے مثال جوہر، حق کے مظہر ، قال اللہ وقال الرسول کے شناور، مسلک حق کے عظیم سالار، علم صحیح کے شاہکارتھے، وہ علم حدیث میں حضرت فخرالمحدثین، فکر حق میں حضرت تھانویؒ، وسعت علم میں حضرت نانوتوی،اتباع سنت میںحضرت گنگوہی، افکار میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ، صلاحیت میں حضرت بلیاویؒ،راہ سلوک میں حضرت نعمانیؒو مظفر ثانی، بصیرت میںحضرت یعقوبِ نانوتویؒ، فقاہت میں حضرت فقیہ الامت، لیاقت میں حضرت فدائے ملت کے عکس جمیل تھے۔ وہ ایک صادق وعابد ، زاہد وراشد، حقیقی مرشد اور لائق قائد، انمول شخصیت کے حامل، حق گوئی کے قائل، راہِحق میں سراپا دلائل، دور از رزائل، سراپا نیک خصائل تھے، وہ اللہ کے پیارے، خلق کے دلارے، اورچھوٹوں کے سہارے تھے۔
علم و فن کے اس گوہر گراں بار کو خلاق دوجہاں نے ان تمام خوبیوں سے نوازا تھا جو خاک ِ ارض کو کیمیاء اور ذرے کو آفتاب کی ماہیت دینے کاہنر رکھتی ہیں، آپ کی ذات علم وعمل، فضل وکمال، ظاہری حسن وجمال، صلاح وتقویٰ،اخلاص وللہت، ذکاوت وذہانت، فہم وفراست، خشیت وانابت،شریعت وطریقت کی یکسانیت اورعارفانہ لیاقت کی مظہر نبیل تھی،مبدأ فیاض نے آپ کو تمام تر صفات حمیدہ و اوصاف عالیہ سے نوازا تھا، رب کریم کی خصوصی عطا آپ کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہی، یہی وجہ ہے کہ جب بسم اللہ کہہ کر پڑھنا شروع کیاتو پھر بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھا کر ہی دم لیا۔جبل علم پر چڑھے تو بس چڑھتے ہی چلے گئے، راستے کی سنگ لاخ وادیوں کی پرواہ کئے بغیر علم وعمل کی دھن لیے چلتے ہی چلے گئے، عزم واستقلال کے آگے حالات بھی مات کھا گئے، جواں مردی اور ہمت مردمی نے وہ جوہر دکھائے کہ رکاوٹیں بھی راستے دینے پر مجبور ہوئیں، جرأت وبے باکی نے وہ انداز دکھلائے کہ احساس کہتری میں دم مارنے کی سکت تک باقی نہ رہی، حوصلہ کی بلندی نے وہ کردار نبھایا کہ پس ہمتی بھی منھ چھپانے میں عافیت محسوس کرنے لگی، وہ اپنی دھن میں مست منزل مقصود کی طرف رواں دواں رہے، نہ کسی کی تنقید کی پرواہ ، نہ کسی کی ملامت کا خوف، نہ کسی کی طعنہ زنی کا احساس، نہ کسی سے کوئی دنیوی مفاہمت ، نہ کسی سے کوئی لڑائی بھڑائی، نہ کسی سے کوئی غرض و تعلق اور نہ ہی کسی سے دنیوی نیاز مندی ظاہر کی؛ بلکہ خود کو باہمت ، باحوصلہ، جواں مرد،عالی قدر، وسیع النظر، قوی الفکر، مضبوط جگر کا حامل بناتے ہوئے جانب منزل ایسے رواں دواں رہے کہ زمانہ گواہی دینے پر مجبور ہوا کہ واقعۃً آپ وحید دہر اور فرید عصر تھے،علم کی آن تھے، سچائی کی پہچان تھے، قوی الایمان تھے، راجم شیطان تھے، محبوب رحمن تھے، حق کے ترجمان تھے، صاحب فیضان تھے، داعیٔ قرآنتھے،مدرس ذی شان تھے، رشک انس وجان تھے، مسلک کے نگہبان تھے، چھوٹوں پر سائبان تھے، بافیض انسان تھے، حق تو یہ ہے کہ وہ ایک قلندر تھے اور اپنے آپ میں سکندر تھے۔
ایک کامل معلم تھے
حضرت مفتی سعیداحمد پالن پوریؒ کی جلالت علم کے بارے میں یہ کہا جائے تو بجا ہوگا کہ وہ اپنے دور کے ایک علمی معجزہ تھے،وہ ایک کامل مدرس تھے، وہ جس کتاب کو پڑھاتے اس کا مکمل حق ادا کرتے، حق تو یہ ہے کہ وہ کتاب نہیں ، فن پڑھاتے تھے، ہر فن کے متعلقات پر سیر حاصل گفتگو فرماتے اور اس کے اصول ومبادیات طالب علم کے ذہن و دماغ پرنقش کراجاتے، وہ ایک صاحب طرز مدرس تھے، انتہائی البیلا درس دیتے ، درس کی مقبولیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی، وہ اپنے درس کو بہت سنبھال کر پیش کرتے تھے، مرتب درس دینا ان کا کمال تھا، وہ غیر مرتب نہ گفتگو کرتے، نہ وعظ کرتے اور نہ درس دیتے تھے؛ بلکہ انہوں اپنی زندگی کو ہی مرتب کر رکھا تھا، ان کی نشست وبرخواست بھی ترتیب کا آئینہ دار تھی، ان کی ہر چیز میں نظم نسق جلی نظر آتا تھا، وہ اپنے درس کو اچھوتے انداز میں پیش کرنے میں ماہر تھے، ہر بات نئے انداز سے پیش کرتے تھے،طلبہ کی توجہ اپنی جانب مبذول رکھنے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، وہ درس کے دوران بسا اوقات صاحب کتاب پربھی سنجیدہ تنقید فرماتے ،اس پر نہ جھجکتے اور نہ شرماتے ، اپنی ذات اور اپنے علم پر کامل اعتماد رکھتے تھے اور اپنی بات مکمل اعتماد کے ساتھ بیان کرتے ، اپنے موقف کوبلا تأمل پیش کرتے، طلبہ کی ذہانت کو سامنے رکھ کر درس دیتے اور بالکل مبتدی بن کر درس دیتے، عالمانہ گفتگو بھی سادے پیرائے میں کرتے اور کبھی کبھی ایسی تشبیہات اور تعبیرات استعمال کرتے کہ جسے سن کر ادبی مہارت پر رشک آجاتا، وہ درس کو خشک نہیں رکھتے تھے؛ بلکہ کبھی کبھی ایک آدھ لطیفہ بھی بیان کردیتے تھے، وہ صرف درس نہیں دیتے تھے ؛ بلکہ درس دینے کا انداز بھی اسی درس میں سکھا جاتے اور اپنے درس کو کامیاب بنانے کا راز بھی بیاں کردیتے ، اس کے لیے دوسروں کے نہیں ؛ بلکہ خود اپنی ذات کے حوالے اورنمونے پیش کرکے حوصلہ بڑھاتے ، وہ نادر الکلام تھے ، علم کی وسعت ، الفاظ کی ندرت، بیان کی قوت، ساحرانہ مخاطبت، جملوں کی لطافت، اپنا بنائے رکھنے کی صلاحیت میں یکتا تھے،وہ بڑی شان کے ساتھ درس دینے کے لیے آتے تھے اور خوب اہتمام فرماتے تھے، جس طرح ایک عظیم فرماں روا کا سامنا ہوجائے تو عجب رعب اور بے پناہ مسرت ہوتی ہے ، ٹھیک درس گاہ میں مفتی صاحب کے جلوہ افروز ہونے پر یہ کیفیت طاری ہوتی تھی،وہ اپنی علمی جلالت کو خود بھی محسوس کرتے تھے ؛ مگر کبر و ریاء سے وراء تھے،اپنے شاگردوں کو بھی اس کیفیت کے ساتھ رہنے کی تاکید بھی فرماتے تھے،ان کی سادہ زندگی میں علمی مشغولیت کی بڑی اہمیت تھی، وہ ہر وقت علمی دھن لیے رہتے تھے، چلتے پھرتے کسی نہکسی علمی نکتہ پر غور و خوض فرماتے ، ان کے درس کی شان ہی نرالی تھی، طلبہ کا جم غفیر درس سننے کے لیے بے تاب نظر آتا اور صرف دارالعلوم ہی نہیں ؛ بلکہ اطراف کے مدارس کے طلبہ بھی چلے آتے اور طلبہ کے سروں کا سمندر امنڈ پڑتا،یہ مقبولیت وخصوصیت کسی خاص درس کی حد تک محدود نہ تھی ؛ بلکہ ہرروز یہی ہجوم رہتا، درس کی مقبولیت کی انتہاء یہ تھی کہ کئی علماء درس سماعت کرنے کے لیے دیوبند کا سفر کرتے اور درس میں شریک ہوکر اپنی علمی پیاس بجھاتے اور اپنی بے قراری کو قراربخشتے،کئی بافیض و مشہور علماء بھی آپ کے درس سے بے پناہ متأثراور مشتاقتھے، ایسا تو بہت کم ہوتا کہ کوئی فاضل دیوبند ، دیوبند آئے اور آپ کے درس میں شرکت نہ کرے، آپ کے حلقۂ درس میں بیٹھنے کو لوگ اپنے مقدرکی معراج تصور کرتے تھے، بلکہ آپ کے حین حیات ہی یہ بات مسموع تھی کہ حضرت مفتی صاحب علمی میدان کے وہ عظیم شہ سوار ہیںکہ وہ جہاں جائیں وہاں علم کا حلقہ قائم ہوجائے ؛ اگر وہ جنگل میں چلے جائیں تو لوگ وہاں بھی ان سے استفادہ کے لیے حاضر ہوجائیںگے۔
بے پناہ مقبول درس حدیث کے مالک
یوں تو حضرت مفتی صاحب کا ہردرس مقبول تھا ہی ؛ مگر درس حدیث کی اہمیت اپنی جگہ آپ تھی، آپ نے جب سے ترمذی کا درس دینا شروع کیا تو آپ کی محدثانہ شان کھل کر سامنے آنے لگی، آپ نے صرف حدیث کی شرح واصطلاح پر ہی اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ فن حدیث کے اسرار و رموز پر مکمل شرح وبسط کے ساتھ گفتگو کرنے کو اپنا مزاج بنایا، درس ترمذی کے دوران آپ نے صرف امام ترمذیؒ کے لگائے ہوئے حکم کو سنانے یا اس کی تشریح پر مکتفی نہیں ہوئے؛ بلکہ بسا اوقات تو امام ترمذی کے لگائے ہوئے حکم پر بھی آپ اپنا حکم لگادیتے، اگر وہ اپنے مسلک کے خلاف دلیل بنتی دکھائی دیتی تو اس کا ہر پہلو جواب دیتے اور اپنے مسلک کی مؤید حدیث اس کے مقابل پیش فرماتے، تحفۃ الالمعی میں اس طرح کی کئی نظیریں موجود ہیں، استاذ مکرم حضرت اقدس مولانا ریاست علی بجنوریؒ ترمذی شریف کے درس کے دوران کئی دفعہ اس کا ذکر فرماتے اور کہتے یہاں پر مفتی سعید صاحب نے بڑے اچھے انداز سے رد کیا ہے اور یہاں اپنے مسلک کابڑا اچھا دفاع کیا ہے،حضرت مفتی صاحب فن حدیث کی نکتہ سنجی میں مہارت تامہ رکھتے تھے، وہ درس حدیث شریف بڑی عرق ریزی اور امتیازی شان کے ساتھ دیتیتھے، گویا درس حدیث کے لیے ہر روز نیا تیار ہوکر آتے اور پوری جلالت شان کے ساتھ درس گاہ میں رونق افروز ہوتے، آپ کا درس بخاری بھی خوب مقبول ہوا، بڑے کم عرصہ میں بخاری کے درس نے پورے عالم میں شہرت حاصل کر لی تھی، لوگ برکۃ درس بخاری میں شرکت کرتے ، دوران درس کبھی کبھی یوں فرماتے کہ امام بخاری کی عربیت کمزور ہے، یہاں یہ باب نہیں ہونا چاہیے تھا؛ بلکہ اس کے بجائے باب یوں باندھنا چاہیے تھا، ترجمۃ الباب کو بڑے انوکھے انداز سے ثابت کرتے تھے، کبھی کبھی تو صرف یوں کہہ دیتے کہ یہاں باب ہے اور بس۔
درس کے لیے حضرت مفتی صاحب کے آنے تک طلبہ کی بے چینی کی انتہاء نہ رہتی، طلبہ گھڑی دیکھتے کہ حضرت مفتی صاحب کے آنے میں ابھی بیس منٹ باقی ہے، ابھی پندرہ منٹ باقی ہے، ارے صرف دس منٹ رہ گئے ہیں، کمروں سے جلدی چلو؛ ورنہ جگہ نہیں ملے گی، ابھی پانچ منٹ باقی ہیں، حضرت باب قاسم سے داخل ہورہے ہیں، احاطہ مولسری میں کنویں کی طرف جارہے ہیں، پان تھوک کر کلی کر رہے ہیں، اب درس گاہ میں حاضر ہونے والے ہیں، اخیر زمانے میں مدنی گیٹ سے متصل جامع رشید کے بڑے دروازہ سے آ رہے ہیں، پھرجب دورہ لائبریری میںمنتقل ہوچکا، طلبہکی نظریں باب الظاہرپر ٹکی رہتیں، باب الظاہر سے لائبریری کی گیٹ تک ہر روزاستقبال ہے،ایک شور بپا رہاہے کہ مفتی صاحب آگئے، مفتی صاحب آگئے، سارے طلبہ حاضر درس گاہ ہیں،سب کی نظریں گھڑی اور دروازے پر ہے، یہ لو وقت پورا ہوگیا ارے وقت پورا ہونا ہی تھا کہ وہ شہنشاہ علم و فضل تشریف لے آئے ہیں،اب شور سناٹے میں بدل چکا ہے، دروازے پر ہر روز طلبہ رشک بھری نظر سے دیکھتے ہیں، ہر دن مفتی صاحب کے دیدار کے لیے نگاہیں بے چین ہیں،ہر دن دیدار کا لطف علیحدہ ہے،جی چاہتا ہے کہ حضرت پر سے نگاہ ہٹنے نہ پائے ، جتنا دیکھے جاؤ ، دیدار کا لطف سِوا ہوتا جارہا ہے، پوری وجاہت وجلالت کے ساتھ حضرت تشریف لا رہے ہیں، اب مسند پر جلو ہ فگن ہونے والے ہیں، معمول تھاکہ مسند پر جلوہ افروز ہونے سے قبل ایک نظر سارے طلبہ پر ڈالتے، پھر مسند پر رونق افروز ہوتے، اب درس شروع ہونے والا ہے، فرماتے چلو بھائی،ہر جمعرات بعد نماز مغرب درس سے قبل دعاکا اہتمام فرماتے، ہمارے دورہ کے سال چوںکہ تحفۃ القاری کا کام چل رہا تھا اوریہی درسی تقریر ریکارڈ ہوکرتحفۃ القاری کے نام سے چھپنے والی تھی، حضرت خود ہی عبارت پڑھتے اور تشریح کرتے جاتے، محسوس ہوتا تھا کہ علم کا ایک سیل رواں ہے، جو جانب منزل خراما خراما دواں ہے، جسے دیکھو حضرت مفتی صاحب کی طرف ٹکٹکی باندھا ہوانظر جمائے ہوئے ہے، ایسا محسوس ہوتا تھاکہ اب دنیا سے بندھن ٹوٹ چکا ہے،طلبہ حضرت کی باتوں اور کتاب کی عبارتوں میں گم ہیں، اب کسی سے کوئی لینا دینا نہیں، ارے کیا منظر ہے؟ کسی کے چہرہ پر مسکراہٹ ہے، کسی کی جبیں حیرت سے سکڑ رہی ہے، کسی کے لبوں پر مسکان نے اپنا ڈیرا جمایا ہوا ہے ، کسی کی نگاہیں سرور محسوس کر رہی ہیں،کوئی تفہیم سے متأثر ہوکر جھوم رہا ہے، کسی کی آنکھ میں اشک بھر آئے ہیں، کوئی جرأت گفتارپر توکوئی لذت استحضار رشک کیا جارہا ہے، لہجہ کی نزاکت ولطافت سے متأثر ہوکر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرایا جارہا ہے ،کوئی مرتب گفتگو کی سماعت میں مگن ہے، ایک ابر رحمت ہے جو سب پر سایہ فگن ہے، علم کا ایک دریا ہے جو بہتا جارہاہے، ایک ساقیٔ سرمست ہے، جو رندان حرم کو سیراب کئے جارہا ہے، طلبہ کے ذہن اب یکسو ہوگئے ہیں، یہ مشکل ترین بحث ترمذی میں آئی ہے، ارے اس حدیث پر ابوداؤدمیں قال ابوداؤد کہہ کر بڑی عمیق گفتگو کی گئی ہے،اس روایت پر مسلم میں یوں کلام کیا گیا ہے ، اب دیکھتے ہیں مفتی صاحب بھی اس بحث میں کتنا الجھتے ہیں، سب کی بے چینی اچانک ختم ہوئی چاہتی ہے کہ حضرت مفتی صاحب اس بحث کونہ طول دیتے ہیں اور نہ ہی مشکل بنا کر پیش فرماتے ہیں؛ بل کہ عام گفتگو کی طرح پوری سیر حاصل تشریح بھی فرمادیتے ہیں ، نہ خود جھجکتے ہیں اور نہ ہی طلبہ کو اس کے مشکل ہونے کے احساس دلاتے ہیں، سب کے اشکالات ختم ، ہائے درس کی یہ تابانیاں ،اب ڈھونڈنے پر بھی مل نہ سکیں گی، اب دیوبند جا کر بھی ایسے لطیف درس سے محرومی رہے گی، یہ بات اپنی جگہ بالکل سچ اور حق ہے کہ دیوبند کی سرزمین کورب کریم نے بنجر نہیں رکھا، دارالعلوم دیوبند کو ایک سے ایک جبال علم میسرآئے ہیں اور آتے رہیں گے، آنے والے شیخ الحدیث بھی اپنی منفرد شان کے ساتھ درس بخاری دیں گے اور سب ان کے درس سے ضرور متأثربھی ہوں گے ، دیوبند علم کا ایک بحر ناپیدا کنار ہے، جہاں پر علم کے غواص اپنی بساط بھر سعی کرکے اپنے جلو میں جتنا بھرلے جائیں ان کا مقدر ہے، دیوبند تو اپنا علمی فیضان جاری کرتا رہے گا، دارالعلوم سے علمی تبرک بٹتا ہی رہے گا، ہر کوئی آئے گا اور اپنے مقدور ومقسوم کا لے کر چلا جائے گا، یہ ساقیان علم کا منبع ہے،رندآتے رہیں گے اور سرمستی حاصل کرتے رہیں گے ، یہ میکدہ ٔ علم و معرفت ہر ایک کے لیے کشادہ ہے، جس کا جتنا جی چاہے سیراب ہوجائے، علم کے قاسم اساتذہ اور ایک سے ایک قابل اساتذہ علمی پیاس بجھانے تیار بیٹھے ہیں ، ہر استاذ اپنی جگہ مسلم ہے ، کسی کو چھوٹا یا کمتر کہنا اپنی زبان کو گندہ کرنا یا اپنی قساوت کا اظہار کرنے کے سوا کچھ نہیں، یہ قبولیت کا مرکز ہے، یہاں مقبول افراد ہی چنے جاتے ہیں، یہاں کے فیصلے آج بھی الہامی ہیں، کئی لوگ اپنی صلاحیت کے زعم پر چلے آئے ؛ مگر جب ان کے جذبات قابو میںآئے تو یہی کہنے پر مجبور ہوئے کہ وہاں کا معاملہ ہی کچھ اور ہے، بہر حال ہر استاذ ماہر علم وفن ہے، اور ٹھوس صلاحیت ، عمدہ لیاقت اورمحبوب صالحیت سے لبریز ہے؛ مگرجن لوگوں نے حضرت مفتی صاحب کو دیکھاہے، وہ یہی کہتے رہیںگے کہ
صورت کسی کی آنکھ میں بستی نہیں مرے
ایسا ہی ہو گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
اب دل کو لگاؤں میں یہ ہمت نہیں رہی
دل ٹوٹ سا گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
جاننے والوں کو دارالعلو م میں حضرت مفتی صاحب کے درس کی کمی ضرور محسوس ہوتی رہے گی، درس کی وہ رونقیں تڑپاتی رہیں گی، حضرت کی یادوں کے اجالے آباد رہیں گے اور لفظ بخاری سے حضرت مفتی صاحب یاد آتے رہیں گے۔
علم حدیث سے اشتغال
خلاق عالم نے حضرت مفتی صاحب کے اندر علم کا ایک دریا ودیعت فرمارکھا تھا، جس کی وجہ سے آپ ہر فن میں یکتا اور باکمال واقع ہوئے تھے، آپ کی زندگی کا آخری مرحلہ اشتغال بالحدیث کے ساتھ وابستہ رہا، فن حدیث کی نکتہ سنجی اور اس کے اسرار ورموز پر گہری نظر کے پیش نظر آپ نے علم حدیث کے میدان میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوالیا اور ہر خاص وعام کو اپنی جانب مائل کرلیا،اور اپنے طرز استدلال اور قوت فہم کے ذریعہ درس حدیث کو ایک نیا رخ دیا اور دنیا کے مشہور ، نامور و معاصر علمائے حدیث کواپنی لیاقت و قابلیت تسلیم کرنے پر مجبور کیا،یہ دولت آپ کو شبانہ روز محنت اور آہ سحر گاہی کی بہ دولت ملی تھی، آپ کو علم حدیث سے دیوانہ وار لگاؤ تھا، فن حدیث کے میدان میں اپنے معاصر بلکہ اپنے پیش رو اصحاب حدیث کی صفوں کو پار کرتے ہوئے آپ نے نشان امتیاز کو چھونے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، آپ کو علم حدیث سے اس درجہ اشتغال تھا کہ ہر حال وقال میں یہ کیفیت ظاہر ہونے لگی تھی، چلتے ، پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے، پڑھتے اور پڑھاتے ہر حال میں آپفن حدیث کیگتھیوں کو سلجھاتے اور خود اپنی زبان سے کبھی کہہ پڑتے کہ آج گھر سے آتے ہوئے میں نے اس بات پر غور کیا اور اس نتیجہ پر پہونچا ہوں۔
تحفۃ القاری ، تحفۃ الالمعی ، زبدۃ، فیض المنعم ، شرح علل الترمذی اورایضاح المسلم وغیرہ فن حدیث میںآپ کی مہارت کے وہ شاہکار ہیں،جن سے علم حدیث کی دنیا میں آپ کے بلند مقام کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
علم تفسیر سے لگاؤ
آپ کو کلام الہی سے کافی گہرا لگاؤ تھا، تلاوت بڑے اہتمام سے فرمایا کرتے تھے، صرف خود ہی نہیں ؛ بل کہ اپنے اہل وعیال سمیت سب کو تلاوت کا عادی وخوگر بنا رکھا تھا ، مولانا قاسم صاحب (فرزند و مینیجر مکتبہ حجاز) نے ایک مرتبہ ہم سے دوران گفتگو کہا تھا کہ والد صاحب نے گھر میںتلاوت کا معاملہ اس درجہ مستعد کر رکھا ہے کہ اگر ہم تلاوت نہ کریں تو ہمیں ناشتہ نہ مل سکے ؛ اگر ہماری بیویوںنے ہم کو ناشتہ دے دیا تو والدہ ان کو ڈانٹ پلاتی ہیں،تو گویا ہم بغیر تلاوت کے رہ ہی نہیں سکتے، یہ تو تلاوت کامعاملہ تھا؛ مگر آپ نے تفسیر ی میدان میں بھی بڑا اہم کارنامہ انجام دیا جو علم تفسیر میں آپ کی علو شان کی بین برہان ودلیل ہے، تفسیری میدان میں آپ نے خوب جواہر بکھیرے ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی اصول تفسیر پر کتاب ’’الفوز الکبیر ‘‘جو فارسی زبان میں تھی،اگر چہ اس کا بہت سے لوگوں نے عربی ترجمہ کیا؛ مگر وہ نقص اور اغلاط سے خالی نہ تھا، لیکن مفتی صاحب نے اس کا آسان عربی ترجمہ کرکے طلبہ کے لیے ایک سہل الاصول کتاب بنادیا، اس کو نقائص سے پاک کرنے اور اس کی تہذیب میں آپ نے بڑا اہم رول ادا کیا اور اسی پر بس نہیں ؛ بلکہ اس کی ایک عمدہ اور مقبول شرح ’’العون الکبیر ‘‘کے نام سے عربی زبان میں تحریر فرمائی جو کہ فن تفسیر کے میدان میں آج بھی اپنی مقبولیت کی شان سجائے ہوئے ہے۔
تفسیر کے میدان میں آپ کا ایک گراں قدرکارنامہ تفسیر ہدایت القرآن کی تکمیل ہے ،تفسیر ہدایت القرآن دراصل حضرت مولانا عثمان کاشف الہاشمی صاحب نے لکھنا شروع کیا تھا اور پہلے انہوں نے اس کا تیسواں پارہ لکھا ، پھر شروع کے کچھ پارے لکھے، اس کے بعد حضرت مفتی صاحب نے اس کی تکمیل فرمائی ،تفسیر ہدایت القرآن کے بارے میں خود مفتی صاحب کیا لکھتے ہیں ؟ملاحظہ فرمائیے:
آج سے پچاس سال پہلے جب دارالعلوم دیوبند میں طالب علم تھا، حضرت مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمیؒ نے ہدایت القرآن شروع کی تھی، انہوں نے پہلے آخری پارہ لکھا، وہ مقبول ہواتو انہوں نے شروع سے لکھنا شروع کیا، بیس سال میں نَو پارے لکھے اور چھاپے، خود ہی چھپاتے تھے اور خود ہی خریداروں کو بیچتے تھے، پھر مہینوں آرام کرتے تھے، پھر اگلا پارہ لکھتے تھے۔
1974ء میں مَیںجب دارالعلوم دیوبند میں مدرس ہوکر آیا تو مکتبہ حجاز کے مالک میرے ساتھی جناب مولانا قاضی محمد انوار صاحب تھے، مولانا کاشف صاحبؒ لکھتے تھے اور قاضی صاحب چھپاتے تھے، انہوں نے مکتبہ حجاز خرید لیا تھااور مولانا کاشف صاحب مدرسہ اصغریہ میں مدرس ہوگئے تھے؛ مگر وہ اتنی دیر میں پارہ لکھتے تھے کہ قاضی صاحب کا نقصان ہوتا تھا، خریدار ٹوٹ جاتے تھے۔
جب میں مدرس ہوکر آیا تو قاضی صاحب نے دوستی کے ناتے اصرار کیا کہ میں تفسیر لکھوں اور وہ چھاپیں،میں لکھنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ؛ مگر وہ شب وروز اصرار کرتے رہے، پس میں قلم پکڑا اور دسواں پارہ لکھا، جب وہ مولانا کاشف صاحبؒ کو پہونچا تو انہوں نے پڑھ کر تبصرہ کیا ’’ پیوند کچھ برا تو نہیں‘‘ اس سے ہمت بڑھی ۔
پھر میں وقفہ وقفہ سے لکھتا رہا، استعداد بھی ناقص تھی اور زبان بھی پھس پھسی تھی،جب قاضی صاحب سر ہوجاتے تو لکھتا، پھر جب پارہ چھپتا تو میں سوجاتا، تاآں کہ ایک سال بارش بہت ہوئی اور قاضی صاحب کے گھر کا ایک حصہ گر گیا، ان کو مرمت کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی اور ہاتھ تنگ تھا ، انہوں نے اصرار کیا کہ میں مکتبہ حجاز خرید لوں، میں نے خیال کیا جب مکتبہ میرا ہوجائے گا تو کام میں تیزی آئے گی ؛ مگر معاملہ برعکس ہوا، مزید سستی پیدا ہوگئی؛ بلکہ پارہ 18لکھنے کے بعد کام بالکل ہی رک گیا، میں دوسرے کاموں میں لگ گیا ؛ مگر تفسیر کی تکمیل کا فکر ہمیشہ سوار رہا۔
ایک خواب: جس زمانہ میں مَیں وقفہ وقفہ سے تفسیر لکھتا تھا اور چھاپتا تھا، ایک سال فیملی کے ساتھ عیدالاضحی کی تعطیل میںوطن گیا اور مئو کے ایک طالب علم مولوی فیاض سلمہ کومکان سونپ گیا ، وہ اب بڑے عالم ہیں، وہ میری بیٹھک میں لیٹے تھے، انہوں نے خواب دیکھا کہ نبیﷺ میری جگہ تشریف فرماہیں، طلبہ آپﷺ کو گھیرے ہوئے ہیں، آپﷺ نے طلبہ سے فرمایا : سعید سے کہنا پوری کرے۔ ان کی آنکھ کھل گئی، وہ بھول گئے کون سی کتاب پوری کرنے کے لیے فرمایا تھا؛ مگر میں اس زمانہ میں ہدایت القرآن کا کوئی پارہ لکھ رہا تھا۔
دوسرا خواب: پھر ایک عرصہ کے بعد سہارن پور سے کسی خاتون کا خط آیا ، وہ لڑکیوں کا مدرسہ چلاتی ہیں، انہوں نے خواب میں نبیﷺ کو دیکھا اور پوچھا کہ وہ طالبات کو کیا پڑھائیں ،آپﷺ نے فرمایا: ہدایت القرآن پڑھاؤ، اس کے باوجود میری ناقص استعداد مانع بنی رہی اور کام میں کوئی تیزی نہیں آئی۔
پھر اتفاق یہ ہوا کہ 1418ھ میں تکمیل علوم کے طلبہ نے پورے سال حجۃ اللہ البالغہ کی تقریرٹائپ کی اور کاغذ پر منتقل کر کے مجھے دی کہ میں اس پر نظر ثانی کروں، چناں چہ 1419ھ میں جب سبق شروع ہوا تو میں نے اس تقریر پر نظر ثانی شروع کی؛ مگر وہ تقریر چوتھے مبحث پر ختم ہوگئی؛ کیوں کہ درس میں کتاب اتنی ہی پڑھائی جاتی تھی، اس لیے مجبوراً کام آگے بڑھانا پڑا اور 19؍ ذی الحجہ 1424ھ کو حجۃ اللہ البالغہ کی شرح’’ رحمۃ اللہ الواسعہ‘‘ پانچ ضخیم جلدوں میں پوری ہوئی، اس عرصہ میں تفسیر کا کوئی پارہ نہیں لکھ سکا۔
پھر تحفۃ الالمعی شرح سنن ترمذی کا کام شروع ہوگیا، یہ شرح آٹھ جلدوں میں شعبان؍1430ھ میں تکمیل پذیر ہوئی، پھر فوراً تحفۃ القاری شرح صحیح البخاری کا کام شروع ہوگیا، یہ شرح بارہ جلدوں میں جمادی الاخری؍1436ھ میں پوری ہوئی، پھر بلا توقف تفسیر شروع کی اور 1437ھ کے ختم تک سورۃ النور سے آخر تک تفسیر مکمل ہوئی، اب شروع سے لکھنا شروع کیا ہے، شروع کا حصہ اگر چہ مولانا کاشف الہاشمی قدس سرہ لکھ چکے ہیںاور وہ مطبوعہ اور مقبول بھی ہے، اور اس کو میں ہی چھاپ رہا ہوںاور چھپتا رہے گا، تاہم میں بھی لکھ رہا ہوں ،میرے دل پر اس کا شدید تقاضہ ہے، اسی کو میں کہہ رہاہوں میں نے تفسیر لکھی نہیں ، مجھ سے لکھوائی گئی۔(تفسیر ہدایت القرآن:1/25,26، م: مکبتہ حجاز دیوبند)
اپنے تفسیر ی انداز کی خود وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
حضرت مولانا کاشف الہاشمیؒ عوام کو پیش نظر رکھ کر تفسیر لکھتے تھے، اس لیے اس میں وعظ ونصیحت کے مضامین کا غلبہ ہوتا تھا، میں نے بھی شروع میں یہ بات پیش نظر رکھی تھی اور ساتھ ہی قرآن کریم کی تفہیم بھی ملحوظ رکھی تھی اور آیات کے مشمولات میں ارتباط کا بھی خیال رکھا تھا، پھر جلد ہفتم سے عنوانات بھی بڑھائے ہیں،اس لیے میری لکھی ہوئی تفسیر کی عبارت تو اسی طرح آسان ہے؛ مگر مضامین ذرا بلند ہیں، چناں چہ مولانا ؒ کی تفسیر عوام کے لیے بہت مفید ہے اور میری لکھی ہوئی تفسیر خواص کے لیے خاصہ کی چیز ہے، اس میں مشکل الفاظ کے معانی حاشیہ میں دئیے ہیںاور ضرورت کی جگہ ترکیب کی طر ف بھی اشارے کئے ہیں، اس سے خواص استفادہ کرسکتے ہیں۔(تفسیر ہدایت القرآن:1/27، م: مکبتہ حجاز دیوبند)
خطابت جس پہ ناز کرے
حضرت مفتی صاحبؒ میدان خطابت کے عمدہ اور شاہ کار شہ سوار تھے، انہوں نے اپنے اندازتخاطب سے سب کے دل موہ لیے تھے، دارالعلوم دیوبند میں آپ کے خطاب کو بڑی اہمیت حاصل تھی، کوئی اہم خطاب کرنا ہو یا طلبہ کو کوئی سنجیدہ نصیحت کرنی ہوتو آپ پر ہی سب کی نگاہ انتخاب پڑتی،آپ کے خطاب کی خصوصیت تھی کہ آپ بڑا سنجیدہخطاب فرماتے تھے، خطاب میںکوئی شورشرابا اور کسی طرح کا ہنگامہ نہیں ہوتا تھا؛ بلکہ وقار ومتانت کا مظہر خلیل ہوتا تھا، آپ اپنے پرنور خطاب میں الفاظ کی روانی، مواد کی جولانی، تعبیرات کی حسن بیانی،حسن گفتار کی جلوہ سامانی، بُعد از لن ترانی، لہجہ کی انفرادیت، دل نشین معنویت،لذیذ وعزیز جاذبیت،پرکشش خطابت،دلربا انداز گفتار اور باد نسیم سی خطابی مہکار سے پورے مجمع پر چھا جاتے تھے،وہ نہ صرف دارالعلوم ہی نہیں؛ بلکہ برصغیر کے یکتائے روزگارخطیبوں میں سے تھے، وہ بڑی فکرمندانہ تقریر فرماتے اور جب بولتے تو بولتے ہی چلے جاتے گویا علم کی ایک آبشار ہے جو سارے مجمع کو لطف دئیے جارہی ہے اور بہت بے تکلف بولتے تھے، مجمع چاہے کتنا ہی رعب دار کیوں نہ ہو، وہ اپنی بات شاہانہ انداز میں پیش کرتے، قوت اعتماد کے ساتھ گفتگو فرماتے، مجمع کا رعب نہ قبول کرتے اور نہ مجمع کو بکھرنے دیتے، تسبیح کے دانوں کی طرح اپنے خطابی لڑی میں سب کو پرو ئے رکھتے، خود بے لاگ ہوکر بڑا مزے دار اور پر وقار خطاب فرماتے ،، نت نئے جملے خطابت کا سہرا ہوتے، لہجہ کی مٹھاس، مواد کا حسن وآہنگ، بات کہنے کا نرالا پن، گفتگو کا بانکپن آپ کے خطاب کا لازمہ ہوتا، وہ موضوع اور عنوان کو روک سنبھال کر رکھتے اور سارے مجمع کو فکرمند بناکربیان کرتے، موضوع سے سرمو انحراف نہ کرتے اور نہ ہی اس کو پسند کرتے، موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ آپ کا وصف خاص تھا؛ بلکہ موضوع سے متعلق تمام گوشوں کو بھی واضح فرمادیتے ، وہ عام خطیبوں سے بالکل جداگانہ تھے، وہ بات کو ضرور دہراتے تھے؛ مگر ایسا انداز اختیار فرماتے کہ سامع کو کوئی الجھن یا اس کے ماتھے پر شکن نہ آنے پائے،جس جلسہ ، سیمناراور پروگرام میں آپ کی شرکت کی خبر مشتہر ہوتی تو وہاں انسانی سروں کا سمندر امنڈ پڑتا، عوام تو عوام اہل علم بھی مشتاق بنے چلے آتے،آپ البیلے لہجہ کے حامل قدرتی خطیب تھے، وہ الفاظ نہیں دل کا سوز وگداز سامعین کے سامنے رکھتے تھے، وہ رٹے ہوئے نہیں ؛ بلکہ منجھے ہوئے خطیب تھے، ان کی خطابی شان کو سارا عالم جانتا تھا، بلکہ سب معترف تھے، وہ سب کی نظر میں قابل قبول اور میدان خطابت میں بڑے مقبول تھے، ان پررب کریم کی جانب سے القائے مضامین کا عجیب سلسلہ ہوتا تھا، وہ کسی ایک میدان کے شہ سوار نہیں تھے؛ بلکہ ہر میدان کے فاتح تھے،کسی ایک موضوع پرنہیں ؛ بلکہ وہ ہر موضوع پر مہارت تامہ رکھتے تھے، ان کی زبان کو خالق ارض وسماء نے بڑا صاف اور شفاف بنایا تھا، ان کی زبان میںبڑی بلا کی تاثیری صلاحیت تھی،ان کے زبان سے نکلنے والے جملے سند کی حیثیت رکھتے تھے، لوگ ان کے کہے جملوں کوحوالے اور دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے، طلباء ان کے لہجہ اورالفاظ کو نقل کرتے اور اس پر فخر کرتے تھے، کسی کو ان کا کوئی جملہ یاد ہوجائے تو وہ اس کو دلیل پکڑنے کے لیے کافی سمجھتا تھا، وہ ایک محبوب زبان کے حامل تھے، جس کے الفاظ اور طرز ادا سے ہر کسی کو محبت تھی، ایسی متانت کے ساتھ گفتگو فرماتے کہ گویا علم کے ڈول سامعین کے قلوب میں انڈیل رہے ہوں، وہ فائق خطیب اور لائق مقرر تھے۔
لہجہ کی ملاحت جب یاد آئے گی روئیں گے
تڑپائیں گے تیرے وہ اقوال حکیمانہ
تصنیف وتالیف کا کمال
ربِ منان نے آپ کو تصنیف وتالیف کا ایسا بے بدل ملکہ عطا فرمایاکہ آج بھی ہر کوئی آپ کی تالیفات کا گرویدہ ہے، خدائے بزرگ وبرتر نے آپ کوبہترین قلم کاری کی دولت سے اتھاہ نوازا تھا، آپ کی جتنی تصنیفات ہیں وہ علمی تموج اور تحقیق وفور کے بہ سبب عالمی کتب خانہ کاایک عظیم سرمایہ تصور کی جاتی ہیں، آپ کی ساری تالیفات مطالعاتی تفوق اور ذوق حسین کی ترجمان ہیں، ان میں قابل اعتماد حوالوں کی کثرت، مواد کی وسعت، الفاظ کی ندرت، عناونین ومضامین کی لطف اندوز نکہت،کہیں کہیں بڑے بڑوں کو دعوت مراجعت، انداز بیان کی وجاہت، عالمانہ ومدابرانہ شان وشوکت، ترتیب کی موازنت ،باسلیقہ و سحر انگیزگفتگو کی کرامت، ہر لفظ کی الگ الگ صراحت ، الجھتے مسائل کی سلجھتی وضاحت، معانی ومفاہیم کی لطافت اور لفظ لفظ میں ثقاہت یہ وہ چیزیں تھیں ، جو حضرت مفتی صاحب کی تصانیف کی کامیابی کا راز اور تلقی بالقبول کا ذریعہ تھیں،چاہے آپ کی آسان نحو ہو یاتحفۃ القاری ہرکتاب اپنے قاری کے لیے نہایت دلچسپ اور علمی ذوق کی فراہمی میں معین ومددگار ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی کتابوں کی مقبولیت کسی علاقہ، بستی، شہر ، ریاست اور ملک کی سرحدوں کے حدود میں رہنا گوارا نہیں کیا؛ بلکہ ریاست وملک کی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے ساری دنیا میں اپنی مقبولیت کا جھنڈا نصب کردیا، آپ کی کتابیں ہر ملک ، ہر ریاست اور ہر علاقہ میںپڑھی جانے لگی ہیں؛ بلکہ بڑے شوق سے پڑھی جارہی ہیں، لوگ بڑے ہی انہماک سے ان سے استفادہ کرتے ہیں، جہاں تک شاید آپ کا پہونچنا مشکل تھا،وہاں تک آپ کی کتابوں نے سفر کیا اور آپ کے علمی فیضان کو جاری کردیا۔
رحمۃ اللہ الواسعہ ایک عظیم علمی کارنامہ
حضرت مفتی صاحب ؒ کی تمام کتابیں مقبول عام وخاص ہیں،حضرت مفتی صاحبؒ نے حجۃ اللہ البالغہ کی شرح رحمۃ اللہ الواسعہ لکھ کر امت پر احسان عظیم فرمایا ہے ،حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کی فکر کو امت کے سامنے بڑے آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے ، ان کی دینی فکر اور مذہب اعتدال سے امت کو روشناس کرایا ہے ، حجۃ اللہ البالغہ عوام کے کیا پڑلہ پڑتی ، کبھی کبھی علماء بھی ہمت ہار جاتے ؛ مگر حضرت مفتی صاحب نے پوری جستجو اور اپنی مہارت کھپا کر حجۃ اللہ البالغہ کی شرح لکھ کر علماء کے کاندھوں کا بوجھ ہلکا کیا ہے اور اس میں اس بات کا خاص خیال رکھا کہ کوئی بات بھی مسلک دیوبند سے ٹکرانے نہ پائے اورکمال یہ کیا کہ اس کتاب کو بھی اپنے مسلک و موقف کی مؤید بنادیا۔
ہرفن مولیٰ
مبدأ فیاض نے آپ کوتمام تر علمی و عملی کمالات سے نواز اتھا، علمی دنیاکا کوئی بھی میدان ہو ، آپ اس کے عمدہ شہ سوار تھے، ہر فن میں آپ کو صاحب رشک حدتک مہارت ہی بلکہ اولیت حاصل تھی، لوگ آپ کی علمی جلالت سے حیران وششدر رہ جاتے ،تمام فنون کے میدان میں رب ذوالجلال نے آپ کو اخذ واکتساب کی وہ پُررشک استعداد عطا فرمائی تھی کہ فنون اسلامیہ کی جس صنف کی طرف آپ نے توجہ مبذول کی وہ آپ کی کامل دسترس میں آگئی،جسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ آپ خاص طور پر اسی فن کے شناور ہیں، جب کہ آپ کو تمام علوم اسلامیہ کے ہر شعبہ میں اسی طرح قدرت تامہ حاصل تھی، آپ نے ہر فن کے بحرعمیق میں غوطہ زن ہوکر وہ جواہر پارے امت کے سامنے پیش کئے کہ جو اس فن سے مناسبت ومہارت حاصل کرنے میں وہ معین ومددگار ہی نہیں ؛ بلکہ اس فن میں فوقیت حاصل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئے ، یہی وجہ ہے کہ فن نحو ہو یا صرف آپ نے ابتدائی درجہ کی چھوٹی مگر ایسی شاہکار کتابیں تحریر فرمائی جسے پڑھ کر اور یاد کرکے کئی طلبہ نحو وصرف کے ماہر اور تجربہ کار بن کر ابھرے ہیں، فارسی کامیدان ہو یا منطق کا ، بلاغت کا ہو تفسیر کا، فقہ کا ہو یا اصول فقہ کا، حدیث کا ہویا اصول حدیث کا اور طلبہ کا اسلامی ذہن بنانے کا مرحلہ ہو یا ان میں صفات ایمان منتقل کرنے کا ، ہر میدان میں آپ نے اپنی تصنیفات سے امت کی رہبری فرمائی ہے، آپ کی ضخامت بھری تصنیفات تو اسلامی لائبریری کا حصہ ضرور ہیں؛ مگر آپ کی چھوٹی مگر بنیادی و پائیدار تصنیفات بھی کچھ کم نہیں، ان کی اہمیت و افادیت کا کوئی منکر نہیں ، ہر فن اور ہر میدان میں آپ کی علمی جلالت شان آپ کے ہر فن مولیٰ ہونے کا کھلا ثبوت اور نرالی دلیل ہے ۔
نگاہوں میں ججنا بھی کمال ہوتا ہے
حضرت مفتی صاحب بڑے نباض اور مزاج شناس تھے، ہر کسی کو اپنا قریبی نہیں بناتے تھے اور نہ ہی جلدی کسی سے بے تکلف ہوتے تھے؛ بلکہ پہلے اسے پرکھتے ، جانجتے، مانجھتے، اس کے مزاج کے نشیب وفراز کا جائزہ لیتے ، پھر اس کی جانب نگاہ التفات ڈالتے، بس جس پر نظر پڑگئی تو وہ خود کو نصیب کا دھنی سمجھنے لگتا، وہیں سے مفتی صاحب کی قربت کے زینے اس کے لیے ہموار ہوتے، ہر کوئی نگاہ میں نہ جچ پاتا اور نہ ہی جم پاتا، حضرت مفتی صاحب کے مزاج میں رنگنے کے لیے ایک خاص کی مزاج کی ضرورت ہوتی تھی جو ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی ، یہ بھی واقعہ ہے کہ مفتی صاحب اگر کسی پر نظر ڈال کر بات کریں تو پہلی مرتبہ اس کی ہچکیاں نکل جاتیں، وہ جلالت شان اور علمی رعب کی تپش سے مرعوب ہوجاتا اور زبان گنگ ہونے کے قریب ہوجاتی ، پھر جب مزاج سے مزاج ملتاجاتا تو کیا کہنے ، اس کے بعد ایک مجلس کی بھی غیر حاضری بے قرار کرجاتی،جب تک مفتی صاحب کا دیدار کا نہ ہو جائے ، دل بے قراری کا شکوہ کئے جاتا، جب نگاہیں دیدار حضرت سے مشرف ہوجاتیں تو پھر دل بھی مائل بہ سکون ہوتا، جب حضرت سے انس و تعلق پیدا ہوجاتا تو ہربات دل پر نقش ہوتی چلی جاتی ، قلب کو سکون وقرار میسر آتا، نگاہیں ٹھنڈی رہتیں،قوت سماعت کو جلا ملتی، انداز تخاطب سے بات کی گیرائی کا اندازہ ہوجاتا، بنا الفاظ کے لبوں جنبش ہی سے نتیجہ اخذ کر لیا جاتا، سرکے ہلانے سے مفہوم واضح ہوجاتا،قصہ مختصر یہ کہ جلدی نظر میں کوئی ججتا نہیںاورجوکوئی نگاہ میں سماجائے تو اس پر برکات کی بارش شروع ہوجاتی، علمی فیضان کا انبار لٹ جاتا، وہ خود کو مقدرکا دھنی سمجھنے لگتااور ہر جگہ اس کی ایک الگ پہچان بننے لگتی، اس کے تعلق پر رشک کیا جاتا اور اس تعلق سے دین ونیا کے بڑے بڑے مرحلہ حل کر لیے جاتے ؎
نظر کی جولانیاں نہ پوچھو نظر حقیقت میں وہ نظر ہے
اٹھے تو بجلی پناہ مانگے گرے تو خانہ خراب کردے
رد فرق ضالہ
حضرت مفتی صاحبؒ فرق ِضالہ کے سلسلہ میں بڑے حساس تھے، نئے نئے فتنوں سے طلبہ اور ملنے والوں کو آگاہ کرتے اور ان کا رد کرنے پر آمادہ کرتے ، فرق باطلہ کے نظریات و خیالات کو سرعام لانے میں کسی بھی طرح کا تأمل روا نہیں رکھتے تھے، بہ بانگ دہل ان کے باطل افکار کو پیش بھی کرتے اور ساتھ ساتھ اس کا رد بھی فرماتے ، جن فتنوں سے دین کی عصمت پر ذرہ برابربھی آنچ آنے کا امکان ہوتو انہیں جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے لیے کمر بستہ رہتے ، ایسے فتنوں کی سنگینی سے صرف اپنے چھوٹوں کو ہی نہیں ؛ بلکہ اکابر علماء کو بھی متوجہ فرماتے ، ہر آنے والے نئے فتنے کو بھانپ کر اس کی فتنہ انگیزی کے مضرات کو خوب واضح کرتے ، مسلک کی حفاظت واشاعت کا دھن اپنے ذہن پر ہمیشہ سوار رکھتے، بدعات سے سخت نفرت فرماتے ، غیر مقلدیت کی ایک ایک شاطرانہ چال سے واقف کرواتے، جب حضرت مہدی کے سلسلہ میں بڑے فتنے رونما ہونے لگے ، کچھ ناپکار مہدی ہونے کے دعویدار ہوئے تو حضرت مفتی صاحب نے اس سلسلہ میں کئی مقامات پر سیر حاصل گفتگو بھی فرمائی اور اس سلسلہ میں اہل علم و حق پرست حضرات میںبھی پائی جانے والی غلط فہمی کا بہترین ازالہ فرمایا، فرق ضالہ کی تردید و سرکوبی میں آپ پیش پیش رہتے اور فرماتے ان کی وجہ سے دین کی بنیادیں کھوکلی ہوجاتی ہیں۔
چند دل کش خوبیاں
حضرت مفتی صاحبؒ ان ساری خوبیوں کے ساتھ بڑے ہنس مکھ، مانوس طبیعت، وفا وانسیت شعار، شہرت وناموری سے دور، محبت والفت کے پیکر، دل موہ لینے والے لہجہ کے حامل اور علمی طنطنہ سے معمور تھے؛ مگر مغرور نہ تھے،وہ سدابہار خوش مزاجی کے مالک تھے، وہ ایک تدریسی انسان تھے، ہر موقع پر وہی عنصر غالب رہا کرتا تھا، چاہے وہ کوئی سا بھی اسٹیج ہو یا میدان ہوانداز بیان میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا تھا اور نہ ہی مجمع سے مرعوب ہوتے؛ بلکہ بڑے بڑے علمی مجمع میں بھی اپنی بات پوری شوکت کے ساتھ بیان کرتے تھے، وہ قوت بیان کے شہنشاہ تھے، اپنے فہم پر کافی اعتماد رکھتے تھے، ہر کس ونا کس سے متأثر نہیں ہوتے تھے، وہ علمی دنیا کے لائق وفائق شہسوار تھے ،علمی طبقہ سے بڑی محبت رکھتے تھے، اپنی واہ کے لیے ہر کسی کی ستائش نہیں کرتے تھے، بڑی غورمندی کے بعد کسی کی تعریف وستائش کرتے اور جب کرتے تو کھل کر کرتے ، کسی کی ملامت کا احساس نہیں کرتے، جب کسی کی کوئی لغزش بیان کرتے تو پورے رسوخ کے ساتھ بیان کرتے، اپنی علمی لیاقت پر کافی اعتماد کرتے؛ مگر تکبر کے تعفن سے کوسوں دور تھے، کبھی اپنے علم کی ڈھاگ کسی پر نہیںجماتے ، اپنے سے کم علم سے بھی بڑی شفقت سے پیش آتے، علماء سے پیار کرتے ، کام کرنے والوں کی قدر کرتے ، اپنے بلند مقام کے باوجود انتظامیہ کا بھر پور تعاون کرتے،کسی کی حقارت نہ کرتے اور نہ اس وصف کو پسند کرتے، فوراً نہ کسی پر وار کرتے اور نہ فی الفور اپنا دفاع کرتے ؛ بلکہ مدمقابل کو خوب آزماتے اور اس کو حد تک جانے دیتے ، پھر اپنے دفاع میں دوچار بول کر اکتفاء کرلیتے، اپنی بات لوٹانے یا اس سے رجوع کرنے میں ذرہ برابر بھی نہیں شرماتے، مجمع چاہے بڑا ہو یا چھوٹا ، طلبہ کا ہو یاعوام کا ہر جگہ وہی انداز اختیار فرماتے، دنیا سے بڑے بے نیاز تھے، تجارت پورے شوق سے کرتے اور اس پر خوش ہوتے، کبھی احساس کہتری کا شکار نہ ہوتے، راہ حق میں بڑے بڑوں کا رد فرمادیتے،اور حق بات پر چھوٹے سے چھوٹے کی ستائش فرماتے،ان کے مزاج میں قدردانی کا عنصر غالب تھا، وہ اصلاحی تنقید کے حامل تھے، ان کے رویہ میں کوئی بھونڈا پن نہیں تھا، وہ خورد نوازی میں طاق تھے،قناعت پسندی مزاج کا لازمی حصہ تھی، پان بڑے شوق سے کھاتے تھے، جب وسعت ہوگئی تو للہ وپُرخلوص خدمت انجام دینے لگے، بغیرتنخواہ کے دارالعلوم میں پڑھاتے، جب اور وسعت ہوئی تو دارالعلوم دیوبند اوردارالعلوم اشرفیہ راندیر گجرات سے لی ہوئی پوری تنخواہ حساب کرکے واپس کردی ، اخلاص سے لبریز تھے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑے عظیم انسان تھے ، ایسے انسان جو ہزاروں سال میں پیدا ہوتے ہیں، جن کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگاکہ؎
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
اولاد کی مثالی تربیت
خالق کائنات نے حضرت مفتی صاحب کو اولاد کثیر کی نعمت سے مالامال فرمایا تھا، وہ ایک مشفق باپ کے ساتھ ساتھ کڑی نظر رکھنے والے مربی بھی تھے، اپنی اولاد کی تربیت انہوں نے بڑے انوکھے انداز پر کی تھی، اولاد نرینہ کی کثرت کے باوجودانہیں بکھرنے نہیں دیا، اپنے ہربیٹے کو اپنے سے جوڑے رکھا، وہ علمی دنیا میں آگے چل سکتا ہوتو اسے تعلیم کے زیور سے خوب آراستہ کیا؛ اگراپنے کسی لڑکے میں وہ صلاحیت نہ پاتے تو اس کا وقت ضائع کئے بغیر اس کو تجارت میں لگادیتے، اولاد کا وقت پر نکاح کردیا اور ان کے صاحب اولاد ہونے کے باوجود بھی ان کو بے فکر یا آزاد خیال نہیں چھوڑا، اپنے بڑے فرزند کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے (پوتے) کو باپ کی کمی محسوس ہونے نہیںدیا، اس کو خوب پڑھا لکھا کرقابل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی؛ بلکہ ہر معاملہ میں اپنی اولاد کے برابر اس کو مقام دیا اور اس کی ہر ضرورت کو اس سے بڑھ کر خود محسوس کرکے اس کے کہنے سے پہلے پورا کیا۔
گھریلو معاملات میں خوش مزاجی
حضرت مفتی صاحب ترش مزاج نہیں تھے، وہ اپنے گھر میں بڑے پیار ومحبت کے ساتھ رہتے ، اپنی اہلیہ سے بے پناہ محبت کرتے، اہلیہ کو کسی بات کی تکلیف ہونے نہ دیتے، ان کی اہلیہ بھی صفات کمال سے متصف تھیں، اپنے شوہر کی خوب خبرگیری کرتیں، انہیں معمولی تکلیف دینے سے بھی کتراتیں، ابتدائی دور میں تھوڑی تنخواہ اور قلیل آمدنی پر صابر وشاکر رہتیں، گلہ شکوہ کبھی ان کے مزاج کا حصہ نہ بن سکا، اپنی بہؤوں کو بیٹیوں کا مقام دیتیں اور مفتی صاحب بھی اس کا خوب خیال فرماتے ، جب اہلیہ کا انتقال ہوا تو تدفین کے فوری بعد ترکہ تقسیم فرمادیا، چوں کہ بہؤوں کا میراث میں کوئی حصہ نہ تھا؛ مگر گھر میں تقسیم ہونے کی بناء پر اہلیہ کے ترکہ کی تقسیم کے بعد اپنی جانب تمام بہؤوں اور پوتے کو ہدیہ پیش کیاتاکہ ان کو کسی طرح کا کوئی خیال نہ آئے ، ایسا منظم خاندانی نظام جسے دیکھ کر رشک آجائے۔
اہلیہ کو حافظہ بنادیا
حضرت مفتی صاحب کو کلام الہی سے گہرا لگاؤ تھا، خوب تلاوت فرماتے تھے اور گھر کے ہر فرد کو تلاوت کا عادی بنائے رکھا تھا، اپنی اہلیہ کو بھی تلاوت کا خوگر بنادیا اور قرآن کریم سے اس درجہ محبت پیدا فرمائی کہ ان کو حافظہ بننے کا شوق پیدا ہوگیا،ادھر مفتی صاحب نے پوری توجہ دہانی کے ساتھ حافظہ بنایا، اس کا فائدہ یوں بیان فرماتے کہ میں نے اپنی بیوی کو حافظہ بنایا تو اس نے میرے پورے بچوں کو حافظ بنادیا۔
اہلیہ سے محبت کی انتہاء
حـضرت مفتی صاحب اپنی اہلیہ سے خوب محبت فرماتے تھے، اس کے اظہار میں نہ شرماتے اور ہچکچاتے، اس کااندازہ اس وقت ہوا جب ان کی اہلیہ اس دار فانی سے رخصت ہوئیں تو دوسرے دن جب درس گاہ میں مفتی صاحب حاضر ہوئے تو بڑے درد کے ساتھ ایک جملہ فرمایا ’’ میرے بچو! کل تمہاری ماں دنیا سے چلی گئی‘‘یہ جملہ ایسے درد سے بیان فرمایا کہ اکثر طلبہ کی ہچکیاں نکل گئیں ، بے ساختہ اشک بہہ پڑے،اور اسی دن سے محسوس ہونے لگا کہ حضرت مفتی صاحب کی آواز میں ہلکا سا ضعف آگیا ہے ؛ ورنہ اس سے پہلے جس قوت بیانی اور پرزور لہجہ کی روانی ہوتی تھی وہ قابل دید تھی؛ مگر اہلیہ کے وصال کے فوری بعد اس میں لہجہ اور زور بیان میں اضمحلال کھلا محسوس ہونے لگا۔
آخری درس کی نصیحت
حضرت مفتی صاحب ہر سال اختتامی درس کے موقع پر ایک متعینہ تقریر فرماتے تھے ،اور ہر سال اسی درد انگیز کیفیت کے ساتھ بیان فرماتے تھے کہ طلبہ پر گریہ طاری ہوجاتا ، آخری درس میں طلبہ میں ہمت وحوصلہ پیدا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم میں کوئی بھی احساس کہتری کا شکار نہ ہو، عمدہ صلاحیت اور کم لیاقت یہ مقدر کی بات ہے ، اللہ کسی کی صلاحیت دیکھ کر کام نہیں لیتا ہے، جذبہ دیکھ کر قبول فرماتا ہے، ہر فاضل دین کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر رکھے،آپ ابھی طالب علم ہی ہیں، آپ نے ایک اقرأ ختم کیا ہے اور اب دوسرا اقرأ شروع کرنا ہے، اور بھی زیادہ اپنے علمی مشغلہ کو جاری رکھنا ہے، آپ فارغ نہیں ہوئے ہیں، اس لفظ نے سب کے ذہنوں کو بگاڑ رکھا ہے، عموماً ایسے وقت میں طلبہ کی تین قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ جن کی صلاحیت عمدہ ہے، دوسرے جو اوسط درجہ کی صلاحیت کے حامل ہیں اور تیسرے جن کی صلاحیت کمزور ہے، اب تینوں کے میدان الگ الگ ہیں، ناکارہ کوئی نہیں ، جس کی صلاحیت عمدہ ہے، وہ مدرسہ میںپڑھائے، نہ تخصصات میں اپنا وقت ضائع کرے اور نہ ہی تبلیغ میں جائے؛ بلکہ کم از کم دس سال خوب پڑھائے اپنی صلاحیت میں پختگی پیدا کرے ، ا س کے بعد جو چاہے کرے، دوسرے جو اوسط درجہ کی صلاحیت کے حامل ہیں وہ تخصصات میں داخل ہوکر اپنی کمی کوتاہی کو دور کریں اور پختہ صلاحیت بنانے کی کوشش کریں ، پھر علم دین کی خدمت میں لگ جائیں، تیسرے جن کی صلاحیت کمزور ہے، وہ نہ مدرسہ میں پڑھائیں اور نہ ہی تخصصات میں اپنا وقت ضائع کریں؛ بلکہ دین وملت کی خدمت کے لیے وقف ہوجائیں ، مسجد میں امامت کریں، تبلیغ میں لگ کر لوگوں کی اصلاح کریں، مکاتب چلائیں اور عوام میں رہ کرجو دین کا کام کر سکتے ہوں کریں، ہر طالب علم قبول ہوسکتا ہے ، اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت میں لگے رہیں، اس تعلیم کو روٹی بوٹی کا ذریعہ نہ بنائیں،اپنے اکابر سے وابستہ رہیں، اساتذہ سے ربط رکھیں اور ہمارے اکابر کی قائم کی ہوئی کسی تنظیم و جماعت سے جڑ جائیں اور اس سے وابستگی کے ذریعہ اپنے اسلاف واکابر کے منہج وکاز کو سمجھیں ، یاد رکھو! اولاد کی تین قسمیں ہوتی ہیں، ایک پوت ہوتی ہے ، دوسری سپوت اور تیسری کپوت ہوتی ہے، پوت نہ اچھی نہ بری ، یہ پسندیدہ نہیں،ایسے مت بنو، دوسرے سپوت : جو اپنے ماں باپ کی فرماں بردار اور خدمت گزار ہوتی ہے، ماں باپ کے نام کو روشن کرتی ہے، ان کو بدنام نہیں کرتی، یہ قابل اور محبوب اولاد ہے، تم ایسے بنو، تیسری کپوت : جو ماں باپ کی نافرمان اور نالائق ہوتی ہے ، ماں باپ کا نام بدنام کرتی ہے، تم ہرگز ایسے نہ ہو، تم اپنے والدین اور دارالعلوم کے حق میں سپوت بننے کی کوشش کرو، اپنے مسلک کی حفاظت کرو، یہ دور فتنوں کا دور ہے، ہمارے ملک میں کم فتنے ہیں، دوسرے ممالک میں فتنوں کی بہتات ہے، فرق ضالہ کو پہچاننے اور لوگوں کو اس سے بچانے کی کوشش کرو، مسلک کی حفاظت کو اپنے لیے لازم بنالو، اپنے دین وایمان کی حفاظت کو اپنی زندگی کا اولین فریضہ تصور کرو، اگر یہاں سے جانے کے بعد جب کبھی میرے انتقال کی خبر ملے تو ضرور ایصال ثواب کرو۔اس کے بعد حضرت مفتی صاحب نے رقت انگیز دعا فرمائی تھی۔
آخری درس کے بعد
جب حضرت مفتی صاحب آخری درس دے کر تشریف لے جارہے تھے تو اس کیفیت کا لفظوں میںاظہارناممکن ہے، ہر طالب علم مفتی صاحب کو اشک و رشک بھری نظر سے دیکھ رہا تھا، سب کے لبوں پر ایک طرح کی کپکپاہٹ تھی، ہرطالب علم اپنی جگہ بیٹھ کر اس شہنشاہ علم وفضل کو الوداع کہہ رہا تھا، جی چاہتا تھا کہ جا کر گلے لپٹ جائیں، ہاتھوں کا بوسہ لے لیں؛ مگر طلبہ کا جم غفیر اس بات کی کہاں اجازت دے سکتا تھا؟ہر طالب علم اپنے جذبات کو قابو میں رکھے ہوئے حضرت مفتی صاحب کے دیدار سے آنکھوں کوٹھنڈا کر رہا تھا، جب جب بھی مفتی صاحب پر نظر پڑتی بے ساختہ آنکھوں سے آنسوں جاری ہوجاتے، طلبہ آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ اب ایسا درس زندگی بھر سننے کو نہیں ملے گا، دوسرا کہتا کہ نہیں جب یاد آئے گی دیوبند چلے آئیں گے، ہر کوئی حضرت کے کمالات و تفہیم درس کا تذکرہ کرکے آب دیدہ ہورہا تھا، مفتی صاحب خراما خراما درس گاہ سے کیا باہر نکلے ، اب شور بپا تھا، ہچکیاں اب چیخوں میں بدل چکی تھیں، طلبہ آپس میں بغل گیر ہوکر آنسوں بہا رہے تھے، کوئی مفتی صاحب کی مسند کو بس دیکھتے جاتا اور اپنے آنسوں پوچھتے جاتا، بہرحال وہ الوداعی جذبات زندگی کی ناقابل فراموش یادگار ہیں۔
حضرت آپ یاد آتے رہیں گے
حضرت مفتی صاحب امسال رمضان (1441ھ، م: 2020ء)کے الوداعی ایام میں الوداع کہہ گئے، انتقال کی خبر محض ایک خبر نہیں ، کوئی بجلی تھی، جس نے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا، جیسے ہی اطلاع ملی بے ساختہ آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے، طبیعت مضمحل ہوگئی، بے چینی و بے قراری کی عجیب کیفیت طاری ہوگئی، اشک رکنے کا نام لینے تیار نہیں،مفتی صاحب کی ایک ایک ادایاد آتی جارہی تھی اور حضرت کے واقعات اور درس کے لمحات کی یاد نے اور بھی زیادہ رنجور کردیا، بے کلی کے اس عالم میں کس کو اطلاع دیں ، کس کو تعزیت پیش کریں ، ہر کوئی سوگوار ہے، ہر کوئی اپنا ذاتی نقصان تصور کئے ہوئے ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حضرت کی رحلت ، کسی خاص طبقہ،مخصوص افراد، اہل خاندان ، دارالعلوم دیوبند اور صرف اہل گجرات کے لیے نہیں؛ بلکہ پورے عالم کے لیے نقصان تھی، حضرت کا فیض صرف دارالعلوم کی حد تک محدود نہ تھا؛ بلکہ ساراعالم آپ سے فیض یاب ہورہا تھا،نوبت تو یہ تھی کہ آپ اپنی عمر کے آخری ایام میں بغرض علاج ممبئی تشریف لے گئے اور وہاں بھی فیضان علم جاری فرما رکھا تھا، لوگوں میں پائی جانے والی ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ فرمایا اور کتاب وسنت اور تاریخ کی روشنی میں اس کی اصلاح فرمائی، روزآنہ تراویح کے بعد آپ کے پرنور خطاب کا سلسلہ جاری رہتا، انتقال سے ایک یوم قبل بھی آپ نے اپنا آڈیو جاری فرمایا جس میں اپنے عزم واستقلال اور خدمت دین کے جذبہ کا اظہار فرمایا اور اس میں فرمایا کہ لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں بیان نہ کروں، میں ضرور بیان کروں گا،حضرت نے اپنا بیان بھی دیا؛ مگر قدرت کو جو منظور ہواسے کون ٹال سکتا ہے؟ مقدر کے لکھے کو سوائے خدا کے کون بدل سکتا ہے ؟ بالآخر رمضان کے وداعی لمحات کے ساتھ یہ شہنشاہ علم وفضل بھی وداع ہوگیا۔
حضرت !آپ کے چلے جانے سے امت کا ایک بڑا طبقہ رنجور ہے، اظہار غم پر مجبور ہے، ارمان چکنا چور ہیں، آپ کی رحلت نے سب کو تڑپا دیا، سب کومبتلائے رنج والم کردیا ،حضرت آپ نے اچھا ہی کیا، آپ بہت تھک چکے تھے، آپ نے دن ورات کے چین کو غارت کر رکھا تھا، آپ کئی طرح سے پریشان تھے، آپ کو آرام کی سخت ضرورت تھی، خدا نے آخر کار آپ پر ترس کھا ہی لیا،یہ دنیا کب احسان شناس ہوسکتی ہے، اس احسان فراموش دنیا کے لیے آپ اپنی دگنی عمربھی کھپادیتے تو آپ کو کیا صلہ دیتی، ترقیوں سے جل بھن جاتی، بلند مقام سے کٹ گھٹ جاتی، آپ کو جو مقام ملا واقعہ ہے کہ آپ کی شخصیت اس سے بلند تھی؛ مگر اس مفاد پرست دنیا میں کسی کوبڑھتا دیکھنے کی تاب کہاں؟ آپ کے ساتھ کیا کیا نہ کیا، کرنے والوں نے بہت کچھ کیا؛ مگر آپ عزم وحوصلہ کے پہاڑ تھے، آپ کے نشیمن پر بجلیاں گرنے کے باوجود بھی آپ ثابت قدم رہے، یہ تلخیاں و کڑواہٹیں آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں، آپ نے دلوں پر حکومت کی ہے، علم کی اشاعت کی ہے، قوم کی خدمت کی ہے، حقیقی امانت پیش کی ہے، رسول اللہﷺ کی وراثت تقسیم کی ہے ، سچی تجارت کی ہے، اچھی تربیت کی ہے، قوم کوحق کی تہذیب و ثقافت سے آراستہ کیا ہے، ملت کے جیالوں کو سنوارا ہے، علم کے شہ پاروں کو نکھارا ہے ، آپ نے بدعات کو للکارا ہے، حق کو ابھارا ہے ،آپ کی خدمات نافراموش ہیں،آپ خاموش مگرانتہائی مضبوط موقف کے حامل تھے، بڑے بڑے بھی آپ کے موقف سے دہل جاتے ، جب آپ اس پر اٹل ہوجاتے، آپ میں بڑی شان بے نیازی تھی، آپ کی ہر بات نرالی تھی۔
حضرت آپ کو ہم کیسے فراموش سکتے ہیں، آپ کی یاد ہماری یادوں کے دریچے کا اجالا بنی رہے گی، آپ کی یاد بار بار تڑپا تی رہے گی، آپ نے کہاں جاکر اپنی آخری سانسیں لی ہیں؟آپ کے مقدر پر رشک آتا ہے کہ مقدر نے بھی آپ کے مزاج کا خوب ساتھ دیا، بڑے سکون کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے، شورشرابے سے دور رہے، بھیڑ بھاڑ سے بچ کر اپنی آخری آرام گاہ کا راستہ طے کیا، لوگوں کے ہجوم سے شاید آپ کو تکلیف ہوسکتی تھی، اس لیے چند لوگوں نے آپ کومنزل تک پہونچایااور آپ کو آخری آرام گاہ میں پرسکون لٹادیا،حضرت! اب دیوبند آکر بھی آپ سے مل نہ سکیں گے ، کاش کیا اچھا ہوتا، آپ مزار قاسمی میں اپنا بستر لگالیتے، اب تو دیوبند جاکر بھی آپ کی زیارت سے محروم رہیں گے، دیوبند کا مسند درس اور مزار قاسمی کو دیکھ کر آپ اور بھی زیادہ یاد آنے لگیں گے، آپ کا انداز تڑپائے گا، آپ کا لہجہ ستائے گا، آپ کا درس رلائے گا، آپ ہمیشہ یادوں میں آباد رہیں گے ، اپنے جذبات کا کیسے اظہار کریںاور کتنا کریں ، بس الوداع حضرت الوداع۔