Sat, Feb 27, 2021

ایام قربانی سے پہلے قربانی کا جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرنا درست نہیں
قربانی کے تعلق سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔مولانا مفتی سید ابراہیم حسامی قاسمیؔ کا بیان

قربانی کے تعلق سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جارہی ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس سا ل قربانی نہ کی جائے ؛ بلکہ قربانی کی رقم مدارس یا غرباء میں صدقہ کردی جائے ،یہ خیال بالکل غلط ہے۔ جب کہ ایام قربانی میں ہر صاحب نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے، ان خیالات کا اظہار مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ استاذ تفسیر وفقہ دارالعلوم حیدرآباد وناظم مدرسہ تعلیم القرآن بورابنڈہ نے کیا، مفتی صاحب نے کہا کہ احادیث شریفہ میں وضاحت ہے کہ ایام قربانی میں قربانی سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کو محبوب نہیں اور رسول اللہﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ بعض لوگ سوشیل میڈیا پر وائرل ایک فتوی کی بنیاد پر غلط فہمی کا شکار ہورہے ہیں، حالاں کہ اس فتویٰ میں واجب قربانی نہ کرکے اس کی قیمت صدقہ کرنے کی کوئی صراحت موجود نہیں؛ فتوی میں کہا گیا ہے کہ اگر 12؍ذی الحجہ تک قربانی کی کوئی صورت بَن نہ پڑے تو قربانی کا جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرنی چاہیے، واضح رہے کہ قربانی کا جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرنے کامسئلہ اس وقت ہے جب قربانی کے تینوں دن گزرجائیں اور قربانی کی کوئی صورت نہ بن سکے۔ ایام قربانی سے پہلے اگرکوئی صاحب نصاب شخص قربانی کا جانور یا اس کی قیمت قربانی کی نیت سے صدقہ کرتا ہے تو اس کا یہ عمل قربانی کا بدل نہیںبن سکے گا، اس پر قربانی بدستور واحب رہے گی اور وہ واجب قربانی کے ترک کرنے کا مرتکب ہوگا۔ہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی واجب قربانی کے علاوہ کئی اور نفلی قربانی کرتا ہو توہو ایسے شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی واجب قربانی کرنے کے بعد نفلی قربانی کرنے کے بجائے اس کی قیمت صدقہ کرے۔لہذا غلط فہمیوں یا افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے کسی معتبر ومستند عالم دین سے مسئلہ کی وضاحت کرلینی چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ رقم بھی چلی جائے اور گناہ کا بوجھ بھی سرپر آجائے۔