Thu, Feb 25, 2021

*روزوں کی حفاظت کیجیئے!*

*مولانا محمد فصیح الدین ندوی*

اللہ تعالی کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اس نے ہمیں گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کا عظیم مہینہ عطا فرمایا اور یہ ماہ مبارک تیزی کے ساتھ گذرتا جارہا ہے *اس وقت اس ماہ کا رحمتوں والا عشرہ اختتام کے قریب ہے، اس لئے ہم پوری مستعدی کے ساتھ اپنے اوقات کو نیک اعمال میں لگائیں،* الحمدللہ امت کا بیشتر طبقہ رمضان کے روزوں کا اہتمام کرتا ہے تا ہم کچھ لوگ سستی و کاہلی، دین سے دوری کے نتیجہ میں روزوں کا اہتمام نہیں کرتے ایسے احباب سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ روزوں کا اہتمام کریں اسلئے کہ یہ فرض ہیں اگر ہم معذور نہیں ہیں تو ہمیں ہر حالت میں روزے رکھنا ہے اور یہ اتنی فضیلت والا عمل ہے کہ سابقہ زندگی کے تمام گناہ اللہ تعالی معاف فرما دیتے ہیں چنانچہ *امام الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد ہے “من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ” (بخاری) جو شخص ایمان اور ثواب کی امید سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔*
یہ تو ثواب ہے، اگر اتنی فضیلت کے باوجود ہم غفلتوں کے شکار رہے تو اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کی ہلاکت کی وعید سنائی ہے لہذا اللہ کی پکڑ سے بچنے کیلئے ہمیں ضرور روزے رکھنا چاہیے، اللہ ہمیں اسکی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔
*امت کا وہ با توفیق طبقہ جو روزوں کی عبادت بجا لا رہا ہے اور اللہ نے انہیں اس فرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ اس پر دل سے اللہ کا شکر ادا کریں اسلئے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے “لئن شکرتم لازیدنکم” (ابراہیم:۷) “اگر شکر ادا کرو گے، نعمتوں میں اضافہ کروں گا۔” لہذا نیک کاموں کی توفیق پر اللہ کے شکر کا معمول بنالیں تو اللہ مزید نیکیوں کی توفیق دیتے رہیں گے، شکر کے ساتھ ساتھ ان با توفیق بندوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے روزوں کی حفاظت کریں۔*
*امام الانبیاء محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا “الصوم جنۃ ما لم یخرقھا” (بخاری) روزہ ڈھال ہے جب تک کہ اس کو نہ پھاڑا جائے،* صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ائے اللہ کے رسول ﷺ یہ کیسے پھٹ جاتا ہے تو آپؐ نے فرمایا غیبت سے، مطلب یہ کہ روزہ رکھ کر آدمی اللہ کی نا فرمانیوں میں مبتلا ہوجائے تو روزے کا ثواب ختم ہوجاتا ہے، اسلئے ہم روزے میں کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ہم ثواب سے محروم ہوجائیں، خود بھی بچیں اور اپنی پیاری اولاد کو بھی بچائیں، گذشتہ سالوں کے مقابلہ اس کا ہمیں زیادہ اہتمام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ *گذشتہ سالوں میں روزوں کے ساتھ معمول کی اپنی مصروفیات ہوتیں تھیں، تو روزیداروں کا وقت لایعنی مشغلوں سے بچ جاتا تھا، لیکن اس وقت ہم اپنے روزوں کے ساتھ Covid-19 کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں ہیں نتیجہ یہ کہ روزے داروں کا ایک بڑا طبقہ نماز، ذکر تلاوت کے بجائے ٹی-وی کے پروگرام یا سوشل میڈیا پر اپنا وقت بے مقصد کاموں میں ضائع کر رہا ہے۔*
ہماری نوجوان نسل سمارٹ فونوں کے ذریعہ دوستوں کے ساتھ آن لائن گیموں میں صبح شام ایسے مصروف رہ رہی ہے کہ روزے رکھنے کے باوجود بیشتر مرتبہ نماز کا دھیان نہیں رکھ پا رہی ہے، اسلئے یہ ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ پیار محبت سے اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ ان مشغولیات سے وقت ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ روزے کے ثواب میں بھی کمی آ جاتی ہے، لہذا بڑے ادب سے گھر کے ذمہ دار افراد سے گذارش کیجاتی ہے کہ *رمضان کے مقدس لمحات میں Covid-19 کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو فرصت میسر آئی ہے اس کو عبادتوں میں لگائیں اور گھر میں اجتماعی عبادتوں کا ماحول بنائیں اس طرح ہمارے روزے بھی محفوظ ہوجائیں گے اور ایک عظیم ثواب ہمارے نامہ اعمال میں آجائے گا،*
اللہ تعالی ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔۔۔(آمین)
۔=========================۔
*انتخاب و پیشکش: حافظ امان حماد*
(متعلم: دارالعلوم عثمانیہ حیدرآباد)

*بشکریہ روزنامہ اعتماد حیدرآباد*
۔01/05/2020