Fri, Feb 26, 2021

آخری عشرہ اور عبادتوں کا اہتمام

مولانا محمد فصیح الدین ندوی۔

الحمد للہ دیکھتے ہی دیکھتے رمضان المبارک کے دو عشرے، رحمتوں اور اللہ کی مغفرت کے ساتھ گذر گئے اور اب اس مبارک مہینہ کا انتہائی قیمتی اور آخری عشرہ جو آگ سے خلاصی کا ہے شروع ہوچکا ہے، خوش نصیب ہیں وہ بندے جنھوں نے اپنے دو عشرے اللہ کی مرضی کے مطابق گذار لئے اور اب تیسرے عشرے میں مزید اہتمام سے عبادتوں کے لئے جنہیں موقع مل گیا اللہ کی توفیق سے موجودہ حالات کے پیش نظر محدود پیمانے پر مسجدوں میں معتکف ہوگئے اور ایک بڑا طبقہ قدر دانوں کا گھروں میں عبادت کے لئے مستعد اور اپنے آپ کو اس کے لئے فارغ کیا ہوا ہے، اللہ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے اور جو عبادتیں ہورہی ہیں انھیں قبول فرمائے۔
*حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ اتنی فضیلت والا اسلئے ہے کہ اس کی ایک رات میں قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور وہ ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر قرار دے دی گئی، اس رات کی فضیلت کو بیان کرنے کے لئے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مستقل ایک سورت نازل فرما دی، جس کا نام سورۃ القدر ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں “لیلۃ القدر خیر من الف شھر”۔ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، مفسرین فرماتے ہیں کہ ہزار مہینے تراسی (۸۳) سال کے برابر ہوتے ہیں گویا کہ کسی شخص نے لیلۃ القدر میں عبادت کر لی تو اس نے تراسی سال سے زیادہ کا عرصہ اللہ کی عبادت میں گذار دیا، یہ اللہ جل شانہ کا ہم کمزور بندوں پر کتنا احسان ہے کہ ایک رات عبادت کریں اور ثواب تراسی سال کا ملے۔*
ہمارے نبی ﷺ کے بعد سب سے برگزیدہ اس کے باوجود عام دنوں میں اتنی عبادتیں اور جب رمضان کا آخری عشرہ آجاتا تو صحابہ فرماتے ہیں “کان النبی ﷺ اذا دخل العشر شد مئزرہ، و أحیا لیلہ، و أیقظ اھلہ”، جب رمضان کا آخری عشرہ آجاتا تو کمر کس لیتے اور عبادت میں مزید کوشش کرتے اور راتوں کو جاگتے اور گھر والوں کو جگاتے۔
*آپ اور ہم اندازہ نہیں کرسکتے حضور ﷺ کی عبادتوں کے اہتمام کا اتنا ہی نہیں بلکہ حضور ﷺ آخری عشرہ میں صحابہ کے ساتھ مسجدِ نبوی میں معتکف ہوجاتے تھے اور صحابیات اپنے گھروں میں اسی لیلۃ القدر کو پا لینے کے لئے۔*
لیلۃ القدر ہی میں اللہ تعالی ہمارے اگلے سال کی زندگی کا فیصلہ فرما کر فرشتوں کے حوالہ کرتے ہیں اس لئے ہم اس وقت اللہ سے خیر مانگیں تو اللہ تعالی ہمارے تمام معاملات میں خیر مقدر فرمادیں گے اور تراسی سال کی عبادت کا ثواب علاحدہ رہا۔
*اس لئے ہم زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے ان مبارک لمحات میں خوب عبادت کر کے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی تلافی کر لیں اور ساری امت کی مغفرت اور ساری انسانیت کی ہدایت کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں۔*
اللہ تعالی ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔۔۔

انتخاب: حافظ امان حماد*
*(متعلم: دار العلوم عثمانیہ حیدرآباد