Thu, Feb 25, 2021

’’ حج 2020 ‘‘
( ہر حال میں لَبَّیْکَ اَلَّلھُمَّ لَبَّیْکْ )

از :مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
9849611686

ایک اندیشہ تھا جو واقعہ بن گیا، دو مہینے پہلےجب اولمپک او رومبلڈن کورنا کی بھینٹ چڑھ گئے تو اسی وقت سے اندیشے تھے کہ مسلمانان عالم کا عالمی مثالی دینی اجتماع حج بھی اس کی زد میں آسکتا ہے ۔۲۳ جون ۲۰۲۰ کوانہونی، ہونی ہوگئی، اور لاکھوں عشاق کعبہ کے دل کی دنیا سونی سونی ہوگئی ، سعودی گزٹ انگریزی کے مطابق سعودی حکومت کی وزارت حج نے حج ۲۰۲۰ میںبیرونی عازمین کی شرکت کو ممنوع قرار دیا، مصدقہ اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک کےلگ بھگ دس ہزارمسلمان حج بیت اللہ۲۰۲۰ کی سعادت سے بہرہ ور ہونگے۔ ہندوستانی حج کمیٹی نے باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حج کیانسل ہونے اورعازمین کے جمع کردہ رقم کو لوٹانے کا اعلان کیا ہے ،اچھا ہی ہوا کہ خانگی آپریٹرس میں سے کسی کو بھی کوٹہ الاٹ نہیں کیا گیاتھا ورنہ متاثرین اور ان کےمسائل اور زیادہ ہوتے،بہرحال چار مہینوں سے جاری تعطل ختم ہوا،اس لئے کہ ہندوستان بھر کے عازمین ،حج ۲۰۲۰ کو لے کر بڑے فکر مند تھے ۔بلکہ’’ واٹس یونیورسٹی‘‘ پر کسی نے عربی کے ایک ویڈیو بیان کوکہیں سے لاکر حج کے کیانسل ہونے کی افواہ بھی خوب پھیلائی تھی۔ مختلف قیاس آرائیاں تھیں لیکن اب معاملہ بالکل صاف ہوگیا ہے کہ حج ۲۰۲۰ ہماری تاریخ کا ایک درد ناگ وکربناک صدمہ بن کر یا د رکھا جائے گا۔ اس کو دنیا بھر میں بھلایا نا جاسکے گا ۔لاکھوں عازمین اس کے گواہ ہونگے کہ کیسے ان کے دیرینہ ارمان چکنا چور ہوئے ، کیسے ان کی لاکھ تمناوں پر اوس پڑ گئی ،اور کیسے ان کےبے شمار خواب بے تعبیر ہوگئے۔
حج کیانسل ہوا ، اس کو ہماری نسلیں نسلیں یادر کھیں گی،خاص طور پر لاکھوں عازمین اور ان کے خادمین اور حرمین شریفین کے عاشقین ،اور معلوم نہیں کہ کیسے ہم اس کو سہار پائیںگے،اپنے آپ کو سنبھال پائیں گے بھی کہ نہیں ؟ شکر کے مقام سے اب ہم صبر کے مقام پر پہنچ گئے ،عازم ہوتے تو شکرانے کے موتی پیش کرتے ،طواف وعمرہ ، بیت اللہ میں نماز کے شکرانے رب کعبہ کے حضور نچھاور کرتے، لیکن ہمارے مقدر میں شکرانے کے ساتھ ساتھ صبر کے تلخ گھونٹ پینا بھی مولی نے تقدیر میں لکھا ہے ،اس تلخ حقیقت کو ہم سہار جائیں ،اللہ کرے کہ وہ ایمان ویقین دے دے، آنکھوں کے جھرنے کو کیسے تھام پائیں گے ،ضبط وہمت ہم میں انڈیل دے۔جب بھی حج۲۰۲۰ کا تذکرہ ہوگا، زبان میں لرزہ طاری ہوجائے گا، الفاظ گم ہوجائیں گے،جملے تھم جائیں گے، فکر وخیال میں یکجائی نہیں تو بول میں کہاں روانی ہوگی، ٹوٹ پھوٹ کا عمل زبان میں ، دماغ میں دل میں جاری ہے تو پھر کیسے کوئی اس ٹوٹے پھوٹے دل کے تسلی کا سامان کرے گا ،ایسے وقت میںاللہ تعالی ہی تو ہےجو ٹوٹے دل کی صدا ئوںکو سنتا ہے، جو آبگینے کے ٹکڑوں کے ریزوں کی جدائی ودوری کے غم کو جانتا ہے،وہی تو ہے جو دلِ مضطر کو سکون،قلب ِحزین کو چین، اشکبار دل کو تسلی، بکھرے دماغ کو اطمینان، پراگندہ فکر کو یکسوئی ، پریشان خیال کو آرام، بے چین جان کو چین ، مایوس بندے کو امیدبخشتا،بھٹکے ہوئے کو راہ دیتا ،تلاش کرنے والے کو راستہ دکھاتا،اس کا در کھٹکھٹانے والے کو لپک لیتا ہے۔
لاکھوںعازمین حج نےبڑی تمنائوں سے حج ۲۰۲۰ کا فارم بھرا ، امیدیں جاگیں، خیالات بدلے، فکر بنی،اور پھر موجودہ دور میں حج کمیٹی کے توسط سے سفر ہوتو تقریبا ۳ لاکھ فی نفر خرچ آتا ہے ، خانگی آپریٹرس کے ذریعہ اس سے زیاد ہ اخراجات ہوتے ہیں، بہرحال اتنی بڑی رقم کا انتظام کرنا تھا بلکہ رب کعبہ نے اس کے انتظامات کئے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عام طورپر ایک ہندوستانی مسلمان اکیلا حج نہیں کرتا بلکہ اپنی اہلیہ ووالدین ، یا اپنی اولاد کے ساتھ حج کا ارادہ کرتا ہے اور حج کمیٹی کے قواعد کے مطابق ایک کور میں زیادہ سے زیادہ ۴ ممبر ہوسکتے ہیں تو پھر یہ رقم دوگنی سہ گنی نہیں بلکہ چوگنی ہوجاتی ہے اور ایسے وقت میں اتنی بڑی رقم کا انتظام ہونا بھی رب کعبہ ہی کی توفیق سے ممکن ہے، ورنہ ہم اتنی بڑی رقم یاتو بڑنس میں لگاتے ہیں یا پھر شادی بیاہ ، ولیمہ ودعوت میں۔دینی معاملہ میں اجتماعی اعتبار سے اس کے علاوہ اتنی بڑی تعدادمیں اتنی بڑی رقم ہم کسی اور نیک کام میں نہیں لگاتے، بلکہ ہر سال صاحب استطاعت مسلمانوں میں اضافہ ہی درج کیا جارہا ہے۔ حج کو اسی لئے جامع عبادات کہا گیا ہے کہ اس میں انسان نہیں بلکہ رب کعبہ کو ماننے والا مسلمان ، حرمین شریفین کا ایک سچا عاشق اپنا مال ، اپنی جان ، اپنا وقت ، اپنی پسند سب کچھ قربان کرکے پہنچتا ہے۔ہندوستان بھر کے حج ۲۰۲۰ کے منتخبہ عازمین جن کی تعداد سوا لاکھ سے بڑھ کر ہے نے پہلی قسط کے طور پر۸۱ ہزار ادا کردی تھی بلکہ کچھ عازمین نے دوسری قسط ایک لاکھ دو ہزاربھی ڈپازت کروائی تھی ، ایسے میں حج کا کیانسل ہونا یہ معنی ہرگز ہرگز نہیں رکھتا کہ ان کا مال رد کردیاگیا بلکہ وہ نیت کے اعتبار سے حج کا ثواب پانے والے ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے نا صرف حج کی نیت کی تھی بلکہ وہ قرعہ اندازی میں منتخب بھی ہوگئے تھے ،اس سے آگے انہوں نےشخصی ومیڈیکل کارروائی مکمل کی تھی اور اپنے پاسپورٹس تک بھی جمع کروائیے تھے،تو کیا کہیں گے وہ لوٹا دئیے گئے؟ نہیں بلکہ ان منتخب بندوں کو اللہ نے شکر کے ساتھ صبر کا مقام عطا فرمایا ہے۔
عازمین حاجی ہم آپ کے درد میں بلکہ اس نازک وکٹھن وقت میں آپ کے ساتھ ہیں ،اس موقعہ پر ہمیں اسوہ نبوی کو سامنے رکھنا ہے تو ہم کو اتباع نبوی کے طفیل بہت کچھ ملے گا، ثواب تو ہے ہی ساتھ میں زندگی کے نشیب وفراز میں اسوہ نبوی کی جادوگری ورہبری کا یقین دل وجان میں جان گزیں ہوجائے گا۔ ذرا یاد کریئے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ سے عمرہ کی نیت سے روانہ ہوئے ، ساتھ میں قربانی کے جانور بھی ہیں اور ان پر نشان بھی لگے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی رہبری میں یہ مقدس ومتبرک نفوس پر مشتمل مبارک عمرہ کا کارواں منزل با منزل طیبہ سے کعبہ کی طرف رواں ، دواں ہے ، ذو الحلیفہ پر رسول اللہﷺ اور صحابہ نے احرام بھی باندھ لیا ہے ، اب ارد گرد میں تلبیہ کے ترانے کی گونچ ہے ، پہاڑیاں لبیک اللھم لبیک کی صدائے جانفزاسے گونچ رہی ہیں، صحابہ کے مستانہ وار زمزمے پہاڑوں کی چوٹیوں سے بلند ہورہے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کی زبان اقد س مستقل رطب التلبیہ ہے ۔ ان پاکیزہ وبابرکت جانوں کا یہ قافلہ لق و دق صحرا میں روحانی ونورانی کیفیات کےساتھ میں حدیبیہ پہنچ جاتا ہے ، اور پتہ ہے کہ حدیبیہ کہا ں ہے ؟ کعبہ سےصرف ایک منزل پہلے ، لیکن کیا ہوا ، مشرکین مکہ نے کیا کیا؟ احرام میں ملبوس ان نفوس قدسیہ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے ،قربانی کے جانور دوں کویکھتےہوئے بھی عمرہ سے روک دیا ، حج ۲۰۲۰ کے عازمین! کیا ہمارے لئے اس میں اسوہ ونمونہ نہیں ہے؟ کہ ہمارےمعلم ورسولﷺ ، ہمارے صحابہ کرام نے احرام کھولا ، تلبیہ روکا، جانور کے گردنو ں سے پٹے نکالے اور بغیر عمرہ کئے واپس مدینہ منورہ لوٹ آئے، اور پھر اگلے سال اس عمرہ کی قضا فرمائی۔ہمارے لئے یہ واقعہ چشم کشا ہی نہیں بلکہ صبرآمیز وسبق آموز ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ سیرت طیبہ پڑھنے اور جاننے سے ہمیں ہر کھٹنائی میں مثال ، مشکل کا حل، پریشانی کا علاج ، غم کا مداوا، درد کا پھایہ ،کامیاب زندگی گذارنے کی قدریں ہاتھ آتی ہیں ۔قدم قدم پر سیرت طیبہ ہمیں کعبہ ورب کعبہ سے جوڑتی ہوئی ملے گی۔
اس موقعہ پر حج فرض ہوجانے کے باوجودٹال مٹول سے کام لےوالوں کو جاگ جانا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ حج کرنا چاہیں لیکن حالات وحادثات ، واقعات وکیفیات اس کی اجازت نہ دیں ، صحت وموسم کبھی بھی کچھ بھی کروٹ لے سکتا ہے، کیا ہم نے سوچا تھا کہ دنیا بھر میں ایسا ہوگا؟ بیرونی عازمین کا حج کیانسل ہوگا؟ انہونی ، ہونی ہوگئی ،خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا کچھ ہوگا تو پھر غفلت سے بیدار ہونےہی میں کامیابی ہے۔پچھلے ۱۸ برس سے رحمان کے مہمانوں کی مخلصانہ خدمت کی عملی توفیق کے تجربات میں سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ حج کی نیت اور ارادہ کرنے کے بعد ایک عام مسلمان بھی دیندار ہوجاتا ہے ۔ اس گئے گذرے دور میں بھی حج اپنے اندر انقلاب کی ایک بڑی طاقت رکھتا ہے،دنیاداری سے دینداری کی طرف لانے میں حج کا غیر معمولی اثر ہے۔حج دراصل اصلاح وانقلاب کا ایک روشن عنوان ہے۔ہر سال لاکھوں زندگیوں میں اس کی برکتیں شامل ہوتی ہیں۔
حج ۲۰۲۰ کے منتخبہ عازمین اس قدرتی فیصلہ کو منفی کے بجائے مثبت پہلو سے دیکھیں کہ اللہ تعالی انہیں اور زیادہ تیار ہوکر بلانا چاہتاہے ، ان کے یقین کے معیار کو بڑھاکر ، ان کے ایمان کے جذبہ کو نکھارکر، ان کے جذبہ کو سہار کر ، ان کی آنکھوں کو توبہ واستغفار کے پانی سے دھو دھلاکر ، ان کے دل میں تڑب وطلب کے چراغ جلاکر بلانا چاہتا ہے، وہ اس موقعہ کو غنیمت جانیں ، جو ہدایات معلمین حجاج کی طرف سے انہیں ملی ہیں ، جیسے پیدل چلنے کی عادت ، حالات کو جھیلنے کا مزاج ، حرمین شریفین کی معلومات ، حج وعمرہ اور زیارت مدینہ منورہ کی تربیت ، اس سے سب سے بڑھ کر اپنے ذہن کی تربیت کہ رب کعبہ کی اجازت کے بغیر کچھ ہونے والا نہیں ہے۔اس کو سیکھیں، جو وقت اور فرصت اللہ نے عطا فرمائی ہے اس کی قدر کریں کہ لاعلمی وجہالت میں حج کرنے کے بجائے علم وشعور ، فکر وبیداری میں حج کریں، روایتی حج کے بجائے شعوری حج کریں،جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی تیار کرلیں،مدینہ منورہ کے مبارک سفر سے پہلے سیرت طیبہ کو جان لیں،حرمین شریفین میں لاکھوں گنا زیادہ ثواب والی نماز کی توفیق سے پہلے قرآن ونماز کو درست کرلیں، اور جو چیز حج وعمرہ اور طواف کعبہ کے ذریعہ سے مطلوب ہے کہ بندہ پن اپنے اندر پیدا کریں۔اس کو سیکھیں ۔ لبیک اللھم لبیک کے یہی تو معنی ہیں نا کہ شکر میں بھی لیبک اور صبر میں بھی لبیک ۔بلکہ لبیک کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے تو یوں فرمایا کہ ہر حال میں رب کعبہ کی تعریف ہے۔والحمد للہ علی کل حال
اس موقعہ پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم حج ۲۰۲۰کو اپنی انفرادی حیثیت سے نا دیکھیں بلکہ اجتماعی مفاد اور عالمی پیمانہ پر اٹھ کر دیکھیں تو ہمیں صبر میں قرار آئے گا کہ ایک عالمی مثالی دینی اجتماع میں کیا کچھ ممکن ہے ، اورآج پوری دنیا مسلم مخالفت میں یکجا ہوتی جارہی ہے تو ایسے میں اگر حج میں کوئی کیس رونماہوجائے(اللہ ہزار ہزار بار ایسا نہ کرے) تو پھر ساری دنیا کو مسلم مخالفت کا ہوا کھڑا کرنے کا ایک موقعہ مل جائے گا، اور ایسے حالات میں ہم اپنی ذاتی انا وِشخصی رائے کو بھی رب کعبہ کے لئے چھوڑ دیں کہ حج کا مقصود کعبہ نہیں بلکہ رب کعبہ ہے تو پھر سارے عازمین رب کعبہ کے لئے ایک مثال قائم کردیں۔ ہماری دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا ہے کہ رب العالمین آپ کو صحت وعافیت سے رکھے اور آئندہ سال آپ اس کے بے نیاز دربار میں نیاز مندانہ حاضر ہوں۔
حج کمیٹی انڈیا کے فیصلے کے بعد مہاراشٹرا کے حج کے ایک سوشیل میڈیا گروپ میں صحیح وبے لاگ تجزیہ کیا گیا ہے ’’ محرم کے بغیر حج پر جانے والی خواتین کو ۲۰۲۱ کے لیے چن لیا گیا ہے تو دوسرے حاجیوں کو کیوں نہیں چنا گیا۔اُن کا کیا قصور ہے۔۔۔۔؟ شریعت میں جانبداری کی بالکل اجازت نہیں ہے۔اس لیے حج کمیٹی کو چاہیے کہ وہ ۲۰۲۰ کے تمام حجاج کرام کو ۲۰۲۱ حج کے لیے منتخب کرے۔حج ۲۰۲۰ کو حاجیوں نے یا حج کمیٹی نے اپنی مرضی سے cancel نہیں کیا بلکہ coronna کی وجہ سے یہ حج cancel ہوا ہے۔اسلئے منتخب شدہ حجاج کرام کا یہ آئینی حق هے کے ۲۰۲۱ حج کے لیے انہیں بھیجا جائے۔حج کمیٹی policy بنائے ۔ورنہ تمام حجاج کرام اپنے حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیںگے۔انشاء االلہ ‘‘ لاکھوں منتخبہ عازمین کی فکر اوران کے حج کے بارے میں صحیح ومناسب فیصلہ کرنے کے وقت میں ایک غیر ضروری شوشہ چھوڑتے ہوئے ہندوستانی وزیر حج نے مسئلہ کو سلجھانے کے بجائے اور الجھا دیا ہے اوراس سے منتخبہ عازمین حج میں حج کمیٹی اور اس کے طریقہ کار پر بے اطمینانی وغیر یقینی کیفیت پیدا ہوگی۔اور مستقبل میں اس سے اور زیادہ مسائل پیدا ہونگے۔اس غیر منطقی فیصلے کے بعد بے ساختہ علامہ اقبال کا یہ شعر تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ حقیقت بیاں لگتا ہے۔
ہند کے ’’ منسٹر ‘‘ وصورت گر وافسانہ نویس
آہ ! بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز وماسٹر ٹرینر حج وعمرہ حیدرآباد
asif_nadwi@yahoo.com – 9849611686
۲۵ ، جون۲۰۲۰ جمعرات بیت الحمد قادر باغ حیدرآباد