Fri, Feb 26, 2021

’’لاک ڈائون میں کیا کرنا تھا! اور ہم نے کیا کیا؟ ‘‘
(گھر بندی نوٹ بندی سے زیادہ بھیانگ )
مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے

 

الحمدللہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کےان دنوں میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی خدمت کا کام بہترین انداز میںحسب توفیق کرنے کی توفیق عطا فرمایا۔ غریب، ضرورت مند افراد کی خدمت کا یہ کام وقت کی ضرورت بلکہ فرائض ووجبات کے بعد فرض ہے۔لیکن ایسے بھی واقعات سامنے آئے کہ ڈاکٹر شیخ سلیم کے بموجب ایک غریب وضرورت مند لاک ڈائون میں ان سے سوالی ہوا جب کہ وہ اپنے محلے کے ایک مالدار ودیندار مسلمان کے ساتھ محو گفتگو تھے تو انہوں نے اپنے طور پر جو کچھ کرنا تھا کیا وہ اپنے پڑوس مالدار دیندار مسلمان کو دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے کہ جب انہوں نے یہ کہا کہ اس کو کچھ دینے کے بجائے ۱۰۰ مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لیں تو اس کو دینے سے زیادہ ثواب ملے گا۔ الامان الحفیظ ایسی دینداری وسمجھداری سے ، اللہ کی پناہ ایسی مالداری وتونگری سے جو مصیبت میں کسی مصیبت زدہ کے کام نہ آئے۔ تڑپتی، سسکتی، بلبلاتی، دم توڑتی انسانیت کی خدمت کا کام ہر فرد بشر کا اولین فریضہ ہے۔ اس وباء کی زد میں ساری انسانیت آچکی ہے۔ زمینی طور پر بدترین و ناقابل بیان حالات وواقعات ، حادثات و مشکلات ہیں۔ اور ایسے بد ترین وقت میں صرف اللہ کریم کی ذات وحدہ لاشریک ہی مدد کرسکتی ہے ، وہی سہارا اور وہی آسرا ہے، وہ رازق ورحمان ہی کائنات کا ناظم ومنتظم ہے، اللہ کے بندے اس سے دور ہوکر اپنی مصیبتوں ومشکلات ہی کو بڑھاوا دیں گے۔ اس کی طرف پلٹ آئیں گے تب ہی حالات بدل سکتے ہیں۔اور ہر حال میں بندے کو اللہ سے لو لگانا ہے ،وہ دے کر دیکھتا ہے اور چھین کرآز ماتا ہے۔ وہی مشکل کشا وہی بندہ نواز ہے۔ اسی کے ہاتھ میں دنیا جہاں کے فیصلے ہیں۔ حکومتیں سر نگوں، تدبیریں ناکام، وسائل مسائل میں بدل گئے، بقول شاعر
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ دوا نے کام کیا
بلکہ حالات وحقیقت تو کچھ یوں ہے
ع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
ماہ رمضان وماہ قرآن میں امت قرآن نے جس فراخدلی و دریا دلی کا عملی ثبوت دیا وہ شر میں خیر کا بہترین نمونہ ہے،ہندوستان کی جماعتوں وتنظمیوں نے ٹھوس بنیادوں پر بلا تفریق مذہب وملت انسانیت کی خدمت کرکے ہندوستان بھر میں اسلام کی دعوتِ کا مثالی کام کیا ہے۔ جس کے اثرات ونتائج ان شاءاللہ تعالیٰ ملک بھرمیں دیر سویر دیکھنے کو ملیں گے۔ ایک زندہ قوم کی حیثیت سے ملک بھر میں جو رفاہی و فلاحی کام ہوئے ہیں وہ ہندوستانی مسلمانوں کے بقا ود وام کی بنیاد ثابت ہوں گے۔ مسلم مخالفت کے سیلاب میں یہ انسانیت دوستی و زندہ دلی مخالفت کے سیلاب کا رخ موڑنے والا ہے، زمینی کام ہوائی پروپیگنڈا کو جھوٹ ثابت کرنے والاہے، دشمن دلوں میں محبت کا بیج بونے والا، نفرت کی دیوار کو ڈھانے والا ہے، دوریوں کو قربتوں میں بدلنے والا ہے۔قدرت نے ایک زریں موقعہ مسلمانوں کو دیا اور دل درد مند وفکر ارجمند کے حامل جیالوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے جانے نہ دیا، کیا جوان کیا بوڑھے بلکہ مسلم خواتین بلکہ بیوہ مسلمان عورتیں میدان عمل میں آئیں ٹو دنیا دیکھتی رہ گئی۔ میرے محلہ قادر باغ حیدرآابادکی صاحب توفیق ونیک دل، بافکر وباخبر بیوہ محترمہ خالدہ پروین نے لاک ڈوان کے مشکل دنوں میں ہزاروں کا کھانا پکاکر بانٹا،ہزاروں گھروں تک راشن پہونچایا، اور رمضان المبارک کے لئے سحری میں سوئوں روزہ داروں کے لئے سحری بناکر پہنچاکر مرودوں نوجوانوں کے لئےایک زندہ مثال قائم کردی اور ۶۵ سال سے زیادہ کی عمر کے باوجود یوں گویا ہے کہ
ع کامیابی تو کام سے ہوگی نا کہ لذت کلام سے ہوگی
اللہ کریم ان ساری خدمات کو اپنی بے نیاز بارگاہ میں شرف قبولیت سےسرفراز فرمائے۔ آمین ۔اس موقعہ پر بڑا دکھ وصدمہ بھی ہوا بلکہ نوجوانوں کی بے ضمیری و بے حسی دیکھ کر آنسو بھی سوکھ گئے کہ انسانیت تڑپتی رہی، جانیں سسکتی رہیں، غریب بلبلا تے رہے، مزدور دم توڑتے رہے، بوڑھے موت سے جاملے، معصوم کلیاں خاموش ہوگئیں، بےگھر افراد در در بھٹکتے رہے، غم کے مارے فاقوں کے عادی ہوگئے، فاقہ کش طبقہ دنیا کے سامنے آگیا، اچھے اچھے روڈ پر آگئے، پھر بھی ہمارے جسم پر کوئی اثر نا ہوا، پھر بھی ہم نا جاگے بلکہ جاگ کر بھی ” تجاھل عارفانہ ” کی مثال بن گئے، جانے انجانے بن گئے ،ایسے مشکل ترین بلکہ قیامت خیز وقت میں بھی ہمارا ٹک ٹاک دھوم مچاتا رہا ، ہمارا واٹسآپ ایکٹیو اور آپ تو ڈیٹ رہا، فیس بک پر دنیا جہاں کی دلکشی شییر ہوتی رہی، افسوس صد افسوس ہے ایسی بیداری وچستی، ایسی سوشیل میڈیا ایکٹیوٹی پر، ایسے گروپس واحباب پر پر جو حقیقت کے بجائے خوابوں میں رہنا سکھلائے۔ جو آنکھوں کو دنیا کی سچائی دکھلانے کے بجائے خیالی جنت میںمست ومگن رکھے۔ کاش !اے کاش! کہ نوجوان ہاتھ موبائل کے بجائے کسی بھوکے کے ہاتھ تھام لیتے، کسی پیاسے کے لئے پانی کا جام اٹھالیتے، کسی ڈگمگاتے قدموں کے کام آتے، کسی کی بے ساکھی کا سہارا بنتے، کسی بوڑھیا کے ننگے قدموں کو دیکھ پاتے، کسی دکھیارے کے آنسو پونچھنے کے کام آتے،کسی روتے کو پوچھتے، کسی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس جسم پر کپڑا اڑھاتے، ایسا نہیں ہوا بلکہ ہم رمضان المبارک کے روزوں کے باوجود سوشیل میڈیا پر سر گرم رہے۔ غریب ہمارے سامنے سے گذر گیا لیکن ہم نے نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا ،مانگنے والے نے اللہ کا نام لے کر دہائی دی لیکن ہمیں آواز سنائی نہ دی، الامان الحفیظ۔
دوسری صدمہ کی چیز جس نے خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا وہ ہے مسلمان قوم کی خود غرضی و نفس پرستی، بلکہ بے یقینی و ذخیرہ اندوزی کہ جہاں کوئی کچھ بھی بانٹا جارہا ہے وہاں لائن لگادی، ضرورت سے زیادہ وقت سے پہلے کی بری عادت نے مسلم قوم کو سر بازار رسوا وشرمسار کردیا ہے۔ غربت بری چیز نہیں ہے لیکن غربت کا ڈھونگ، ضرورت مندی کا خول در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا ہے، ایسے بے شرم و بے توفیق بناوٹی غریب بھی دیکھے کہ ایک ہاتھ میں راشن پیاک تھامے ہوئے ہے تودوسرا ہاتھ بھی پسارے ہوئے ہے۔ راشن تقسیم کرنے والوں کا تجرباتی بیان ہے کہ ایک ایک دن ایک ایک گھر تین تین پیاک پہنچے تو بھی غربت وغریبی کا رونا بند نہیں ہوا۔ بھیک مانگنے والے پروفیشنل بھکاری تو اپنی جگہ ہیں لیکن لاک ڈاؤن میں دست سوال دراز کرنے والوں کی ایک جمعیت ہر جگہ ابل پڑی ہے۔ ضرورت کے وقت حسب ضرورت لینا معیوب نہیں ہے لیکن ذخیرہ اندوزی مردہ ضمیری وبے توفیقی کی علامت ہے۔ ایثار وقربانی کا سبق پڑھنے والی قوم کو زیبا نہیں دیتا کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور ضرورت سے زیادہ کے لئے خود کو ذلیل ورسوا کرے۔
تیسری قابل غور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے محلوں میں ، سر بازار روڈوں، چوراہوں پر جو مانگنے والے ہیں ان میں بڑی اکثریت برقعہ پوش مسلم خواتین کی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ برقعہ پوش مسلم عورتیں کون ہیں؟ وقتی طور پر برقعہ کا غلط استعمال کیا گیا ہے؟ یا حقیقت میں وہ مسلمان عورتیں ہی ہیں؟ ظاہر ی طور پر تو انہیں مسلمان ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔ حقیقت کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ برقعہ پوش خواتین اگر مسلمان ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیوں دریازہ گری کررہی ہیں اور گھر گھر مانگتی پھر رہی ہیں ؟ کیا ان کا کوئی مرد سہارا نہیں ہے ؟ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ساری مسلمان عورتیں بے سہارا وبیوہ ہوں۔ دراصل یہ منظر صاف بتلاتا ہے کہ ہمارے غریب و ان پڑھ مسلم طبقہ کا مرد ناکارہ و کام چور بلکہ شرابی وکبابی ہے۔ شادی کرنے کے بعد وہ اپنے أہل وعیال کی کفالت و قوامیت کے اہم ترین فریضہ سے غافل وجاہل ہے۔ کمانے اور گھر چلانے کے کام سے وہ دور ہے تو عورت ذات چوراہوں پر ہے۔(یہ پہلو قابل غور بھی ہے اور عملی کام کا متقاضی بھی۔ اگر صرف اسی طرح کا طرزِ عمل رہا تو ایک نسل کی نسل اس انداز زندگی کی عادی بن کر مسلم قوم کے چہرے کو داغدار کرتی رہےگی۔)
ابھی لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس کا سلسلہ کب تک چلے گا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔البتہ یہ بات ضرور ہے کہ لاک ڈاوئن ختم ہونے کے باوجود لاک ڈاؤن کے بھیانک سائے بہت دور تک پیچھا کرنے والے ہیں، گھر بندی کے نتائج نوٹ بندی سے بھی بھیانک ہوں گے، آنے والا وقت پچھلے وقت سے بد سے بد ترین ہوگا، اور یہ کوئی پیشنگوئی نہیں ہے بلکہ نوشتہ دیوار ہے کہ یہ کسی گلی و محلہ، کسی گائوں و شہر، کسی ریاست وملک ، کسی علاقہ و خطہ کا مسئلہ نہیں ہے، کسی کا خاص پرابلم نہیں ہے، کسی کی ملکی قومی پریشانی ومصیبت نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کی مشکل ومصیبت ہے۔ پوری دنیا دوچار ہے تو اس بھنور کے گرداب سے دنیا کو نکلنے میں بڑا وقت لگے گا۔ اللہ کرے کہ آنے والے وقتوں میں ہماری مصیبت کم سے کم ہو۔ ہمارے مسائل کم سے کم ہوں۔
ابھی بھی وقت ہے کہ خواب غفلت سے جاگیں، بند آنکھیں کھولیں، خود غرضی ومطلب پرستی کو چھوڑیں، ذاتی وشخصی ضروریات کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت بھی اپنی ضروریات میں شامل کریں، انفرادی واجتماعی کاموں میں خود کو جوڑیں بلکہ جوڑنے کا مزاج بنائیں، اپنے دکھ درد کے احساس کے ساتھ ساتھ انسانوں کے درد کوسمجھنے والا بنیں۔ دینے والا ہاتھ بنیں۔ اللہ سے لینے والے اور اللہ کے بندوں تک پہنچنے والے اور پہنچانے والے بنیں، وقت کے تقاضوں کو سمجھنے والے، چیلنجز کو قبول کرنے والے ہوجائیں، امن کے پیامبر، خیر کے علمبردار بن جائیں، پاس پڑوس سے باخبر، رشتے داروں سے قریب ہوجائیں، اللہ سے مانگیں وہ ہمیں لاک ڈاؤن بلکہ ہر حال میں دیکھنے والی آنکھ، بصیرت کے ساتھ بصیرت، تڑپنے والا دل، دھڑکنے والا کلیجہ، بیدار مغز، دینے اور بانٹنے والے ہاتھ، شکر والی زبان، رونے والی آنکھ دے دی۔ بے حسی و بے بسی سے بچالے۔ قیامت خیزی میں غفلت و جہالت سے محفوظ فرمالے۔
منت منہ حدمت سلطاں ہمیں کنی
منت شناس از او کہ بخدمت بداشتت
ترجمہ: احسان مت جتلائو کہ بادشاہ کی خدمت کرتے ہو
بلکہ اللہ کا احسان جانو کہ ا سن نے تمہیں اپنی خدمت کے لئے رکھ لیا