Thu, Feb 25, 2021

کیا صحیح اور معتبراحادیث قرآن مجید کے خلاف ہوسکتی ہیں؟؟
از: محمد انصار اللہ قاسمی
آرگنائزرمجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ وآندھراپردیش
استاذ: المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد
Ph: 9985030527

مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے، قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ پر سے ان کے اعتماد کو ختم کرنے اور اُن کے عقیدہ کو بگاڑ نے کے لئے مختلف گمراہ اور باطل فتنے سرگرم ہیں، ان میں سے ایک فتنہ ’’منکرین حدیث کا بھی ہے، اس فتنہ سے متاثرہ افراد سوشیل میڈیا پر اس بات کا پروپیگنڈہ کررہے ہیںکہ احادیث قرآن مجید کے خلاف ہیں، دین میں وہ حجت اور دلیل نہیں ہے،احادیث کی بنیاد پر کوئی عقیدہ اور شرعی حکم قبول نہیں کیا جاسکتا، منکرین حدیث کے اس جھوٹے پروپیگنڈہ کو کوئی صحیح العقیدہ اور سلیم الفکر مسلمان کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرے گا، لیکن چوں کہ جہالت، جاہلیت اور دجالیت کا دور دورہ ہے، جس سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتں مسخ ہورہی ہیں، اس لئے احادیث رسول ﷺ پر اس جھوٹے اور غلط الزام کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعۃً صحیح اور معتبر حدیث قرآن مجید کے خلاف ہوسکتی ہے؟؟ اس سلسلہ میں غور وفکر کے چند پہلو پیش خدمت ہیں:
1) حدیث کی حجیت پر سوال کھڑا کرنے والے کی اوقات کیا ہے؟
کسی موضوع یا مسئلہ پر بحث کرنے اور اعتراض کے رنگ میں اس پر سوال کھڑاکیاجائے تو سوال کرنے والے کی معلومات دیکھی جاتی ہیںکہ وہ کس معیار کی ہیں؟ کالادھن سورسس آف انکم کی طرح ’’سورسس آف نالج ‘‘میں تو نہیںہے؟
اگر کوئی شخص قانون کی کسی دفعہ کے صحیح اور معتبر ہونے پر سوال اٹھائے تو، قانون کے ماہرین اُس کی تعلیمی قابلیت ، قانون فہمی میں اُس کی ذہانت اور پھر قانونی چارۂ جوئی سے متعلق کا روائیوں میں اس کی مہارت اور ممارست کو سامنے رکھتے ہیں اور اُس کے سوالات پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ایک شخص ہے جو ایل ایل بی ہونا توبہت دور کی بات ، وہ قانون کی الف، ب سے بھی واقف نہیں ہے، قانونی ماہرین کے نزدیک اس کے سوالات واعتراضات ’’دیوانہ کی بڑ‘‘ سے بھی کم تر درجہ کی حیثیت نہیں رکھتے، شراب کے نشہ میں دھت شخص بہت زیادہ بہکی بہکی باتیں کرے تو لوگ یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں کہ ’’یہ بے چارہ بہت زیادہ لوڈ میں ہے‘‘ ایساہی …..بلکہ اس سے بھی گیا گذرا…..معاملہ احادیث کے دلیل اور حجت ہونے پر اعتراض کرنے والے کا ہے، یہ شخص جہالت کے نشہ میں دھت ہوکر اول فول بکتا ہے۔
سوشیل میڈیا پر حدیثوں کے حجت ہونے پر سوال کرنے والوں کی اوقات یہ ہے کہ وہ حدیث کی ’’ح‘‘ سے بھی واقف نہیں، ان کا ذریعہ علم ’’ کالا دھن ‘‘ ہے، یعنی گذشتہ زمانہ کےمنکرین حدیث کا متروکہ الحاد وارتداد کا سرمایہ ہے، ان کی اوقات نہیں کہ وہ علم حدیث کو سیکھنے اور سمجھنے کے لئے معروف اور معلوم ذرائع واسباب اختیار کریں، کالے دھن کی آمدنی جب جائز نہیں تو اس کالے دھن سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اٹھائے گئے سوالات کیوں کر صحیح ہوسکتے ہیں؟ ؟ اور ان سوالات کی کوکھ سے جنم لینے والے افکار وخیالات کیسے قبول کیئے جاسکتے ہیں؟؟
2) حدیث کے بارے میں قرآن مجید کے خلاف ہونے کا فیصلہ کون کرے؟
پہلے تو یہ بات کسی درجہ میں ممکن ہی نہیں کہ کوئی صحیح اور معتبر حدیث قرآن مجید کے خلاف ہوسکتی ہے، لیکن فرضی طور پر تھوڑی دیرکے لئے اگر اس کو مان بھی لیاجائےتو اس فیصلہ کی بنیاد کیا ہوگی کہ فلاں حدیث قرآن مجید کے خلاف ہے؟ جس صحیح حدیث کو آپ قرآن مجید کے خلاف بتارہے ہیں ، کیا اُس کے بارے میں کسی صحابیٔ رسول ﷺ ، کسی تابعی اور سلفِ صالحین میں سے کسی نے یہ بات کہی ہے؟ موجودہ دور یا ماضی قریب کے معتبر اور اہل حق علماء اسلام میں سے کسی کی وضاحت اور تشریح سے آپ کے موقف کی تصدیق یا تائید ہوتی ہے؟ جب دیگر علوم اور مباحث میں بطورِ ثبوت اور دلیل کے گذشتہ علمی تحقیقات کی مثالیں دی جاسکتی ہیں تو اس بحث میں کیوں نہیں پیش کی جاسکتی؟ کیا نبی ﷺ کی احادیث نعوذ باللہ اتنی یتیم و یسیر ہوگئیںہر ’’ایرا غیرا نتھو خیرا‘‘ اپنی عقلِ ناقص، فہم فاسد اور زعم باطل کی بنیاد پر اُن کو تختۂ مشق بناتا پھرے۔
پس جب کسی صحیح حدیث کو قرآن مجید کے خلاف قرار دینے کے سلسلہ میں سلفِ صالحین کے حوالہ سے کوئی واضح بنیاد اور مثال بطور ِ ثبوت پیش نہیں کی جاتی اور یقیناً قیامت کی صبح تک پیش نہیں کی جاسکتی تو اِ س کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ محض اپنی عقل وفہم کی بنیاد پر صحیح احادیث کو قرآن مجید کے خلاف بتارہے ہیں، آپ کی فرسودہ عقل کی یہ اوقات نہیں کہ علم و تحقیق کی ٹھوس بنیادوں پر اور ثبوت و شواہد کے اعلی معیارات پر مسلمان صدیوں سے جن صحیح احادیث کو مانتے چلے آرہے ہیں،اُن کو ردکردیاجائے، صحیح بات یہ ہے کہ جب کوئی گمراہ اور بے دین شخص محض اپنی عقل کی بنیاد پر کسی صحیح حدیث کا انکار کرتا ہے تو وہ صاف یہ کہنے کے بجائے کہ ’’ یہ حدیث میرے عقل کے خلاف ہے‘‘ قرآن مجید کی آڑ لیتاہے اور اِس حدیث کو قرآن کے خلاف باور کراکر اپنی کم عقل اور کج فہمی کو چھپانا چاہتاہے، ایسے لوگ اپنی اس فکری پسماندگی اور ذہنی آلودگی کی وجہ سے صرف صحیح احادیث ہی کا کیا، دین شریعت کے بہت سے بنیادی عقائداورحقائق کا بھی انکار کردیتے ہیں۔
3) نبی ﷺ پر سنگین الزام اور بدترین بہتان:
کسی صحیح حدیث کو قرآن مجید کے خلاف بتانا، بادی النظر میں نعوذباللہ رسول اللہ ﷺ پر سنگین الزام اور بدترین بہتان ہے، اس لئے کہ …..نقل کفر کفرنہ باشد…..دوسرے لفظوں میں معترض یہ کہنے کی ناپاک جسارت کی کہ جوبات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان نہیں فرمائی، آں حضرت ﷺ نے اپنی طرف سے گھڑکر امت کو بتائی ہے، اس طرح آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھاہے، استغفر اللہ، لاحول ولاقوۃ الاباللّہ، جس ذاتِ گرامی ﷺ پر صداقت وامانت ناز کرتی ہو، سچائی وامانت داری خود جس کی بلائیں لیتی ہواورجس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف اعلان فرمادیاہو کہ ’’ اِنَّكَ لَعَلٰى ہُدًى مُّسْتَقِيْمٍ‘‘ ( سورہ الحج:67 ) آپ یقیناً ہدایت اور سیدھی راہ پر ہیں، اس ذاتِ گرامی ﷺ کے بارے میں ایسی دریدہ دہنی اور گستاخانہ تصور دماغی گندگی اور ذہنی خباثت کی واضح مثال ہے۔
اگر احادیث کو قرآن مجید کے خلاف بتایا جائے تو نزولِ قرآن کا مقصد ہی باقی نہیں رہے گا، اس لئے احادیث میں اپنے قول وعمل کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ جوکچھ بیان فرماتے ہیں وہ بجائے خود قرآن مجید کی تعلیمات اور ہدایات کا حصہ ہے، قرآن مجید میں فرمایاگیا ’’ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ ‘‘ ( سورہ النحل:44 ) ہم نے آپ (ﷺ) پر قرآن مجید اس لئے نازل کیا کہ آپ لوگوں کو (وہ باتیں) کھول کھول کر سمجھادیں جوان (کی ہدایت اور تعلیم) کے لئے نازل کی گئی، یہ تو رسول اللہ ﷺ کا فرضِ منصبی ہے، جو آپ ﷺ کے منصب نبوت ورسالت کا لازمی اور اٹوٹ حصہ ہے، قرآنی آیات کی تشریح وتفسیر میں خود صاحب قرآن ﷺ کی احادیث معبتر نہ ہوگی تو کیا ہماری فرسودہ سوچ پر مبنی باتیں قرآن مجید کی تفسیر کےلئے صحیح مانی جائےگی؟؟ حدیث اصل میں قرآن مجیدکی معتبر اور مستند ترین تفسیر کا دوسرانام ہے، جو بات خود قرآن مجید کی تفسیر ہو وہ قرآن کے خلاف کیسے ہوسکتی ہے، اس لئے قرآن مجیدمیں ایک اور جگہ بہت واضح انداز میں فرمایاگیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نفسانی خواہش سے کوئی بات نہیں کہتے’’ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى‘‘ ( سورہ النجم:3) چنانچہ دین وشریعت کا پختہ اور گہرا علم رکھنے والے اہل علم نے حدیث کو بھی وحی کی ہی ایک قسم قرار دیا، اِس کو اصطلاح میں ’’وحی غیر متلو‘‘ کہتے ہیں ، یعنی ایسی وحی جس کی قرآن مجیدکی طرح تلاوت نہیں ہوتی، یہ وحی بھی شرعاً حجت ہے، دینی عقائد واحکام کا بڑا حصہ اسی دلیل شرعی (حدیث) سے ثابت ہے۔
اصل میں صحیح اور معتبر احادیث کو قرآن مجید کے خلاف بتانے والوں کی ذہنیت یہ ہے کہ وہ صرف قرآن مجید میں بیان کردہ عقائد واحکام کوحجت اور دلیل مانتے ہیں ، قرآن کے نام پر حدیث کی حجیت اور اُس کی قانونی حیثیت کو مشکوک کرنے اور پھررسالت مٰاب ﷺ کو مطعون کرنے (کہ آپ ﷺ نے قرآن مجید کے خلاف بات کہی ہے) والوں سے متعلق نبی ﷺ نے امت کو پہلے ہی آگاہ وباخبر فرمادیا تھا، آپ ﷺ نے منکرین حدیث سے باخبر کرتے ہوئے واضح طور پر فرمایا ’’ ألا انی اوتیت القرآن ومثلہ معہ‘‘ حدیث کا خلاصہ اور ترجمہ یوں ہے:
’’خوب اچھی طرح جان لو اور سمجھ لو کہ مجھے قرآن کے ساتھ اُسی کا مثل اور علم بھی دیا گیا ، آگاہ و ہوشیار رہوکہ ایک پیٹ بھرا شخص غرور وتکبر سے تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے کہے گا: تمہارے لئے یہ قرآن کافی ہے اس میں جس چیز کو تم حلال پاؤ اُس کو حلال مانو اور جو بات تمہیں حرام سے متعلق ملے اُس کو حرام سمجھو، جب کہ آں حضرت ﷺنے جو چیز حرام قرار دی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کردہ چیزوں کی طرح حرام ہے…..( مسند احمد بن حمبل، حدیث نمبر:17174)
بہر حال اس حدیث سے واضح ہے کہ حدیث بھی اپنے درجہ اور حیثیت کے لحاظ سے دینی عقائد واحکام کے ثبوت میں قرآن مجیدکے بعد ایک مستقل ’’دلیل شرعی‘‘ ہے، جو چیز خود مستقل دلیل شرعی ہو وہ کیسے قرآن مجید کے خلاف ہوگی؟ یہ گویا ایسے ہی ہے جیسے کوئی آئین کی کتاب ہو، اس کتاب میں دستور کی بنیادی اور مرکزی دفعات ہوتی ہے، پھر ان دفعات کی مراد اور اس کے مفہوم کی وضاحت کے لئے A,B,C وغیرہ جیسی علامات کے ذریعہ شق کے طور پر کچھ ذیلی دفعات رکھی جاتی ہے، ان ذیلی دفعات کوقانون کے خلاف وہی کہہ سکتاہے جس کو عقل وشعور سے کوئی واسطہ نہ ہو۔
4) منکرین حدیث کا اصل مقصد
محض سند کی بنیاد پر کسی حدیث کو قرآن کے خلاف کہاجاتا تویہ بات شاید اتنی زیادہ خطرناک اور سنگین نہیں ہوتی، کیوں کہ سند کے کمزور اور ضعیف ہونے کی بنا، رسول اللہ ﷺ کی طرف اس حدیث کی نسبت میں فرق ہوسکتا ہے، اس سلسلہ میں خود محدثین اور ائمہ جرح و تعدیل نے صحیح ، ضعیف اور موضوع وغیرہ مختلف اقسام سے احادیث کی درجہ بندی کی ہے، لیکن جب یہ واضح ہوگیا کہ حدیث کی سند میں کسی درجہ کا ضعف اور ابہام نہیں ہے اور وہ محدثین اور آئمہ جرح وتعدیل کے معیار پر اعلیٰ درجہ کی صحیح حدیث ہے تو اس حدیث سے ثابت شدہ مسئلہ اور عقیدہ کے بارے میں یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوگئی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے، کیوں کہ مسئلہ یہاںحدیث کی سند کا نہیںبلکہ خود حدیث کا ہے، مثلاً راشد نے حامد کے بارے میں کوئی بات کہی، زید ، بکر ، عمر وغیرہ مختلف واسطوں سے یہ بات حامد کو معلوم ہوئی، اب ان واسطوں پر تو بحث ہوسکتی ہے کہ انہوں نے راشد کی بات جوں کی توں حامد کو پہونچائی یا نہیں؟ بات کو پہونچانے میں ان لوگوں نے سچائی اور امانت داری سے کام لیایا نہیں؟ وہ خود بھی اپنے اخلاق وکردارمیں کتنے سچے اور ایمان دارہیں؟ لیکن جب بات آخری درجہ کی جانچ پڑتال کے بعد واسطوں سے ہوکر راشد تک جاپہونچی اور راشد کی طرف اُس بات کی نسبت بالکل صحیح ثابت ہوگئی تو پھر بحث کا کوئی سوال نہیں، اب بحث کا مطلب کودراشد کی شخصیت پر سوال اٹھانا ہے کہ انھیں یہ بات کہنے کا حق ہے یانہیں؟ یا اُس کی بات تسلیم کیئے جانے کے قابل ہے یانہیں؟
حدیث کو قرآن کے خلاف قرار دینے کےپس پردہ منکرین حدیث کا اصل مقصد براہ راست رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کو نشانہ بنانا ہے، اگر صرف حدیث کی سند اور اُس راویوں پر تنقید اور جرح کرنا منکرین حدیث کا مقصد ہوتا تو یہ بات پہلے ہی سے موجود ہے، خود محدثین نے راویوں پر بھر پور جرح کی ہے، لیکن اس کے باوجود ان حضرات نے منکرین حدیث کی طرح احادیث کو پوری طرح رد نہیں کیا، بلکہ رد وقبول میں حدیث کی درجہ بندی کی، حدیث کے راویوں کی جانچ پڑتال سے متعلق محدثین کرام ؒ نے ’’اسماء الرجال‘‘ کا عظیم الشان فن ایجاد کیا کہ مذاہب کی تاریخ میں اس کی معمولی نظیر بھی نہیں ملتی، اس فن کے ذریعہ لگ بھگ پانچ لاکھ راویوں کا تفصیلی ’’ بائیوڈاٹا‘‘ جمع کیا گیا، اس کی روشنی میں محدثین نے صحیح ، معتبر اور دلیل وحجت کے قابل احادیث کو موضوع اور من گھڑت روایات سے بالکل الگ کر دیا، راوی سے حدیث کو لینے کے سلسلہ میں محدثین اُس کے اخلاق اور امانت ودیانت کے حوالہ سے کتنی زیادہ احتیاط کرتے تھے، اِ س کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ ایک مرتبہ کسی محدث کو معلوم ہواکہ فلاں شخص کے پاس احادیث کا ذخیرہ ہے تو حدیث لینے کے لئے اُن کے پاس پہونچے، دیکھا کہ وہ اپنی بکری کو چارہ نہیں صرف چارہ کا برتن دکھا کر بلارہے ہیں، تو یہ محدث اُن سے حدیث لیئے بغیر ہی واپس لوٹ گئے، پھر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ صاحب جب اپنی بکری کو دھوکہ دے سکتے ہیں تو حدیث کے بیان کرنے میں بھی ان سے خیانت ہو سکتی ہے۔
محدثین کی اس تمام تر احتیاط کے باوجود منکرین حدیث بڑے بھولے پن اور معصومیت سے کہتے ہیں کہ یقیناً قرآن مجید کی تفسیر و تشریح کا سب سے زیادہ معتبر اور مستند مٰاخذ خود صاحب قرآن حضرت رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہیں، لیکن کیا کیا جائے یہ احادیث صحیح معنی اور مفہوم میں مستند ذرائع سے ہم تک نہیں پہونچی، حالاں کہ حدیث کو رد کرنے اور قبول کرنے میں محدثین کے وضع کردہ اصول نہایت ہی معتبر اور مستندہیں ، آج کے ترقی یافتہ اور ٹکنالوجی کے دور میں بھی دھوکہ دہی اور فریب سے محفوظ ایسے معتبر اصول نہیں بنائے جاسکتے اور نہ پہلے زمانہ میں لوگوں کی جیسی امانت ودیانت اور اُن کا تقویٰ واخلاص آج کے زمانہ کے لوگوں میں ہے، دوسرے یہ کہ حدیث کے معنی و مفہوم کو غلط کہنا صحابہ کرامؓ سے لے کرہر دور کے سلف صالحین کی امانت ودیانت کو مجروح ومشکوک کرناہے، اس طور پر کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک اس امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں رہا جو پوری امانت داری کے ساتھ حدیث کے صحیح معنی و مفہوم کو ہم تک پہونچائے، صحیح بات یہ ہے کہ جب آدمی کی عقل میں الحادکاکیڑلگ جاتا ہے اور دماغ میںفکری آوارگی کی وجہ سے ارتداد کی کھجلی ہوتی ہےتو اس کو اِس طرح کی بے تکی باتیں سوجھتی ہیں۔
تعجب اور حیرت ہے کہ اس طرح کی باتیں کہنے والے صحاحِ ستّہ بالخصوص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کی بنیاد پر رفع یدین اور آمین بالجہر پر عمل کرتے ہیں، لیکن ان ہی کتابوں کے حوالہ سے جب شفاعت اور معجزات کی احادیث پیش کی جاتی ہے تواِن احادیث کو قرآن کے خلاف بتاکر قبول نہیں کرتے، حالاں کہ حدیث کو صحیح اور معتبر قرار دینے کے مقررہ اصول اور معمول طریقہ کارکے مطابق ہی معجزات اور شفاعت کی احادیث بھی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نقل کی گئی ، پھرکیا وجہ ہے کہ ایک ہی طریقہ کار کی بنیاد نقل کردہ الگ الگ مضمون کی احادیث میں سے ایک کو مان لیا گیا اور دوسری احادیث کا انکار کردیاگیا، وجہ صرف آپ کی ’’عقل شریف‘‘ ہے، سلسلہ سند کے صحیح ہونے کے تمام اصولوں اور تقاضوں پر کھری اترنے کے باوجود ان احادیث کا صاف سیدھا مضمون محض اس لئے ناقابل قبول ہے کہ وہ آپ کی ’’ٹیڑھی عقل‘‘ میں نہیں سماسکتا،پس بات بنانے کے لئے کہہ دیا کہ یہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن مجید میں مسلمانوں کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا گیا (الممتحنہ:۴) اسوۂ ابراہیمی کی پیر وی یہ ہے کہ ہم دین وشریعت کی باتوں بلاچوں وچراں اور من وعن تسلیم کریں، لیکن جب کوئی شخص عقل کا غلام ہوتو ہوس وہَوس کی بنا اُس کے لئے اسوۂ ابراہیمی کی پیروی مشکل ہوجاتی ہے، بقول علامہ اقبال؎
’’براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہَوس چُھپ چُھپ کے سینوں میں بنالیتی ہے تصویریں‘‘
5) منکرین حدیث کے بعض نظریات:
مذکورہ بالاوضاحتوں کی روشنی میں یہ بات بخوبی واضح ہوگئی حدیث کے تعلق سے منکرین حدیث کی سوچ کتنی بودی اور نہایت بے بنیاد ہے، پھر اس بے بنیاد سوچ پر جن افکار ونظریات کی عمارت کھڑی کی گئی اس کی حقیقت بھی از خود اچھی طرح معلوم ہوگئی، لیکن اس کے باوجود حدیث کے انکارکے نتائج کتنے خطرناک ہیں کہ اس کی وجہ سے آدمی مسلمانوں میں متواتر اور متوارث طریقہ پر مسلمہ اسلام کے بنیادی عقائد اور حقائق کا انکار کر بیٹھتاہے، اسلام کے سچے اور صحیح راستہ سےہٹ کر گمراہی کے راستہ پر اتنی دور چلاجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ودستگیری کے بغیر واپسی ناممکن ہے ، اس سلسلہ میں بطور مثال منکرین حدیث کا صرف ایک عقیدہ’’ انکار معجزات ‘‘کا ذکر پیش خدمت ہے:
ایک منکرحدیث کا کہناہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو معجزات نہیں دیے گئے، یہ شخص چاند کے دوٹکڑے ہونا معجزہ شق القمر کے بارے میں کہتاہے کہ چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوٹکڑے ہوا، اللہ کے رسول ﷺ کے دستِ مبارک سےچاند کی طرف اشارہ کرنے کی بات من گھڑت ہے (نعوذ باللہ) اسی طرح آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے جاری ہونے کا معجزہ بھی من گھڑت ہے، (استغفراللہ) اس سلسلہ میں یہ شخص قرآن مجیدکی یہ آیت پیش کرتاہے:
’’ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی جانب سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، آپ فرمادیجئے! نشانیاں تو اللہ ہی کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والاہوں‘‘ (العنکبوت: 50)
اس آیت کے حوالہ سے چند باتیں ذہن میں رکھیں:
(الف) : آیت کہ پیش کرنے والا منکر حدیث چوں کہ علم وفہم سے بالکل بے بہرہ اور عقل سے پیدل ہے، اس لئےصرف آیت کےترجمہ پر اکتفاءکیااور اس ترجمہ کی بنیاد پر اپنے غلط مدعاکو پیش کیاہے، اس شخص نے آیت کے ترجمہ کے ساتھ اُس کے معنی و مفہوم پر اس لئے غور نہیں کیا کہ اس کے بعد وہ معجزات کے سلسلہ میں اپنا گمراہ نظریہ پیش نہیں کرسکے گا، آیت کا معنی ومفہوم آیت سے پہلےسلسلۂ کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید جیسا زندہ جاوید معجزہ عطافرمایا، یہ معجزہ خود آں حضرتﷺ کی نبوت ورسالت کی واضح اور روشن دلیل ہے، اس عظیم الشان معجزہ کے ہونے پر مزید معجزات کا مطالبہ کرنا سراسر ضد اور ہٹ دھرمی ہے، تو یہاں رسول اللہ ﷺ کے لئے معجزات کی نفی ہیں کی گئی بلکہ دوسرے معجزات کے مقابلہ میں قرآن مجید کے معجزہ کی عظمت واہمیت بیان کی گئی، اس لئے کہ دوسرے محسوس معجزات جیسے انگلیوں سے پانی جاری ہونا، درخت کا کلمہ پڑھنا وغیرہ، یہ آں حضرت ﷺ کی مبارک زندگی میں وقتی طور پر ظاہر کیئے گئے ، قرآن کی طرح یہ معجزات ہمیشہ قیامت تک باقی نہیں رہیں۔
(ب) : معجزات بھی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا ہی فعل ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے انبیاء کرام کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں، اس کے ظہور میں انبیاء کرام کے ارادہ اور اختیار کا کوئی دخل نہیں ہوتا، اس لئے نبی ﷺ ہی کے ذریعہ کہلایا گیا’’ اِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ‘‘ ( سورۃ العنکبوت: 50) میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والاہوں، رہی بات معجزات دکھانے کی ، وہ تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ واختیار میں ہے، جب اس کا حکم اور فیصلہ ہوگا دکھائے جائیں گے، البتہ اللہ تعالیٰ تمہارے فرمائشی معجزات نہیں ظاہر فرماتے کہ نبی ﷺ کی تائید کے لئے آسمان سے کوئی فرشتہ اتاردیں، آپ ﷺ کے لئے دولت کا انبار لگادے اور آپ ﷺ کو باغات ونہروں کا مالک بنادے وغیرہ…..ایسے نا معقول مطالبات مشرکین وقت بے وقت کرتے رہتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کی شانِ عظمت ورفعت اس سے کہیں زیادہ بلند ہے کہ وقت بے وقت مشرکین کے نامعقول مطالبات اور فرمائشی معجزات پورے کیئے جائیں، نعوذ باللہ ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو ’’ مداری‘‘ سمجھ لیا ہے ، جوکرتب بازی میں اپنی مہارت کو ثابت کرنے کے لئے عوام کے نت نئے اور عجیب و غریب مطالبات پورے کرتاہے، پس اصل مسئلہ یہاں معجزات کے سلسلہ میں مشرکین کے نا معقول اور بے ہودہ مطالبات کا رد کرناہے نہ کہ خود معجزات کے ظہور کو مسترد کرناہے۔
(ج): اللہ کے رسول ﷺ امام الانبیاء اورسید الاولین و الاخرین ہیں، جب حق وصداقت کے ثبوت کے سلسلہ میں مشرکین پر اتمام حجت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ گذشتہ انبیاء کرام کے ہاتھ پر محسوس معجزات (چٹان سے اوٹنی پیداہونا وغیرہ) ظاہر فرماسکتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کو ایسے محسوس معجزات کیوں نہیں دیئے جاسکتے ؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آں حضرت ﷺ کے دست حق پر ست پر محسوس معجزات بھی ظاہر فرمائے ، آپ ﷺ کی انگلی مبارک کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ مشرکین مکہ ہی کے مطالبہ پر دکھایا گیا( ملا حظہ ہو آسان تفسیر، سورۃ القمر: از حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی) اس کے علاوہ اور بھی معجزات ہیں، جس کی تفصیل ’’ معجزات نبوی‘‘ کے عنوان سے سیرت کی کتابوں میں موجود ہے……..بہرحال منکرین حدیث کے نظریات میں سے یہ ایک نظریہ کی مثال ہے، اس سے خود اندازہ لگالیجئے کہ دلیل و حجت ہونے کے لحاظ سے ان نظریات کی حقیقت کتنی بے حیثیت ہے، لیکن یہ لوگ اپنی چرپ زبانی سے اس کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ نا واقف لوگ دھوکہ کھاجاتے ہیں۔
غرض یہ کہ حدیث کا حجت اور دلیل ہونا ہو، یا اسلام کے دیگر بنیادی عقائد و حقائق کا معاملہ ہو، یہ خود اپنے آپ میں صداقت وسچائی ہے، ان کی صداقت و سچائی ہمارے اور آپ کے سمجھنے پر موقوف نہیں کہ اگر یہ ہماری سمجھ میں آئیں تو یہ صحیح ہیں ورنہ غلط، اگر ایساہوتا تو دنیا میںصداقت نام کی کوئی چیز ہی باقی نہیں رہتی، کیوں کہ دنیا میں آج بھی ایسے’’عقل کے اندھوں ‘‘کی کمی نہیں جو دن چڑھے سورج کی روشنی کا اس لئے انکار کردیتے ہیں کہ وہ انھیں نظرنہیں آتی، وہ سورج کے وجود کو تو مانتے ہیں لیکن عین دن کے بارہ بجے کہتے ہیں ’’ افوہ!! کتنا گہر ا اور گھٹا ٹوپ اندھیراہے‘‘ ایسے ہی عقل کے اندھوں کے بارے میںمرزاغالب کہہ گئے؎
’’احمقوں کی کمی نہیں غالب
ّّّّّایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں‘‘
گمراہی وبے دینی کے اس دورمیں ہر دن ایک نیا فتنہ پیداہورہاہے، اس لئے آج کے دور میں احمقوں کو ڈھونڈنے اور تلاش کرنے کی زحمت بھی نہیں رہی، اب غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ دوسرا مصرعہ یوں بھی پڑھا جاسکتاہے:
’’احمقوں کی کمی نہیں غالب
ایک دیکھو ہزار نظر آتےہیں‘‘