Tue, Mar 2, 2021

گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
مولانا عبد الواحد صاحب
امانت علی قاسمی
استاذ ومفتی دارالعلوم وقف دیوبند

ابھی چند دنوں قبل شہر بھاگل پور کے معیاری ادارہ مدرسہ رشید العلوم کے مہتم مولانا انعام الحق صاحبؒ کی رحلت کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا ذہن و دماغ سے ابھی ان کی یادیں محو نہیں تھی کہ اسی شہر کے ایک دوسری بڑی شخصیت مولانا عبد الواحد صاحب کی وفات نے پھر سے مغموم اور دل و دماغ کو بے چین اور بے قرارکردیا ۔اہل علم کے جانے کا سلسلہ جس تیز گامی کے ساتھ جاری ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اپنے آخری منزل کی طرف کی طرف بہت جلد پہونچنا چاہتی ہے، حدیث میں ہے کہ علم اس طرح ختم نہیں ہوگا کہ لوگوں کے سینے سے ایک دم علم اٹھالیا جائے گا؛ بلکہ علم کے اٹھانے کی صورت یہ ہوگی کہ اہل علم بڑی تیزی کے کوچ کرجائیں گے۔ اس وقت جو ہمارے سامنے منظر ہے وہ رفع علم کی اس حدیث کی واضح تفسیر ہے ۔
بہت سے تجزیہ نگاروں نے بہار کی مٹی کی ایک خاصیت کا تذکرہ کیا ہے کہ اس میں چھَپنے سے زیادہ چھُپنے کی خواہش ہوتی ہے ،وہ نام سے زیادہ گم نامی کو پسند کرتے ہیںگو یہ عمومی صورت حال نہ سہی لیکن کسی حد تک صحیح صورت حال ہے۔ آج جب کہ پرنٹ کا دور ہے ، سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن بہار کی مٹی اپنی اسی خاصیت پربرقرار ہے،کتنے لوگ علم کے کوہ ہمالہ پر فائز ہونے کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوگیے کہ لوگوں کا پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ بڑے عالم بھی تھے۔
آج سے نصف صدی ماضی کی طرف جائیے تو ایک اور چیز نمایاں ہوگی کہ مدارس کے فضلاء اپنے اساتذہ کی باتوں پر حددرجہ عمل کرتے تھے اور اساتذہ ان کو جہاں بھیج دیتے تھے وہ وہاں بلا چوں چرا کے چلے جاتے تھے، چاہے وہاں ان کی صلاحیت کے مطابق کام ہو یا نا ہو، حضرت شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب کو ان کے ا ستاذ نے بھاگل پور کے ایک گاؤں پورینی میں تدریس کے لیے بھیج دیا تو حضرت وہاںچلے گئے اور استاذ کے حکم کے مطابق دینی خدمت انجام دیتے رہے، اسی طرح ماضی کے جھروکے میں جھانک کردیکھئے تو مدارس کے فضلاء کو جہاں پڑھانے کی جگہ مل جاتی وہاں پڑھانے کے لیے بیٹھ جاتے تھے ، خواہ اس میں ان کی صلاحیت کا لحاظ ہو یا نہ ہو ، قابلیت اور صلاحیت کے باوجود اگر حفظ یا ناظرہ قرآن کے لیے کہہ دیا جاتا تو وہ حضرات اس کے لیے تیار ہوجاتے تھے، موجودہ دور میں یہ دونوں صفت عنقا ہوتی جارہی ہیں۔
مولانا عبد الواحد صاحبؒ کو اللہ تعالی نے زبردست علمی صلاحیت سے نوازا تھا ، آپ پڑھنے کے زمانے میں ہی بہت باصلاحیت تھے اور اپنے ساتھیوں کو تکرار کراتے تھے، آپ نے عربی کی زیادہ تر تعلیم دارالعلوم مئو میں حاصل کی ، آپ کی فراغت بھی یہیں سے ہے،حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب محدث اعظمی آپ کے خاص ا ساتذہ میں ہیں ، یہاں آپ اپنے ساتھیوں میں بالکل ممتاز تھے، دارالعلوم دیوبند کے شیخ ثانی ،شیخ عبد الحق صاحب اعظمی اس زمانے میں دارالعلوم مئو میں ہی زیر تعلیم تھے یہ تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ساتھی تھے ، تاہم مولانا عبد الواحدصاحبؒ خود کہا کرتے تھے کہ میںنے مولانا عبد الحق صاحب کو زمانہ طالب علمی میں بعض کتابیں پڑھائی ہیں ،اس سے آپ کی علمی صلاحیت کا انداز لگایا جاسکتاہے لیکن فراغت کے بعد آپ اپنے مادر علمی دارالیتامی چمپانگر سے وابستہ ہوگئے ۔ آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز بھی اسی دارالیتامی سے کیا تھا،اس وقت آپ کے ساتھیوں میں حضرت مولانا قمر الہدی صاحب مفتاحی ،سابق صدر جمیۃ علماء بھاگل پور، مولانا عین الدین صاحب چانچے ، اور ان کے برادر خود مولانا توحید صاحب تھے ۔ ضلع بھاگل پور کا یہ دارالیتامی قدیم ہونے کے ساتھ تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اس کے پہلے ناظم مولانا نعیم صاحب تھے ان کے بعد مولانا اسحق صاحب اور مولانا غلام حسین صاحب ہوئے اور اب اس کے مہتمم مولانا نسیم صاحب مظاہری ہیں ،یہ یتیم خانہ اب جس جگہ واقع ہے اس سے پہلے ناتھ نگر تھانہ سے متصل علاقہ سردار میں واقع تھا، جس وقت شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب نے دارالیتامی کا معاینہ کیا تھا اور عربی میں معاینہ نامہ لکھا تھا اس وقت یہ سردار پور میں ہی واقع تھا اور مولانا عبد الواحدصاحب اور مولانا مفتاحی صاحب ؒ نے اسی جگہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔
دارالیتامی کے بعد مولانا عبد الواحد صاحب نے عربی تعلیم اصلاح المسلمین چمپانگر میں حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کے پاس حاصل کی ، مولانا عبد الرحمن صاحب کرن پور بھاگل پور کے تھے اور اُس زمانہ میں جمعیۃ علماء کے صدر تھے، انہوں نے ہی علاقے میں عربی تعلیم کی روح ڈالی تھی، ان کے شاگردوں نے نہ صرف مدارس سے فراغت حاصل کرکے علماء کی صفوں میں اضافہ کیا بلکہ علمی دنیا میںنام روشن کیا اور حیرت انگیز طور پر تعلیمی ملی سرگرمی انجام دی ، ان کے شاگردوں میں علامہ اکرام علی صاحب نوراللہ مرقدہ ، مولانا قمر الہدی مفتاحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، اور حضرت مولانا انصار صاحب مدظلہ العالی وغیرہ نمایاں نام ہیں ۔
اسی مٹی کی خاصیت کا اثر تھا یا بزرگوں کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ کہ مولانا عبد الواحدؒ قابل باصلاحیت ہونے کے باوجود دارالیتامی کی تدریس سے وابستہ ہوگئے جہاں عربی کی تعلیم برائے نام تھی ، لیکن آپ اس ادارے سے وابستہ رہے اور طویل عرصے تک وہاں آپنے خدمت انجام دی ،اس کے بعد ۱۹۹۶ء میں جب جلالین کی جماعت قائم ہوئی تو اصلاح المسلمین کے دور رس ذمہ داروں اور جوہری شناخت کے حامل ارباب انتظام نے جلالین جیسی اہم کتاب کے لیے ان کی خدمات حاصل کیں ،اس وقت مولانا باضابطہ تودارالیتامی کے استاذ تھے لیکن دارلیتامی میں ہی جلالین کے طلبہ کی علمی پیاس بجھاتے تھے۔اس کے بعد جب اصلاح المسلمین میں دورہ حدیث قائم ہوا تو آپ باضابطہ اصلاح المسلمین سے وابستہ ہوگئے اور اخیر عمر تک جلالین ،ترجمہ قرآن کے علاوہ دورہ حدیث میں نسائی،ابن ماجہ وغیرہ کے درس دیتے رہے۔بالآخر قریب نوے سال کی عمر میں علم و عمل کا یہ تابندہ ستارہ۹ /جوالائی ۲۰۲۰ء کو ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتاہی رہے گا
آپ نے قریب ستر سال تک دینی خدمات انجام دیں ، اس عرصے میں نہ جانے کتنے نشیب و فراز آئے ہوں گے اور کن آزمائشی دور سے گزر نا پڑا ہوگا جو لوگ مدارس سے وابستہ ہیں وہ اس کا انداز ہ لگاسکتے ہیں ، لیکن ان کے اساتذہ نے ان کی جو تربیت کی تھی ، اور اس تربیت کے نتیجے میں ان کا عزیمت کا جو مزاج بنا تھا اس کا ثمرہ تھا کہ انہوں نے بلاکسی شکوے کے پوری زندگی تعلیم و تدریس میں گزاردی ۔ان کا مزاج تدریس و تعلیم کا تھا بہت ممکن ہے کہ ان کو دارالیتامی میں اپنے مزاج پر عمل کرنے کا موقع نہ ملا ہو لیکن جب آپ اصلاح المسلمین سے وابستہ ہوئے تو آپ نے خوب محنت کی ہر وقت پڑھانے کے درپہ رہتے تھے اور پوری خواہش ہوتی کہ بچوں میں وہ اسپرٹ منتقل کردی جائے تو ان کے اساتذہ میں ان کے اندر ڈالی تھی۔مدرسہ اصلاح المسلمین کے قدیم استاذ حضرت مولانا اویس صاحب قاسمی جو راقم الحروف کے بھی استاذ ہیں ،انہوں نے بتایا ’’کہ ان کو پڑھانے کا شوق بہت تھا،کوئی بھی گھنٹہ خالی ہوتا تو پڑھانے کے لیے چلے جاتے تھے ، وہ کہاکرتے تھے کہ میرے تو جانے کا وقت آچکا ہے میں چاہتا ہوں کہ اسی پڑھتے پڑھاتے اس دنیا سے جاؤں ، اخیر عمر میں جب ضعف و نقاہت کی وجہ سے ان کے بعض اسباق کم کردئے گئے تو وہ مولانا سے شکایت کرتے تھے کہ مجھے گھنٹہ کیوں نہیں دیتے ہیں ، میں پڑھانا چاہتا ہوںشعبہ حفظ میں جب کوئی بچہ حفظ مکمل کرکے پورا قرآن ایک مجلس میں سناتا تو یہ ذمہ داری آپ کی ہی ہوتی آپ پوری دلجمعی اور دلچسپی کے ساتھ ایک مجلس میںحافظ قرآن کا قرآن سنتے تھے یہ ان کے فرائض میں داخل نہیں تھا لیکن کام کرنے کا ان کا جذبہ قابل دید تھا ‘‘
اخلاص و عمل کا ایسا نمونہ اب کم دکھائی دیتا ہے ۔اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات بلند فرمائے ،ان کی زندگی بے داغ تھی ، کبھی کسی مسئلے میں الجھتے نہیں دیکھا ، طبیعت میں سادگی تھی ، علم و عمل میں یکسانیت تھی ، خلوص و تقوی سے لبریز ان کی زندگی تھی ، میں نے جب ان کو دیکھا تو عصا کے ساتھ چلتے دیکھا غالبا ایک آنکھ کی بینائی بھی چلی گئی تھی،مجھ سے عام طورپر راستے میں ملاقات ہوتی تھی، لیکن جب کبھی ملاقات ہوتی تو میرا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اور مختلف طرف کی باتیں کرتے تھے، بظاہر نہ مجھ سے کوئی قرابت تھی اور نہ ہی کوئی خاص شناسائی علاقہ ایک ہونے کی بنا پر میں ان کو اور وہ مجھ کو جانتے تھے اس کے علاوہ کوئی خصوصی نسبت اور کوئی خاص ربط و تعلق نہیں تھا لیکن جب کبھی ملتے تو اس محبت بھرے انداز سے ملتے تھے کہ آج جب ان کی وفات کی اطلاع ملی تو دلی صدمہ محسوس ہوا اور محسوس ہوا کہ کوئی علم و عمل کا پیکر رخصت ہوگیا۔