Tue, Mar 2, 2021

مدتوں رویاکریں گے جام وپیمانہ تجھے
مفتی محمدعبداللہ قاسمی
mob:8688514639

موت ایک اٹل اورناقابل انکارحقیقت ہے،اس کائنات رنگ وبومیںہراس چیزکے لئے موت مقدرہے جواس صفحہ ہستی پرزندگی کاعارضی لباس پہن کرنمودارہوئی ہے؛لیکن جیسے زندگی زندگی میںنمایاںفرق ہوتاہے،ایسے ہی ہرایک کی موت یکساںنہیںہوتی،کچھ اموات ایسی واقع ہوتی ہیںجوافرادواشخاص کی موت نہیں ہوتی ؛بلکہ اس سے ان لاکھوںافرادکی زندگی کاہرابھراباغ ویران ہوجاتاہے جوان کے دامان ِعقیدت سے وابستہ ہوتے ہیں،بعض بندگان خداکی رحلت سے ان بے شمارلوگوںکی امیدوں کاچراغ ٹمٹمانے لگتاہے جوان کے خوان ِنعمت کے ریزہ چیںہوتے ہیں،پھراس کی موت کاماتم آنکھوںکے چندقطرہائے اشک سے نہیں ہوتا؛بلکہ قطرہ قطرہ گرکرمستقل دریاکی شکل اختیارکرلیتاہے،اس کی وفات کی وجہ سے دلوںکی پرسکون آبادیاںآتش کدہ ٔ حسرت بن جاتی ہیں،زندگی کے ہنگامے اورولولے سردپڑجاتے ہیں،اورایسامحسوس ہوتاہے کہ بساط ِہستی کی ہرہرچیزاداس اورغمگین ہے،اس کے احوال وکوائف کوقلم بندکرنے کے لئے سیاہی بازارکی بوتلوںمیںنہیںملتی؛بلکہ خونچکاں دلوں میں پائی جاتی ہے،شیخ الحدیث حضرت اقدس مفتی سعیداحمدصاحب پالن پوری کی رحلت کے بعد بھی کچھ یہی دل فگارنقشہ آج ہماری آنکھوںکے سامنے ہے،حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی وفات ایک شخصیت کاخاتمہ نہیں؛بلکہ ایک زرین عہداورایک روشن باب کاخاتمہ ہے،حضرت شیخ الحدیث کے سانحۂ ارتحال سے علمی حلقے میں جوخلاپیداہواہے اس کاپرہونابہ ظاہرمشکل نظرآتاہے۔مجھے اس موقع پرعربی شاعرکاایک شعریادآرہاہے:
فماکان قیس ہلکہ ہلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تہدما
(ترجمہ)قیس کی موت فردواحد کی موت نہیں ہے ،لیکن وہ قوم کی بنیادتھاجومتزلزل ہوگیا۔ٖ
حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ ۱۹۴۰ ء ؁مطابق ۱۳۶۰ھ؁ کو کالیڑہ ضلع بناس کانٹھا(شمالی گجرات )میںپیداہوئے،آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقائی مکتب میںحاصل کی،پھرآپ نے پالن پورکے ایک مدرسہ کارخ کیا،اوروہاںآپ نے چارسال تک حضرت مولانامفتی اکبرمیاںصاحب پالن پوری اورحضرت مولاناہاشم صاحب بخاری سے عربی کی ابتدائی اورمتوسط کتابیںپڑھیں،اپنے تعلیمی سلسلہ کومزیدبڑھانے کے لئے آپ نے سہارن پوریوپی کاسفرکیا،اوروہاںکی بافیض دینی درس گاہ مظاہرالعلوم میںداخلہ لیا،اورتین سال تک آپ نے جیداساتذہ کرام سے علمی فیض حاصل کیا،مظاہرالعلوم کے اساتذہ کرام میںامام النحووالمنطق حضرت مولاناصدیق احمدصاحب جموی قدس سرہ،حضرت مولانایامین صاحب سہارن پوری ،حضرت مولانامفتی یحیی صاحب سہارن پوری ،حضرت مولاناعبدالعزیزصاحب رائے پوری اورحضرت مولاناوقارصاحب بجنوری خاص طورپرقابل ذکرہیں۔پھرآپ نے برصغیرکی شہرہ آفاق یونیورسیٹی دارالعلوم دیوبند……جس کی وجہ سے علم وادب کے گلشن میں بہارآئی،اوراس کے برگ وبارکوذوق نموملا،اورجس کی وجہ سے بحمداللہ آج دنیاکاچپہ چپہ متمتع اورفیض یاب ہورہاہے……کاقصدکیا،اوروہاںحضرت مولاناقاری محمدطیب صاحبؒ،مولانانصیراحمدخان صاحب بلندشہریؒ،مولانافخرالدین صاحبؒ،علامہ ابراہیم بلیاویؒ ،مولانامفتی سیدمہدی حسن صاحب شاہ جہاںپوریؒ جیسے جبال العلم اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا،اوران قدآوراساتذہ کرام سے مختلف علوم وفنون کی کتابیںپڑھیں،مادرعلمی کی علمی اورروحانی فضانے آپ کی خوابیدہ صلاحیتوںکوپروان چڑھایا،جستجوئے علم وادب کی چنگاری کوشعلہ زن کیا،اورشخصیت کی تعمیروتشکیل کے لئے جوخام مواداپنے گھرسے لائے تھے آپ کے اساتذہ نے اس کوتب وتاب ،رنگ وآہنگ ،لمس ولذت اورصورت ومعنی عطاکیا،چنانچہ کچھ ہی سالوں کے بعدچشم فلک نے دیکھاکہ وہ آسمان دین ودانش کے ماہ وپروین بن کرجلوہ گرہوئے،جس کی تابانی اورضوفشانی سے نہ صرف راہ علم کے مسافرمستفیدہوئے؛بلکہ وہ کاروان علم کے رہنمااوررہبربھی بن گئے۔
دارالعلوم دیوبندسے فراغت کے بعدحضرت علامہ ابراہیم بلیاوی ؒ کے ایماء پر۱۳۸۳ء؁میں آپ ؒ دارالعلوم اشرفیہ راندیر(سورت)تشریف لے گئے،اوروہاں۱۳۹۳ء؁ نوسال تک پوری محنت وجانفشانی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دینے لگے،اس نوسالہ عرصہ میںعلیاء کی کتابیں:ابودائود،ترمذی،طحاوی،شمائل،موطین،نسائی،ابن ماجہ،مشکاۃ،جلالین،الفوزالکبیر،ہدایہ آخرین،شرح عقائداورحسامی وغیرہ آپ کے زیرتدریس رہیں،پھر ۱۳۹۳ء؁ میںدارالعلوم دیوبندمیںآپ کی تقرری عمل میںآئی،اورآپ وہاںتادم وفات تدریسی فرائض بحسن وخوبی انجام دیتے رہے،۲۰۰۹ء؁ مطابق ۱۴۳۱ھ؁ میںحضرت مولاناشیخ نصیراحمدخان صاحب کے سبکدوش ہونے کے بعدآپ کوصدرمدرس بنایاگیا،اوربخاری شریف جلداول آپ کے سپردکی گئی،بخاری شریف جلداول کے علاوہ متعدداصولی وفنی کتابیںپڑھانے کاآپ کوشرف حاصل ہوا،ایشیاء کی عظیم دینی درس گا ہ سے آپ تقریباپانچ دہائیوںتک وابستہ رہے،اورتشنہ گان علوم نبوت کے لئے تشنگی کاسامان فراہم کرتے رہے۔
حضرت شیخ الحدیث کادرس طلبہ میں بے حدمقبول تھا،قسام ازل نے آپ کوافہام وتفہیم کاغیرمعمولی ملکہ عطاکیاتھا،آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مباحث کوبہت ہی آسان اورسہل اندازمیںطلبہ کے ذہن نشیںکردیتے تھے،آپ کی درسی تقاریراپنے تمام پہلووںکوجامع اورحاوی ہونے کے ساتھ مرتب اورمنضبط ہوتی تھیں،قدرت نے آپ کودریاکوکوزہ میںبندکرنے اوراورقطرے کوسمندرکی شکل میںپھیلانے کاغیرمعمولی ہنرعطاکیاتھا،اورجہاں جیساموقع اورمحل ہوتاآپ اپنی عبقریت کے حسن کوکانوںکے راستے دلوں میں اتاردیتے تھے،آپ کے درس حدیث میںمحض دوچارکتابوںکامطالعہ نہیںجھلکتا؛بلکہ آپ کادرس فن حدیث کے ایک قابل قدرکتابوںکے مطالعے کی غمازی کرتا،آپ کے درس میں تحقیقی شان،محدثانہ طرزاورمتکلمانہ اسلوب اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ کروٹیں لیتا،اورطلبہ کوحدیث کے جام وساغرسے مخمورکئے رہتا،حضرت شیخ الحدیث کادرس عام اساتذہ کی طرح خشک اوربے کیف نہیں ہوتاتھا؛بلکہ دل چسپ اوردلوں کوموہ لینے والاہوتاتھا،اعلی ،متوسط اورادنی ہرطرح کے طلبہ کے لئے اس میںنشاط ودل چسپی کاسامان ہوتا،اوران کے لئے غوروفکرکی نئی شاہراہیں کھولتا،آپ کے درس کی ان ہی خوبیوںکی وجہ سے طلبہ کے آپ کے درس میںپورے ذوق وشوق سے شریک ہوتے،اورحسب استعداداپنے دامان علم کوعلم وحکمت کے گراںقدرموتیوںسے بھرتے،ہم جب دورہ حدیث میںزیرتعلیم تھے اس وقت طلبہ کی تعدادہماری جماعت میںآٹھ سوسے کچھ متجاوزہواکرتی تھی،اوردارالحدیث تحتانی اپنی کشادگی کے باوجودتنگ پڑجاتی تھی،ہمیں یادپڑتاہے کہ حضرت شیخ الحدیث کادرس شروع ہونے سے پہلے ہی دارالحدیث کھچاکھچ بھرجاتی،اورجوطالب علم دیرسے آتاوہ اس طرح درس میںشریک ہوتاکہ آدھااندراورآدھاباہرہوتاتھا،حضرت کی درس کی ایک نمایاںخصوصیت یہ تھی کہ اپنی بات کوکچھ اس خاص اندازسے پیش کرتے کہ طلبہ پوری یکسوئی ودل جمعی کے ساتھ سبق سننے پرمجبورہوتے،اورگھنٹوںاس طرح ہمہ تن گوش رہتے گویاان کے سروںپرپرندہ ہے،کائنات کی بہترین ہستی کے زبان فیض ترجمان سے نکلے ہوئے موتیوںسے آپ کواس قدرشیفتگی اورمحبت تھی کہ عمرکے اخیرمرحلے میںبھی جب کہ صبح پیری کے آثارنہ صرف نمایاںہوئے تھے؛بلکہ پیری کاہلال ماہ کامل بن چکاتھا،اورضعف ولاغری کاسایہ آپ کے جسم پرمکمل طورپرچھاگیاتھاآپ دوڈھائی گھنٹے بے تکان تسلسل کے ساتھ ایک ہی ہئیت پربیٹھ کر درس دیتے،اورآپ کے چہرے پرتھکان اوراضمحلال کے آثارظاہرنہیں ہوتے تھے،درس کے دوران آپ کاظاہری وقاراورعلمی رعب ودبدبہ دیدنی ہوتا،آپ کی زبان نہایت صاف ستھری اورشائستہ تھی،آپ کی زبان میںوہ بہائوتھاجوایک دریامیںہوتاہے،آپ کے اندازتدریس کودیکھ کریوںمحسوس ہوتاجیسے ایک ندی ہے جوخراماںخراماں،گاتی ہوئی گنگناتی ہوئی،عراق دل نشیںسازکوچھیڑتی ہوئی چل رہی ہے،اورکشت زاروںکوسیراب کررہی ہے،ان سب کے ساتھ آپ بڑے باہمت اوراوقات کے پابندتھے،اخیرعمرتک بھی آپ بخاری شریف کاطویل نصاب مقررہ وقت میں مکمل کرتے تھے،درس کی پابندی کایہ حال تھاکہ تعلیمی سال کے دوران آپ بالکل اسفارنہیںکرتے تھے،یوںمعلوم ہوتاتھاکہ آپ نے تدریس کے لئے خودکوپابہ زنجیرکرلیاہے،اوراپنے سفینہ علم کولنگراندازکرلیاہے،یہ کہناشایدمبالغہ نہیںہوگاکہ آپ نے درس نظامی کی کتابوںکی تدریس کے لئے ایک قابل تقلیدنمونہ فراہم کیاہے،جونسل نوکے لئے مفیدبھی ہے اوراثرانگیزبھی،حضرت شیخ الحدیث نے تدریسی میدان میں اپناایسانقش جمیل چھوڑاہے جوان شاء اللہ صدیوںتک ارباب مدارس کے لئے سرمۂ چشم اور رفیق خضرثابت ہوگا۔
آپؒایک جلیل القدرمحدث ،بلندپایہ فقیہ اورمادرعلمی دارالعلوم دیوبندکی پیشانی کاجھومرتھے،اورعلمی کمالات اورگوناگوں امتیازات وخصوصیات کی وجہ سے شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ اپنی مثال آپ تھے،چنانچہ جس طرح سورج کی روشنی پھیل کرتیزہوجاتی ہے،اورشمیم گل باغ سے نکل کرعطرفشاں بن جاتی ہے،اسی طرح مولاناکے مختلف علوم وفنون پردسترس اوران کے علمی کمالات کاآوازہ دارالعلوم دیوبندکی چہاردیواری تک ہی محدودنہیں رہا؛بلکہ دارالعلوم دیوبندکی چہاردیواری سے نکل کرصرف ہندوستان ہی نہیں ؛بلکہ پورے برصغیرکے چپہ چپہ میں آپ کی تگ وتازپہونچی ، اوربرصغیرکے گوشہ گوشہ میں آپ نے دعوتی اسفارفرمائے،اوراپنے پرمغزاوراثرآفریںخطابات سے خلق خداکومستفیداورفیض یاب کیا،ان کے دلوںمیں طاعت وفرماںبردای کی شمع فروزاںکی،گم گشتہ راہ لوگوںکوراہ ِراست پرلانے کے لئے سنجیدہ کوششیںکیں۔
آپ علم وفن کے شوقین، مطالعہ وکتب بینی کے والہ وشیدا اور قلم وقرطاس کے حریص تھے،آپ نے جہاںتدریسی ذمہ داریاںبحسن وخوبی نبھائیں وہیں تصنیف وتالیف کے میدان میںبھی آپ نے انمٹ اوریادگارنقوش چھوڑے ہیں،چنانچہ آپ کے قلم گل ریزسے تین درجن سے زائدکتابیں منصہ شہودپرآئیں،اوردیکھتے ہی دیکھتے مشرق ومغرب میں پھیل گئیں،آپ کی تصانیف کوعوام وخواص نے ہاتھوںہاتھ لیا،اورذوق وشوق سے انہیںپڑھنے کااہتمام کیا،درس کی طرح آپ کی تمام تصانیف بھی آسان اورعام فہم ہونے کے ساتھ جامعیت اورحسن ترتیب کابہترین نمونہ ہیں،علمی جواہرپارے اورتحقیقی نکات سے لبریزاورسینکڑوں کتابوں کے مطالعے کانچوڑہیں،ان وبیان سادہ اورسلیس ہے، علم،خدائے بزرگ وبرترنے آپ کی بعض تصانیف کووہ دوام اورمقبولیت عطاکی ہے جوبہت کم لوگوںکے حصہ میںآتی ہے،چنانچہ آپ کی متعددکتابیں آج مدارس عربیہ میںداخل درس ہیں،اوراساتذہ وطلبہ کے لئے یکساںمفیداورنفع بخش ثابت ہورہی ہیں،بلکہ یہ ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ آج مدارس عربیہ میںداخل ہونے والے طلبہ کی اندربنیادی استعدادپیداکرنے میںحضرت شیخ الحدیث کی کتابیںمرکزی اورکلیدی کرداراداکررہی ہیں،اوران کی زنگ آلودصلاحیتوںکوصیقل کررہی ہیں۔
این سعادت بزوربازونیست
تانہ بخشدخدائے بخشندہ
آپ کی تصانیف میںحجۃ اللہ البالغہ کی شرح رحمۃ اللہ الواسعۃ،تفسیرہدایت القرآن،الفوزالکبیرعربی،العون الکبیر،مبادیٔ الفلسفۃ،آپ فتوی کیسے دیں؟کیامقتدی پرفاتحہ واجب ہے؟حیات امام ابودائود،حیات امام طحاوی،اسلام تغیرپذیردنیامیں،ڈاڑھی اورانبیاء کرام کی سنتیں،حرمت مصاہرت،تحفۃ الالمعی شرح سنن ترمذی،تحقۃ القاری شرح صحیح بخاری،دین کی بنیادیںاورتقلیدکی ضرورت ،مسلم پرسنل لااورنفقہ مطلقہ خاص طورپرقابل ذکرہیں۔
آپ کوظاہری علوم میںجیسے کمال اوردرک حاصل تھا،اوراپنے ہم عصروںپرفوقیت اوربرتری رکھتے تھے ،اسی طرح خدائے بخشندہ نے آپ کوعلوم باطنیہ کی دولت سے بھی مالامال کیاتھا،لیکن اس کے اخفاء کااتنااہتمام تھاکہ عام لوگ حضرت شیخ الحدیث کومحض ظاہری علوم شریعت کاامین سمجھتے ہیں،اورکوچۂ عشق ومعرفت سے انہیںناآشنااورنابلدخیال کرتے ہیں،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ طالب علمی ہی میںآپ نے راہ ِطریقت کاسفرشروع کردیاتھا،اوراس پرخارمنزل کوقطع کرنے کے لئے ایک مرد ِکامل شیخ الحدیث حضرت مولانازکریاصاحب نوراللہ مرقدہ کادامن تھام لیاتھا،اورباقاعدہ حضرت مرحوم نے ان سے بیعت فرمایاتھا،مدرسہ مظاہرالعلوم کے اندرحضرت کے زمانہ طالب علمی میںمولانا عبدالقادررائے پوری قدس سرہ کی اصلاحی مجالس منعقدہواکرتی تھیں،حضرت شیخ الحدیث پابندی سے ان بافیض مجالس میںشرکت کرتے،اورقیمتی نصائح سے متمتع اورفیض یاب ہوتے،بالآخرآپ نے مفتی مظفرحسین صاحب سے باقاعدہ اصلاحی تعلق قائم فرمایا،کچھ دنوںکے بعدحضرت نے ان خرقۂ خلافت عطاکیا،اوربیعت وارشادکی تلقین فرمائی۔
بچوںکی تربیت اور ان کے اخلاق ورجحانات کی تشکیل وتعمیر کے لیے حضرت شیخ خاص طور بہت ہی فکرمند رہا کرتے تھے، ہر کوئی جانتاہے کہ تربیت کا میدان ایک صبر آزما اور دشوار گزار گھاٹی ہے اس وادی کو بحسن وخوبی قطع کرنے کے لیے ایک طرف بچوں کی نفسیات اور ان کے طبع بوقلموں سے مکمل واقفیت ضروری ہے تو دوسری طرف معلم ومربی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی شخصیت متضاد عناصر کی سنگم ہو، اس کی ذات میں نرمی بھی ہو گرمی بھی، جلال بھی جمال بھی، شیشہ بھی آہن بھی، کوہ ِفراز بھی ماں کے دل کا گداز بھی،شعلہ بھی اور شبنم بھی۔حضرت شیخ الحدیث کی شخصیت میں فیاض عالم نے یہ دو متضاد صفات جس خوبی اور اعتدال سے جمع کردیاتھا وہ اپنی نظیر آپ ہے؛ چنانچہ حضرت شیخ الحدیث نے اپنے صاحبزادوںاوراپنے پوتوںکی عمدہ طورپرتربیت فرمائی،اوران کواخلاق وکردارکے لحاظ سے نمایاں بنایا،اوربراہ راست ان کی تعلیم کاانتظام فرمایا۔
حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ تقوی وللہیت کی جیتی جاگتی تصویرتھے،تضرع اورانابت الی اللہ حضرت کی زندگی کاخاص وصف تھا،سنت نبوی کی اتباع وپیروی کاآپ خاص اہتمام فرماتے تھے،آپ انتہائی متواضع اورمنکسرالمزاج تھے ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت ورحمت سے پیش آتے،اوران کی غلطیوں کودرگزرکرتے،حلم وبردباری اورتحمل مزاجی آپ ؒ کاخصوصی وصف تھا،کوئی بات خلاف طبیعت پیش آتی توخاموشی اختیارفرماتے،اوربے جاغصہ سے گریزکرتے،اسی کے ساتھ آپ ؒنہایت متین اورسنجیدہ طبیعت کے مالک تھے،متانت وشائستگی اوروقاروسنجیدگی آپ ؒ کے قول وعمل سے جھلکتی تھی،آپؒ ہرکام نہایت اطمینان اورخوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے،عجلت اورجلدبازی سے گریزکرتے تھے،آپ استغناء اور بے نیازی میں اپنے اسلاف واکابرکی ایک زندہ تصویر تھے، آپ اسباب تجمل سے مستغنی اوربلندمعیارزندگی سے دوراورنفورتھے،آپ نے پوری زندگی ایک گوشہ نشیں اور خلوت گزیں عابد کی طرح گزار دی، نہ خدمات کی ستائش کی تمنا کی، نہ زخارف دنیوی سے اپنے دامن کو ملوث کیا،آپؒ کی پوری زندگی ریاضت ومجاہدے اورمسلسل جدوجہدسے عبارت تھی ،کم ہمتی اورسستی وکاہلی کوکبھی آپ ؒ نے راہ نہ دی ،کبھی کسی عہدہ اورمنصب کی نہ طلب رہی اورنہ دادوتحسین کی پرواہ ؛بلکہ زندگی بھربے لوث اورمخلصانہ خدمات انجام دیتے رہے۔
آج جب کہ قحط الرجال کادورہے،اساطین علم وفن ایک ایک کرکے رخصت ہورہے ہیں،علماء اورصلحاء یکے بعددیگرے اٹھتے جارہے ہیں،ایسے نازک وقت میںحضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کاسانحہ ارتحال ملت کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے،آپ جیسی عبقری اورنابغہ روزگارشخصیات بڑی مدتوں میں جاکرپیداہوتی ہے،اورجب پیداہوتی ہے تواس کے افکاروکردارکی خوشبوسے پوراچمنستان عالم مہک اٹھتاہے،اوراس کی خوشبوصدیوں تک باقی رہتی ہے،شیخ الحدیث مرحوم ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے ہیں؛لیکن ان کی روحانی اولادہزاروں کی تعداد میں ہمارے درمیان موجودہیںجن کی دینی وعلمی خدمات سے لاکھوں بندگان خدامستفید ہورہے ہیں،اوریہ مبارک سلسلہ ان شاء اللہ قیامت تک چلتارہے گا،یہ ٹھیک ہے کہ موت کے بے رحم پنجہ نے حضرت مرحوم کوموت کی ابدی نیند سلادیا؛لیکن حضرت شیخ الحدیث مرحوم کے مخلصانہ خدمات وکارنامے اوران کی صفات وخوبیوں کاگلشن ہمیشہ سرسبزوشاداب اورسدابہاررہے گا،اوراس کی خوشبواورمہک صدیوں تک قلب ودماغ کومعطرکرتی رہے گی،اوررفتارزمانہ اورگردش لیل ونہارکی وجہ سے اس گلستاں پرخزاں کاسایہ نہیں پڑے گا۔
اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ حضرت شیخ الحدیث کوغریق ِرحمت فرمائے،اعلی علیین میں ان کوٹھکانہ نصیب فرمائے،اوران کے پس ماندگان کوصبر ِجمیل عطافرمائے۔آمین ثم آمین