Wed, Feb 24, 2021

مولانا سید محمد سلمان مظاہریؒ ، حیات مستعار کی ایک جھلک
ترتیب:عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی
مدیر ماہنامہ مظاہرعلوم سہارنپور

7895886868
Email:abdullahkhalid59@gmail.com

نام: محمد سلمان
تاریخ پیدائش :۱۳؍ذی قعدہ ۱۳۶۵ھ مطابق ۱۰؍اکتوبر ۱۹۴۶ء شب پنجشنبہ
حفظ قرآن مجید کا آغاز ۲۴؍جمادی الثانی ۱۳۷۱ھ ۲۲؍مارچ ۱۹۵۲ء شنبہ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کی مجلس میں
مظاہرعلوم سہارنپور میں داخلہ : شوال ۱۳۸۱ھ مطابق اپریل ۱۹۶۲ء میں بعمر پندرہ سال مظاہرعلوم میں داخل ہوکر ۱۳۸۶ء میں وہیں سے فراغت حاصل کی۔
دورہ حدیث کے اساتذہ بخاری :حضرت شیخ الحدیث ؒ سے، ترمذی:نسائی اور مسلم مولانا منور حسینؒ ،ابوداؤد مولانا مفتی مظفر حسینؒ سے ،طحاوی مولانا اسعداللہ صاحب ؒ سے پڑھی۔
آپ کے دورۂ حدیث کے رفقاء: مولانا محمد یعقوب سہارنپوری،مولانا قاری رضوان نسیم
مظاہرعلوم میں تدریسی دور کا آغاز:۱۳۸۷ھ میں مظاہرعلوم کے باقاعدہ مدرس بنائے گئے ،اور ۱۳۹۲ھ میں پہلی مرتبہ جلالین شریف پڑھائی
۱۳۹۶ھ میں استاذ حدیث بنائے گئے اور پہلی مرتبہ مشکوٰۃ شریف آپ کے زیر درس آئی،
حضرت شیخ الحدیثؒ سے تعلق :حضرت شیخ ؒنے آپ بیتی میں لکھا ہے
مولوی سلمان کا نکاح: میری سب سے چھوٹی بچی کا نکاح جو دوسری اہلیہ کی دو سر ی بچی ہے۔ میری ہمشیرہ مرحومہ کے نواسے عزیزم مولوی سلمان سلمہ سے ہوا۔ خاندانی حیثیت سے اس کی منگنی تو بہت ابتداء میں ہوچکی تھی۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ شاید بچی کے پیدا ہونے پر ہوچکی تھی۔ اورمجھے یہ بھی یاد نہیں کہ مجھ سے کسی نے پوچھا بھی ہے، اس لئے کہ یہ تو خاندان کے قانون ’’ اقرب ذکرِ غیر محرم‘‘ میں بھی داخل تھا۔مولوی انعام کی آمد پر ۲؍ ذیقعدہ ۸۶ھ؁ مطابق ۱۳؍ فروری ۶۷؁ء بعد عصر مسجد مدرسہ قدیم میں زکریا نے اعلان کردیا کہ ایک نکاح ہے، سب حضرات تھوڑی دیر تشریف رکھیں۔ اب تو اس ناکارہ کے لئے یہ کوئی چیز قابل التفات قابل توجہ بھی نہیں رہی تھی۔ مولوی انعام سلمہ نے مہر فاطمی پرعصر کے بعد نکاح پڑھ دیا۔ اورمغرب کی نماز کے بعد جب کہ یہ ناکارہ مسجد میں تھا عزیز طلحہ وہارون بابوجی کی کار میں حکیم جی کے یہاں پہنچا آئے۔
حضرت شیخ ؒ نے آخر عمر میں اپنی عربی تصنیفات ’’الابواب والتراجم‘‘’’حواشی بذل المجہود‘‘’’جزء حجۃ الوداع ‘‘وغیرہ کی تکمیل و ترتیب مولانا محمد عاقل صاحب اور مولانا محمد سلمان صاحب کو سوپ دی تھی ۔
مظاہرعلوم کے عہدۂ نظامت پر: ماہ صفر ۱۴۱۳ھ مطابق اگست ۱۹۹۲ء میں مظاہرعلوم کی مجلس شوریٰ نے آپ کو باقاعدہ مظاہرعلوم سہارنپورکا نائب ناظم مقرر کیا اور پھر آپ کی حسن کارکردگی کی بنیاد پر ۱۳؍ربیع الاول ۱۴۱۷ھ مطابق۳۰؍جولائی ۱۹۹۶ء میں باقاعدہ عہدۂ نظامت تفویص کیا
انتقال: ۲۸؍ذی قعدہ ۱۴۴۱ھ مطابق ۲۰؍جولائی ۲۰۲۰ء روز دوشنبہ پانچ بجے شام کو مختصر علالت کے بعد اس جہانِ فانی کو الوداع کہا۔