Fri, Feb 26, 2021
*جَھاڑ لگانے کے فائدے*
 از: *مولانا محمد عبد الحمید السائح قاسمی*
ناظم مدرسہ معاذ بن جبل،صدر جمعیۃ علماء بودھن،ضلع نظام اباد تلنگانہ،( انڈیا)۔(9441086528)
(سب سے پہلے گزارش یہ ہے کہ اس تحریر کو پڑھتے وقت یہ بات ذہن میں رہے کہ “درخت لگانے کی اہمیت” کے عنوان سے مطالعہ کے دوران، مختلف اخبارات و رسائل، اور فیس بک کے پوسٹوں سے جو مُنتَشِر معلومات حاصل ہوئیں،ان میں سے کچھ کو اس مضمون میں ایک جگہ جمع کیا گیا ہے،بس اسی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس کو پڑھاجائے۔اور معلومات سے فائدہ اٹھایا جائے۔)
   دَرَخت کو جَھاڑ بھی کہتے ہیں اور شَجَر  بھی،جب وہ چھوٹا ہوتا ہے تو ” پَودَا ” کہلاتا ہے۔
الحمد للہ،جون 2020ء،سے ہی ہماری ریاست میں بارش کا موسم شروع ہوگیا ہے، مسلسل بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ چنانچہ اب پَودے لگانے کا بہترین وقت ہے۔لھذا درخت لگائیں اور ثواب کمائیں۔
 درخت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس سے انسان کو بےانتہاء فائدہ ہوتا ہے۔ درخت سے پاکیزہ ہوا ملتی ہے۔         درخت سے ٹھنڈی چھاؤں نصیب ہوتی ہے۔               درخت سے بارش بہت جلدی پوتی ہے۔       درخت سے زمین کے اندر پانی میں حد سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔          درخت سے زمین پر گرمی کم رہتی ہے۔درخت سے موسم بہت ٹھنڈا رہتاہے۔            درخت سے بہت خوش گوار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ درخت سے گھنے جنگل محفوظ رہتے ہیں، ان جنگلات میں جنگلی جانور بھی محفوظ رہتے ہیں۔        درخت سے  ندی نالوں اور تالابوں کے پانی کی حفاظت ہوتی ہے۔           درخت سے سیلابوں اور زلزلوں میں مدد ملتی ہے۔ درخت سیلاب میں بہنے والی قیمتی چیزوں کو روکنے کا ذریعہ بن جاتاہے۔ درخت بعض اوقات سیلاب میں بہنے والے انسان اور بچوں کو  بھی پناہ دیتا ہے۔ درخت سے سمندروں کا پانی کم ہونے کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔  درخت سے فضائی آلودگی ختم ہوجاتی ہے۔ درخت سے فائدہ مند پَھل اور خوشبودار  پُھول حاصل ہوتے ہیں۔درخت سے اپنے اطراف کا پُورا ماحول ہَرا بَھرا معلوم ہوتا ہے۔ درخت سے گاؤں، شہر، اور اپنا مکان خوبصورت نظر آتا ہے۔ درخت سے پَرندے اور جانور بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔
درخت پرندوں کےلئے گھونسلے بناکر رہنے کا پُرسکون ٹھکانہ فراھم کرتے ہیں۔اور جانوروں کےلئے چھت کا کام بھی دیتے ہیں ۔ شہر میں درخت نہیں رہنے سے بے بس اور غریب پرندے ٹریفک سِگنل پر ہی گھونسلے بنارہے ہیں۔
درخت انسانوں کو گرمی میں ٹھنڈی چھاؤں کا بہترین سہارا ہے۔ ابھی ایک درخت کی فوٹو وائیرل ہو رہی ہے، جس میں ایک بہت بڑے پُرانے درخت کے سائے میں کرسیوں پر ترتیب سے سینکڑوں لوگ بیٹھ کر کسی مُقَرِّر کی بات پوری توجہ سے سن رہے ہیں۔
اُردُن کے مُلک میں ہزاروں سال پُرانا وہ درخت آج بھی موجود ہے، جس کے سایہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کے لئے آرام فرمایا تھا۔
ایک سو بیس کروڑ کی آبادی والے ہمارے اس ملک میں ہر آدمی اگر ایک ایک پودا لگائے تو پورے ملک میں ایک سال میں آسانی کے ساتھ ایک سو بیس کروڑ جھاڑ لگ جائیں گے۔
“چاقو سے درخت پر اپنے محبوب کا نام لکھنے کے بجائے، اپنے محبوب کے نام کا ایک درخت لگائیں تاکہ ملک میں ذھنی آلودگی بڑھانے کے بجائے فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے”۔
” دل نہ لگائیں؛ درخت لگائیں، یہ یہ زخم نہیں؛سایہ دیں گے، اور گھاؤ نہیں،پَھل دیں گے “۔
ہر جگہ شجرکاری مُہِم کو کامیاب کریں۔ اور اپنا اسلامی فریضہ سمجھتے ہوئے اس میں بھر پور حصّہ لیں۔نیز درخت لگائیں اور ملک کو خُشک سالی سے بچائیں۔
اپنے نظروں کے سامنے کے جھاڑوں کی ہم خود حفاظت کریں،ان جھاڑوں کے نقصان کا ذمّہ دار دوسروں کو نہ ٹھہرائیں،بلکہ خود کو اس کا قصوروار سمجھیں۔
جھاڑوں کو پانی ڈالنا بہت بڑا ثواب ہے۔اور درخت لگانا بہترین مشغلہ ہے۔ جھاڑوں کے پاس کام کرنے سے آدمی بیمار نہیں ہوتا ہے۔درخت کی ہوا سے آدمی صحت مند رہتا ہے۔
درخت کی وجہ سے آدمی کی بیماری دور ہوتی ہے۔ درخت سے انسانی صحت بیماریوں کا شکار نہی ہوتی ہے۔جھاڑوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے وقت گزارنے سے بہت سی بیماریوں کا علاج خود بہ خود ہوجاتا ہے۔
   روزانہ کچھ دیر جھاڑوں کا کام کرنا بہت بڑی ورزش ہے۔
جھاڑوں کا کام کرنے والوں کو واکِنگ(چہل قدمی) کی بھی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔
 امامِ شافعی ؒ فرماتے ہیں، سبزےاور ہریالی کی طرف دیکھتے رہنے سے نظر تیز ہوتی ہے۔
جھاڑوں کو دیکھنے سے بہت جلدی ٹائم پاس ہوجاتا ہے۔ باغبانی کا کام  انسان کے ذھنی اور جسمانی نظام کو درست رکھتا ہے۔
درخت آکسیجن فراہم  کرتے ہیں، آکسیجن کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ درخت گندی ہوا لےکر اپنی پاکیزہ ہوا چھوڑ تے ہیں ۔ درخت اپنی جڑوں میں پانی محفوظ کرکے رکھتے ہیں،اور خشک سالی سے بچاتے ہیں اور موسم کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ درخت زہریلی گیسز کی روک تھام کرتا ہے۔
درخت آنے والی نسل کے لئے بہترین تحفہ ہے اور لگانے والے کے لئے صدقۂ جاریہ بھی ہے۔
درخت نسلوں کی زندگیوں کی ضمانت بن جاتا ہے۔
ہم کو زندہ رہنے کے لئے درخت لگانا ضروری ہے۔ گرمی سے بچنے کے لئے درخت لگانا  لازمی ہے۔
درخت سے لکڑی بنتی ہے۔۔جو انسانی زندگی کی ہر ضرورت میں کام آتی ہے۔
خاص طور پر نیم کا پودا لگانے کا اھتمام کیجئے، کیونکہ اس سے فضائی آلودگی  کم ہونے میں مدد بہت ملتی ہے۔
ہماری آنے والی معصوم نسل کے لئے موجودہ نسل کی طرف سے”درخت ” سے زیادہ اچھا کوئی تحفہ نہیں ہے۔
ایک درخت دیہاتوں میں اور شہروں میں بھی ایک اسکول اور کلاس کا کام دیتا ہے۔جس کے نیچے بیٹھ کر ٹھنڈی چھاؤں میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
ہر آدمی اپنے مرحوم کے نام پر یا اپنے بزرگ کے نام پر “ثوابِ جاریہ” کی نیت سے ایک درخت ضرور لگائے۔
شجرکاری بہترین صدقۂ جاریہ ہے۔ بخاری کی روایت میں ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے پھر اس میں سے کوئی ایک بھی چیز، پرندہ،انسان، یا کوئی جانور کھاتا ہے تو درخت لگانے والے مسلمان کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔ مومن حشر میں اپنے صدقہ کے سایہ  میں ہوگا۔
جمعیۃ علماء ہند نے سوامی چنڈا سروستی مہاراج سے مل کر ملک میں شجرکاری کےلئے تین روزہ “ہریالی ریالی”   کا اھتمام کیاہے۔ جمعیۃ علماء اترپردیش نے پانچ لاکھ درخت لگانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
شجرکاری مہم کا حصہ بنیں اور اپنے حصے کا کم از کم  ایک پودا ضرور لگائیں۔
درخت لگائیں، جس سے دنیا میں راحت پائیں،اور آخرت میں ثواب پائیں۔
ملک میں بعض بڑے بڑے شہر، شدید ماحولیاتی بحران کی زد میں ہیں ۔ہر شہر کو بچانے کے لئے لاکھوں  پودوں کی ضرورت ہے۔لھذا اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کےلئے یا موجودہ لوگوں کے ذخیرۂ آخرت کےلئے پودے لگائیں۔
 ایلو ویرا ملٹی پرپز پَودا ہے،دوسرے پودوں کے برعکس یہ پودا رات کو بھی آکسیجن کا اِخراج کرتا ہے، جس سے آپ پُرسکون نیند حاصل کرسکتے ہیں۔
ایک انسان اپنی زندگی کی سانس کےلئے  پانچ کروڑ روپے کی ہوا پودوں سے مفت حاصل کرتا ہے۔ اس لئے        درخت ہیں تو ہم ہیں۔
 اہلِ فارس کی عمریں لمبی ہونے کی ایک وجہ ان کا درخت لگانے کا معمول ہے۔
درخت لگانا سُنَّتِ نبویؐ ہے۔ حضرت سلمانِ فارسیؓ کے باغ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے( 300)درخت اپنے ہاتھ سے لگائے۔جبکہ حضور ؐ کے ارشاد پر سلمان فارسیؓ کی غلامی سے آزادی کے لئے صحابہ نے یہ تین سو پودے اپنی طرف سے جمع کئے تھے۔
  حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓسے درخت لگانے کا روایتوں میں ذکر ہے،تمام صحابہ کو بھی اس عمل سے رغبت تھی۔
کسی بھی پودے کو
لگانے کے لئے صرف ایک گھنٹے میں کام مکمل  ہوجاتا ہے۔ اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لئے اتنا وقت بھی نہیں نکال سکتے تو پھر ہم اپنی اولادکے حق میں نادان دوست ثابت ہوں گے۔
ایک درخت کئی سو زندگیوں کی بقا کا مرکز ہوتا ہے۔
سڑک کے دونوں طرف سینکڑوں درخت خوشنما معلوم ہوتے ہیں، علاوہ ازیں یہ جھاڑ روڑ کے دونوں طرف حادثے کے موقع پر  نیچے گرنےسے بَچالیتے ہیں۔
  درخت قدرت کا انمول تحفہ ہیں، ان کا وجود انسانوں، جانوروں اور پرندوں،سب کے لئے ضروری ہے۔
سانس کی بیماری سے بچنا ہے تو درخت لگانا ضروری ہے ۔اور ہمیں بہت درخت لگانے ہوں گے۔
چائنہ ملک، چالیس ہزار درختوں کا ایک شہر آباد کرنے جارہاہے تو پھر ہم کیوں پیچھے رہیں ؟۔
     جاپان ملک میں بَچَّہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے نام سے ایک درخت لگ جاتا ہے۔
     تُلسی کا درخت لگانے سے گھر میں مچھروں سے حفاظت ہوتی ہے۔
 مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب دامت برکاتھم نے فرما یا کہ فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ کم از کم ہم ایک پودا ضرور لگائیں۔
نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا عبدالخالق مدراسی صاحب دامت برکاتھم نےکہا ہے کہ شجرکاری ثواب کا کام ہے۔
بقول: مفتی غلام یزدانی اشاعتی،صدر جمعیۃ علماء ضلع بیدر ” جھاڑ لگاکر ہم اپنی جان بچا سکتے ہیں” ۔
حدیث میں ہے؛ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم ہورہی ہو اور کسی کو  شجرکاری کا موقع ملے تو وہ موقعہ کو ہاتھ سے جانے نہ دے،اور فوری پَودا لگادے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بِلاضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔خاص طور پر وہ درخت جس سے لوگوں کو فائدہ پہونچ رہا ہے،ایسے درخت کو کاٹنے سے حضور نے سختی سے منع فرمایا ہے۔اور یہ بھی فرمایا کہ جو بیری کا درخت کاٹے گا۔ اللہ اسے اوندھےمنہ جہنم میں ڈالےگا۔
اب ہم تھوڑا سا اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے خود اپنے گھروں میں کتنے پودے لگائے ہیں،؟ اور عام مقامات پر لوگوں کے سائے کےلئے کتنے درخت لگائے ہیں؟
اور ہم ان جھاڑوں کےلئے روزانہ کتنا وقت دیتے ہیں ؟ شجر کاری کے لئے ہم کتنا پیسا خرچ کئے ہیں؟ اور جو لوگ جھاڑ لگائے ہیں،اُن کی ہم کتنی ہمت افزائی کرتے ہیں؟ اور ہم صحت مند نہیں رہنے کی اور ہمیشہ بیمار رہنے کی وجہ کیا ہے  ؟۔
 ابھی بھی بہت سے جگہوں پر پودوں کی سخت ضرورت ہے، مسجدوں میں، مدرسوں میں، اسکولوں میں، تعلیمی اداروں میں، آفسوں میں،  قبرستانوں میں اور میدانوں میں جھاڑوں کی ضرورت ہر وقت محسوس ہوتی ہے۔
جب تک یہ درخت رہیں گے، ہم کو ثواب ملتا رہےگا، جتنے لوگ، جتنے پرندے، اور جتنے جانور ان درختوں کے پَھولوں، پُھلوں، سَایوں،اور لکڑیوں سے فائدہ اٹھائیں گے، اُن سب کا ثواب بھی ہم کو ہمارے مرنے کے بعد بھی ملتا رہےگا ۔