Fri, Feb 26, 2021

خدام ِدین ہمارے لئے قابل قدر !۔
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی

مشہور محاورہ ہے کہ’’ خدمت سے خدا ملتا ہے‘‘بلاشبہ خدا کو اپنے بندوں میں وہ بندے بہت پسند ہیں جو اپنے اوقات دوسروں کی خدمت میں صرف کرتے ہیں ، یقینا انسانیت کی خدمت بہت بڑی دولت ہے ،جسے انسانوں کی خدمت کا موقع نصیب ہوتا ہے تو اس کی نسبت خدا کے پسندیدہ بندوں کی طرف ہوجاتی ہے،نبی رحمت ؐ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو انسانیت کی خدمت اور انہیں نفع پہنچانے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں ،ارشاد نبوی ہے : خیر الناس من ینفع الناس(کنزلعمال)’’ لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے ‘‘ ،دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جو مذہب ومشرب سے بالا تر ہوکر محض انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کی خدمت واعانت کرتے ہیں ، ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنی مشغولیات میں سے لوگوں کی خدمت کے لئے وقت نکال کر ان کی مصیبتوں کو دور کرنے اور انہیں راحت وسہولت پہنچانے کا کام کرتے ہیں ،بلکہ بعضے لوگ وہ ہیں جو اُن لوگوں میں خوشیاں بانٹ کر خوش ہوتے ہیں جنہیں وہ جانتے بھی نہیں ،محض انسانی رشتہ کی بنیاد پر ان کی دستگیری کرتے ہیں اور انہیں ضروریات مہیا کرکے خوشی خوشی اپنے گھر لوٹتے ہیں ، یقینا یہ حضرات انسانی معاشرہ کے قابل قدر اور قابل تقلید لوگ ہیں ، مگر مسلم معاشرہ میں ان سے ہٹ کر بعض لوگ وہ ہیں جو انسانوں اور جناتوں ہی کی نظر میں نہیں بلکہ ملائکہ کی نگاہوں میں قابل رشک ہوتے ہیں ، فرشتوں کی مجلسوں میں ان کے چرچے ہوتے ہیں ،آسمانوں پر ان کے تذکرے ہوتے ہیں اور سمندوں میں ان کے لئے دعائیں ہوتی ہیں ، وہ کوئی اور نہیں بلکہ ائمہ،مؤذنین اور علماء وحفاظ ہیں ، امت مسلمہ کے یہ وہ مبارک اشخاص ہیں جن کی فضیلت وبزرگی اور بلندی وبرتری قرآن کریم اور احادیث شریف میں بیان کی گئی ہے ۔
ہر زمانے میں لوگوں نے اہل علم کے مقام ومرتبہ کو سمجھا ہے اور انہیں بلند وبالا مقام عطا کیا ہے ،ان کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھاہے اور ان کی دعاؤں کو اپنے لئے قیمتی تحفہ تصور کیا ہے ، ان حضرات میں ائمہ ومؤذنین کا ایک الگ مقام ہے اور علماء وحفاظ کا اپنا الگ درجہ ہے ، حضرات مؤذن جو نماز پنجگانہ کے لئے اذان دے کر لوگوں کو مسجد کی طرف بلاتے ہیں اور لوگ ان سے اذان کی اواز سن کر فرض کی ادائیگی کے لئے مساجد کا رخ کرتے ہیں، یہ لوگ کس قدر عظیم خدمت پر مامور ہیں ،یہ بندگان خدا کو خدا کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں ،یقینا چنندہ اور منتخب لوگوں کے سوا یہ کام کون کر سکتا ہے،ان کی نسبت پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے ،قیامت کے دن یہ اشخاص مؤذنین رسول ؐ سیدنا بلال ؓ اور سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کی صف میں کھڑے ہوں گے،نبی رحمت ؐ نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا: قیامت کے دن جب مؤذنین اٹھیں گے تو ان کی گردنیں سب سے بلند ہوں گی(مسلم)مذکورہ بالا حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ مؤذنین میدان حشر میں سب سے ممتاز اور منفرد نظر آئیں گے،دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کو کثیر ثواب ملے گا ،یہ ایک فطری بات ہے کہ انہیں اپنے ثواب کو دیکھنے کا شوق ہوگا اور جس شخص کو کسی چیز کے دیکھنے کا شوق ہوتا ہے تو وہ گردن اٹھا کر دیکھتا ہے اس لئے ان کی گردنیں لمبی ہوں گی، امامت بھی نہایت اعلیٰ اور شرف و الا عمل ومنصب ہے ، امامت وہ عظیم منصب ہے جس کے ذریعہ خود نبی رحمت ؐ نے پوری زندگی امت کی امامت فرماتے رہے ،آپ ؐ کے بعد حضرات خلفاء رشدین ؓ اس منصب جلیلہ پر فائز ہو کر امت مسلمہ کی امامت فرمائی ،امام دراصل مقام امامت پر کھڑا ہوکر نہ صرف مقتدیوں کی امامت کرتا ہے بلکہ اس درجہ قدر ومنزلت پاتا ہے جس کی گرد بھی دوسروں کو نصیب نہیں ، چنانچہ دربار نبوت میں ایک صحابی ؓ حاضر ہوکر عرض کرتے ہیں ،اے اللہ کے رسول ؐ ! مجھے کوئی کام بتادیجئے،تو آپ ؐ نے فرمایا : اپنی قوم کے امام بن جاؤ ،تو انہوں نے کہا ،اگر یہ ممکن نہ ہو تو؟ آپ ؐ نے فرمایا : پھر مؤذن بن جاؤ ( شرح العمدہ) ،ایک موقع پر نبی رحمت ؐ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا: امام اس لئے بنائے گئے ہیں کہ ان کی اقتدا کی جائے ،اس حدیث شریف کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ نمازوں کے دوران اماموں کی اقتدا کرنی چاہئے اور ان کے عمل کے مطابق عمل کرنا چاہئے ،یعنی رکوع کے موقع پر رکوع اور سجدہ کے موقع پر سجدہ اور ان کی خلاف ورزی سے بچنا چاہئے ،اگر ایسا نہیں کیا تو پھر نماز کے باطل ہوجانے کا خطرہ ہے ،ایک دوسرا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ میں ان کے منصب کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے اچھے اور اعلیٰ اخلاق کو اپنایا جائے اور اس سلسلہ میں انہیں اپنا رہنما مانا جائے ۔
امت مسلمہ کا ایک عظیم طبقہ علماء کرام اور حفاظ عظام کا بھی ہے ،یہ وہ حضرات ہیں جن کے سینوں میں قرآن وحدیث کا علم ہوتا ہے ،یہ وہ اشخاص ہیں جنہیں نے اپنے کندھوں پر قرآن وحدیث کی نشر وشاعت کی ذمہ داری اٹھائی ہے ،انہوں نے دنیا کے مقابلہ میں دین کو ترجیح دیا ہے اور مال ودولت کو چھوڑ کر خزانہ علم نبوت کو حاصل کیا ہے ،انہیں وارثین انبیاء کہہ کر انبیاء کی میراث یعنی علم سے حصہ دیا گیا ہے ،زبان نبوت سے انہیں وارثین انبیاء کا خطاب ملا ہے ،نیز نبی رحمت ؐ نے انہیں ایسے تمغے سے نوازا ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کے سارے تمغے بے حیثیت دکھائی دیتے ہیں ،نبی رحمت ؐ نے ارشاد فرمایا:خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ( بخاری) ’’ تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے‘‘،ان کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے اگر یہ متعلم ہیں تو بھی بہتر ہیں اور معلم ہیں تو بھی بہتر ہی ہیں ، عمر رسیدہ ہیں تو بھی قابل تعظیم ہیں اور نوعمر ہیں تو بھی قابل تکریم ہیں ،ہر زمانہ میں انہی کا ڈنکا بجا ہے اور ہر دور میں لوگوں نے انہیں اپنے کندھوں پہ بٹھایا ہے ،عہد صحابہ میں حضرت معاذ بن جبل ؓ نو عمر ہونے کے باوجود علم کی دولت سے مالامال ہونے کی وجہ سے حددرجہ عزیز تھے ،بڑے بڑے لوگ انہیں عزت واحترام کی نظر سے دیکھا کرتے تھے ،ابومسلم خولانیؒ کہتے ہیں کہ میں دمشق کی ایک مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک مجلس میں بڑے بڑے صحابہ ؓ تشریف فرماتھے ،ان کے مابین ایک نوعمر جوان بھی بیٹھا تھا ، جس کی انکھیں سرمئی تھیں اور سامنے کے دانت چمکیلے تھے ،صحابہ کرام ؓ کے مابین جب کسی معاملہ میں اختلاف ہوتا تو وہ اس تعلق سے اس نوجوان کی رائے لیتے تھے ،اور اسے اختیار کرتے تھے،ابومسلم خوانی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے قریب بیٹھے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ اس نے بتایا یہ معاذ بن جبلؓ ہیں ( مسند احمد) ، دولت علم کی وجہ سے جہاں یہ بلند ترین مقام رکھتے ہیں اور لوگوں میں معزز مانے جاتے ہیں وہیں علمی جلالت کی وجہ سے ان کی شان یہ ہے کہ عبادت گزاروں بلکہ مجاہدین اور شہداء سے بھی اونچا مقام رکھتے ہیں ،چنانچہ مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اللہ کی راہ میں سعادت پانے والے بہت سارے لوگ عالموں کی تکریم کو دیکھ کر یہ چاہیں گے کہ انہیں عالم بناکر مبعوث کیا جائے ( احیاء العلوم الدین للغغزالی) ۔
مسلم معاشرے کے لئے بڑی سعادت اور خوش نصیبی کی بات ہے کہ ہمارے درمیان ائمہ وعلماء اور حفاظ کی ایک کثیر تعداد موجود ہے ،جن کی دینی وعلمی خدمات سے چھوٹے بڑے اور بچے سبھی مستفید ہو رہے ہیں ،یہ خادمین دین کی حیثیت سے کہیں مساجد تو کہیں مدارس میں خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان کی پابندی ، محنت اور غیر معمولی جستجو سے مساجد میں پنجوقتہ باجماعت نمازیں ادا ہو رہی ہیں ،مکاتب کا سلسلہ قائم ہے اور مدارس میں ہزاروں نونہالان ملت اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں ،قرآن کریم کی تعلیم ،دین کی بنیادی باتیں اور نماز وروزہ اور دیگر فرائض کا علم لوگ ان ہی سے سیکھتے ہیں اور اپنی عبادتوں کو صحیح ڈھنگ سے ادا کرتے ہیں ،ان کی آمدنی متوسط مسلمانوں کی آمدنی سے بھی بہت کم ہوتی ہے ،وہ کبھی زبان پر شکایت نہیں لاتے اور لائیں گے بھی کیوں جب کہ ان کے استاتذہ نے انہیں تربیت دے رکھی ہے کہ دین کی خدمت پیش نظر ہونی چاہئے نہ کہ آمدنی ،یہ حضرات معاشی دشواریوں کے باوجود صبر وتحمل کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور خدا سے آخرت میں اجر وثواب کی امید رکھتے ہیں ، معمولی تنخواہیں وہ بھی وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے سخت تنگی میں گھر کا گزارا کر لیتے ہیں ، ماں باپ ،بیوی اور بچوں کو سمجھاتے رہتے ہیں اور صبر و قناعت کی تلقین بھی کرتے رہتے ہیں ، معاشی کمزوری کی وجہ سے قریبی رشتہ داروں کی شادیوں اور دیگر تقریبات میں تک جانے سے گریز کرتے ہیں جس کی وجہ سے رشتہ داروں کی طرف سے طعنہ کسے جاتے ہیں، وہ اسے چپ چاپ سہتے ہیں اور برداشت کرلیتے ہیں ،یہ پوری زندگی لوگوں کو دین پر لانے اور ان کے بچو کو علم دین سکھانے میںصرف کردیتے ہیں اس کے باوجود لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان سے ان کے احوال پوچھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے سوائے چند ایک کے ،اس وقت پورا ملک معاشی بحران کا شکار ہے ،غریب تو غریب متوسط مالی حیثیت رکھنے والے بھی پریشان ہیں ،ان حالات میں مساجد کے ائمہ وموذنین ،مدارس کے مدراسین ومعلمین اور دینی خدمت گزار کن حالات سے دور چار ہوں گے سبھی اچھی طرح جان سکتے ہیں ،متمول ،مخیر اور اہل ثروت حضرات ضرورت مندوں کی خدمت میں جٹے ہوئے ہیں ،نیز رفاہی تنظیمیں بھی مالی امداد کے ذریعہ خدمت کر رہی ہیں ، یہ ان کے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ اللہ نے انہیں درد دل عطا کیا ہے اور مالی لحاظ سے نہ صرف مستحکم بنایا ہے بلکہ انہیں کار خیر میں خرچ کی توفیق بھی مرحمت فرمائی ہے ، اہل خیر سے خواہش ہے کہ وہ جہاں ضرورت مندوں کی اعانت کر رہے ہیں وہیں اپنے اردگرد ان خدام دین کی بھی خبر لیں اور اگر وہ ضرورت مند ہیں تو ان تک بھی اپنے ہاتھوں کو دراز کریں اور ان کی ہر ممکن اعانت کریں ،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منصب کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں ،ان کی نظر میں دینی منصب عزیز ہے ،یہ نہیں چاہتے کہ دست سوال سے کہیں ان کے علم اور منصب پر حر ف آئے ، یقینا خدام دین کی خدمت واعانت اجر ہی نہیں بلکہ اجر عظیم کا باعث ہے ۔
٭٭٭