Sat, Feb 27, 2021

کامیابی تمہارے قدم چومے گی
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی

اسلام عدل وانصاف کا علمبردار ہے اور مساوات وبرابری کی تعلیم دیتا ہے ،وہ کسی بھی طرح کی آپسی بھید بھاؤ کے سخت خلاف ہے، وہ انسانوں کے خلاف آپس میں نفرتوںکو پھیلانے،عداوتوں کو پروان چڑھانے،دلوں میں بغض وحسد کا بیج بونے اور عدم تحفظ کی فضا پھیلانے والوں کو سخت ترین مجرم بلکہ انسانیت کا سب سے بڑا دشمن گردانتا ہے ،اسلام کی نگاہ میں اس سے بڑا ظالم کوئی اور نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکاتا ہے اور انہیں آپس میں بھڑاکر ،لڑاکر اورمرواکر سستی شہرت حاصل کرنے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،نبی رحمت ؐ نے ایسے خود غرض ،مفاد پرست اور انسان دشمن لوگوں کو پوری انسانیت کا دشمن قرار دیا ہے ،اگر چہ ظلم کرنے ولا بادشاہ کیوں نہ ہو اس کے خلاف کلمہ حق کہنے کو جہاد سے تعبیر کیا ہے ،ارشاد فرمایا :افضل الجہاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر( ابوداؤد) ’’ افضل جہاد ظالم حکمرانوں کے خلاف کلمہ حق کہنا ہے ‘‘ ، ظلم تو بہرے حال ظلم ہی ہے چاہے جس طریقے سے ہو اور ظالم تو ظالم ہی ہے چاہے کوئی ہو،ظلم کے کئی طریقے ہیں اور ظلم کرنے والا کئی چہرے رکھتا ہے ،کبھی ظلم زبان سے کیا جاتا ہے تو کبھی تعلقات میں دڑایں پیدا کرکے تو کبھی آزادی سلب کرکے تو کبھی طاقت وقوت کا بے جا استعمال کرکے ، ظلم کرنے میں گرچہ سب برابر ہیں لیکن ان میں بھی بدترین ظالم وہ ہے جو تختہ شاہی پر بیٹھ کر عدل وانصاف کرنے کے بجائے اپنی طاقت وقوت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے کمزوروں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا ہے ، نبی رحمت ؐ نے ایک حدیث میں تین ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے گھناؤنے جرموں اور بدترین اعمال کی بنیاد پر قیامت میں رحمت الٰہی سے محروم کر دئے جائیں گے اور انہیں سخت ترین اور درد ناک عذاب سے دوچار کیا جائے گا ان میں سے ایک جھوٹا بادشاہ ہے۔
نفرتوں کے پھیلانے والے ،جھوٹ کے ذریعہ اپنے مفادات حاصل کرنے والے ،آپس میں نفرتوں کی دیوار کھڑی کرنے والے اور جوڑ توڑ کے ذریعہ انتشار پیدا کرنے والے انسانی شکل وصورت میں حیوان اور خوں خوار درندے ہیں ، مسلمان صرف مسلمان ہی کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے خیر خواہ ہوتے ہیں ،وہ نفرت کے سوداگر نہیں بلکہ محبت کے دلدادہ ہوتے ہیں ،وہ سارے انسانوں کو اپنا انسانی بھائی مانتے ہیں اور اہل ایمان کو اپنا دینی بھائی سمجھتے ہیں ،کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ نبی رحمت ؐ نے ایک طرف انسانیت سے ہمدردی وخیر خواہی کی تعلیم دی ہے تو دوسری طرف اپنے ایمانی بھائی کی مدد ونصرت کی ترغیب بھی دی ہے ،آپس میں مل جل کر رہنے اور ایثار وقربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی تاکید فرمائی ہے ،حسد ،کینہ ،بغض ،جھوٹ ،دھوکہ سے دور رہتے ہوئے محبت وخلوص اور بھائی بند بن کر ساتھ نبھانے کی ترغیب دی ہے ،نبی رحمت ؐ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ : ولا تحسسوا ولا تجسسوا ولا تنا جشوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وکونوا عباد اللہ اخوانا( بخاری) اور دوسروں کی ٹوہ میں نہ لگو،دوسروں کی جاسوسی نہ کرو،نہ دوسرے پر بڑھنے کی بے جا ہوس کرو،،نہ آپس میں حسد رکھو ،نہ بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے منہ پھیرو ،اور اے اللہ کے بندو بھائی بھائی بن کر رہو‘‘۔
ملک کے موجودہ حالات سے سبھی اچھی طرح واقف ہیں ،حکمرانوں کے ناپاک عزائم اظہر من الشمس ہیں اور ان کے ظالمانہ فیصلوں سے پوری دنیا واقف ہو چکی ہے ،شہریت بل کے ذریعہ وہ کیا ارادہ رکھتے ہیں سب جان چکے ہیں ، وہ اپنے ہی ملک کے باشندگان کو حق شہریت سے محروم کرنا چاہتے ہیں اور اس کی آڑ میں انہیں اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنانے لگے ہیں ، جس وقت سے یہ منحوس اور سیاہ بل پاس کیا گیا ہے تب سے پورا ملک بے چین ومضطرب ہے ،یہ بل آئین ہند کے خلاف ، اس میں صریح مداخلت اور مذہبی بنیاد پر آپس میں بانٹنے والا ہے،بڑی خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس وقت ملک کے باشندگان بلا تفریق ومذہب وملت اس کے خلاف سینہ سپر ہوکر کھڑے ہو چکے ہیں اور ملک کے کونے کونے سے احتجاج کے ذریعہ اپنی ناراضگی اور حکومت کے اس اقدام کی مخالفت میں لگے ہوئے ہیں ،یقینا ان حالات میں بلا تفریق مذہب وملت اور بلا قید مسلک ومشرب سبھی باشندگان کو ظلم کے خلاف مسلسل صدائے احتجاج بلند کر نے کی ضرورت ہے،ایسے موقع پر مسلمانان ہند کا کڑا امتحان ہے اور انہیں اس میں سوفیصد کامیاب بھی ہونا ہے،مسلکی اور فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہایت منظم ،مستحکم اور متحد ہوکر پُر امن انداز میں اپنے حقوق کے لئے جد جہد کرنا ہے ، انہیں ملک کے حکمران اور دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہم جسد واحد کی مانند ہیں ، ہمارے باپ دادا ہی نے ملک سے دشمنوں کو واپس بھیجنے کا پلان بنایا تھا ،اس کی شروعات کی تھی اور اسے اپنے خون کا آخری قطرہ دے کر آزاد کرایا تھا ، ہم ان محبان وطن اور جاں نثاران ملک کی اولاد اس کے آئین کے تحفظ کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور ہم سب ساتھ ساتھ ہیں ،اس موقع پر ان لوگوں کو بتادینا چاہتے ہیں جو فروعی اختلافات کی وجہ سے ہم کو منتشر سمجھتے ہیں اور ہمارے متحد ہونے کو ناممکن جانتے ہیں ،مسلکی اور فروعی اختلافات عملی میدان میں آگے بڑھنے کا ذریعہ تو ہو سکتے ہیں مگر انتشار کا سبب نہیں بن سکتے ،یقینا ہمارے فقہاء ،ائمہ ،بزرگان دین اور اکابرین امت نے اپنے اپنے زمانے میں اسے سچ کرکے دکھایا تھا ،ان کا اپسی اختلاف تفقہ اور خالص دینی بنیاد پر تھا، نفس اور خواہش کی بنیاد پر نہیں تھا ۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانان ہند کو آپسی اختلافات ترک کرنے اور مسلکی اختلافات سے اوپر اُٹھ کر متحدپلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع دیا ہے اس سے فائدہ اٹھانا اور برادران وطن کے کندھوں سے کندھے ملا کر اور ہر صاحب ایمان کا ہاتھ پکڑ کر ذات الٰہی پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے جد جہد جاری رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ،موجودہ حالت میں بعض نادان انہیں اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں اور بعض ناسمجھ اب بھی ناسمجھی کا مظاہرہ کرکے دوسروں کو مذاق اڑانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں ،ابھی چند روز قبل کی بات ہے کہ ایک علاقہ میں جائداد کے تنازعہ میں ایک ہی گھر کے چند افراد آپس میں بڑی شددت سے الجھ پڑے ،بات آگے بڑی اور وہ پولس اسٹیشن جاپہنچے ،وہاں کا نگران (جو برادران وطن میں سے تھا) انہیں عار دلاتے ہوئے وہ جملے کہا جسے سن کر ہر باشعور مسلمان کا سر شرم سے جھک گیا ، انکھیں بہہ پڑی اور قدم زمین میں گڑ گئے اس نے شرم دلاتے ہوئے کہا کہ ’’ ملک کی موجودہ نازک صورت حال میں ہر سمجھدار شہری مضطرب ہے اور ایک دوسرے کے قدم سے قدم ملا کر جد جہد میں لگا ہوا ہے اور تم ہیں کہ اپنوں کو گلے لگانے تیار نہیں ہیں ، ،تم کو اس پاک مذہب سے جوڑتے ہوئے شرم آرہی ہے جس کے پیغمبر ؐ نے پوری دنیا کو صبر وتحمل ،پیار ومحبت اور انسانیت کی تعلیم دی ہے‘‘ ، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم کو غیر ت دلانے والا وہ ہے جسے ہم غیر سمجھ رہے ہیں ، ہم ہیں کے اپنے انا کے خول میں بند ہیں اور اپنی جہالت،نادانی اور غلط روش چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، بعضے مسلمان وہ ہیں جو اب بھی خواب غفلت میں گرفتار ہیں ،بے ہوش بلکہ مدہوش زندگی گزار رہے ہیں ،ادھر دور اندیش ،حساس اور فکر مند لوگ تن من دھن کے ساتھ ملک کے لئے جد جہد میں مصروف ہیں اور یہ ہیں گپ شپ اور ناچ گانے میں مصروف ہیں ،کسی کہنے والے نے کیا ہی سچ کہا ہے کہ ’’ کسی زمانے میں مسلمان اور گھوڑے جنگ کی شان ہوا کرتے تھے آج دونوں ہی شادیوں میں ناچتے ہوئے نظر آرہے ہیں ‘‘۔
زندہ قوموں کی نشانیاں یہ ہوتی ہیں کہ وہ حالات سے مقابلہ کی اپنے اندر ہمت وحوصلہ رکھتے ہیں، آبا واجداد کے تاریخی کارناموں کو نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکہ وقت پڑنے پر اسے دہرانے کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں ، غفلت سے میلوں دور رہتے ہیں ، حکمت عملی سے کام لیتے ہیں اور اتحاد کا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں ، یقینا اتحاد زندگی ہے اور انتشار موت ہے اور اتحاد کامیابی کی ضمانت ہے تو انتشار ناکامی کی علامت ہے ، بسااوقات صرف اتحادی قوت دیکھ کر ہی مد مقابل پست ہمت ہوجاتے ہیں اور انہیں ناکامی کا احساس ہونے لگتا ہے اور جو منتشر ہوتے ہیں وہ دوسروں پر اپنا رعب ودبدبہ ڈالنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کو جہاں مضبوط اور منظم قوم بن کر رہنے کی تعلیم وتربیت کی گئی ہے وہیں انہیں آپسی اتحاد واتفاق اور جسم واحد بن کر رہنے کی تلقین بھی کی گئی ہے ،آپسی محبت وخلوص ،پیار والفت اور دینی اخوت کو نعمت خداوندی بتایا گیا ہے ،یہ ایک عظیم ترین نعمت ہے ،اس کے سہارے وہ اپنا لوہا منوا سکتے ہیں ،اپنے وجود کا احساس دلا سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مظلوموں کی مدد اور ظالموں کو ظلم سے روک سکتے ہیں ، اپنے صفوں میں اتحاد کی برقراری ،دلوں کی نرمی ،ایک دوسرے کی مدد اور ظالم کے خلاف سینہ سپر ہوکر کھڑا رہنا ہی اس نعمت کی شکرگزاری ہے ۔
درحقیقت کامیابی وناکامی تو خدا کے ہاتھ میں ہے ،عزت وذلت خدا ہی دیتے ہیں اور قوموں کا عروج وذوال خدا کے فیصلوں پر منحصر ہے ،انسان جو چاہتا ہے وہ نہیں ہوتا بلکہ خدا جو چاہتا ہے وہی ہو کر رہتا ہے ،صرف ظاہری طاقت وقوت اور اسباب کی فراوانی کسی کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتی اور کسی کی عددی قلت اور اسباب ظاہری کی کمی اسے ناکام نہیں کر سکتی بلکہ کامیابی وکامرانی کے لئے اسباب ظاہری کے ساتھ خدا کی مدد ونصرت کا ہونا نہایت ضروری ہے بلکہ عزم مصمم ، یقین کامل اور نصرت خداوندی کا ساتھ ہوتو پھر نہایت قلیل وسائل کے باوجود بھی قدم قدم پر کامیابی قدم چومتی ہے اور حالات اس طرح کر وٹ لیتے ہیں جس طرح سخت تاریک رات کے بعد روشنی صبح بن کر نمودار ہوتی ہے اور چند ہی لمحات میں سب پر چھاجاتی ہے ،مگر اس طرح کی کامیابی کے لئے تین چیزوں کا التزام ضروری ہے ،قرآن حکیم میں ارشاد خداوندی ہے : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلَحُوْنَO وَأَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ وَلاَ تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْا إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْن(انفال:۴۵،۴۶)’’اے ایمان والو!جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو،اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو،اور اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو،ورنہ تم کمزور پڑجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو ،یقین رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘، اس ایت کریمہ میں کامیابی کے لئے پانچ اصول بتائے گئے ہیں جن کے بغیر کامیابی کا تصور محال ہے ،(۱) ثابت قدمی(۲) یاد الٰہی(۳) اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت(۴) اتحاد(انتشار سے اجتناب) اور(۵) صبر وثبات،ولا تنا زعوا۔۔۔۔۔کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی اعظم اور مفسر کبیر مفتی محمد شفیع ؒ لکھتے ہیں کہ قرآنی ہدایت نامہ کی تین دفعات ہو گئیں ،ثبات ،ذکر اللہ ،اطاعت ،اس کے بعد اس میں مضر پہلوؤں پر تنبیہ کرکے ان سے بچنے کی ہدایت ہے ،اور وہ مضر پہلو جو جنگ کی کامیابی میں مانع ہوتا ہے باہمی نزاع واختلاف ہے،۔۔۔۔۔اس میں باہمی نزاع کے دو نتیجے بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ تم ذاتی طور پر کمزور اور بزدل ہوجاؤ گے،دوسرے یہ کہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی دشمن کی نظر وں میں حقیر ہو جاؤ گے ،باہمی کشاکش اور نزاع سے دوسروں کی نظر میں حقیر ہوجانا تو بدیہی امر ہے لیکن خود اپنی قوت پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے کہ اس میں کمزوری اور بزدلی آجائے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ باہمی اتحاد واعتماد کی صورت میں ہر ایک انسان کے ساتھ پوری جماعت کی طاقت لگی ہوتی ہے اس لئے ایک آدمی اپنے اندر بقدر اپنی جماعت کے قوت محسوس کرتا ہے اور جب باہمی اتحاد واعتماد نہ رہا تو اس کی اکیلی قوت رہ گئی وہ ظاہر ہے جنگ وقتال کے میدان میں کوئی چیز نہیں ،اس کے بعد ارشاد فرمایا واصبروا۔یعنی صبر کو لازم پکڑو،سیاق کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نزاع اور جھگڑاوں سے بچنے کا کامیاب نسخہ بتلایا گیا ہے،اور بیان اس کا یہ ہے کہ کوئی جماعت کتنی ہی متحد الخیال اور متحد المقصد ہو مگر افراد انسانی کی طبعی خصوصیات ضرور مختلف ہوا کرتی ہیں نیز کسی مقصد کے لئے سعی وکوشش میں اہل عقل وتجربہ کی رایوں کا اختلاف بھی ناگزیر ہے ،اس لئے دوسروں کے ساتھ چلنے اور ان کو ساتھ رکھنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے اور نظر انداز کرنے کا عادی ہو اور اپنی رائے پر اتنا جماؤ اور اصرار نہ ہو کہ اس کو قبول نہ کیا جائے تو لڑ بیٹھے،اسی صفت کا دوسرا نام صبر ہے آج کل یہ تو ہر شخص جانتا اور کہتا ہے کہ آپس کا نزاع بہت بُری چیز ہے مگر اس سے بچنے کا جو گُر ہے کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے کا خوگر بنے اپنی بات منوانے اور چلانے کی فکر میں نہ پڑے ،یہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے اسی لئے اتحاد واتفاق کے سارے وعظ وپند بے سود ہو کر رہ جاتے ہیں ،آدمی کو دوسرے سے اپنی بات منوا لینے پر تو قدرت نہیں ہوتی مگر خود دوسرے کی بات مان لینا اور اگر اس کی عقل ودیانت کا تقاضہ یہی ہے کہ اس کو نہ مانے تو کم از کم نزاع سے بچنے کے لئے سکوت کر لینا تو بہر حال اختیار میں ہے اس لئے قرآن کریم نے نزاع سے بچنے کی ہدایت کے ساتھ صبر کی تلقین بھی ہر فرد جماعت کو کردی تاکہ نزاع سے بچنا عملی دنیا میں آسان ہو جائے ،یہاں یہی بات قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے اس جگہ ولا تنازعوا فرمایا ہے یعنی باہمی کشاکش کو روکا ہے رائے کے اختلاف یا اس کے اظہار سے منع نہیں کیا ،اختلاف رائے جو دیانت اور اخلاص کے ساتھ ہو وہ کبھی نزاع کی صورت اختیار نہیں کرتا ،نزاع وجدال وہیں ہوتا ہے جہاں اختلاف رائے کے ساتھ اپنی بات منوانے اور دوسرے کی بات نہ ماننے کا جذبہ کام کر رہا ہو،اور یہی وہ جذبہ ہے جس کو قرآن کریم نے واصبروا کے لفظ سے ختم کیا ہے اور آخر میں صبر کرنے کا ایک عظیم الشان فائدہ بتلایا کر صبر کی تلخی کو دور فرمایا ،ارشاد فرمایا:ان اللہ مع الصابرین یعنی صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت حاصل ہوتی ہے ،اللہ ہر وقت ہر حال میں ان کا رفیق ہوتا ہے اور یہ اتنی بڑی دولت ہے کہ دونوں جہان کی ساری دولتیں اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں (معارف القرآن )۔
قرآن کریم کی ان واضح ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم وجبر ،تشدد وبربریت کے خلاف صدائے احتجاج کرنے والوں اور حق کے لئے سینہ سپر ہونے والوں ، امن وشانتی کے متلاشیوں ،محبان وطن اور انسانیت کے سچے بہی خواہوں کو اسی وقت کامیابی حاصل ہو سکتی ہے جب وہ مذکورہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ، تعلق مع اللہ کے بغیر کوششوں کا ثمر آور ہونا ممکن نہیں ،پھر متحد ہوکر ثابت قدمی اور صبر وہمت سے جہد مسلسل ضروری ہے ،یقینا تاریخ گواہ ہے کہ ہماری مصلحتوں اور دور اندیشیوں کے ساتھ اجتماعی کوششوں اور قربانیوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہواتھا اور آج جمہویت کی بقا اور اس کے تحفظ کے لئے ہم کو وعدہ کرنا ہوگا کہ تمام ذاتی اور فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جد جہد کریں گے اور خدا کی مددونصرت کے ساتھ ایک بار پھر کامیابی حاصل کریں گے ،ان شاء اللہ ۔