Sat, Feb 27, 2021

اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور احیاء سنت کی محنت کریں
کاماریڈی کے جلسہ پیام سیرتِ مصطفیٰ سے مولانا پی ایم مزمل صاحب اور دیگر علماء کرام کے خطابات

(_______) ہمارے اعمال کی نحوست سے سستی چیزیں بھی مہنگی ہوگئی ہے، آج ہمارے اعمالِ بد نے پیاز جیسی سستی چیز کو بھی مہنگا کردیا، گناہوں کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالی عمومی عذابوں کو بھیجتے ہیں ظالم بادشاہ کو مسلط کرتے ہیں، عورتوں سے اپیل کی کہ روزانہ پانچ دس روپیہ صدقہ خیرات کی عادت بنالو اور یہ پیسے مساجد یا مدارس میں جمع کروا کر مہمان خدا اور مہمان رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرو، یاد رکھو غریبوں سے دوستی کرنا دلوں کو نرم کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے غریبوں کو قریب کیا، پیٹ پر پتھر باندھنا غریبوں کی تسلی کے لئے، آپ نے دعا بھی مانگی کہ اے اللہ مجھے غریب اور مسکینوں کی رفاقت عطاء فرما اور ان ہی کے زمرے میں مجھے اٹھا، اللہ تعالیٰ دن بھر میں پانچ سو مرتبہ غریبوں پر رحمتیں نازل فرماتا ہے، محبوب العلماء حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی مدظلہ کی زبانی قطب عالم بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرمایا کہ وہ کہتے تھے کہ میں روزانہ غریب کے چہروں کو دیکھ کر پانچ سو اللہ کی رحمتیں حاصل کرتا ہوں، ان خیالات کا اظہار مولانا پی ایم مزمل صاحب رشادی والا جاہی دامت برکاتہم بنگلور نے کاماریڈی کے جلسہ پیام سیرتِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے، اور بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عورت جب آوارہ اور بے پردہ ہوجاتی ہے تو مرد بھی بگڑ جاتے ہیں معاشرہ خراب ہوجاتا ہے، آج ہم نے شریعت کا شہد نہیں چکا، اللہ اور اس کے رسول کا شہد نہیں چکھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کے دشمنوں، قرآن کے دشمنوں اور حیا کے دشمنوں کے منہ کا تھوک چکا ہے، نیک عورت اللہ پر توکل اور یقین سے دعا کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس دعا میں ستر اولیاء کی طاقت عطا فرماتے ہیں، عورت نیک بن جاتی ہے خواہ وہ ماں ہو یا بیٹی، بہن ہو اس میں اگر ایسا پردہ آجائے جیسا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا؛ تو مرد جب اللہ سے دعا کرتے ہوئے یہ کہے کہ اے اللہ ہماری ماؤں ہماری بہنوں کے پردے کی برکت سے دعا قبول فرما تو اللہ بالیقین اس دعا کو قبول فرمادیتے ہیں، حالات امت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اعمال کا اثر بادشاہ پر، زمین اور موسم سب پر پڑتا ہے، لہذا اعمالِ خیر کرنا چاہئے، جس عورت کے ہاتھ میں موبائل آجائے اس کی سوسائٹی میں بااخلاق اور قابل لوگ پیدا نہیں ہوسکتے، گھر کی عزت، آبرو اور بچوں کے مستقبل کو بچانا چاہتے ہیں تو میری دردمندانہ گزارش ہے کہ موبائل اپنے ہاتھ میں مت رکھو، یاد رکھو میری مائیں اور بہنیں کھانے پکانے کی چیزیں تمہارے ہاتھوں کی زینت ہے، شادی سے پہلے موبائل چھوڑو ماں بہنوں بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک سیکھو، شادی کے بعد سسرالی رشتوں کو نبھاؤ ساس کی خدمت کرو، گھروں کو جہنم بنانے سے بچو پیار محبت خدمت اور اطاعت سے گھر کو جنت بناؤ، اخلاق سے گھر میں جنت کا مزا ملے گا۔ جلسے کی کامیابی یہ ہے کہ سنت کے حامل بن جائیں، جلسوں کے ذریعے امت میں سنتوں کو زندہ کرنے کی ترغیب دینا اور فکر دلانا یہ مقصود ہوتا ہے نوجوانوں کو داڑھی اور ٹوپی کی سنت کو زندہ کرنے کی ترغیب دلائی اور کہا کہ اپنی زبان اپنی آنکھوں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو یہی فرمان خدا اور فرمانے رسول ہے، بحیثیت مہمان خصوصی مفتی محمود زبیر صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا نے شرکت کی اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اتحاد کی دعوت دی اور اجتماعیت پسند ذہن کی تشکیل کی اور کہا کہ آج حکومت مسلمانوں کو حراساں کررہی ہے اور نت نئے قانون مرتب کرکے پریشان کررہی ہے ایسے حالات میں جمعیۃ کے استحکام کی فکر کریں اور ہر لمحہ جمعیۃ کی آواز کو ایوانوں تک پہنچائیں۔ واضح رہے کہ مفتی غیاث الدین صاحب رحمانی صدر جمعیۃ علماء ہند تلنگانہ و آندھرا نے صدارتی خطاب میں احیائے سنت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سنتوں کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنتوں کا اہتمام کرو سنتوں کے زندہ کرکے صحابہ بڑے بڑے مسائل کو حل کرلیتے تھے، صحابہ کی سیرت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ سے ایک قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا صحابہ نے اپنے اعمال کا محاسبہ کیا تو مسواک کی سنت کے ترک کا پتہ چلا پھر مسواک کی سنت کو زندہ کیا تو اللہ نے فتح مقدر کردی، معلوم ہوا کہ اعمال کے ذریعے دنیا میں بھی نفع پہنچتا ہے، اعمال کے خراب ہونے سے حکومتی نظام میں بھی خرابیاں آجاتی ہے اعمال امت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج امت خوف و ہراس میں مبتلا ہے، مسائل سے دوچار ہے اس کی اصل وجہ اعمال بد ہے، سنتوں کے ترک کرنے کی نحوست ہے، جس کی وجہ سے آج امت فاتح قوم نہیں بن پا رہی ہے۔ جبکہ مقام مقررین میں مفتی ریحان قاسمی صاحب اور مفتی عمران خان قاسمی نے خطاب کیا اور کہا کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو یہ کچھ بھی نہ ہوتا، ہمارا ایمان ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجہ تخلیق کائنات ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللہ نے دنیا میں رہبر قوم، ھادی عالم بنا کر بھیجا اور آپ نے امت کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کیا، اللّٰہ کی اطاعت، اور اپنی سنتوں کو مضبوطی سے تھامنے کی تعلیم دی، جس پر عمل کی برکت سے اللہ تبارک و تعالی جنت کے فیصلے فرماتا ہے، صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اور عقیدت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت سے فیض یاب ہوئے، آپ کی سنتوں پر چلنے کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالی نے انہیں اللہ کی جماعت کا مژدہ سنایا اور جنت کے خوشخبریاں عطا کی، انبیاء علیہم السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعائیں مانگی ہے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگی تو اللہ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا،اور مفتی عمران خان قاسمی نے عشق نبی کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان چاہے کتنا ہی کمزور ایمان والا کیوں نہ ہو اس کے دل میں حضور صلی اللہ وسلم سے محبت کی چنگاری ضرور رہتی، آج ہم بھی عشق نبی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو احیاء سنت پر محنت کریں، الحاج سید عظمت علی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی، حافظ مشتاق احمد نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی ،خواجہ یاسین حلیمی حافظ یوسف نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی، محمد فیروز الدین پریس سکریٹری نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی محمد حنیف، محمد سلیم الدین وغیرہ نوجوانوں کی ایک ٹیم کے ساتھ جلسہ کے انتظامات کو بحسن وخوبی انجام دیتے ہوئے جلسے کو کامیاب بنایا اور مفتی خواجہ شریف مظاہری نے نظامت کے فرائض انجام دی اور مولانا محمد رضوان قاسمی ناظم مدرسہ دارالعلوم بچکندہ اور مولوی معراج نے نعت خوانی کی۔ جمیع اراکین منتظمہ وعملہ وممبران جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی نے تمام شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کرتے ہیں