Tue, Mar 2, 2021

*اسلام میں انسانی جان و مال کا تحفظ*

مولانا محمد فصیح الدین ندوی

۔========================۔
اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا: “ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا” (الاعراف:۸۵) اللہ کے پیغمبر حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا “میری قوم کے لوگو! اللہ کی زمین میں اصلاح کے بعد خرابی و فسادات مت پھیلاؤ!”
مطلب یہ کہ جہاں انسانی جان و مال کے احترام اور خوش معاملگی کا درس دیا گیا ہو اور اللہ کے بندوں نے بڑی تعداد میں اور بعض اوقات پورے پورے ملک اور پوری پوری قوم نے کسی خطۂ ارضی میں اس کو قبول کر لیا ہو تو خدارا اس کے بعد ان کوششوں پر پانی مت پھیرو،
پھر انہیں پرواہ نہیں ہوتی کہ کس کا گھر اُجڑ رہا ہے، کون بیوہ ہورہی ہے، کتنے بچے یتیم ہورہے ہیں، کتنے بوڑھے ماں باپ کا بوڑھاپے کا سہارا چھن رہا ہے، کتنے معصوموں کے سامنے ان کے ماں باپ شہید ہورہے ہیں، اس کی تازہ مثال دیکھنا چاہیں تو آپ دہلی کے منظم انداز میں بپا کئے گئے فساد کو دیکھیں، ہم ان نقصانات کو دیکھ کر افسوس ظاہر کرنے سے یہ حالات درست نہیں ہوں گے، یہ نفرتیں ختم نہیں ہوگی، ہماری ذمہ داری پوری نہیں ہوجائے گی، بلکہ ہمیں عملی میدان میں اترنا پڑے گا اور ان حالات کو درست کرنا پڑے گا،

بقول مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی حسنی ندویؒ:
*اس نخل اصلاح کو خون پسینہ سے سینچا گیا، اس کی خاطر اپنے خاندانوں اور عزت و ناموس کی بازی لگا دی گئ، دنیا کے تمام مفادات سے آنکھیں بند کرلی گئیں، ایک ہی حقیقت کو یاد کیا گیا کہ زمین پر آدمیوں کی طرح اور خدا کے بندوں کی طرح رہنا سکھایا جائے، جس طرح کے تسبیح کے دانوں کو تسبیح میں، یا ہار کے موتیوں کو ہار میں گوندھ دیا جاتا ہے، اسی طرح نسل انسانی کے افراد کو اخوتِ انسانی کے دھاگے میں گوندھ دیا گیا ہے، “کلکم من آدم و آدم من تراب”۔ (“ائے انسانوں! تم سب آدمؑ کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے”)، خدا کے لئے اس دھاگے کو نہ توڑو، ورنہ یہ دانے بکھر جائیں گے، اور تاریخ کی شہادت ہے کہ یہ دانے جب اخوتِ انسانی کے اس رشتہ کو چھوڑتے ہیں تو صرف بچھڑتے ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں،*
*”اس وقت مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کھڑے ہوں اور اس ملک کو تباہ ہونے سے بچائیں، یہ تنہا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے، اس کے ساتھ بیسوں الجھنیں اور سیاسی مصلحتیں لگی ہوئی ہیں، قرآن کی روشنی میں آپ کا فرض ہے کہ آپ دین کے سچے داعیوں، انسانیت کے بہی خواہوں اور ملک و معاشرے کے مخلص معماروں کی محنتوں پر پانی نہ پھیرنے دیجیئے، “ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا” کا پیغام دیتے رہیے، خدا کے یہاں آپ سے سوال ہوگا کہ تمہارے رہتے ہوئے یہ ملک کیسے تباہ ہوا؟ تمہیں ایسا کردار اور نمونہ پیش کرنا چاہیے تھا کہ لوگ سمجھتے پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا، عہدہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا، عزت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، خدا کا خوف اصل چیز ہے، پھر محبت اور ہمدردئ خلائق، میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ یہ نمونہ دکھا کر محبوبیت کا مقام حاصل کرلیں گے اور آپ کو اس ملک کی قیادت کا مقام تفویض ہوگا، ہم نے افراد کے محبوب بننے کے واقعات تو کتابوں میں بہت پڑھے ہیں، اور ہمیں یاد ہیں، لیکن ملتوں کے محبوب بننے کے واقعات سے ہم غافل ہیں، خدا نے اس ملک کو (جب اس نے انسانیت کو بچانے اور چمکانے کے لئے اپنی ذاتی مفادات کی قربانی پیش کی اور حق و صداقت کا دامن مضبوط پکڑا) محبوب جہاں بنا دیا تھا، چین سے عرب کو پیغام گیا: “اطلبوا العلم و لو بالصین”۔ سلطنت عباسیہ کے پاس انہوں نے مہم بھیجی کہ یہاں کوئی ایسا آدمی نہیں جس پر ہم پورے طور پر اطمینان کرسکیں، اور وہ مقدمات کا بے لاگ فیصلہ کر سکے، خدا کے لئے وہاں سے کچھ آدمی بھیجئے، جو فصل خصومات کا کام کریں، یہ ملت کے محبوب ہونے کا مقام ہے، یہ اس وقت کا حال جب یہ ملت “کنتم خیر امۃ اخرجت للناس” پر ایمان رکھتی تھی، اس کا عقیدہ تھا کہ ہم اپنی کار براری، خاندانی آسودگی اور قومی خوشحالی اور برتری کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ہیں، “*

لہذا ہم موجودہ حالات میں اپنی دعوتی ذمہ داری نبھائیں، خلوص، قربانی اور ایثار و خدمات کا جذبہ اور محبوبیت دلانے والی صفات اپنے اندر پیدا کریں، حکومتیں ان کے جلو میں چلتی ہیں، تمدن اور تہذیبیں اس کا رکاب تھامتی ہیں، اور اس پر فخر کرتی ہیں، اور ہم یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ ہمارا اقتدار ہماری غلطیوں سے گیا، ہم نے اپنا استحقاق اور اعتماد اپنی غلطیوں سے کھویا، ہم اس کو پھر اپنی ہی صلاحیتوں سے حاصل کرسکتے ہیں، قرآن کہتا ہے “ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم” (الرعد:۱۱) “خدا اس (نعمت) کو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔”
اللہ تعالی ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔۔۔آمین
۔=========================۔
*انتخاب-: حافظ امان حماد*
(متعلم-: دار العلوم عثمانیہ حیدرآباد)

*بشکریہ روزنامہ اعتماد حیدرآباد*
۔06/03/2020