Tue, Mar 2, 2021

انسانیت اب بھی باقی ہے
رفیع الدین حنیف قاسمی

تین سے چار دن تک غنڈے دلی میں دندناتے پھرتے رہے ، پتھر، گولی، پٹرول ، ڈنڈے لے کر لوگوں میں خوف وہراس پھیلاتے رہے، شمالی دہلی کے کئی علاقوں کی صورتحال دیکھ کر گجرات فسادات کی یاد آگئی، ان دنگائیوں اور غنڈوں اور دہشت گردوں کو شہ دینے میں کپل مشرا کا صاف ہاتھ رہا ہے ، جو پولیس کے بازوکھڑے ہو کر یہ کہتا نظر آتا ہے ، ٹرمپ کے جانے کی دیر ہے ، اگر سی اے اے پر احتجاج جعفر آباد کے علاقے سے ختم نہیں ہوتا تو پھر آپ کی کوئی ضرورت نہیں، باقی کام ہم سنبھالیںگے، اس بیان کے بعد شمالی دہلی میں جو فسادات بھڑکے ، جس کے لئے دہلی پولیس بھی غنڈوں کے ساتھ ہاتھ باندھے بلکہ تعاون کرتے ہوئے نظر آئی، مالی نقصان تو بے شمارہوا، گھر جلے ، دکانیں نذر آتش کی گئی، کاروبار برباد ہوئے، گھروں کو توڑا گیا ؛ بلکہ انسانی جانوں کا بے شمار نقصان ہوا، اگر بروقت کورٹ نے مداخلت نہ کی ہوتی اور پولیس کو پھٹکار نہ لگائی ہوتی تو صورتحال اس سے زیادہ خطرناک ہوتی اور پولیس ایکشن میں نہ آتی، دہلی پولیس کے کردار پر کورٹ نے نہایت سخت ناراضگی کا اظہار کیا، کہ فسادات کو روکنے میں پولیس کو جس پیشہ وارانہ طریقے سے کام کرنا چاہئے تھا، اس طرح کام کرنے میں ناکام رہی ، اگر اشتعال انگیز بیان دینے والے لیڈروں کو پہلے ہی لگام دیا جاتا تو پھر اس قدر جانی اور مالی نقصان نہ ہو ، تادم تحریر ۳۵ کے قریب افراد جان بحق ہوچکے، اور ۲۰۰ سے زائد افراد کو سخت زخموں سے دو چارہیں۔
دہلی کی تصاویر کو دیکھ کر یہ نہیں لگتا تھا کہ یہ دہلی ہے ، بلکہ جنگل کا ساسماں نظر آرہا تھا، ہر طرف پـتھر ، جلتی ہوئی گاڑیاں ، انیٹوں اور پتھر سے بھرے ہوئے تھیلے ، جلتی ہوئی دوکانیں، کاروں اوربائیکس کے جلے ہوئے شوروم، ہر طرف بکھری اشیائِ خورونوش ، ہر طرف اٹھتا ہوا دھواں، ہو کا ساعالم، لوگ سناٹے میں، اشیاء خورد ونوش کے حصول کے لئے بے بس ولاچار ومجبور اور دنگائے ، دہشت گرد اور کرائے کے ٹٹو اور غنڈے دندناتے ہوئے پھر رہے تھے ۔
کئی ایک ٹیلی والوں نے اس فساد میں جان بحق ہونے والوں کے انٹرویوز لئے، ایک کمارنامی شخص نے نیوز ۲۴ کو اپنے والد کی موت کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ وہ اورا س کے والد کوئی دنگائے نہیں تھے، وہ صرف اپنے بیٹے کی دوائی لینے کے لئے نکلا تھا، اس نے اپنے باپ کو منع کیا تھاکہ وہ ان کے ساتھ نہ آئیں، واپنے لڑکے کے لئے خود دوائی لے کر آئے گا، لیکن پوتے کے لئے دوا لانے میں دادا بھی ساتھ چلے ، بھیڑنے کمار کو پتھر پھیک مارا، جس نے وہ بائک پر سے گر پڑا، اس کے سر میں تقریبا تیس سے چایس ٹانکے لگے، وہ شخص بالکل نڈھال ، جی ٹی وی ہسپٹال دہلی میں اپنی اس سخت حالت میں باپ کی لاش کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کررہا تھا، اور کہہ رہاتھا بلوائیوں نے میرے باپ کو مار مارکر وہیں ختم کردیا۔
ساحل نامی ایک نوجوان بتاتا ہے کہ بلوائی ان کے گھر کے سامنے نعرے لگاتے ہوئے آئے،ان کے والد گھر کے سامنے گھڑے تھے، بھیڑ کو آتا دیکھ کر وہ پلٹ کر گھر کی سیڑھیوں پر چڑھ ہی رہے تھے کہ بلوائیوں میں سے کسی سے نے ان پر گولی داغ تھے ، وہ الٹے نیچے گر گئے، بہت زیادہ خون بہہ گیا، پولیس سے ان کو مدد پہنچانے کی التجا کی گئی ، مگر ناسود ، جب تک ہسپتال لے جایا جاتاوہ جان بحق ہوچکے، ساحل کہتا ہے کہ میرے باپ نے مجھے اپنے وطن سے محبت کرنا سکھایا تھا، میرے باپ لوگ پریتی تھے ، لوگوں کی سیوا اور ہمدردی کرتے، انہوںنے اپنے صرفہ خاص سے پانچ سو لوگوں کا بلا تفریق مذہب وملت کے موتیا بند کا علاج کرایا، وہ سردی کے موسم میں غریب لوگوں میں شال باٹتے تھے، اس کو نعش پوسٹ مارٹم کے بعد حاصل کرنے میںنہایت پریشانی ہورہی تھی، وہ چاہتا تھاکہ ان کی والد کی نعش دی جائے کہ ان کے آبائی وطن لے جا کراس کو دفن کریں، کیوںکہ دلی کے حالات کے درست نہ ہونے کی وجہ سے رشتہ دار دہلی آنے تیار نہ تھے ، کئی ایک لوگ جو جی ٹی ہسپتال دہلی میں اپنے رشتہ داروں کی نعش حاصل کرنے کے لئے موجود تھے ، سب کی کہانیاں الگ تھی۔
جس طرح ایک طرف یہ بلوائی ، یہ دہلی کے باہر سے خریدے ہوئے ٹٹو اور غنڈے دندناتے پھر رہے تھے ، جہاں انسانیت کو شرمسار کرنے والے یہ غدار وطن اپنے تباہی کے داستان رقم کررہے ، ایسے میں کئی ایک مسیحا ایسے بھی تھے جو بنا کسی مذہبی امتیاز کے اپنی جان داؤو پر لگا کر انسانیت کو بچانے میں لگے، این ڈی ٹی وی کے مطابق ایک ویڈیو میں ایک بھیڑ ایک فیضان نامی مسلمان باریش شخص کو گلی میں گھیر کر مارنے کی کوشش کرتی ہے ، سدھو نامی ایک سکھ بھائی اس مسلمان کو ان بلوائیوں کے بیچ سے نکال کر لاتے ہیں اور اپنے گھر میں رکھتے ہیں اپنے شملہ اس کو دیتے اور ہیلمنٹ پہنا کر اس کو محفوظ گھر پہنچاتے ہیں۔
شمال مشرقی دہلی تین دن سے سفاکیوں اور منافرت کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہی تھی،مذہبی نفرت کی افیون اور بھنگ پلائے گئے نوجوان درندہ بن کر انسانوں پر حملہ کررہے تھے ، تو اس وقت چاند باغ اور وجے پار ک میں انسانیت اور یکجہتی اپنی مثال قائم کی جارہی تھی ۔چاندباغ کے مسلم نوجوان دوسری ریاستوں سے لائے گئے زرخرید غنڈوں اور فسادیوں سے لوہا لوتے ہوئے مندر کی حفاظت کرتے ہوئے مندر کیلئے ڈھال بن گئے ،تووہیں وجے پارک میں دونوں طبقہ کے لوگ فسادیوں اوردنگائیوں کو اپنے علاقہ سے مار بھگانے میں مصروف تھے ۔دنگائیوں کی کوشش اندرونی محلہ میں گھس کر قتل و غارت گری انجام دینے کی تھی ، وہ اپنی کوشش میں ناکام تو ہوئے ؛لیکن سڑک کنارے گھروں اور دوکانوں کو نقصان پہنچانے میں وہ کامیاب ضرور ہوگئے ۔سفاکی کا یہ عالم تھا کہ چندرا مدرڈیری دوکان محفوظ رہی ؛لیکن خان انڈین اسپورٹس کو آگ کے حوالے کردیا گیا ۔ وجے پارک کی گلی نمبر -17 کے باشندے راکیش جین نے بتایا کہ جمنا وہار کے سی -12 علاقے میں مندر اور مسجد قریب 100 میٹر کی دوری پر ہیں، شام کو مسجد سے اذان اور مندر سے شنکھ کی آواز ایک ہی وقت میں آتی ہے، ہمارا پورا محلہ ایک خاندان کی طرح ہے ، مسلمان ہمارے بھائی ہیں ، آدھی رات کو بھی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ہمارے لئے اور ہم ان کے کام آتے ہیں۔ جین کے مطابق فسادی باہر سے آ رہے ہیں ہم دونوں طبقہ کے لوگ مل کر فسادیوں کو اپنے محلہ میں گھسنے نہیں دے رہے ہیں ۔ اسی علاقہ کے مکین سہیل منصوری نے کہا کہ دونوں فرقوں کے ساتھ رہنے کے باعث نہ کسی مسجد پر آنچ آئی ہے اور نہ ہی کوئی مندرمیں کسی طرح کا نقصان ہوا۔ سی -12 کے باشندے راہل نے کہا کہ یہاں 35 سال میں پہلی بار فرقہ وارانہ فساد ہوا ہے ، بلوائی ہمارے مارکیٹ میں گھسے تو ہم نے مل کر نکال دیا، اسی بلاک کے محمد ذاکر کہتے ہیں، میں پہلے وجے پارک میں رہتا تھا اور حال ہی میں اس کالونی میں آیا ہوں، ہمارے یہاں کے سارے ہندووں سے اچھے تعلقات ہیں، عید پر وہ ہمارے یہاں آتے ہیں اور دیوالی پر ہم ان کے گھر جاتے ہیں، ہم سب رات کو مسلسل پہرہ دے رہے ہیں، تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔ تین دن سے تشدد کی آگ میں جل رہے چاند باغ کے رہائشی سلیم نے کہا کہ اگر مندرکو کوئی نقصان پہنچتا تو ہمیں پوری عمر شر مسارہونا پڑتاکہ ہم ایک مذہبی مقام کی حفاظت نہ کرسکے۔ چاند باغ کی ایک خاتون تبسم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ مندراور ہندو بھائیوں کی دوکان پر فسادیوں کی شرانگیزی کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
وہی ایک بلوائی کو جو مذہبی نعرہ لگا کر مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے اور ختم کرنے کی دھمکی دے رہا تھا، اس کو جان پر کھیل کے ایک مسلمان نے بچا لیاجو کہ شرپسندی کی آخری حد کو پہنچ کر زور زور سے مذہبی نعرے لگا کر مسلمانوں کو ملیامیٹ کرنے کی بات کررہاتھا، اس کو جب بلوائیوں سے بچا کر لایا گیاتو وہ بھیگی بلی بنابیٹھا، جس کو محفوظ طریقے سے پولیس کے حوالے کیا گیا۔
وہیں ایک مکمل مسلم خاندان کو ہندؤوں نے اپنے گھر پناہ دی، دو دن وہ ان کے گھر پر رہے ، بلوائیوں کے اصرار پر ان کو اپنے گھر سے نکال ان کے گھر پہنچایا اور گھر کو باہر سے تالا لگا کر اس مسلمان گھرانے کی حفاظت کی ، اسی طرح کئی ایک جگہوں پر جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی، مسلمانوں نے مندر کی حفاظت کی، ہندو اکثریتی علاقوں میں ہندؤوں نے مسلمانوں اور ان کی مساجد کی حفاظت کی، ہندو یا مسلم سب فسادات کے نذر ہوگئے،، سب کا جانی اور مالی نقصان ہوا، ہر شخص نم دیدہ اور پریشان حال نظر آرہا تھاکہ اور یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں تو اپنے کاروبار اپنے روٹی اور روزگار سے مطلب، ان دنگائیوں اور بلوائیوں سے ہمیں کیا واسطہ، یہ تو دہلی کے رہنے والے نہیں تھے، یہ تو باہر سے ٹرکوں میں پـتھروں ، لاٹھیوں اور اینٹوں کے ساتھ لائے ہوئے غدار وطن، دہشت گرد اور ٹٹو تھے ، جو انسانیت کا لبادہ اوڑہ حیوانیت کو شرمسار کرتے دہلی میں تباہی مچاتے پھر رہے تھے ۔
تو جہاں دنگائیوں خوب فساد مچایا ،انسانیت کو شرمسار کیا، کئی ایک واقعات محبت ، بھائی چارہ، امن وامان ، شانتی ، یکجہتی والے نظر آئے جس نے انسانیت کی لاج رکھ لی اور کئی جانوں کو جانے سے بچالیا ، بلکہ بعض بستیوں میں ہندو مسلم دونوں مل کر ان بلوائیوں کامقابلہ کرتے نظر آئے، جنہوں ان تشددپسندوں کو اپنی بستی میں داخل ہونے ہی نہیں دیا، ان کی تدبیروں کو ناکام کردیا ۔
کیا ہے کہ کوئی جو ان دنگائیوں کی نشاندہی کر کے یوپی کے احتجاجیوں کے خلاف جس طرح ہرجانہ کی مانگ کی گئی ، ان پر کیس درج کر کے ان کو جیلوں میں ڈال دیا، ان سے ہرجانہ کا مطالبہ کیا، جو ان دنگائیوں سے مطالبہ کرے، کوئی ہے جو ان کو گرفتار کر کے ان کے سلاخو ں پیچھے ڈھکیل دے جو نہ صرف اموال بلکہ جانوں کی تباہی کا ذریعہ بنے ہوئے ، شاید کہ ہائی کے پھٹکار لگانے والے جج کے تبادلے کے بعد کوئی ایسی جرأت بھی کرسکے ۔
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں