Fri, Feb 26, 2021
انسانی مواخات
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
06.03.2020
ہندوستان میں انگریزوں کے تسلط کے بعد جب آزادی کی لڑائی شروع ہوئی تو مسلمانوں اور غیر مسلموں نے مل کر اس جنگ میں حصہ لیا؛ اگرچہ انگریزوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی وجہ سے کبھی کبھی اس صورت حال میں رخنہ بھی پڑتا تھا، اور ہندو مسلم فسادات کی نوبت بھی آجاتی تھی؛ لیکن بحیثیت مجموعی ۱۹۴۷ء تک اتحاد کی یہ فضاء بڑی حد تک باقی رہی، افسوس کہ ملک کی آزادی ملک کی تقسیم کی صورت میں سامنے آئی، اور وطن عزیز دو حصوں میں بٹ گیا، یہ بہت بڑا سانحہ تھا، مشہور مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزادؒ  توآزادی پر ہندو مسلم اتحاد کو ترجیح دیتے تھے؛ لیکن ایسے محب وطن لوگوں کی بات چل نہیں سکی، اور کچھ جذباتی لیڈروں نے ملک کے دو ٹکڑے کر دئیے، بعد کے حالات نے بتایا کہ یہ صرف زمین کے ٹکڑوں ہی کی تقسیم نہیں تھی؛ بلکہ اس تقسیم نے دلوں کو بھی تقسیم کر کے رکھ دیا، ہندو مسلم اتحاد کا شیش محل بھی چکنا چور ہونے لگا، انسانی خون اتنی وافر مقدار میں بہا کہ اگر ان کو ایک کھائی میں ڈال دیا جاتا تو شاید سچ مچ خون کی ندی بہہ پڑتی، اور بعض جگہ سچ مچ ایسا ہوا کہ اس آبادی میں بہنے والے دریا کا پانی سرخ ہوگیا۔
اس خون ریزی کے بعد محب وطن قائدین نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کی اور آہستہ آہستہ یہ زخم مندمل ہونے لگا؛ لیکن اتحاد کی جو کیفیت پہلے تھی، وہ واپس نہیں آسکی، پھر فسادات کے تسلسل نے سماجی ہم آہنگی کو اور بھی نقصان پہنچایا، اور اس کے نتیجہ میں ہر ریاست، ہر شہر یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی ہندو مسلم آبادی کے الگ الگ جزیرے بن گئے، ان آبادیوں کا الگ ہونا ایک مجبوری تھی؛ کیوں کہ اقلیت اکثریت کے درمیان اپنے آپ کو بجا طور پر غیر محفوظ محسوس کرنے لگی، یہ صورت حال اب تک قائم ہے، جب آبادیاں الگ ہوئیں تو تعلیمی ادارے بھی الگ ہوگئے، یہاں تک کہ ہاسپیٹل اور تجارت گاہیں بھی الگ الگ ہوگئیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باہمی ملاقات اور روابط کم سے کم اور محدود سے محدود تر ہوتے چلے گئے، اس کا نقصان یہ ہوا کہ جن لوگوں نے نفرت پھیلانے کو اپنی زندگی کا مقصد اور سیاسی لڑائی کا ہتھیار بنا رکھا ہے، انھیں اکثریت کے درمیان غلط فہمی پھیلانے کا موقع مل گیا، ایک طرف وہ مسلمانوں کے خلاف من گھڑت باتیں کہہ کر نفرت پھیلاتے رہے، دوسری طرف مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تعلقات اس طرح منقطع ہو گئے کہ مسلمان غلط فہمیوں کو دور نہیں کر سکے، اگر کوئی شخص آپ کی شکایت آپ کے کسی شناسا سے کرے تو وہ آپ سے اس کے بارے میں دریافت کرے گا، اس طرح اس کی غلط فہمی دور ہو جائے گی، اور اگر آپ سے اس کا کوئی رابطہ ہی نہیں ہو تو ظاہر ہے کہ آپ کے خلاف جو کچھ کہا جائے گا، وہ اس پر یقین کرتا چلا جائے گا، اس کی وجہ سے گذشتہ ۷۰؍ سالوں میں نفرت کی چنگاری شعلہ؛ بلکہ اس سے بڑھ کر آتش فشاں بن چکی ہے۔
سی اے اے قانون ایک ایسا قانون ہے، جو ملک کی پیشانی پر دھبہ ہے؛ لیکن اس سے ایک خیر پیدا ہوا کہ ستر سال کے وقفہ کے بعد پھر ہندو مسلم اتحاد کی آواز پورے ملک میں گونج اُٹھی، اس کو سوائے من جانب اللہ امت مسلمہ کی مدد کے کوئی اور عنوان نہیں دیا جا سکتا، دستور کے تحفظ کی اس لڑائی میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، کمیونسٹ سب قدم سے قدم ملائے کھڑے ہوگئے ہیں، یہ ایسا خوشگوار منظر ہے کہ خود مسلمانوں نے بھی تصور نہیں کیا تھا کہ انہیں اس قدر تعاون حاصل ہو سکے گا؛ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ بعض دفعہ شر سے ہی خیر پیدا فرما دیتے ہیں، غالباََ گذشتہ ستر سال میں پہلی بار یہ موقع آیا ہے ، اس موقع سے فائدہ اُٹھانا ملت اسلامیہ کے لئے ایک شدید ضرورت ہے اور اگر ہم نے اس موقع کو کھو دیا تو نامعلوم پھر آئندہ یہ موقع آئے گا یا نہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو مکہ کے مہاجرین کے لئے یہ ایک اجنبی ماحول تھا، نئے لوگ، نئی فضاء، اجنبی خاندان، رسم ورواج میں بھی فرق، اور یہودیوں کی شکل میں ایک ایسا گروہ بھی یہاں موجود تھا، جو اپنے آپ کو خدا کی خاص مخلوق سمجھتا تھا اور اپنے علاوہ سبھوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا، وہ انصار کے مختلف قبائل کے درمیان اختلاف کو بھی ہوا دیتے رہتے تھے، اور مسلمانوں کی آمد کو تو وہ اپنے لئے ایک نئی آفت تصور کرتے تھے، اس صورت حال میں یہ بات بہت ضروری تھی کہ مدینہ کے اصل باشندے انصار اور مکہ سے آئے ہوئے لٹے پٹے مہاجرین کے درمیان مضبوط اتحاد قائم ہوجائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقصد کے لئے مواخات یعنی بھائی چارے کا نظام قائم فرمایا، یعنی ایک مہاجر اور ایک انصاری کو بھائی بھائی مان لیا گیا، یہ بھائی چارہ اسلامی رشتہ اور فکری وحدت کی بنیاد پر تھا، آخر یہ بھائی چارہ اتنا مضبوط ثابت ہوا کہ نسلی رشتے بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہو گئے، یہ انسانی تاریخ کا ایک بے نظیر واقعہ ہے، تاریخ انسانیت میں شاید ہی ایسی کوئی اور مثال موجود ہو۔
ہمارے ملک میں ہندو مسلم اتحاد کے لئے اسی طرح’’ انسانی مواخات‘‘ کی تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اس بھائی چارے کی بنیاد انسانیت اور ہم وطنی ہو؛ کیوں کہ جیسے ماں باپ کی شرکت سے دو افراد کے درمیان نسلی بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے، اور وہ حقیقی یا سوتیلے بھائی سمجھے جاتے ہیں، اور جس طرح مسلمان ہونے کی بنیاد پر دو مسلمانوں کے درمیان اسلامی اخوت وجود میںا ٓتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: المسلم أخوالمسلم (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۲۳۱۰) یعنی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اسی طرح اخوت کا ایک وسیع تر دائرہ بھی ہے، اور وہ ہے انسانی رشتہ کی بنیاد پر بھائی چارہ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ذکر فرمایا ہے، ارشاد ہے: إن العباد کلھم إخوۃ (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۱۵۱۰) یعنی اللہ کے تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اسی انسانی اخوت کی بنیاد پر انبیاء کرام جس قبیلہ میں پیدا ہوتے تھے، ان کے ایمان سے محروم ہونے کے باوجود ان کو اپنی قوم قرار دیتے ہوئے خطاب فرمایا کرتے تھے (اعراف: ۵۹،۶۵،۷۳،۸۵)
افسوس کہ شخصی مفادات، مسلکی وتنظیمی تحفظات اور علاقائی اور لسانی تعصبات کی وجہ سے ہم نے اسلامی اخوت ہی کو پارہ پارہ کر دیا تو انسانی اخوت کا کیا پاس ولحاظ کرتے؟ اس کو تو ہم نے قابل توجہ بھی نہیں سمجھا؛ لیکن ضرورت ہے کہ کم سے کم اب ہم اپنی ان کوتاہیوں کی تلافی کریں، اور انسانی بھائی چارہ کی اسلامی تعلیمات کو اپنے اندر زندہ کریں، اگر یہ بات مان لی جائے کہ اس ملک میں ۸۰؍ فیصد غیر مسلم اور ۲۰؍ فیصد مسلمان ہیں تو اگر ہر مسلمان چار غیر مسلم بھائیوں سے اپنے تعلقات استوار کر لے، ان کے ساتھ بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرے، ان کی مصیبتوں میں کام آئے خوشی اور غم کی تقریبات میں شریک ہو ،بیماروں اور کمزورں کی مدد کر ے، جن لوگوں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے، ان کے ساتھ مل جل کر کھانا پانی کرے اور مساویانہ سلوک کر کے  محبت کے دیپ جلائے تو ان شاء اللہ ایک سال کے اندر نفرت کے اندھیرے چھٹ جائیں گے، اور ملک کے حالات بدل جائیں گے؛ بشرطیکہ پورے اہتمام کے ساتھ ایک مہم بنا کر اور وقت کی ضرورت سمجھ کر منظم طور پر اس کام کو کیا جائے، میں خاص طور پر دینی وملی تنظیموں کی بارگاہ میں اپنی درخواست پیش کرتا ہوں کہ اس بات پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس کو ترجیحی ایجنڈے میں شامل کیا جائے، تو ان شاء اللہ بہت جلد ہم نفرت کی جڑوں کو ختم کر سکیں گے، خدا کرے یہ درخواست اربابِ فکرو نظر کی بارگاہ میںمقبول ہو اور اللہ تعالیٰ اس ملک میں محبت ویکجہتی کی ایسی بادِ نسیم چلا دے جو نفرت کے شعلوں کو بجھا دے، وما ذالک علی اللہ بعزیز۔
٭    ٭    ٭