Sat, Feb 27, 2021

چند باتیں،کوروناوائرس اورلاک ڈاؤن کے تناظر میں
محمد ابراہیم خلیل سبیلیؔ،حیدرآباد۔9908922786

کورونا وائرس آج پوری دنیامیں پھیل چکا ہے۔ اس کو لے کرسارے ممالک پریشان ہیں۔ سب کی نیندیں اڑچکی ہیں۔ اورسب انگشت بدنداں ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ کسی ملک کے پاس اس بیماری کی کوئی دوا نہیں ہے۔ یہ ایسا معمہ بن چکا ہے جس کا اب تک کوئی حل دریافت نہیں ہوسکا۔اس کی ابتداء چین کے ایک مصروف ترین شہر ووہان سے ہوئی۔ اس میں ایک بہت بڑی مچھلی منڈی ہے ۔یہاں مچھلی کے علاوہ دیگر جانور جیسے چوہے، بلی، سانپ،مگر مچھ،گدھ اور چمگادڑ وغیرہ کے ساتھ دوسرے حشرا ت الارض بھی فروخت ہوتے ہیں۔اس طرح کے متعدی امراض یہاں کئی بار نمودار ہوئے تھے۔ ماہرین کاکہنا ہیکہ ماضی میں بھی یہ وائرس اسی مارکٹ سے پھیلا تھا اور اب بھی وہیں سے پھیلا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا وائرس عموما جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور اس میں پالتو اور جنگلی تمام ہی جانور شامل ہیں۔ یہ وباء اتنی متعدی ہے کہ اب تک 167 سے زائد ممالک میں پہنچ چکی ہے۔ ہر ملک خوف اور دہشت میں ہے کہ میرے ملک اور قوم کا کیا ہوگا؟ عوام تو عوام ہے ڈاکٹرس بھی ان کو دیکھ کر سہمے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی بیمار اور مرنے والوں کودیکھ کر جذبات سے مغلوب ہورہا ہے اور ہر کسی کو ان میںاپنی موت نظر آرہی ہے۔اب تک لاکھوں لوگ اس سے متأثر جبکہ ہزاروں لوگ اپنی قیمتی جان گنواں چکے ہیں۔ اللہ ایسی وباؤں سے تمام لوگوں کی حفاظت فرمائے۔
اس طرح کی وبائیں کبھی کبھی آتی ہیں۔ ان میں کچھ وبائیں ہمارے لئے آزمائش ہوتی ہیں اور کچھ ہمارے اعمال کا نتیجہ۔یا یوں کہا جائے کہ ایسی وبائیں ظالمین کیلئے درس عبرت اورمتقیوں کیلئے نصیحت کا پہلو ہوتی ہیں۔ جو کچھ بھی ہومگر یہ اللہ کی طرف سے آتی ہیں۔ قرآن کریم میں کئی ساری جگہوں پر فساد اور مصیبت کا تذکرہ کیا گیا ہے اللہ نے اس کو خود انسانوں کے برے اعمال کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے: جو کچھ تم کو تکلیف پہنچے وہ تمہارے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے۔ (سورہ شوری ) تمہیں جو کچھ اچھائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو کچھ برائی پہنچے تو وہ تمہاری ہی طرف سے ہے۔(سورہ نساء) خشکی اور دریا میں فساد لوگوں کے اعمال کی وجہ سے ظاہر ہواہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھادے۔(سورہ روم) ہم انہیں ضرور بڑے (آخرت کے) عذاب سے پہلے قریب یعنی دنیا کا عذاب چکھائیں گے۔ (سورہ سجدہ) یہ اور ان جیسی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جو بھی مصیبتیں آتی ہیں وہ انسانوں کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں قتل و قتال ہوتے ہیں، قحط سالی آتی ہے، نت نئے امراض پیدا ہوتے ہیں، آندھیاں چلتی ہیں، کھیت خراب ہوجاتے ہیں، اناج میںکیڑ لگ جاتا ہے، زلزلے آتے ہیں اور اس طرح کی بہت ساری مصیبتیں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ اوراللہ کی طرف سے سزاکے طور پر ہے ۔ تاکہ انسان ہوش میں آجائے اور کفر و شرک اور ظلم و تعدی سے باز آکر اللہ کی طرف رجوع ہوجا ئے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ انسانوں کے صرف بعض اعمال کی سزا ہے۔ اگر اللہ تعالی تمام اعمال پر گرفت کرلے توہم میں سے زمین پر کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکے گا۔ اللہ کا ارشاد ہے: اگر اللہ تعالی لوگوں کا ان کے پورے اعمال پر مواخذہ کرلے تو زمین کی پشت پر کسی چلنے پھرنے والے کو زندہ نہیں چھوڑے گا، لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک چھوٹ دیتا ہے۔(سورہ فاطر)
آج کورونا وائرس کی دہشت سے تمام دنیا لاک ڈاؤن ہوچکی ہے۔ دفاتر، اسکولس، کالجس، عوامی مقامات، پارک اور حمل ونقل کے تمام ذرائع بندکردئے گئے ہیں۔ عبادت گاہیں یہاں تک کہ حرمین شریفین کوبڑی حد تک مقفل کردیا گیا ہے۔ آزاد رہ کر بھی سب لوگ اپنے گھروں میں قید و بند کی تکالیف جھیل رہے ہیں۔ کسی کو باہر نکلنے کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ بچے سے لے کر جوان تک اور عام آدمی سے لیکرلیڈر تک تمام لوگ موت کے خوف میں ہیں۔ اس منظر کو دیکھتے ہوئے مجھے حالیہ کشمیر اور وہاں کاماحول یاد آرہا ہے۔ وہ لوگ مسلسل تین ماہ تک قید وبند میںکیسے رہے ہوں گے؟ وہاں کا ماحول تو ہمارے یہاں کے ماحول سے بھی بڑاتکلیف دہ تھا۔ کشمیری گھروں میں اس طرح محصور تھے کہ پڑسیوں کی خبر تک نہیں تھی۔لوگ کھانے پینے کی اشیاء کیلئے تڑپ رہے تھے۔اور بیمار دوائی کے لئے ترس ترس کر رہ گئے تھے۔ دواخانے اور میڈیکل شاپس بھی بند کی زد میں آچکے تھے۔یہ بھی خبر تھی کہ مرنے والوں کو گھر کے آنگن ہی دفن کیا جارہا تھا۔ نہ وہ گھر سے باہر نکل سکتے تھے اور نہ ہی کسی سے بات کر سکتے تھے۔ اپنے محلہ میں کیا ہورہا ہے کسی کو کچھ خبر تک نہیں تھی۔ سینکڑوں جوانوں کوبغیر کسی جرم کے غائب کردیا گیا تھا۔کئی لیڈران اور اصحاب سیاست بھی نظر بندکردئے گئے تھے۔پورا مواصلاتی نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔ یہاں تک کہ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی سہولتیں بھی معطل کردی گئی تھیں۔ اور پورا کشمیر فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوکر رہ گیا تھا۔ آج ہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی طرح کے خوف میں مبتلا ہیں۔لیکن ہم نے کبھی سوچا کہ کشمیر کا منظر کیسا ہوگا؟اور کشمیری تین چار ماہ تک قیدو بند میں کیسے رہے ہوں گے؟؟؟
اگرہم کشمیر سے آگے بڑھ کر سارے عالم کا جائزہ لیں گے تودنیا بھر میں قحط سالی، خانہ جنگی، پر تشدد واقعات اور بیرونی حملے اس سے بڑھ کر ہیں۔ اور ان کی وجہ سے نقل مکانی دنیا کی سب سے بڑی مصیبت اور پریشانی بنی ہوئی ہے۔خبروں کے مطابق اب تک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 7کروڑ سے متجاوز ہے۔یہ بڑی عجیب بات ہے کہ لوگ اپنے ہی ملک اور مٹی میں مہاجرت پر مجبور ہورہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگوں نے ملکوں اور قوموں کوتباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان جنگوں نے جہاں شام، عراق، افغانستان، فلسطین،لیبیا اور برما وغیرہ کے اندرونی ڈھانچے کو خاکستر کردیا ہے، وہیں آج بھی ان ممالک میں خانہ جنگی روز کا معمول بن چکا ہے۔ شام کا مسئلہ سب سے بڑا ہے۔ بشارالاسد اور داعش کے ہاتھوں لاکھوں شامی شہید ہوچکے ہیں۔ اندرون ملک ایک کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔بیرون ملک ہجرت کرنے والوں کی تعداد 40 لاکھ سے زائدہے۔ لبنان میں اس وقت 10لاکھ سے زائد شامی پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اور10لاکھ افراد ترکی میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔اور ہزارہا افراد کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ برما میں بھی ان گنت شہید ہوئے ۔ اور ایک لاکھ سے زائد باشندے تھائی لینڈ کی سرحد پر پچھلے دو دہوں سے مہاجر بستیوں میںرہ رہے ہیں۔ اسکے علاوہ بنگلہ دیش، پاکستان اورہندوستان میں ہزاروں کی تعداد میںمہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کی زندگی کھلے آسمان کے تلے یا کسی خس پوش جھونپڑی میں بسر ہورہی ہے۔اس کے علاوہ بوسنیااور چیچنیا وغیرہ ملکوں کا یہی حال ہے۔ ان کی خوراک، دوا، صحت اور تعلیم ساری دنیا کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جیسے تیسے دولت مند اور ترقی یافتہ ممالک نے ان مہاجرین کی میزبانی قبول کی تھی۔ لیکن اب یہ ممالک بھی رہی سہی امداد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے نت نئے قوانین بنارہے ہیں۔تا کہ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ جلا وطنی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہوسکیں۔ توکبھی ہم نے ان مہاجرین کے بارے میں سوچا ؟ اورکیا یہ وائرس اور یہ لاک ڈاؤن ان مہاجرین کی ہجرت ،بھوک مری، ظلم وبربریت اور وحشت ناک موت سے زیادہ تکلیف دہ ہے ؟
جب شام پر مزائل برسائے جارہے تھے، جب حلب کی بستیاں اجاڑی جارہی تھیں، جب عراق و افغانستان میں امریکی فوج گھس کر حکومت کو تہ وبالا کرہی تھی اور عام لوگوں پر گولیاں چلا رہی تھی، جب فلسطین میں ظالم حکمران وہاں کے باشندوں پرتوپ کے گولے چھوڑرہے تھے اور مسجد اقصی کی بے حرمتی کر رہے تھے، جب بوسنیا اور چیچنیا میں نسل کشی کرکے وہاں کی عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی تھیں، جب میانمار میںغریب اور معصوم لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا تھا، اور جب کشمیرکے مظلوم لوگوں کو اپنے ہی گھروں محصور کردیا گیا تھا…جب یہ خبریں حکمرانوں کے ایوانوں میں اور شاہوں کے محلوں میں پہنچائی جاتی تھیں تو ان کی پیشانی پر بال تک نہیں آتاتھااور وہ یہ کہ کر خاموش ہوجاتے تھے کہ’’دنیا میںیوں ہی ہوتا ہے‘‘ آج جب کہ کوروناوائرس موت کا سایہ بن کر سب پر منڈلا رہا ہے اورہر چھوٹے بڑے اورہر شاہ و گدا کو اس میں اپنی موت نظر آرہی ہے، توسب نے اپنی اپنی سرحدیں بند کردی ہیں، اورپوری دنیا کولاک ڈاؤن کر کے اپنے بچ بچاؤ کا سامان کرلیا ہے۔
ہمیں سوچنا چاہئے کہ آج دنیا میں ایساکیوں ہورہا ہے؟ کورونا وائرس سے سب لوگ اتنے پریشان کیوں ہیں ؟ اس سلسلہ میںمیراماننا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی طرح سے ظالم ضرورہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی چھوٹا ہے اور کوئی بڑا۔ تبھی تو یہ وائرس اللہ کاقہر بن کر ہم پر مسلط ہوچکا ہے۔ جب جب بھی انسان رب چاہی زندگی کو چھوڑ کر من چاہی زندگی اختیار کرتا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق پر ظلم و زیادتی کرتا ہے۔ اللہ کے حدود کو پامال کرتا ہے اور حلال چیزوں کو چھوڑ کر حرام چیزوںکی طرف لپکتا ہے، تو اس طرح کے عذابات ضرور آتے ہیں۔ پہلی قوموں پر بھی اس طرح کے عذابات آئے تھے مگر شاید دنیا اس بات سے اتفاق نہ کرے ۔ مگر انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ دنیا کی حکو متیںکفر و شرک کے ساتھ تو چل سکتی ہیں لیکن ظلم اور نا انصافی کے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتیں۔ظلم دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جس کی اجازت دنیا کے کسی مذہب میں نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ کمیونزم میں بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے مظلوموں کی آہ اور ان کا رونا ’کورونا‘ بن کرہم پر مسلط ہوگیا ہو…؟ کیونکہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا اور اللہ بدیر سہی مظلوم کی ضرور مدد کرتا ہے۔اللہ ہم سب پررحم فرمائے۔ا ٓمین
٭٭٭٭٭