Tue, Mar 2, 2021
غیر مسلموں کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک
پہلی قسط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
    2019.11.08
غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ ربط و تعلق کے سلسلہ میں اسلام نے دو بنیادی تصور دیا ہے ، ایک یہ کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا(الحجرات:۱۳)
اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اورتم کو قبائل اور خاندانوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے مختلف ارشادات میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو : کلکم من آدم و آدم من تراب (مجمع الزوائد، حدیث نمبر: ۱۳۰۸۹)
آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ میں اپنی تعلیمات کا خلاصہ دو جملوں میں پیش فرمایا : إن الٰہکم واحد وإن اباکم واحد(کنز العمال، حدیث نمبر: ۵۶۵۲) یقیناً تمہارا خدا ایک ہے اورتمہارے باپ بھی ایک ہی ہیں ، تمام انسانوں کی ایک ماں باپ سے پیدائش کے تصور سے دوسرا تصور انسانی اُخوت کا پیدا ہوتا ہے کہ تمام انسان ، چاہے وہ کسی مذہب کے ماننے والے ہوں ، کسی خاندان سے ان کا تعلق ہو ، کالے ہوں یا گورے ، سب بھائی بھائی ہیں ؛ چنانچہ آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام بنی آدم بھائی بھائی ہیں (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۱۵۱۰) دوسرا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان بحیثیت انسان قابل احترام ہے ، اور دنیا کی جو بے شمار نعمتیں ہیں ، چاہے ان کا تعلق خشکی سے ہو یا سمندر سے ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں جو بھی پاک غذائیں پیدا کی ہیں ، ان سب میں تمام انسانوں کا حق ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں  :
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۔ (بنی اسرائیل: ۷۰)
ہم نے بنی آدم کو باعزت بنایا ہے ، ہم نے ان کو خشکی میں اور سمندر میں سوار کیا ہے اور انھیں پاکیزہ روزی عطا کی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے مختلف ارشادات میں انسان کی فطری شرافت و وقار کا ذکر فرمایا ہے (کنز العمال، حدیث نمبر: ۳۴۶۲۱) گویا اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺکے نزدیک یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہو یا غیر مسلم ، وہ انسان ہونے کی حیثیت سے قابل احترام اور باعزت ہے اور کائنات میں اللہ تعالیٰ نے جو وسائل رکھے ہیں ، ان پر صرف مسلمانوں کا حق نہیں ہے ؛ بلکہ تمام انسانوں کا حق ہے ۔
یہ دو بنیادی اُصول ہیں ، جن پر اسلامی نقطۂ نظر سے مسلم وغیر مسلم تعلقات کی بنیاد ہے اوررسول اللہ ﷺ نے اپنے اخلاق و اُصول کے ذریعہ اس کے عملی نمونے پیش کئے ہیں ۔
اکرام و احترام:
رسول اللہ ﷺ غیر مسلم حضرات کے ساتھ ہمیشہ باہمی احترام و اکرام کا معاملہ فرماتے تھے ، آپ نے متعدد غیر مسلم بادشاہوں اور سرداروں کو خطوط لکھے اور انھیں اسی لقب سے مخاطب کیا ، جس لقب سے ان کی رعایا ان کا ذکر کیا کرتی تھی ، جیسے روم کے بادشاہ ہرقل کے لئے ’ عظیم الروم ‘ ایران کے بادشاہ کسریٰ کے لئے ’ عظیم الفارس ‘اور حبش کے بادشاہ نجاشی کے لئے ’ عظیم الحبش (بخاری، حدیث نمبر:۱، کنز العمال، حدیث نمبر: ۱۱۳۰۲، نصب الرایہ:۴؍۵۰۰) عظیم سے مراد عظمت والی شخصیت ، باعزت ہستی ، ظاہر ہے کہ اس میں مخاطب کا احترام ہے ، ابوجہل آپ کا بدترین دشمن تھا ، اس نے آپ کو تکلیف پہنچانے اور بُرا بھلا کہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ؛ چوںکہ اس کے اندر فیصلہ کرنے اور لوگوں کے معاملات کو حل کرنے کی خاص صلاحیت تھی ؛ اس لئے اہل مکہ اس کو ’ ابو الحکم ‘ کہتے تھے ، آپ ﷺ نے بھی اس کو ابوالحکم کے لفظ ہی سے مخاطب فرمایا کرتے تھے (سیرت ابن ہشام:۱؍۳۸۹)
ابو سفیان ایمان نہیں لائے تھے اور وہ اہل مکہ کے سردار تھے ، جب مکہ فتح ہوا اور حضور نے عمومی معافی کا اعلان فرمایا تو آپ نے کہا: جو لوگ اپنے گھر میں داخل ہوجائیں ، ان کے لئے امن ہے : من دخل دارہ فھو اٰمن، آپ کے اس ارشاد میں ابوسفیان کا گھر بھی داخل تھا ؛ لیکن ابوسفیان کے اعزاز و اکرام کے لئے آپ ﷺکے خصوصی طورپر اعلان فرمایا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے ، اس کے لئے امن ہے : من دخل دار ابی سفیان فھو آمن(مسلم، حدیث نمبر: ۱۷۸۰)
آپ ﷺنے مکہ سے ہجرت کرنے سے پہلے چاہا کہ کعبۃ اللہ میں دو رکعت نماز پڑھنے کا موقع مل جائے ، کعبہ کی کنجی قبیلہ بنو شیبہ کے پاس رہا کرتی تھی اور اس وقت یہ کنجی اس قبیلہ کے ایک شخص عثمان بن طلحہ شیبی کے پاس تھی ، کسی شخص کے پاس کعبۃ اللہ کی کنجی کا ہونا اس کے لئے بہت اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی ؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺکے خاندان بنو ہاشم کے لوگ چاہتے تھے کہ کنجی انھیں مل جائے ؛ تاکہ ان کے اعزاز میں اضافہ ہو ، ان کی طرف سے حضرت علیؓ  –جو آپ کے چچازاد بھائی بھی تھے اور داماد بھی — نے درخواست کی کہ کلید ِکعبہ بھی ہمیں دے دی جائے ؛ تاکہ کعبۃ اللہ کی خدمت ’’ سقایہ‘‘ ( پانی پلائی) تو پہلے سے بنو ہاشم کے پاس ہے ، یہ دوسرا اعزاز ’حجابہ ‘( کلید برداری ) بھی بنوہاشم کو مل جائے ، جب آپ ﷺکعبۃ اللہ سے باہر تشریف لائے  تو آپ نے عثمان شیبی کو طلب کیا اور انھیں یہ کہتے ہوئے کنجی واپس فرمادی کہ آج کا دن حسن سلوک کا اور عہد کو نباہنے کا دن ہے ، (سیرت ابن ہشام: ۲؍۴۱۲) یہ عربوں کے معاشرہ میں غیر معمولی اعزاز کی بات تھی او راس اعزاز و اکرام کا معاملہ آپ نے ایک ایسے شخص کے ساتھ فرمایا ، جو ابھی مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے اورجنھوں نے آپ کو آپ کی خواہش کے باوجود کعبہ میں دو رکعت نماز تک پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی (الخصائص الکبریٰ:۱؍۴۴۶)
آپ ﷺنے زندگی میں ہی نہیں ؛ بلکہ مرنے کے بعد بھی اس تکریم و احترام کو پیش نظر رکھا ؛ چنانچہ حضرت سہل بن حنیف ؓاور قیس بن سعد ؓکے بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں قادسیہ ( ایران کے مقام کا نام ) — میں بیٹھے ہوئے تھے —  سامنے سے جنازہ گذرا تو یہ دونوںحضرات کھڑے ہوگئے ، کہا گیا : یہ کسی مسلمان کا جنازہ نہیں ہے ، غیر مسلم کا جنازہ ہے ، ان حضرات نے کہا : رسول اللہ ﷺکے سامنے سے جنازہ گذرا تو آپ بھی کھڑے ہوگئے تھے ، آپ سے عرض کیا گیا تھا : یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے ، آپ ﷺنے فرمایا : کیا وہ انسان نہیں تھا ؟ الیست نفساً  (بخاری، حدیث نمبر: ۱۲۵، مسلم حدیث نمبر: ۹۶۱)
اسی طرح آپ ﷺنے اپنے سے بڑی عمر والوں کی عزت و توقیر کا حکم دیا ہے (ترمذی، حدیث نمبر: ۱۹۲۱) اس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں ۔
غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ:
مسلمانوں کے جو غیر مسلم رشتہ دار ہوں ، ان کے ساتھ ہمدردی اور حسن سلوک کی تاکید کی گئی ، قرآن مجید میں بارہ مواقع پر رشتہ و قرابت کا لحاظ رکھنے کا حکم فرمایا گیا ہے ، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرابت دار کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں دوہرا ثواب ہے ، صدقہ کا بھی اور صلہ رحمی کا بھی (ترمذی، حدیث نمبر: ۶۱۸) ایک اور موقع پر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : جو چاہتا ہے کہ اس کی روزی میں کشادگی ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اس کو رشتوں کا خیال رکھنا چاہئے (بخاری، حدیث نمبر: ۹۹۱) ایک اور موقع پر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : جو برابر سرابر کا معاملہ کرنے والا ہو ، وہ رشتوں کا پاس و لحاظ کرنے والا نہیں ؛ بلکہ پاس و لحاظ رکھنے والا وہ ہے کہ جو اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہیں کرے ، وہ اس کے ساتھ بھی صلہ رحمی کا معاملہ کرے (بخاری، حدیث نمبر: ۵۹۴۶)
صلہ رحمی کی بنیاد مذہب پر نہیں ہوتی ، رشتہ و قرابت پر ہوتی ہے ، رشتہ دار چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم ، آپ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ، حضرت اسماء بنت ابی بکر جو آپ ﷺ کی نسبتی ہمشیرہ تھیں ، ان کی والدہ ان کے پاس مدینہ آئیں ، حضرت اسماء نے حضور ﷺسے دریافت کیا : کیا میں ان کو کچھ دے سکتی ہوں ؛ حالاںکہ ابھی وہ مشرک تھیں ، تو آپ نے ان کےساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا (بخاری، حدیث نمبر: ۳۰۱۲) اسی طرح مختلف صحابہ کے والدین یا ماں باپ میں سے کوئی ایک غیر مسلم تھے ، جیسے حضرت ابوبکرؓکے والد حضرت قحافہ مکہ فتح ہونے تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ؛ لیکن حضرت ابوبکر ؓان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے ، حضرت ابوہریرہؓ کی والدہ ایمان نہیں لائی تھیں اور رسول اللہ ﷺکو بُرا بھلا کہتی تھیں ، پھر بھی آپ ان کو اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے (الدرالمنثور:۶؍۵۲۱) اسی طرح کا معاملہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی والدہ کا بھی تھا ، آپ نے ان کے ساتھ بھی بہتر سلوک جاری رکھنے کی تلقین فرمائی ، مدینہ کے کئی انصاری صحابی اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کی مالی مدد کیا کرتے تھے ، اِن مسلمانوں نے اپنے اُن رشتہ داروں کو اسلام لانے کی دعوت دی ، مگر وہ مسلمان ہونے کو تیار نہیں ہوئے ، تو انھوںنے ان کی مدد روک دی ، ان کے اس طرز عمل کو قرآن نے منع کیا ( تفسیر قرطبی:۳؍۳۳۷) کہ ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں ہے ، اللہ جس کو چاہتے ہیں ، ہدایت دیتے ہیں : لیس علیک ھداھم ولکن اللّٰه یھدی من یشاء (البقرہ: ۲۷۲) حضرت ابو طالب ایمان نہیں لائے ؛ لیکن آپ ﷺان کی مدد کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ حضرت علی ؓکی پرورش کا ذمہ آپ نے قبول فرمالیا اور آپ ہی کی توجہ دہانی پر ان کے ایک اور صاحبزادہ حضرت عقیل ؓکی پرورش کی ذمہ داری حضرت عباسؓنے قبول فرمائی ، اہل مکہ قریب قریب سبھی آپ کے رشتہ دار تھے اور آپ ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک کا خیال رکھتے تھے ؛ چنانچہ — جیساکہ آگے آرہا ہے —جب مکہ میں شدید قحط پڑا تو آپ ﷺنے ان کا خطیر مالی تعاون فرمایا ۔
غیر مسلم پڑوسی:
جیسے رشتہ داری کا تعلق ایک قریبی تعلق ہوتا ہے ، اسی طرح کا تعلق پڑوس کا ہے ، قرآن مجید میں دو طرح کے پڑوسیوں کا ذکر کیا گیا ہے ، ایک : رشتہ دار پڑوسی ، دوسرے : اجنبی پڑوسی (النساء:۳۶) جس کو ’ الجار الجنب ‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے ، بعض مفسرین نے تو اس سے خاص طورپر غیر مسلم پڑوسی ہی مراد لیا ہے ، (تفسیر ابن کثیر، آیت مذکورہ) اور ان دونوں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺنے خاص طورپر اس کی تاکید فرمائی — آپ نے فرمایا : وہ شخص صاحب ایمان نہیں —جس کا پڑوسی اس کے شر سے مطمئن نہ ہو ، یہ بات آپ نے تین بار قسم کھاکر ارشاد فرمائی (بخاری، حدیث نمبر: ۵۶۷۰) پڑوسی سے مراد وہ شخص ہے جس کا مکان اس کے مکان سے قریب ہو ، اس میں آپ نے مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ، رسول اللہ ﷺکی ان ہی تعلیمات کا اثر تھا کہ آپ کے صحابہ غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا خاص خیال رکھتے تھے ، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓکے یہاں ایک بکری ذبح کی گئی ، جب وہ گھر تشریف لے گئے تو دریافت کیا : کیا میرے فلاں یہودی پڑوسی کو گوشت بھیجا گیا ؟ پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمایا کرتے تھے (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۵۱۵۴)  پڑوسی کی ایک اور قسم ’’ وقتی پڑوسی‘‘کی ہے ، جیسے : ٹرین یا ہوائی جہاز یابس کا ساتھی ، اس کو قرآن مجید کی اس آیت میں ’’ صاحب الجنب ‘‘ کہا گیا ہے ، اور ان سے اچھے سلوک اور بہتر برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے ، اس حکم میں بھی مسلمان و غیر مسلم دونوں شامل ہیں ۔
خوشی و غم میں شرکت:
ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلق کا تقاضا ہے کہ خوشی و غم میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں ، رسول اللہ ﷺاس کا بھی خیال رکھتے تھے ، اگر کوئی غیر مسلم بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کیا کرتے تھے ، ایک یہودی نوجوان جو آپ کے ساتھ آمد و رفت رکھتا تھا اور محبت کے ساتھ آپ کی خدمت بھی کیا کرتا تھا ، بیمار پڑ گیا تو آپ نے اس کی عیادت فرمائی (بخاری، حدیث نمبر: ۵۶۵۷) غیر مسلم اہل تعلق کی آخری رسومات میں بھی آپ نے شرکت فرمائی ہے ؛ چنانچہ حضرت ابوطالب کے جلوس جنازہ میں آپ تشریف لے گئے اور مقام تدفین تک پہنچے (سنن بیہقی، حدیث نمبر: ۶۴۵۹) اسی طرح آپ نے حضرت علیؓ کواپنے والد ابوطالب کی تجہیز و تکفین کا حکم دیا ، جو مسلمان نہیں ہوئے تھے (اعلاء السنن ۸؍۲۴۲) آپ کی ان ہی تعلیمات کا اثر تھا کہ آپ کے رفقاء بھی اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کے جلوس جنازہ میں شریک ہوا کرتے تھے ۔
تعزیت کے معنی پرسہ دینے کے ہیں ، اس کی بھی اجازت ہے ، اگرچہ آپ ﷺکا صریح عمل اس سلسلہ میں منقول نہیں ہے ؛ لیکن آپ نے عمومی طورپر غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ جس حسن سلوک کی تعلیم دی ہے ، اس کی روشنی میں شریعت اسلامی کی شارحین نے غیر مسلم بھائیوں کی تعزیت کرنے کی تلقین ہے ۔
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ مریضوں کی عیادت کیا کرو ، جو مریض کی عیادت کرتا ہے ، وہ گویا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں رہتا ہے (مسلم، حدیث نمبر: ۲۵۶۸) اس ہدایت میں آپ نے مسلمان اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں کیا ، عیادت کا یہ حکم تمام مریضوں کے لئے ہے ، اسی طرح آپ ﷺنے مصیبت زدہ لوگوں کی دلداری اور ان کی خبر گیری کی تلقین فرمائی : من عزی مصاباً فلہ مثل اجرہ (ترمذی، حدیث نمبر: ۱۰۷۳) یہاں بھی آپ نے پرسہ دینے اور تعزیت کرنے میں مسلمان اور غیر مسلم کا فرق نہیں رکھا ؛ اس لئے یہ احکام تمام لوگوں کے لئے ہیں ، خواہ وہ مسلمان ہو ںیاغیر مسلم ۔
ایفاء عہد:
اخلاقی نقطۂ نظر سے جو احکام آپ ﷺنے دیئے ہیں ، وہ عام ہیں اور اس میں مسلمان وغیر مسلم دونوں شامل ہیں ، مثلاً شریعت کا ایک اہم حکم ہے : وعدہ کو پورا کرنا ، تو جیسے مسلمانوں سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنا ضروری ہے اور وعدہ خلافی گناہ ہے ، اسی طرح غیر مسلموں کے ساتھ بھی وعدہ خلافی گناہ ہے اور وعدہ کو پورا کرنا واجب ہے ، رسول اللہ ﷺکی زندگی میں اس کے واضح نمونے ملتے ہیں ، آپ نے ایسے موقع پر بھی ایفاء عہد کا خیال رکھا ہے ، جب کہ عام طورپر نہیں رکھا جاتا اورایسے حالات میں بھی رکھا ، جن میں وعدہ کو پورا کرنا مسلمانوں کے لئے نقصان کا سبب بن سکتا تھا ،اس کی دو مثالیں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ، غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی ، مکہ کے مشرکین جو حملہ آور تھے ، وہ تقریباً ایک ہزار تھے ، ان حالات میں مسلمانوں کے لئے ایک ایک فرد کی اہمیت تھی ، جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور ان کے والد حضرت حُسَیْل دشمنوں کی فوج کے پیچھے کی طرف سے آرہے تھے ؛ تاکہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں ، اہل مکہ کو اس کا اندازہ ہوگیا ، انھوںنے ان دونوں کو پکڑ لیا اور اس شرط پر چھوڑا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوں گے ، وہ حضور ﷺکی خدمت میں آئے اوران کی خواہش تھی کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوجائیں ؛ لیکن آپ ﷺنے فرمایا کہ چاہے جو بھی ہو ، معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے ؛ چنانچہ آپ ﷺنے ان کو جہاد میں شریک نہیں فرمایا (مسلم، حدیث نمبر: ۱۷۸۷)
اس کی دوسری مثال صلح حدیبیہ ہے ، صلح حدیبیہ میں یہ بات طے پائی تھی کہ مکہ سے جو لوگ مسلمان ہوکر مدینہ جائیں گے ، مسلمان انھیں واپس کردیں گے ، ابھی یہ معاہدہ طے ہی پارہا تھا کہ حضرت ابو جندلؓ پابہ زنجیر رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ان کو اپنے ساتھ لے چلیں ، مسلمان بھی ان کی حالت دیکھ کر اور فریاد سن کر بے چین ہوگئے اور آپ نے اپنے ذاتی تعلق کا حوالہ دے کر سہیل بن عمرو کو راضی کرنے کی پوری کوشش کی ؛ لیکن وہ تیار نہیں ہوا ؛ چنانچہ آپ نے ان کو واپس کردیا اور فرمایا کہ اللہ ہی ان کے لئے کوئی راستہ نکالیں گے ۔ (البدیہ والنہایہ:۳؍۴۰)
(جاری)

۰    ۰    ۰