Sat, Feb 27, 2021

فسادات کا سبق
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
    2020.03.13

یہ تحریرگجرات فساد ۲۰۰۲ء کے موقع پر لکھی گئی اور طبع ہوئی تھی؛ مگر اس میں جس لائحۂ عمل کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ موجودہ حالات میں بھی اسی قدر اہم ہے،جتناپہلےتھا (ادارہ)۔

گجرات کے حالیہ فساد نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ ہمارے ملک کے ایک طبقہ نے اب تک ہندوستان کے ہمہ مذہبی اور ہمہ تہذیبی کردار کو قبول نہیں کیا ہے ، جو لوگ اس ملک میں اقلیتوں کے بھارتیہ کرن کا نام لیتے ہیں اور مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں سے قومی دھارے میں شامل ہونے کی خواہش کرتے ہیں، انھیں چاہئے کہ وہ اقلیتوں کو اپدیش دینے کے بجائے اکثریتی طبقہ میں پائے جانے والے فرقہ پرست عناصر کی صحیح تربیت کریں اور ان کو انسانی زندگی کی اہمیت کا سبق پڑھائیں ۔
گجرات کے حادثہ میں غیر جانب دار ذرائع کا خیال ہے کہ دوہزار سے زیادہ مسلمان موت کے گھاٹ اُتار دیئے گئے، ان میں بڑی تعداد خواتین اور کمزور و معصوم بچوں کی ہے ، انسان کو مارنے کا شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ اور بے رحمانہ طریقہ اس کو زندہ جلا دینا ہے ، گجرات میں زیادہ تر یہی سفاکانہ طریقہ اختیار کیا گیا ، حکومت کے حفاظتی عملہ نے دن کی روشنی میں کئے جانے والے اس جورو ستم پر نہ صرف خاموشی اختیار کی ؛ بلکہ بلوائیوں کی مدد بھی کی اور ستم زدہ لوگوں کے ساتھ مزید یہ ستم کیا کہ ان کی فریاد بھی صحیح طور پر درج نہیں کی گئی، گذشتہ چند سالوں میں یہ ریاست کئی بھیانک فسادات سے گذری ہے ، ہر فساد نے پہلے فساد کے ظلم وجور کا ریکارڈ توڑا ہے اور انسانیت سوزی اور بربریت میںسبقت حاصل کی ہے ، جہاں اس ریاست میں بار بار مسلم کش فسادات ہوئے ہیں، وہیں قدرت نے بار بار انھیں جھنجھوڑا بھی ہے ، زلزلہ کے حادثہ کو تو ایک سال سے ہی زیادہ عرصہ ہوا ہے ، اس سے پہلے ایک گم گشتہ بیماری پلیگ نے بھی اسی ریاست کو اپنے پنجہ انتقام میں کس لیا تھا ، طوفان اور سیلاب نیز گجرات کے ایک حصہ میں بد ترین خشک سالی ان کے علاوہ ہے ؛ کیوں کہ خدا کو اپنی بسائی ہوئی اس بستی میں ظلم وجور سے زیادہ کوئی چیز ناپسند نہیں ، نہ معلوم اب قدرت کے دست انتقام کے ہاتھوں یہاں کیا کچھ ہونے والا ہے 
اس فساد میں کئی باتیں قابل توجہ ہیں ، پہلی بات یہ ہے کہ جہاں وی ، ایچ ، پی کے جنونیوں اور مفسدوں نے ظلم وجور کی خونی داستان اپنی آدم خور اور انسانیت سوز ترشول سے لکھی ہے ، وہیں اچھی خاصی تعداد ایسے امن پسند افراد کی بھی تھی جنھوں نے اپنے مسلمان پڑوسیوں کو اپنے یہاں جگہ دی اور ان کی جانیں بچائیں ؛ بلکہ اپنی اس ہمدردی اور انسانیت کی وجہ سے وہ فرقہ پرستوں کی لعنت و ملامت ، دھمکیوں اور سنگ باریوں کا نشانہ بھی بنے ، اس سے اُمید کی ایک کرن نظر آتی ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ تمام ہندو خونخواری اور آدم کُشی پر اُترآتے ہیں ؛ بلکہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے ، عام ہندو سماج قتل و غارت گری کو ناپسند کرتا ہے اور انسانیت ، بھائی چارا اور رواداری پر یقین رکھتا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ فرقہ پرست میڈیا جوزہر افشانی کر رہا ہے، ہم ان پروپیگنڈوں کے زہر سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کریں اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں انھیں حقائق سے آگاہ کریں ، گروپ میٹنگ ، ہندو مسلم مخلوط اجتماعات اور شخصی ملاقاتوں کے ذریعہ ہم برادرانِ وطن تک پہنچیں اور انھیں صحیح صورتحال سے آگاہ کریں ، مسلمان اس کام کو مہم کے طور پر منصوبہ بند طریقہ سے پورے ملک میں انجام دیں ، مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈوں کی جو جنگ چھیڑی گئی ہے، یہ اس کا مثبت اور مؤثر جواب ہوگا ۔
اس واقعہ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور وہاں ہندو کم تعداد میں تھے ، ہندوؤں نے اس علاقہ کو خالی کر کے ہندو اکثریت محلہ میں جانے سے انکار کر دیا اور انھوں نے اپنے مسلمان پڑوسیوں پر پورے اعتماد کا اظہار کیا ، یہ بہت خوش آئند بات ہے، اس سے مسلمانوں کی اخلاقی برتری اور کردار کی بلندی ثابت ہوتی ہے ، ایسے واقعات کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنا چاہئے ، حق و سچائی نے توپ و تفنگ اور فولاد و آہنگ کی طاقت سے معرکے نہیں جیتے ہیں ؛ بلکہ اخلاق و کرادار کی طاقت اور دلیل و برہان کی قوت سے دشمنوں کے قلوب کو فتح کیا ہے ، جنگ و جدال کی فتح سامانیاں اور ظفر مندیاں وقتی اثر ڈالتی ہیں ؛ لیکن ان کا اثر دیر پا نہیں ہوتا ، جوں جوں وقت گذرتا جاتا ہے ، یہی کامیابی ان کے لئے آہستہ آہستہ لوگوں کی نفرت کا باعث بنتی جاتی ہے ۔
لیکن ! قلب و نظر کی فتح کا معاملہ اس سے مختلف ہے ، یہ دھیرے دھیرے اپنا قدم بڑھاتی ہے اور لازوال کامیابی سے انسان کو ہم کنار کرتی ہے ، اسی چیز نے اسلام کو اس کے ابتدائی دور میں غلبہ عطا کیا ہے اور یہی چیز ہر عہد میں مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت ہے ، انسانی جان و مال اور عزت و آبرو کا احترام مسلمانوں کی فطرت میں ہے ، رسول اللہانے ارشاد فرمایا کہ مسلمان ہے ہی وہ، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں، آپ انے فرمایا : مومن ہے ہی وہ، جس کا پڑوسی اس کے شر سے عافیت میں رہے ،آپ انے غیر مسلم بھائیوں کے خون اور مال کو وہی درجہ دیا، جو خود مسلمانوں کی جان و مال کا ہے ، اسلام کی یہ تعلیمات برادران وطن تک نہیں پہنچیں ، انھیں بتایا گیا ہے کہ اسلام ایک ناروا دار ، سخت گیر اور متشدد مذہب ہے، جو دوسرے اہل مذہب کے ساتھ بدسلوکی کی تعلیم دیتا ہے، مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے اس کو غلط ثابت کر دیں۔
مسلم آبادی میں جو غیر مسلم رہے ہوں اور فساد کے دوران مسلمانوں نے ان کے ساتھ بہتر اخلاق کا سلوک کیا ہو ، ضرورت ہے کہ ان کے تأثرات لکھائے جائیں ؟ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ ان تاثرات کو محفوظ کیا جائے اور غیر مسلم بھائیوں تک انھیں پہنچایا جائے ، اگر الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا تک ان تأثرات کے لئے رسائی حاصل کی جاسکے تو کیا کہنے ہیں ؛ کیوں کہ آپ بیتی اور خود گذشت کا اثر انسان پر سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔
تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو مختلف علاقوں میں اپنی آبادی کے جز یرے بنانا چاہئے ، جن قصبات اور قریہ جات میں چند مسلمان گھر آباد ہیں، یا شہر کے جن اکثریتی محلوں میں چند مسلمان رہتے ہیں ، ہندوستان کے موجودہ حالات میں نہ صرف ان کی جان و مال اور عزت و آبرو ؛ بلکہ ان کا دین و ایمان بھی خطرہ میں رہتا ہے ، وہ فسادات میں اس طرح روند دیئے جاتے ہیں جیسے ہاتھی کی زد میں چیونٹیاں آجائیں ، معاشی اعتبار سے بھی ان کے لئے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں ، غیر مسلم تہذیب و ثقافت بھی انھیں متأثر کرتی جاتی ہے ، بارہا یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ایسے علاقوں میں بسنے والے مسلمان اپنی شکل وصورت، لباس و پوشاک نیز بول چال اور رکھ رکھاؤ سے ذرا بھی پہچانے نہیں جاتے ، بعض علاقوں میں تو ان کے ناموں میں بھی مسلمانیت کی خو، بو باقی نہیں رہی اور ایسا بھی ہوا کہ مخلوط معاشرہ اور مغلوب ثقافت کی وجہ سے وہ برادرانِ وطن کے تہواروں وغیرہ میں بے تکلف اور پوری سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور پوجا پاٹ وغیرہ میں بھی انھیں کوئی عار نہیں ہوتی ، گویا آہستہ آہستہ وہ دین و ایمان سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں ۔
اس ساری صورتحال کا ایک اہم سبب معاشرہ کا اختلاط ہے؛ اسی لئے رسول اللہ ا نے مسلمانوں کو غیر مسلم آبادی سے الگ اپنی آبادیاں بنانے کا حکم دیا، قبیلۂ خثعم کے کچھ لوگ غلط فہمی میں مارے گئے، آپ انے ان کے سلسلہ میں فرمایا : جو مسلمان کسی مشرک کے ساتھ بود و باش رکھتا ہو ، میں اس سے بَری ہوں : انی بریٔ من کل مسلم مع مشرکپھر آپ انے فرمایا : ان دونوں میں سے ایک کی آگ دوسری طرف نظر نہیں آنی چاہئے : ’’ الا لا ترأی ناراھما‘‘ ( نسائی : ۴۷۷۷) اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علامہ سیوطیؒ نے ’’نہایہ ‘‘ کے حوالہ سے لکھا ہے:
 مسلمان پر یہ بات لازم و واجب ہے کہ اس کا گھر مشرک کے گھر سے دور ہو ، ایسی جگہ نہ رہا جائے کہ جب وہاں آگ سلگائے تو مشرک کو اپنے گھر سے نظر آئے ( شرح نسائی ، موسوعۃ السنۃ و شروحہا:  ۱۶؍۳۷)
    حضرت سمرۃ بن جندب ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا:من جامع المشرک وسکن معہ فانہ مظلہ (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۷۸۷۲)علامہ خطابیؒ نے حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے کافروں کے ساتھ ان کے علاقہ میں رہنا درست نہیں: فلا یجوز لمسلم أن یساکن للکافر في بلادھم (موسوعۃ السنۃ وشرحھا: ۹؍ ۱۰۵)
    یہاں حدیث کامنشاء یہی ہے کہ مسلمانوں کے محلے اور آبادیاں علاحدہ ہونے چاہئیں ، علاحدہ آبادی میں ان کی جان کی بھی حفاظت ہے جیسا کہ ظاہر ہے ، مال و کاروبار کی بھی حفاظت ہے ، اس آبادی میں وہ اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ زندگی گذار سکیں گے اور اجنبی ثقافت سے اپنے آپ کو بآسانی بچا سکیں گے ، جو اسلامی معاشرت کا بنیادی مزاج ہے؛ اسی لئے رسول اللہ انے دوسری قوموں کی مشابہت اختیار کرنے کو منع فرمایا ہے ، ایسی آبادیوں میں دینی تحریکات بھی اپنے کاموں کو بہتر طورپر انجام دے پاتی ہیں اور اس کی وجہ سے مذہبی وابستگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔
ہندوستان کے مخصوص ماحول میں مسلمانوں کی علاحدہ آبادی سے مسلمانوں کے سیاسی اور معاشرتی مفادات بھی متعلق ہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاستی اسمبلی نیز پارلیا منٹ میں مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے ان کی نمائندگی بہت ہی کم ہے ، مثلاً خود گورنمنٹ کے اعداد وشمار کے مطابق بہار اور یوپی میں مسلم آبادی کا تناسب پندرہ فیصد ہے ، اس لحاظ سے بہارمیں ان کے ارکان اسمبلی پچاس کے قریب اور یوپی میں ساٹھ سے اوپر ہونے چاہئیں ، اسی طرح تلنگانہ میں میں سولہ فیصد کے قریب مسلم آبادی تسلیم کی گئی ہے ، اس لحاظ سے پچیس سے زیادہ مسلمان ارکان اسمبلی ہونے چاہئیں ؛ لیکن عملاً نمائندگی کا تناسب اس سے بہت کم ہے ، کیرالہ میں مسلم آبادی کاتناسب بہار و یوپی ہی کے قریب قریب ہے ؛ لیکن وہاں مسلمان نمائندوں کی تعداد ہمیشہ فیصلہ کن ہوتی ہے اور ان کے تعاون کے بغیر کوئی سرکار بن نہیں پاتی ، اس کی بنیادی وجہ کیرالا میں مخصوص علاقوں میں مسلمان آبادی کا ارتکاز اور دوسرے علاقوں میں مسلم آبادی کا بکھراؤ ہے ، مسلمان اگر مختلف علاقوں میں اپنی آبادی کے جزیرے قائم کرلیں اور بتدریج وہاں اپنی آبادی کو مجتمع کر لیں تو مستقبل میں ایسی سیاسی طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں کہ وہی اس ملک کے بادشاہ گر ہوںگے اور ان ہی کے قلم سے حکمرانوں کی تقدیر لکھی جائے گی ۔
معاشی اعتبار سے بھی آبادی کا ارتکاز ایک مفید عمل ہوگا ؛ کیوںکہ اس آبادی کی ضروریات کے لئے جن دکانوں اور چھوٹی صنعتوں کی ضرورت ہوگی ، یہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوںگے ، آج صورت حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں نے صنعت و تجارت میں اپنے قدم آگے بڑھائے تو فرقہ پرست عناصر انھیں چن چن کر نشانہ بناتے ہیں اور بعض متعصب صنعت کار بھی نہیں چاہتے کہ انھیں اُبھرنے دیں ، جب مسلمانوں کی اپنی محفوظ آبادیاں ہوںگی ، تو آپ وہاں کل کارخانے بھی قائم کر سکیں گے اور آپ کو اپنی تجارت کے لئے ایک مناسب مارکٹ بھی ہاتھ آجائے گی ، اس لئے یہ وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے باشعور اور معاشی اعتبار سے مستحکم طبقے اس حقیقت کو محسوس کریں ، وہ دور دراز بسنے والے غریب بھائیوں کو اپنے سینے سے لگائیں ، انھیں مناسب قیمت پر اور ادائیگی کی مہلت کے ساتھ زمینیں فراہم کریں اور مسلمانوں کو نسبتاً زیادہ بسائیں کہ اس میں نہ صرف ان کی حفاظت ہے ؛ بلکہ وہ آپ کی حفاظت کے لئے بھی بہترین ڈھال کا کام کریں گے ۔

۰    ۰    ۰