Thu, Feb 25, 2021

*دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز*
مولانا محمد فصیح الدین ندوی

اس دنیا میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے، اسی طرح وہ اگر آخرت پر یقین رکھتا ہے تو وہاں بھی کامیاب ہونا چاہتا ہے، اگر ہم قرآن مقدس کا مطالعہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اللہ تعالی نے کامیابی کے لیے کیا ضابطہ قرآن مقدس میں بیان فرمایا تو ہمیں پتہ چلے گا کہ اللہ کے پاس کامیابی دو کاموں کے ساتھ مشروط کردی گئی ہے اور وہ یہ ہیں *”ان الذین آمنوا و عملوا الصالحات” ایمان اور عمل صالح* اور اس کو بار بار دوہرایا گیا ہے، اگر ہم تھوڑا بھی غور کریں تو پتہ چلے گا کہ ایمان جس کی بنیاد علم نافع پر ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں، علم نافع اور عمل صالح اسلامی زندگی کے دو ایسے ستون ہیں، بقول مولانا محمد الحسنی رحمۃ اللہ علیہ کے زیادہ صحیح الفاظ میں:
*دو ایسے تار ہیں جن کے ملے بغیر صحیح اسلامی زندگی کا تصور قائم نہیں ہو سکتا، اس لئے قرآن میں بار بار اس کی تاکید کی گئی تاکہ یہ بات انسان کے دل میں پوری طرح راسخ ہوجائے کہ جب تک وہ ان دونوں چیزوں کا حامل نہ ہوگا، کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوگا، افسوس ہے کہ یہ دونوں چیزیں جو کبھی لازم و ملزوم تھیں، ایک دوسرے سے علاحیدہ ہوتی جارہی ہیں! اگر کوئی عالم ہے تو عمل کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور اگر عامل ہے تو علم حاصل کرنے کی اہمیت نہیں سمجھتا یا غلط علم پر اپنی بنیاد قائم کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ مضر و خطرناک بات ہے،*
مسلمانوں کے انحطاط و پستی کا شکوہ ہر جگہ عام ہے اور تکیہ کلام بن چکا ہے، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس کی سب سے بڑی جڑ عملی کوتاہی ہے، بہت سی دوسری باتیں جو اس سلسلہ میں کہی جاتی ہیں وہ بھی عمل کی کمزوری کا نتیجہ ہیں، اس لئے اسلامی عمل صرف چند رسوم تک محدود نہیں بلکہ وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، مثلا مسلمان کو محنت کرنے، تجارت کرنے اور دوسروں کو فائدہ پہونچانے کی ترغیب دی گئی ہے، اور وہ اگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے دین پر صحیح طور پر عمل نہیں کر رہا ہے، وہ کسی پر غلط بھروسہ کرتا ہے، خوشامد کرتا ہے اور اپنی خودی کو مجروح کرتا ہے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اپنے دین کی روح ٹھیک طور پر نہیں سمجھی ہے، یا سمجھ کر اس پر عامل نہیں ہے، اس روشنی میں دیکھئے تو اکثر مسائل کی تہہ میں علم و عمل کا یہ فرق نظر آئے گا۔
علم و عمل کا یہ فرق وہ عظیم فرق ہے جس کی وجہ سے بہت سے زندہ صورت انسان حقیقتا مردہ صفت ہیں، بہت سے ہدایت یافتہ نظر آنے والے گمراہ اور بہت سے کامیاب، نامراد و ناکام ہیں، علم کی روشنی میں دیکھئے تو اکثر لوگوں کی سطح بہتر نظر آئے گی، بلکہ بعض اوقات بہت بلند نظر آئے گی اور عمل کے لحاظ سے دیکھئے تو ایسی تاریک اور عمیق پستیاں ہیں جہاں حد نظر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔
یہ تو وہ شکل ہے جہاں عمل کا سایہ بھی نہیں پڑھتا، لیکن اگر روشنی بھی ہے تو وہ ایسی جیسی بھری برسات کی اندھیری رات میں جگنو کی ٹمٹماتی روشنی، لیکن یہ ہر علم و عمل کی بات نہیں ہے، ہر علم و عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں، یہاں مراد صرف علم نافع اور عمل صالح یعنی وہ علم جو خدا تک پہنچانے والا ہے اور وہ عمل جو شریعت کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔
*ہماری زندگی میں کئ ایسی چیزیں آتی ہیں جو ہم ہمیشہ نظر کے سامنے رکھتے ہیں، اور وہ ہمارے نزدیک اصول و معیار کا درجہ رکھتی ہیں، لیکن اگر یہ معیار ہمارے سامنے رہے کہ ہمارے علم و عمل کے درمیان کیا تناسب ہے تو شاید ہماری حقیقت ہم پر جلد آشکارا ہوجائے، اور یہی انکشاف خدا تک پہنچنے کا اصل دروازہ ہے، “من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔ (جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے خدا کو پہچان لیا)۔”*
اللہ تعالی ہمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
۔========================۔
*انتخاب : امان حماد*
*(متعلم : دار العلوم عثمانیہ حیدرآباد)*

*بشکریہ : روزنامہ اعتماد حیدرآباد*
۔14/02/2020