Tue, Mar 2, 2021

بہتر انجام تقوی ہی کا ہے

موجودہ حالات کے تناظر میں
محمد تبریز عالم قاسمی/دارالعلوم حیدرآباد

 

بدنام زمانہ سیاہ قانون یعنی caa,npr,nrc برادران وطن کے ساتھ مسلمانان ہند کے لیے ایک فتنہ اور ایک آزمائش بن کر سامنے آیا ہے،اس قانون کی وجہ سے مسلمانوں کو جن عالمی، ملکی یا صوبائی حالات کا سامنا ہے وہ اس فتنہ کی ایک جھلک ہے، ناحق ایک جان کا کا قتل اللہ کے یہاں پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے ،اس قانون کی آڑ میں اب تک صرف یوپی میں ناحق بیس جانیں لی جا چکی ہیں،ایسے دلخراش حالات سے نمٹنے کے لیے اور درپیش خطرات کے سد باب کے لیے پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے،سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا ہے،صدر جمہوریہ کو جگانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔یقینا یہ ساری تدابیر حالات کا تقاضا اور دارالاسباب کا حق ہے،اس کے باوجود حالات قابو میں نہیں ہیں ،کل ہے وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ہم ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اسی پس منظر میں بعض کمزور ایمان کے لوگوں کی زبان سے سننے کو ملا کہ اس ملک میں مسلمان کا حال اور مستقبل خطرے میں ہے۔
اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہم مسلمان قوم ہیں اسلام وایمان ہماری روح کا حصہ ہے ،ہمارا ایمان ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کائنات طبعی اسباب و محرکات کے تابع ضرور ہے،لیکن اسباب و محرکات کو ایک غیبی طاقت کنٹرول کرتی ہے،وہی طاقت ان اسباب و عوامل میں جان ڈالتی ہے وہی طاقت اسے موثر بناتی ہے۔اس غیبی طاقت نےجب آگ کی تاثیر ختم کردی تو آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے گل گلزار بن گئی۔اسی طاقت نےجب پانی سے ڈبونے اور بھگونے کی تاثیر چھین لی تو حضرت موسی علیہ السلام کے لیے پانی میں راستہ بن گیا۔تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔یعنی ہم مادہ پرست کے بجاے خدا پرست ہیں ،جو مادہ پرستی کے قائل ہیں وہ اسباب و عوامل ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں لیکن صاحب ایمان کا معاملہ اس سے الگ ہے وہ اسباب و عوامل اختیار کرنے کے بعد اس غیبی طاقت کے انتظار میں رہتا ہے چنانچہ وہ اس غیبی طاقت یعنی خدا تعالی کے اشارے اور احکام کی بجا آوری کو نہ صرف ضروری سمجھتا ہے بلکہ انھیں اختیار بھی کرتا ہے،
ہم نے یقینا ان حالات میں احتجاج اور ریلیوں کی شکل میں اسباب وتدابیر اختیار کر لی ہیں لیکن کیا ان اسباب و عوامل میں جان اور تاثیر پیدا کرنے کے لیے اس غیبی طاقت سے مدد طلب کی ہے کیا اس کی رہنمائی میں اپنا سفر جاری رکھا ہے؟اگر ہاں تو بہتر انجام کے انتظار میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے ،اور اگر نہیں ،تو بہتر انجام کے لیے اس غیبی طاقت سے مدد طلب کرنے میں جلد بازی کرنی چاہیے،

غیبی طاقت کی رہنمائی

احتجاج اور صداے احتجاج کے ساتھ تدابیر میں جان پیدا کرنے کے لیے مندرجہ ذیل چیزیں ضروری ہیں
۱:ایمان ویقین میں پختگی
۲:نماز پنجگانہ کے ساتھ کم از کم واجب اور سنن موکدہ کی پابندی
۳:صبر وتحمل
۴:قنوت نازلہ کا اہتمام
۵:صدقات و خیرات کا اہتمام ۶:دعا واستغفاروتوبہ
۷:معاملات کی صفائی
۸:ذکر و فکر کا اہتمام
۹:چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے اجتناب
۱۰:ایک دوسرے کا تعاون

یہ وہ روحانی چیزیں ہیں جو ہمارے اسباب و عوامل میں جان ڈالنے کی بھر پور صلاحیت کے حامل ہیں ۔۔۔
اللہ تعالی کا ارشاد یہ ہے کہ بہتر انجام تقوی ہی کا ہے، دوسری جگہ ہے :بہتر انجام پرہیز گاروں ہی کا ہے ،تیسری جگہ ہے:یقینا عزت اللہ اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہی ہے۔۔۔معلوم ہوا کہ تقوی یعنی گناہوں سے پرہیز ہی وہ غیبی طاقت ہے جس کی وجہ سے انجام اور عاقبت کا رخ ہماری طرف ہوسکتا ہے،اس لیے آئیے ہم سب طئے کریں کہ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے روحانی اسباب و عوامل کو بھی اختیار کرنے کی بھر پور کوشش کریں، احتجاج کے دوران ذکر بھی کریں ،نمازوں کو قضا نہ ہونے دیں،کسی کا کچھ نقصان نہ کریں،کمزوروں کی مدد کریں ،اللہ سے دعا کرتے رہیں ۔۔۔

والعاقبة للمتقين
والعاقبة للتقوى
ان العزة لله و لرسوله وللمؤمنين

ان سب کے بعد یہ کہنا بجا ہوگا کہ مسلمانان ہند کا حال اور مستقبل خطرے میں نہیں ہے بلکہ مستقبل اور حال سب ہمارا ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ ۔۔۔

4جنوری 2020