Thu, Feb 25, 2021
  “سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ”
آر ایس ایس، کی ایک درپردہ اور نہات سنگین سازش پر، انکشاف خیز تحریر
✍🏻 از قلم، عزیر احمد بنارسی
گذشتہ سال، کسی سائل نے دارالعلوم دیوبند، کے دارالافتاء سے یہ استفسار کیا کہ شیعوں کی دعوت قبول کرنی؟ یا انکے گھر کھانا کیسا ہے؟ دارالافتاء نے جواب دیا کہ چونکہ اسکا تجربہ کیا گیا ہے کہ اہل تشیع سنیوں کو کھانے میں ناپاک اور گندی قسم کی اشیاء ملاکر کھلاتےہیں، لہذا انکے یہاں کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے؛ 
اسکے بعد یہ فتوی سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا اور میڈیا میں خوب شیعہ سنی ہوا، 
اب آپ سوچیں کہ اگر یہ سوال کسی عام سنی مسلمان نے کیا تھا تو بات منظر عام پر کیوں اور کیسے آئی؟ 
اسی ہنگامےکےبیچ ایک صحافی پہنچ گیا، جانشین شیخ الاسلام حضرت مدنی مدظلہ العالی کے پاس، اور سوال کیا کہ آپ دیوبند کے فتوے پر کیا کہتے ہیں؟ اس صحافی نے حضرت کو بھی الجھانا چاہا تھا، مگر وہ یہ بھول گیا کہ وہ کسی عام مولوی سے نہیں بلکہ حسین احمد مدنیؒ کے فرزند سے سوال کررہاہے، چنانچہ حضرت مدنی نے نہایت دانش مندانہ اور فلسفیانہ جواب دیا، فرمایا: بھئی اگر فتوی اس پر دیا گیا ہے کہ وہ لوگ کھانے میں تھوک وغیرہ ڈال دیتے ہیں، اگر ہمارا بھائی بھی ایسا کرے تو ہم اسکے پاس بھی نہیں جائیں گے کھانے،اس حساب سے شیعہ سنی کی دعوت میں تفریق تھوڑی ہوئی ” 
حضرت مدنی نے ایسا جواب دیا کہ دیوبند کا فتوی بھی رد نہیں ہوا اور وہ صحافی بھی خاموش ہوگیا؛  خیراُن دنوں میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر یہ فتوی سوشل میڈیا پر کیسے آیا؟ سائل کون تھا؟ میں نے اپنے ایک عزیز سے یہ عرض بھی کیا کہ اسکے پیچھے کھیل کچھ اور ہے، ہو نہ ہو اسمیں Rss کی عیاری کار فرما ہو، میں نے مزید یہ بھی عرض کیا کہ آج کل جتنے بھی اس قسم کے سوالات دیوبند یا کسی بڑے دارالافتاء میں جاتےہیں، وہاں کے مفتیان کو جواب دینے سے قبل سائل کا مکمل پتہ اور اسکی حقیقت طلب کرنی چاہیے؛ بہرکیف
میرا مذکورہ اندیشہ میرے ذہن ہی کے زنداں میں مقید رہ گیا اور دیکھتے دیکھتے کئی مہینے گزر گئے؛ 
آج رات ایک معتمد ذریعۂ ابلاغ *(The Wire)* نے ٹوئٹر پر اپنے اردو کے ہینڈل سے یہ خبر شایع کی کہ *B.J.P* کی آئی ٹی سیل، میں کام کرنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ کس طرح انکو مسلمانوں کے درمیان زہر پیدا کرنے، نیز انکو آپس میں لڑا نے کی خصوصی ٹرینگ دی جاتی ہے،اور وہ کس طرح مختلف مسلم ناموں سے،اسلامی موضوعات پر بحث و مباحثہ کرواتے ہیں، اتنا ہی نہیں  Tha Wire نے یہ بھی لکھا کہ تحقیق کرنے پر ایک حیرت انگیز انکشاف یہ بھی ہوا کہ دارالعلوم دیوبند سے شیعہ، سنی، اور اس قسم کا سوال کرنےوالا کوئی مسلمان نہیں ہے، بلکہ یہ *بجرنگ دل* اور اس جیسی شرپسند *Rss* کی دوسری شاخوں سے تعلق رکھنے والے اسلام اور وطن دشمنوں کی شیطنت زدہ ٹولی ہے؛ 
میں نے جب یہ خبر پڑھی تو جیسے میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہو، اور چند لمحوں کےلئےمجھ پر سکتہ طاری ہوگیا، کہ خدایا! یہ قوم کس قدر عیار ہے اور ہم کس قدر سادے ہیں؟ 
اب بعید نہیں کہ آج کل عالمی میڈیا میں موضوع بحث بنا *ارطغرل ڈرامہ* کے پیچھے بھی ایسی ہی کوئی یہودیانہ اور ہنودانہ سازش کار فرما ہو، اسلئے کہ باری تعالی نے پہلے ہی ان یہودیوں اور مشرکوں کی اسلام دشمنی کا اعلان کرتے ہوۓ اپنے حبیبؐ سے فرمادیاتھا:
 *”لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا‌”* کہ اۓ نبیؐ آپ یہ بات ضرور محسوس کرلیں گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں” 
قرآن کی اس قدر تاکیدی پیشنگوئی کے بعد ان دشمنان اسلام کی دشمنی کتنی باریک اور کتنی شر انگیز ہوگی؟ ظاہر ہے، 
اور اسکا مشاہدہ ہماری سر کی پھٹی ہوئی آنکھیں آج اور ابھی بخوبی کررہی ہیں؛ 
لہذا ہمارے مفتیان کرام کو چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص اس قسم کا سوال کرے تو پہلے اس سے *آدھار کارڈ* یا *پاسپورٹ* وغیرہ، جیسے مستند تصدیق نامے طلب کریں، یا اور کوئی حیلہ یا ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے معلوم ہوسکے کہ وہ کون ہے؟ اور سوال سے اسکا مقصد کیا ہے؟ 
دوسری طرف جو لوگ مسلکی جنون میں سوشل میڈیا پر مناظر اسلام بنے پھرتے ہیں وہ اپنے جوش اور اپنے جنون کو کسی دوسرے کام میں صرف کریں، ورنہ یاد رکھیں کہ کفر ہم کو مٹانے کے لئے پوری طرح کمر کس چکا ہے، دشمنوں کی طرف سے پتھر برساۓجارہےہیں اور ہم ہیں کہ شیشے کے مکانوں میں مست ہیں، غور کیجئے! انجام کیا ہوگا؟ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
“بارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی بھی ہو! 
امتِ مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ”
یاد رکھئے ناعاقبت اندیشی کا نام سادگی نہیں ہے، فراست مؤمن بروۓکار لائیے! دشمنوں کی دشمنی اور عیاروں کی عیاری سمجھ نے کوشش کیجے!