Thu, Feb 25, 2021

اے اللہ ان پر رحم فرما جیسا کہ بچپن میں انہوں نے مجھے پالا ہے
محمد ابراہیم خلیل سبیلیؔ،حیدرآباد۔9908922786

موت ایک بے خبر ساتھی ہے۔ وہ ہنگامہ حیات کو لمحہ آن میںخا موش کر دیتی ہے۔اس کاآنا جتنا یقینی ہے اس کا وقت اتنا ہی غیر یقینی ہے۔ یہ کب، کیسے، اور کہاں آتی ہے کسی کو پتہ تک نہیں چلتا۔ ہم تو دیکھتے ہیںکوئی مرکے پیدا ہوتا ہے اور کوئی پیدا ہوتے ہی مرجاتا ہے۔ کہیں بیٹا اپنے بوڑھے ماںباپ کو دفن کرتا ہے اور کہیں والدین اپنے جواںسال بیٹے کی موت پر آنسو بہاتے ہیں۔ کو ئی ذی روح اس تلخ گھونٹ کو پینا نہیں چاہتا۔ مگر پئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ میری دنیا اس وقت اندھیری ہو گئی جبکہ میرے والدین بھی چندہی سال کے فاصلہ سے انتقال کرگئے۔ وہ وہاں چلے گئے جہاں ہر انسان کو جا نا ضروری ہے۔ ان کے انتقال پر میں آنسوں بہاؤں یا نہ بہاؤں یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ تا ہم دنیا جانتی ہے کہ والدین ان لو گوں میں سے نہیں ہوتے، جن کو صرف کندھا دیکرسپرد لحد کر آے؟ شاید میرے والدین جنت میں بیٹھ کراہل جنت کو اپنی موت کا مطلب سمجھا رہے ہوں گے اور اپنے آنے کی وجہ بتا رہے ہوں گے، تو پھر میں کیوں روؤں…..؟ کیوں آنسو بہا ؤں…..؟ یہ الگ بات ہے کہ آنسو نکل جا یاکر تے ہیں۔ جو خفت قلب پر دال ہیں۔ لیکن میں اتنا نہیں روؤں گا کہ والدین اور جنت کے ما بین اشکوں کا ایک سمندر حائل ہو جا ئے۔ کیونکہ والدین کو میں جنت میں دیکھنا چا ہتا ہوں۔ اگر اللہ ان سے راضی نہ ہوتا اور ملائکہ جنت ان کی آمد کے منتظر نہ ہو تے تو وہ ہمیں یوں ہی تنہا چھوڑکر کبھی رخصت نہیں ہوتے۔ یہ گناہ ہم ہی لوگوں کا ہے کہ ہم نے ہی انہیں جا نے پر مجبور کیا۔ ورنہ کو ئی اپنی اولاد کو اس طرح دکھی اور تنہا چھوڑ کر کبھی نہیں جاتا۔
یہ حقیقت ہے کہ والدین خدائے تعالی کا انمول تحفہ ہیں۔دنیاکی عظیم اور بے بدل نعمت ہیں۔ اسلام نے والدین کو بہت بڑا درجہ عطا کیا ہے۔باپ کو جنت کا صدر دروازہ بنایا تو ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھی ہے۔ جہاںماں کی خدمت کرنے کا حکم دیا تو وہیںباپ کی عزت کو ضرور ی قرار دیا۔ اور اولاد کو حکم دیا کہ وہ اللہ تعالی کے بعد اپنے ماں باپ کا شکر ادا کرے۔ والدین کے مقام کا اندازہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن میں ان کیلئے بطور خاص دعا کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے طور طریقے اور دعائیہ الفاظ بھی سکھلائے گئے۔ اللہ نے ان کی تعریف و توصیف میں کئی ساری آیتیں نازل فرمائیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے بعد بغیر کسی فاصلہ کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا۔ کہا:’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔وہ دونوں یاان میں سے کوئی ایک بوڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں،توتم دوران گفتگو ان کو جھڑکیاں نہ دو، یہاں تک کہ ’’ہوں‘‘ بھی نہ کہو، بلکہ ان سے ادب سے بات کرو۔ اور جب بھی تم ان کے سامنے آؤ توعاجزی کے ساتھ اپنے کندھوں کوجھکادو، اور ہمیشہ دعا میں یوںکہو ’’اے اللہ ان پر رحم فرما جیسا کہ بچپن میں انہوں نے مجھے پالا ہے۔‘‘
میرے والدین کے متعلق ماتمی مضمون لکھتے وقت میںپو ری حقیقت بیانی سے کا م لو ںگا۔ میرے والدین اور استادوں نے مجھے یہی سکھایا ہے۔ بڑوں کی با تیں چھو ٹوں کیلئے نشان راہ ہو تی ہیں۔ اور ان پر عمل کر نا چھو ٹوں کا فرض ہوتا ہے۔ میرے دادھیال کا تعلق ایک گاؤں سے تھا۔ جو دریائے کرشنا کے کنارے آباد ہے۔ یہ گاؤں چھوٹا ہونے کے باوجود سرسبز و شاداب ہے۔ یہاں کے ہرے ہرے کھیت اور کھلیان آج بھی دور تک نظر آتے ہیں۔ دریا کے اوپری حصہ سے گاؤں کامنظر بڑاہی خوبصورت لگتا ہے۔ اور میرا ننھیالی گاؤں بالکل اس کے برعکس ہے۔ یہ علاقہ اتنا بنجر ہے کہ اسے وادی غیر ذی زرع سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔جہاںاونچے اونچے پہاڑوں، سلسلہ وارکہساروںاورسنگلاخ راستوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ لیکن میرے والدین کا کسی ایک گاؤں میں رہنا مقدر کو پسند نہیں تھا۔ وہ دونوں ہی مختلف گاؤں اور قریوں کی ہجرت کرتے رہے۔اوراسی ہجرت نے انہیں تعلیم سے یکسر محروم کردیا تھا۔
لیکن یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے کہ یہ حفاظ اور علماء کے والدین تھے۔ ان کے خاندان کی یہ پہلی لکھی پڑھی نسل تھی۔اس سے قبل ان کے خاندان میں تعلیم و تعلم کا کوئی تصور نہیں تھا۔اور آج ان کی نسل سے کئی سارے حفاظ اور عالم دین بن چکے اور بن رہے ہیں۔ دین ودنیا کی تعلیم اب اس خاندان کا مقدر بن چکی ہے۔ جس کی بنیاد پرخاندان کے تمام لو گ ان سے محبت کر تے، بلکہ ان کا احترام کر تے تھے۔ خاندان میں ان کی قبولیت کا یہ عالم تھا کہ دیگر افراد خاندان ان سے مشورے کر تے۔ انہیں اپنا رہنما سمجھتے۔ ان کی ہر بات پر لبیک کہتے۔ خاندان میں ان کا قول، قول فیصل تھا۔ مجھے اس بات پر بے حد فخر ہے کہ خاندان میں جتنے لوگ رجوع الی اللہ ہوئے ہیں یامساجد کی زینت اورمدارس کی رونق بنے ہیں، صد فیصد میرے والدین خاص کر والد کی کوششوں کا نتیجہ اور ان کی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔ میرے والد کی کوئی مجلس دعوت الی اللہ سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ سفر ہو یا حضر ہر مقام پر دعوت دینے کووہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان کا ہر سفر دعوت و تبلیغ کی غرض سے ہوا کرتا تھا۔ ان کے انکساری کے مظاہرے چلتے پھرتے دیکھے جا سکتے تھے۔ ان کا زیادہ تر وقت عام لوگوں کے ساتھ گزر تا تھا۔ وہ ان کے ساتھ اس طرح گھل مل جاتے جیسے وہ انہیںمیں سے ہوں۔ وہ لوگوں سے رابطہ دوستی یا دنیاداری کے لئے نہیں بلکہ ایمان اور اسلام کی بنیاد پر کرتے تھے۔دین کی بات دوسروں تک پہنچانے کے لئے سڑکوں کی دھول تک کو اپنے اوپر فوقیت دینی پڑتی ہے، اور یہ وصف ان میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ محلہ میںوہ ’’مسجد کے کھونٹے‘‘ سے مشہور تھے۔ انہیں تلاش نے کیلئے لوگ گھر اور فون سے زیادہ مسجد کا سہارا لیتے تھے۔ میرے والد میں ایک چیز اور بھی تھی کہ جوحق بات دوسرے کہنے سے خوف کھا تے تھے وہ بے دھڑک بو ل دیتے تھے۔ وہ یہ نہیں دیکھ تے تھے کہ بات کڑوی ہے یا میٹھی؟ مخاطب امیر ہے یا غریب؟
میرے والد دن کے روزہ دار اور رات کے شب بیدار تھے ۔ دن کی کڑی محنت کے باوجود آہ سحر گاہی ان کی عادت تھی۔ اس وقت بھی جب ساری دنیا محو خواب ہو تی ہے، اپنے خواب ناز سے دور رہ کرنمازاور دعا میں مصروف رہتے تھے۔ تہجد کے آنسو اور فجر کی تلاوت ان کا روز کا معمول تھا۔ جس جگہ وہ اپنی زندگی کی نئی صبح کر تے،وہیں پہ فجر اورتلاوت میںپورا سویرا کر دیتے۔ کبھی کسی صبح کوسورج انہیں سوتا ہوا نہیں پا تا تھا۔ وہ غروب کے وقت جس حال میں چھوڑ تا طلوع کے وقت اسی حالت میں پا تا۔ اور وہ مصلی پر بیٹھے نماز یا تلاوت میں مصروف رہتے۔ ان کے ہا تھ میں وہی تسبیح ہو تی اور ان کے سامنے وہی قرآن رکھا ہو تا۔کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کی رات کب ختم ہوئی اور صبح کب نمو دار ہو ئی۔ کثرت تلاوت کی وجہ سے ان کے کئی قرآن کریم بوسیدہ ہوچکے تھے۔ تہجد کے وقت تو میں نے ان پر دیوانگی کا عالم دیکھا ہے۔ سارے لو گوں کو ان پر ترس آتا تھا۔ لیکن خود ان کی نظر میں ان کی ذات قابل ترحم نہ تھی۔ وہ اس وقت دنیا ومافیھا سے بے خبر ہوجاتے اور اپنے لئے نہ سہی،اپنی اولاد،خاندان اور سارے عالم کیلئے ہدایت و عافیت اورخیرو بھلائی کی دعائیں مانگتے۔ایسے وقت میں میںنے ان کی راز ونیاز کی باتیں بھی سنی ہیں۔ اور ان کی خلوت اورتعلق مع اللہ کی روحانی کیفیات کا ادراک بھی کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو جس حالت میں جیتا ہے اسی حالت میں مرتا ہے۔میرے والد کی پوری زندگی بھی مساجد میں گزری تھی موت بھی مسجدہی میں آئی۔ دوپہر کا وقت تھا۔ظہر کیلئے ابھی کافی دیر تھی۔ وہ عادت کے مطابق وضوکر نے بیٹھ گئے۔ اورسر کا مسح کیاہی چاہتے تھے کہ غش کھاکر گر پڑے۔ وہاں سے اٹھاکر صحن مسجد میں لایا گیا۔ دو چاربڑی سانسیں لیںاور پھربڑے اطمینان کے ساتھ خانہ خدا میںجان جان آفریں کے سپرد کردی۔
میری ماں بڑی خود دار تھیں۔ اعتراضات کو بر داشت کر نے کی ان میں صلا حیت نہیں تھی۔ ان کی فطرت نے ہی انہیں یہ سبق سکھا یا تھا۔ ویسے بھی بے جا اعترا ضا ت برداشت کر نے کی تا ب کس آدمی میں ہو تی ہے ؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ میری ماں کی محبت بھی سخت تھی اور نفرت بھی۔ لیکن رقابت کا جذبہ ان میں بہر صورت نہیں تھا۔ ان کے اکثر اوقات گاؤں کی باتوں اور یادوں میں گزرتے تھے۔ وہ گاؤں سے کوسوں دوررہ کر بھی وہاں کی یادوں کوہمیشہ سینے سے لگائے رکھتی تھیں۔ در اصل پرانی یادیں ہی ان کے اپنے ساتھی تھے۔ اور وہ انہیں کی صحبت میں رہنا زیادہ پسند کر تی تھیں۔ میری ماں ذمہ دار عورت تھی۔ سب سے بڑی ذمہ داری انہوں نے تعلیم وتربیت کی اٹھا رکھی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ خاندان کی کئی لڑکیاں اور لڑکے ہمارے یہاں رہ کرتعلیم حاصل کرتے تھے۔اس سلسلہ میں انہوں نے چند نونہالوں کوگود بھی لے رکھا تھا۔ اور بڑی چاؤ سے ان کی تربیت کرتی تھیں۔ محلہ میں میر ی ماں کو ’’مسجد والے خالہ‘‘ کے نام سے پکار ا جاتاتھا۔ محلہ کے بڑے چھوٹے سبھی ان کی عزت کرتے تھے۔ماہانہ اجتماع اور عیدین کے موقع پر محلہ کی سبھی عورتیں، بچے اور بچیاںخالہ سے ملنے ضرور آتیں ۔ اور خالہ ہرایک سے ملتیں اور ان کی ضیافت کرتیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ماں کا مشاہدہ بھی زبر دست تھا۔ وہ خارجی چیزوں سے کہیں زیادہ داخلی چیزوں کوپرکھنے کا ہنر رکھتی تھیں۔لوگوں کے چہروں اور آواز سے پہچان لیتی تھیں کہ کون بیمار ہے اور کون بھوکا ہے؟ خصوصا رات کے وقت — جب ہر چیز نیند کی آغوش میںچلی جاتی ہے —میری ماں ہمارے انتظار میںبیٹھی کھٹکھٹانے کی آواز سن کر آنے والا کا نام بتا دیاکرتی تھیں۔ صوفی حضرات اپنے دھیان اورحواس خمسہ کے ذریعہ باہمے اور بے ہمہ کا درجہ حا صل کر تے ہیں لیکن میری ماںنے یہ کیفیت اپنی چھٹی حس کے ذریعہ حاصل کی تھیں۔
ماں کو مرے تقریبا ایک مہینہ گزرچکا۔ انہیں اپنے مولا سے ملنے کیلئے فراش علالت پر تقریبا چار ماہ انتظار کر ناپڑ ا۔ اس دوران وہ بہت کمزور ہوچکی تھیں۔ بدن دبلا ہوچکاتھا۔ جسم پر جھریاں آچکی تھیں۔ کڑواہٹ اتنی زیادہ تھی کہ شہید بھی انہیں تریاق معلوم ہو تا تھا۔ لیکن رنگ پھول کی طرح شگفتہ اور دل آویز تھا۔ وہ شدت تکلیف سے کچھ بول نہیں سکتی تھیں، لیکن اللہ کا نام لیکر کراہتی ضرور تھیں۔ کبھی مسکراتی تو یوں جیسے جسم کی تمام رگوں میں پھول کھلے ہیں۔ اور زندگی کے چمن میں خزاں ہی نہیں، ایسے نحیف اور بوڑھے جسم سے بیماری کو بھی پیار ہو گیا تھا۔ اندر اندر سے کھا رہی تھی باہر باہر ویسے سجا رہی تھی۔ آخر وہ دن بھی آگیا جس کا ماں کوبڑی دیر سے انتظار تھا۔ اس د ن ماں کی بے چینی اور بڑھ گئی۔ جسم میں رعشہ پیدا ہوگیا۔ سانسیں پھولنے لگیں۔ ڈاکٹروں نے دیکھا، دوائیں تجویز کیں۔لیکن مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دواکی ۔
رات کے دو بج رہے تھے۔پورا وارڈمریضوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تیمار دار اپنے اپنے مریض کے پاس بیٹھے بیٹھے اونگھ رہے تھے یاسوچکے تھے۔ دواخانے میں ایک گونہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس خاموشی میں دیوار سے لگا مانیٹر چیخ چیخ کر کہ رہاتھا کہ ماں کے دل کی دھڑکنیں بتدریج سست ہوتی جارہی ہیںاور سانسوں کاپلٹنا مشکل ترہوچکا ہے۔ ڈاکٹرس بھاگے بھاگے آئے۔مقدور بھر کوششیں کیں،دعائیں ہوئیں۔ لیکن ان کاپیام اجل آچکا تھا۔ پھرکیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے میری ماں اس دار فانی سے کوچ کرگئیں۔ اور ہم اس بھری دنیا میں یتیمی کا داغ لئے تن تنہا رہ گئے…..
جب والدین اس جہاں سے رخصت ہوجاتے ہیں تو گھر کی رونقیں اور برکتیں بھی اپنے ساتھ لے کرجاتے ہیں۔ اور اس کی جگہ ڈھیر ساری ذمہ داریاں چھوڑ جاتے ہیں۔جب تک وہ زندہ تھے آسمان سے جو بلا بھی آتی تھی ان کا پتہ پوچھتی تھی۔ان کے بعد یہ ذمہ داری اولاد کو قبول کر نی پڑتی ہے۔ اور ہر طرف سے آنے والی بلاؤں پر ہمیں سینہ سپر ہو نا پڑتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اللہ تعالی ما ں باپ کو دے کر چھین کیوں لیتا ہے…؟ جب اس نے دیا ہی تھاتوکیاضرورت تھی واپس لینے کی…؟ حالانکہ وہ بے نیاز ہے… بے پرواہ ہے…کیا اسے دل بہلا نے کیلئے انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے؟یااوپر کی دنیا کا نظام چلانے کیلئے وہ ایسا کرتا ہے؟ میں پوچھنا چاہتاہوں—لیکن کیسا سوال؟ وہ سب سے پوچھ سکتا ہے کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا ۔ وہ شہنشاہ ہے اور اپنے ارادوں کا مالک ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا اچھا ہے کیا برا ہے۔اگراللہ میرے والدین کو دنیا میںنہ بھیجتا تو وہ دنیا کے رشتوں کو کیسے نبھاتے؟ اور جنت کا ساماں کہاںسے کرتے؟ اور اگرواپس نہ لیتا تو اس کی جنت کو کیسے دیکھتے اور اس سے بڑھ کراس کا دیدار کیسے کرتے؟اعمال کرنے کیلئے زندگی اور جزا پانے کیلئے موت بہر حال ضروری ہے۔یہ اللہ کا قانون ہے۔ وہ غالب اور حکمت والا ہے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔