Wed, Feb 24, 2021

’’لاک ڈاون میں سسکتی انسانیت کی صدائیں ‘‘
(سکنڈ لاک ڈائون کے کرب ناک دنوں میں مسلمان کے لئے کرنے کے کام )
از :مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
asif_nadwi@yahoo.com – 9849611686

’’۱۵ ، اپریل ، جمعرات کا دن ہے ،سکنڈ لاک ڈائون کے صبح کے اوقات ہیں جس میں بازار وتجارت کو کچھ گھنٹوں کے لئے چھوٹ دی ہوئی ہے،اپنے ماموں خسرکے ساتھ کچھ ضروری اشیا خرید کرنے کے لئے محبوب نگر کے بڑےبازار پہنچا،دفعۃ دیکھا کہ ایک دبلا پتلا،کمزور وناتواں انسان لوگوں کوسراپا التجا بنا تک رہا ہے،اور جو کوئی اس کی طرف توجہ دے ،زبان اور ہاتھ سےان سے کچھ مانگ رہا ہے،اس کے قریب ہمیں اپنے کام سے رکنا ہوا تو وہ بالکل قریب آیا اور اپنے پیٹ پر سے کرتا اٹھاکر کہا کہ کئی دن سے کھانا نہیں کھایا،کچھ مدد کرئیےکچھ رقم دی گئی تووہ کہنے لگاکہ وہ کوئی پروفیشنل بھکاری نہیں ہےبلکہ وہ ماربل کی فنشنگ کا کام کرتا ہے،کام بند ہے،کھانے کے لالے پڑے ہیں،گھر میں کھانے کا راشن بھی نہیں ہے،اس کی اس بے بسی پروہیں ایک دکان سے چاول دلایا گیا،جیسے ہی اس نے دیکھا کہ اس کے لئے چاول خریدے جارہے ہیں تو وہ گاڑی کے قریب آیا اور پائو ں چھونےلگا ،سختی سے اسے روکا کہ تم مسلمان ہو ایسا ہرگزنہیں کرنا چاہیے،اس کے اس عمل سے احساس ہوا کہ وہ بے حد ضرورت مند ہے تواور بھی بہت ساری ضروری چیزیں دلائی گئیں تو ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ پڑے وہ بے قابو ہوگیا، اس نے احسان مندی سے دوسری مرتبہ پائوں چھونے کی کوشش کی ،اسے محبت کے ساتھ تفصیل سے سمجھایا گیا کہ مسلمان ایسا کام نہیں کرسکتا ،یہ سارا چشم دید واقعہ سر بازار ایک غیر مسلم کی دکان کے سامنے پیش آیا ۔‘‘
یہ کوئی ایک منفرد واقعہ نہیں ہے بلکہ اب ۲۱ کے دن پہلے ملک بندی اور ۱۹ دن کے سکنڈ لاک ڈائون کے بعد ایسے ہزاروں بلکہ لا تعداد بھوکے ،مجبور ومحتاج انسانوں کی داستانیں خون دل رلانے والی ہیں،ین ڈی ٹی وی دیکھنے والوں نے بتلایا کہ ایک جوڑا پہلی ملک بندی میں اپنے گھر سے بے گھر ہوا اور راستہ میں ایک چھپر تلے پناہ لیا ،اس کی حاملہ بیوی نے اسی چھپر تلے بچے کو جنم دیا،میاں بیوی کئی کئی دن فاقہ کا شکار ہوئے،او رپھر حال یہ ہوا کہ معصوم کو پلانے کے لئےماں کی چھاتی میں دودھ بھی نہیںآرہا کہ وہ کئی دن سے بھوکی ہے تو دودھ کہاں سے آئے؟ تو اس بھوک وپیاس میں شیر خوارمعصوم کی آہیں آسمان شگاف ہوتی ہیں تو وہیں ماں باپ کی بے بسی قہر برساتی ہے۔(اللہ ان مصیبت زدوں پر کرم کرے )مزدور وکمزور طبقہ اس قہر کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے اور ہورہا ہے ،چھوٹی تجارتوںسے وابستہ خاندان دست نگر بن چکے ہیں،غریب بلبلا رہا ہے،اور ایسے سنگین وقت اور بھوکمری میں ایسے خودار وجفا کش بھی ہیں جو اپنی بھوک سے لڑ رہے ہیں،اپنی بے سروسامانی کے گھونٹ پی رہے ہیں ،اپنے ضرورت مند ہونے کو ظاہر ہونے نہیں دے رہے ہیں،دست سوال پھیلانے اور مانگنے سے گریز کررہے ہیں۔گویا وہ کہہ رہے ہیں

مرا طریق امیری نہیں ، فقیری ہے
خودی نہ بیچ ، غریبی میں نام پیدا کر

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنی ضرورتوں میں دوسرے انسانوں کا محتاج ہے ،بے نیاز ذات صرف اللہ کی ذات عالی ہے،ایسے حالات میں انسانی بنیادوں پر ہمیں اللہ کے بندوں کی مدد کرنے اور ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے آگے آنے کی سخت ضرورت ہے،اور پھر ایک ایسے وقت کہ لاک ڈائون کی وجہ سےاورکوویڈ۱۹ سے بچائو ومقابلہ کے لئے دنیا تھم سی گئی ہے،تجارت ومعیشت رک گئی ہے،یومیہ معمولات اور آپسی معاملات پر روک لگادی گئی ہے،انگریزی میں ایک محاورہ ہےprecaution is better than cure، احتیاط ، علاج سے بہتر ہے ،اور جیسا کہ ہم اردو میں کہتے ہیں کہ اگلا گرا پچھلا ہشیار،تو یہ ملک بندی اپنے ملک کو بچانے اور اہل ملک کے حق میں ضروری ہے۔لیکن ، لیکن! خدارا ، ہوش کے ناخن لیجئے،بیکاری کے عادی نہ ہوجایئے ،ٹی وی کی خبروں سے زیادہ زمینی حقائق اور گرد وپیش کے حالات وواقعات بلکہ حادثات سے باخبر رہیے اور نا صرف معلوم کریئے بلکہ اللہ کے بندوں تک پہنچ کر اور ان تک ضروریات زندگی پہنچا کر ایک مشکل ترین وقت میں سہار بن جائیے ،انسان کے بار ے میں ایک عربی محاورہ ہے کہ وہ احسان کا غلام ہوتا ہے، اَلاِنْسَانُ عَبْدُ الْاِحْسَان ۔کہیں ایسے تیرہ وتار حالات میں مسلمان صرف انسان ہی بن کر نا رہ جائے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے ایمان کا سودا کربیٹھے ،غربت وافلاس کے ہاتھوں دولت ایمان نا بیچ دے،غریبی ومفلسی ، بھوک ومحتاجگی کہیں اسے کفر تک نا پہنچا دے،رسول مقبول ﷺ ے نے یہ پیشن گوئی فرمائی ہےکہ کَادَ الْفَقْرُ اَن یَّکُوْنَ کُفْرا۔ ڈر ہے کہ کہیں فقر وغریبی میں مسلمان اپنا ایمان نا کھوبیٹھے۔( الضعفا الکبیر جلد ۴ ، صفحہ ۲۰۴)رسول اللہ ﷺ نےفقر وفاقہ ،قلت وذلت ،چیزوں کی کمی اور دوسروں کے سامنے رسوا ہونےسے اللہ کی پناہ مانگی ہے ( سنن ابو دائود ، حدیث نمبر: ۱۵۴۴) جہاں آپ ﷺ نےمال کے زیادہ ہونےکے فتنہ سے پناہ مانگی ہے وہیں فقروغربت کے فتنہ سےبھی پناہ چاہی ہے،اَلَّلھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْغِنٰی ، وَمِنْ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ ( ابن جریر طبری ، مسند عمر جلد ۲ ، صفحہ ۵۹۰)چیزوںکی کثرت ودولت کو آزمائش قراردیا ہے تو قلت وغریبی کو امتحان فرمایا ہے،(صحیح بخاری حدیث نمبر ۶۳۷۵) فاقوں سے اللہ کی پناہ چاہی ہے۔(صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر ۱۰۳۰) قرآن مجید میں اللہ تعالی نے واضح فرمایا کہ خوف، بھوک، مال وجان میں کمی ،چیزوں میں کمی یہ اللہ کی آزمائش ہے او راللہ اس حال میں اپنے بندوں کا امتحان لیتے ہیں۔ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر :۱۵۵) سورہ قریش میں فرمایا گیا ہے کہ خوف سے پناہ دینے والی ذات اور بھوک میں کھلانے والی ذات اللہ کی ہے۔
رمضان المبارک خیر وبھلائی ،عبادت وتلاوت ،روزہ و افطار اورسحری ، قیام وتراویح ،دعا واستغفار ، توبہ ومِِغفرت ،رحمت وبخشش کا موسم بہار ہے،اپنی نماز وتراویح ، اپنے روزہ وعبادت اور تلاوت کی فکر کے ساتھ ساتھ ہم مسلمان عام طور پر اسی مہینہ میں زکوۃ ادا کرتے ہیں ( جب کہ زکوۃ ،رمضان المبارک کی عبادت نہیںہے بلکہ وہ بالکل ایک الگ اسلامی بنیاد ہے، اس موضوع پر کسی اور موقعہ پر تفصیل سے بات کریں گے )زکوۃ تو فرض ہے،اور اسے پورے حساب کتاب سے پورا پوراادا کرنا ہے ،ایسے نازک ترین وقت میں ،اور انسانیت کے مشکل ترین دور میں مال کی زکوۃ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ایمان کے بقا کے لئے شان صدیقی کی ضرورت ہےکہ غزوہ تبوک میں جیسے حضرت ابو بکرؓ نے اپنے گھر کاسارا اثاثہ وسامان خدمت اقدس ﷺ میں پیش فرمادیا۔صدیقی کردار ہمیں دعوت دے رہاہے وہیںفاروقی پیکر بھی بنناہے کہ ضروریات زندگی غریب تک پہنچانے کے لئے اسےاپنی پیٹھ پر لادکر پہنچانا ہے،ایسا نا کرسکیں کسی اور طریقہ سے پہنچائیں ،یا پھرضرورت مندوں تک پہنچانے والوں تک ہم اپنا حصہ پہنچائیں۔کہیں ایسا نہ ہوکہ غریب کا چولھا رمضان میں نہ جلے اور وہ روزہ نہ رکھ سکے۔روزہ رکھ لے تو افطار وسحر نہ کرسکے۔رمضان المبارک کو تورسول اللہﷺ نے بھلائی وہمدردی کا مہینہ قراردیا ہے ۔
دنیابھر کی یہ سنگین ترین وبا مسلمانوں کے لئے ایک خیرکا ذریعہ بن کر سامنے آئی ہے،خوشی کی بات ہے کہ مسلمان اپنی انسانیت دوستی کی تعلیمات کے علم بردار بن رہے ہیں، جماعت اسلامی ہند، جمعیت علماہند، مجلس اتحاد المسلمین ،صفا بیت المال انڈیا، ساہیتہ ٹرسٹ حیدرآباد ،حیدرآباد زکوۃ چیاریٹبل ٹرسٹ ، فیض عام ٹرسٹ حیدرآباد،زکوۃ فانڈیشن ٹرسٹ،تحریک پیام انسانیت، ہیلپنگ ہیانڈ فاونڈیشن ، وغیرہ اور بھی بڑی بڑی تنظمیں میدان عمل میں ہیں ، اور چھوٹی چھوٹی سوسائٹیز جیسے ویزن ٹرسٹ ، ریڈروز گروپ حیدرآباد ، قصد السبیل ٹرسٹ ،ایم پی جی ،جیسی اور بھی بے شمار تنظیمیں ضلعی سطح پر بہت ٹھوس اور ضروری کام کررہی ہیں، جزاھم اللہ خیرا ۔بلکہ انفرادی طورپر جیسے عامر عبد اللہ صاحب ، ولی اللہ سمیر صاحب ، ڈاکٹر فصیح الدین علی خان صاحب ،ڈاکٹر قیصر حسین جنید صاحب، مقامی سیاسی مسلم قائدین مقامی سطح پرکام کررہے ہیں۔ اللہ ان کو قبول فرمائے۔ایسی تنظیمیں بھی ہیں جن سے راقم واقف نہیں ، اور ایسے ایسے مخلص حضرات وخواتین ہندوستان بھر میں ہیں جو نام سے زیادہ کام پر یقین رکھتے ہیں ،اور ایسے مشکل ترین وقت میں اپنے آپ کو ریا کاری سے بچانے کے لئے خاموش طور پر بہت ہی منظم انداز میں خدمت خلق انجام دے رہے ہیں ،اللہ ان مخلصین کے دل دردمند وفکر ارجمند کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمادے، کام کی نئی نئی شکلیں اس موقعہ سے سامنے آئی ہیں جیسے راشن کی تقسیم سے لے کر میڈیکل ایکپمنٹ ،کھانے کی سربراہی ، مذہب وملت کی تقسیم کے بغیر انسانی بنیادوں پر کام کرنا ، ڈاکٹرس ومیڈیکل اسٹاف کا ساتھ دینا ، پولیس وانتظامی شعبہ میں کارکرد افراد کی مدد کرنا ، سر راہ ترکاری وسبزی بانٹنا اور معمولی رقم میں بیچنا ۔ائمہ کرام وموذنین اور مساجد کے خادمین ،علماکرام ودینی مدارس کے استاتذہ کی مدد ،آن لائن فری میڈیکل کنسلٹیشن،فری ٹرانسپورٹیشن۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ کام ملت اسلامیہ کی پہچان تھے ،یہ صفات مومنانہ صفات تھیں ،یہ کردار نبوی کردار ہے ،اورآج لاک ڈائون میں جو کام مسلمان کررہے ہیںاس کی عملی تعلیم وتربیت کی بہترین مثال ہمارے نبی محسن انسانیت ﷺ نے پورے چالیس برس تک مکہ کی سرزمین میں مخالف ماحول میںکمال خوبی سےانجام دے کراپنے کردار سے سارے مکہ کو گرویدہ کیا تھا اسی لئے حضرت خدیجہ ؓنے پہلی وحی کے بعد آپ کی جن خوبیوں اور جن خصوصیات کا اظہار کرتے ہوئے آپ ﷺ کو تسلی دی تھی ، ان میں کہا تھا کہ آپ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے والے،بے بسوں بے کسوں کا سہارا بننے والے، غریبوں کے مولی ، یتیموں کے ماوی ، بیوائوں کے سہارا، دکھیاروں کے دل کا مداوا، کمزوروں کے مددگار ، مہمان نواز،سچ بولنے والے ، قدرتی آفات میں اللہ کے بندوں کے مددگار ہیں۔ (صحیح بخاری ، حدیث نمبر : 4953)کاش کہ سارے ہندوستان میں اس موقعہ پر سارے مسلمان جاگ جائیں اور اس نبوی مشن عملی میدان میںعلم بردار بن جائیں تو پھر متاثرین کومسائل وپریشانیوں سے چھٹکارہ ملے گا وہیں دین وایمان کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔لیکن افسوس ہے کہ دینے والے ہاتھ کم ہیں ،اور بیہودہ ولایعنی ٹک ٹاک، یوٹیوب ،انسٹاگرام، وغیرہ میں لاک ڈائون کے دن ورات کاٹنے والے بہت ہیں۔ اخبارات سے بڑی خوش کن خبریں بھی پڑھنے کو مل رہی ہیں جیسے مہاراشٹرا کے مقام کولار کے دو مسلمان بھائیوںنے تو مثال قائم کردی کہ انہوں نے اپنی۲۵ لاکھ کی جائیدا د بیچ کر غریب پروری کی تاریخ رقم کردی (سالار ، بنگلور ۱۳ اپریل ۲۰۲۰)اسی طرح کام کرنے اور مثالیںبننے کی ضرورت ہے ،غریب پرورمحسن انسانیت ﷺ کی امت غریبوں محتاجوں ، ضرورت مندوں تک پہنچ کر ضروریات زندگی پہنچاکر، اس سنگینی کو سرخروئی میں بدل سکتی ہے،ملک بھر میں پھیلائے گئے نفرت کے پروپگنڈے کا جواب اب عملی طورپر ہی ممکن ہے ،غیر مسلم برادران وطن کی خدمت، انسانیت کی خدمت بھی ہے اور وقت کا بڑا ضروری کام بھی ۔

اٹھ کہ بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

وہیں زمینی حقائق سے واقفیت بھی ضروری ہے، مسلم مخالف الیکٹرانک میڈیا کی آنکھ سےواقعات وحالات کو دیکھیں یہ ضروری نہیں ہے بلکہ سر کی آنکھوں کو بصیرت کا سرمہ لگالیں تو پھراس ملک بندی میں بلبلاتی انسانیت نا صرف دکھائی دے گی بلکہ لاک ڈائون کی بیکاری میں کام کرنے کی نئی نئی راہیں سامنے آئی گی۔اس پس منظروپیش منظر میں کچھ پر خلوص گذارشات ہیں ، غور فرمائیں۔
دردمندانہ گذارشات:
خدارا ! ایسے کربناک ونازک ترین وقت میںتو ایک ہوجائیے۔مسلک وجماعت کے ساتھی نہیں بلکہ کام میں ایک دوسرے کے ساتھی بن جائیے۔ غیر مسلم این جی اوز کو اپنے کام میں شریک وشامل کریئے۔مختلف میدانوں میں توجہ کریں۔کام میں غیر ضروری ویڈیو گرافی وتصویر کشی سے ممکن حد تک بچیں۔ کچھ کام علانیہ اور کچھ کام پوشیدہ طور پر کرنے کے ہیں ان کو سمجھیں۔سوشیل میڈیا کے ’’ غازیوں‘‘ سے گذارش ہے کہ لایعنی وغیر ضروری ،اور ہنسی مذاق کے بیکار کچرے کے بجائے خیر کےان کاموں کو شیر وفارورڈ کریں۔خیر وخدمت نہ کرسکیںتو اللہ کے لئے شر وفسادکے ساتھی نہ بنیں۔ضرورت مندوں کو معلوم کرکے ضروریات پہنچائیں،ماڈرن ٹکنالوجی کو خدمت کا خادم بنائیں۔ایک دوسرے کو مفید مشورے دیں۔ہر مسلمان اپنے افراد خاندان کا ذمہ دار بنے ، مقامی سیاسی تنظیموں اور شخصیتوں سے رابطہ میں رہیں ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلمین تک بالخصوص غیر مسلم پڑوسیوں تک اپنے کام کے ذریعہ پہنچیں۔ دعائوں میں سب کو شامل کریں۔راقم بھی اپنے حد تک عملی میدان میں کام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اللہ قبول فرمالے۔ آمین مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز وماسٹر ٹرینر حج وعمرہ حیدرآباد
۔۲۰ ، اپریل ۲۰۲۰ پیر نزیل محبوب نگر

 

www.learnarabic.in
91-9849611686
http://www.facebook.com/mufti.s.nadwi
https://twitter.com/muftiasifhyd
Institute of Arabic Hyderabad
Regular , Weekend and Online Courses
2nd Floor Telegraph Office,Beside Hotel City Diamond. Mehdipatnam,Hyderabad.500028. A.P. INDIA.