Fri, Feb 26, 2021
ایک اہم درمندانہ گذارش
اس وقت مرکز نظام الدین کے خلاف میڈیا میں جو شرانگیزی کی جار ہی ہے، یہ بہت ہی افسوسناک ہے اور فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی ہے،میڈیا کو تو اس پر بحث کرنی چاہئے تھی کہ گورنمنٹ نے بالکل اچانک کیسے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا، کم سے کم اس کو ۴۸؍یا ۷۲؍ گھنٹے کا وقت دینا چاہئے تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں دوسرے علاقوں کے جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں، خواہ وہ کسی مقصد کے لئے گئے ہوئے ہوں ان کو اپنے گھر واپس آنے کا موقع ملتا، پھر لاک ڈاؤن شروع ہوتا،اسی وجہ سے پورے ملک میں جو مزدور ہیں وہ اس وقت سخت پریشانی سے دو چار ہیں، حکومت اگرچہ ان کے لئے سہولتوں کا اعلان کر رہی ہے؛ لیکن واقعتاََ یہ سہولتیں ان تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں، اس پس منظر میں تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اس وقت مسلکی اور تنظیمی اختلافات سے اوپر اُٹھ کر مرکز نظام الدین کی حمایت کریں اور ان کے موقف کو طاقت پہنچائیں اور ایسے نازک مواقع پر باہمی اختلافات پر مبنی تنقید وتبصرہ سے گریز کریں، اس سے اُ ن لوگوںکو تقویت حاصل ہوتی ہے جو یوگی کے اجودھیا میںجا کر پروگرام کرنے پر تو ایک حرف نہیں کہتے اور یہ جو ہزاروں مزدور پورے ملک میں پھنس گئے جو بے چارے بھوکے پیاسے ہیں، اور جتنے لوگ ابھی تک کورونا وائرس سے مرے ہیں اس سے زیادہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مر گئے ، ان پر توکوئی گفتگو نہیں کی جاتی؛ لیکن مرکز نظام الدین کے مسئلہ کو اُبھارا جا رہا ہے تو ہمیں بہت ہی حکمت عملی اور دانشمندی کے ساتھ اس مسئلہ پر اظہار خیال کرنا چاہئے اور غیر شعوری طور پر ان لوگوں کی سازش کا شکار نہیں ہونا چاہئے، جن کا اصل مقصد اسلام کو نقصان پہنچانا اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

۳۱؍مارچ ۲۰۲۰ء                    خالد سیف اللہ رحمانی