Wed, Feb 24, 2021

قابل توجہ دو اہم باتیں 
مدارس اور سیدوں کے تقاضوں کو نظر انداز نہ کریں
از: مفتی ابوبکر جابر قاسمی، حیدرآباد.

پورے ملک میں وبائی مرض اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے امت مسلمہ میں بھی بطور خاص رفاہی کاموں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے محلوں، علاقوں، دیہاتوں میں کھانا پکاکر تقسیم کرنا، راشن کڈس بنانا، مخیرین حضرات کا فکر مند ہونا، یہ سب خوش آئند مناظر نظر آرہے ہیں، انسانیت نوازی، نفرت کا جواب محبت سے پیش کئے جانے کی اچھی رَوِش قوم کے اندر محسوس ہورہی ہے، جہاں ضرورت ہے وہاں پر بھی، جہاں ضرورت نہیں ہے وہاں پر بھی اس طرح کے رفاہی اور خیراتی سرگرمیاں دیکھنے میں محسوس ہورہی ہے..
1. ہم سب جانتے ہیں کہ مدارس انسان گر ہیں آدم گر ہیں، مدارس امت مسلمہ کیلئے پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتے ہیں، مدارس کے ذریعے سے ہی بالعموم علماء اور علم اور دوسری سرگرمیاں، ملت اسلامیہ کی انجام پاتی ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ زکوٰۃ و صدقات کی ساری پونجی ابھی صرف کردی جائے اور پھر اس کے بعد جب حالات لاک ڈاؤن کے ختم ہونے بعد ملک کی معیشت جس کے بارے میں بہت سارے اندیشے اور خطرات ماہرین معیشت کی طرف سے ظاہر کئے جارہے ہیں اس گرتی یا تباہ شدہ معیشت کی صورت حال میں امداد صحیح نہیں ہوپائے گی مدارس کا نظام کیسے چلایا جائے گا، یہ مفکرین ملت اور دردمندان قوم کیلئے اہم مسئلہ ہے، ابھی سے یہ خبریں سننے میں آرہی ہیں کہ چندہ دہندگان اور معاونین مدرسہ انہیں مہینوں سے تعاون کرنے سے اپنے ہاتھ پیچھے کررہے ہیں، دستہ کش ہورہے ہیں .اور معاشی بحران کی شکایت کرتے ہیں…. اس وجہ سے منصوبہ بندی ہونا چاہیے، اندھادھند ابھی جذبہ انفاق کو پورا ختم نہیں کرنا چاہیے، بہتر یہ ہے کہ ہر سال کا جو تعاون سفیر حضرات کا مکان یا دکان پر امداد کی جاتی تھی وہی امداد آن لائن سالانہ متعین شدہ اتنی ہی ٹرانسفر کردی جائے.
2. اسی طریقے سے سید حضرات کو علماء کے ابتدائی مفتی بہ قول کے مطابق زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی ہے، لیکن ہمارا معاشرہ اس معاملے میں بھی عجیب رخ پر چل رہا ہے، نہ زکوٰۃ دیتا ہے اور نہ ھدیہ اور نفل صدقہ سے مدد کرتا ہے نہ انکی بیٹیوں سے نکاح ہوتے ہیں نہ انکی بیٹیوں سے نکاح کے سلسلے میں ہمت افزائی کی جاتی ہےایسے موقع پر کوشش تو یہی ہونی چاہیے کہ ھدیہ اور نفل صدقہ سے امداد کی جائے، اگر ایسی کوئی گنجائش نہیں بنتی ہو، بہت زیادہ تنگی پیش آرہی ہو، اس مال کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو تو پھر بعض علماء اور افتا اکیڈمیوں کے استثنائی قول کے مطابق زکوٰۃ سے بھی انکی مدد کردی جاسکتی ہے.