Fri, Feb 26, 2021

بہت یاد آتےہیں حضرت سعید
محمد ابوبکر بن قاری محمد ابو ذر حیدرآباد✒️
(متعلم دارالعلوم دیوبند )
9059958266

موت ایک بدیہی اور مسلمہ حقیقت ہے،اس دار فانی میں ہر اس فرد بشر کو جو زندگی کا عارضی لباس پہن کر نمودار ہوا ہے کسی نہ کسی وقت قضا وقدر اور داعئ اجل کو خواہی نخواہی لبیک کہنا ہی پڑتا ہے ،جسکو خلاق عالم نے٫٫ كل نفس ذائقة الموت،، سے تعبیر فرمایا ہے
لیکن جس طرح انسانوں کی زندگی میں نمایاں فرق ہوتا ہے اسی طرح ہر فرد کی موت مساوی نہیں ہوتی، بعض بندگان خدا کی رحلت ایسی ہوتی ہے جس سے ان بے شمار افراد کی زندگی کا سر سبز وشاداب باغ ویران ہوجاتا ہے جوانکے معتقدین کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں، انکی امیدوں کی کرنیں گویا غروب ہونے لگتی ہیں،جنکی موت پرآنسوبہانے والوں کے قطرہائے اشک غم والم تھمنے اور رکنے کو تیار نہیں ہوتے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر وہ شیئ مغموم و محزون ہے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے،جنکی غم رحلت کی کہانی سیاھی سے نہیں بلکہ خون جگر سے لکھی جاتی ہے ؂
موت اس کی ہےکرےجس کازمانہ افسوس
یوں توآتےہیں دنیامیں سبھی جانےکےلئیے
اور یہ بات ان شخصیات کے لئے ہوتی ہے جو خیرامت کے لئے دل درد مند رکھتے ہیں، خدمت قوم وملت اور حفاظت دین وشریعت کےپاکیزہ جذبات سےسرشارہوتے ہیں،جنہوں نےاپنی حیات مستعار کو دین ومذھب کی حفاظت واشاعت کے لئے وقف کردیا ہو، ایسی نایاب شخصیات دنیامیں آکرخداکےطرف سےطےشدہ وقت مقررہ پوراکرکےچلی جاتی ہیں مگر اپنے پیچھے ایسی روشنیاں اور انمنٹ نقوش چھوڑ جاتےہیں جن سےآنےوالی نسلیں بہرور اور مستفید ہوتیں ہیں اور جب کبھی انکی یاد آتی ہے تو دل غمزدہ، آنکھیں نمدیدہ اور انسانی وجود ماہی بے آب کی طرح بے تاب ہو جاتا ہے، انھیں باکمال وبااوصاف شخصیات میں سے مادر علمی ازھر ہند دارالعلوم دیوبند کی زینت،حقائق آشنا عظیم منفرد مفسر قرآن،رئیس المحدثین،دیدہ ور فقیہ،علمی تفوق وکمال کے فرد فرید،وحید دہر،یکتائے زمانہ،نصف صدی سے زائد درس نظامی کے منتہی کتابوں اور بارہ سال کےطویل عرصہ تک بخاری شریف کالاجواب درس دینےوالے،علوم ظاہری کے ساتھ علوم باطنہ میں بھی مہارت رکھنے والے،کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سکریٹری،آبروئے دیوبندیت، مصلح الامت،سعید الملت،حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں،جو بتاریخ 25/ رمضان المبارک/ 1441ھ 19/ مئی/ 2020 ء، بروز منگل بوقت صبح سات بجے ہم سب کو داغ مفارقت دے کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئےہیں انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ کی وفات سے تاریخ کا ایک باب مکمل ہوگیا، علم وعمل کا ایک حسین آفتاب تھا جو غروب ہو گیا، حق و صداقت کا ایک مجسم پیغام تھا جو ہمیشہ ہمیش کے لئے ختم ہو گیا، اب حق و صداقت کی یہ آواز کبھی نہ سنی جائے گی، ان کی وفات سے بطور خاص علمی میدان میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسباب کی کائنات میں اس کی تلافی بظاہر بعید نظر آتی ہے
سانحۂ ارتحال تا امروز (تادم تحریر)ایک عشرے سےزائد وقت بیت چکا ہے لیکن تاحال اس بندۂ عاجز کی کیفیت
مگر تیری مرگ ناگہانی کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے، کی ترجمان ہے، ہر آن اور ہر لمحہ حضرت کی یادیں (بطور خاص وقت کے عظیم محدث ہونے کے باوجود قیام گاہ سے دارالعلوم تک معمولی رکشہ میں متواضعانہ سفر کرنے کا قابل دید منظر، آخری درس میں حضرت کا بے قابو ہوکر بہ آواز بلند رونا ، رخصتی کے وقت تمام طلباء کو ہاتھ ہلاتے ہوئے سلام کر کے رخصت ہونا ودیگر یادیں) دل ودماغ کاجزء لا ینفک بنی ہوئی ہیں، آنکھیں نم دیدہ،دل مغموم وبے قرار ہے،تسلی کا کوئی سامان نہیں ہے، کیوں کہ کون کس کی تعزیت کرے؟
ہر کوئی اس وقت قابل تعزیت ہےاور یہ کیوں نہ ہو؟ جب کہ ہم سب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ذات اقدس سے محروم ہوئے ہیں اور درحقیقت یہ جامع منقولات ومعقولات، اسلاف کی امانتوں کےپاسبان، فکر ولی اللہ (رحمہ اللہ) کے ترجمان، نکتہ داں محدث،شیخ دہر،ولئ کامل،علمی و عملی میدان کے مرد مجاہد،مردم ساز استاذبے نظیرسے محرومی ہے
آپ کی ذات گرامی فضائل وکمالات کےپھولوں کا ایک ایسا حسین گلدستہ تھی کہ اس میں کا ہر گل اس قابل ہے کہ اس کا تفصیلی تذکرہ کیا جائے تو وہ ایک داستان بن جائے لیکن ان دل شکن لمحات میں آپ کی شخصیت جلیلہ پرکوئی تفصیلی مقالہ یا تحقیقی مضمون لکھنے کا لاکھوں محبین شیخ میں سےمجھ جیسے طفل مکتب کانہ کوئی قصد ہےاور نہ عاجزاس صلاحیت کا مالک ہے، صرف حضرت اقدس رحمہ اللہ کی حیات سعیدہ کا تذکرہ کرنے والےخوش نصیب افراد کی فہرست میں شرف شمولیت کے حصول کی غرض سے اور ؂
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا کا سہارا لیتے ہوئے چندبے ترتیب جملے سپردِ قرطاس کر رہا ہوں
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک نمایاں خصوصیت آپ کا طرزتدریس تھاجو بے شمارخوبیوں کی وجہ سے طلبہ میں بے حد مقبول ومرغوب تھا،خلاق عالم نے آپ کوافہام و تفہیم کاایسا عظیم مسلمہ ملکہ عطا فرمایا تھاکہ مشکل سے مشکل ترمباحث کوبہت آسان اور سہل تر انداز میں ذہن نشین فرماتے تھے،آپ کا درس انتہائی مرتب ،منضبط اور پرکشش ہوتا تھا،بطور خاص آپ کے درس میں چاشنی اس وقت دوبالا ہوجاتی تھی جب آپ اپنےنقلی و عقلی دلائل و براہین سےمدلل ومزین تفردات بیان فرماتے تھے، ساتھ ہی قابل تقلیدوتحسین بات یہ تھی کہ آپ رحمہ اللہ افراط و تفریط سے کنارہ کش ہو کر تفردات کے متعلق منصفانہ رو یہ اختیار فرماتے تھے
(چنانچہ حضرت اقدس رحمہ اللہ کے مکان پر بعد نماز عصرہونے والی علمی مجلس میں ایک مرتبہ بندہ نے زکوۃ کے متعلق ایک سوال دریافت کیا(جس میں بعض مفتیان کرام کا تفرد اور دارالافتاء کااختلاف تھا)کہ مسئلۂ مذکورہ میں حضرت کی کیا رائےہے؟ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نےاشارۃاہل تفردمفتیان کرام کے ساتھ اپنی رائے کے اتفاق کا اظہار فرماتے ہوئےتفردات کے متعلق یہ ضابطہ بیان فرمایاکہ کسی بھی مفتی کی رائے کومسلکی حیثیت سے اسی وقت پیش کیا جاسکتا ہے جب دارالافتاء اس رائے کو قبول کرے ورنہ کسی مفتی کی رائےکو مسلکی حیثیت سےپیش نہیں کیا جا سکتاہےبلکہ مفتی کی شخصی رائےسمجھی جائےگی اس واقعہ سے تفردات کے متعلق آپ کے منصفانہ مزاج کا اندازہ ہوتا ہے
آپ امتیازی خصوصیات کی مقبولیت کی ایک وجہ طلبہ کوسبق سمجھانےکی تڑپ وکڑھن اورفکرودل سوزی تھی جس کو حضرت رحمہ اللہ کے صاحبزادے (مولانا قاسم صاحب)نے ایک ملاقات کے دوران بندہ سے بیان کیاتھا کہ والد صاحب شب میں کس طرح تڑپتے ہیں اس کا آپ( طلباء) کو اندازہ نہیں ہے،ہم گھر میں والد صاحب کی اس حالت کا مشاہدہ کرتے ہیں،
نیز تصنیف و تالیف کے ذریعہ بھی آنے والےطالبان علوم کے لئےکئی درجن کتابوں کا علمی تحفہ دیا ہےجو مشرق ومغرب میں افادیت، قبولیت اور شہرت کے عظیم سہرے سے مزین ہو چکی ہیں،علاوہ ازیں عملی میدان میں انابت الی اللہ، تضرع،تواضع،تقوی،للہیت،ریاضت، پرہیزگاری،حلم و بردباری،اتباع سنت، استغناءاور بے باکی وحق گوئی وغیرہ آپ کی زندگی کے قابل ذکر اور لائق تقلید پہلو ہیں
دعا گو ہوں کہ رب ذوالجلال حضرت کی مغفرت فرمائے،درجات کو بلند فرمائے،ہمیں اوردارالعلوم دیوبندکوحضرت کا نعم البدل عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین
(مختصر سوانح : —
اسم گرامی : سعید احمد
والد محترم: جناب یوسف صاحب رحمہ اللہ
جائے پیدائش : پالنپور،گجرات،ہند
تاریخ پیدائش: 1940 ءکا آخر 1360ھ
تاریخ وفات:۔ 25/رمضان المبارک/1441ھ 19/مئی/2020ء
دن: منگل
وقت: صبح سات بجے )