Fri, Feb 26, 2021
آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
8-11-2019
اسم مبارک ا لکھتے یا پڑھتے وقت درود و سلام بھیجنا
سوال:-  حضور اکرم ا  کا ذکر ،یا نام سنے تو درود شریف پڑھنے کا حکم ہے، ورنہ وہ بخیل کہلائے گا ، مگر اسم مبارک پر ا  لکھنے کا طریقہ کب سے رائج ہے ، اور اس کے لکھنے کا کیا حکم ہے ؟ جب کہ صحابۂ عظام کے مکتوبات میں اسم گرامی کی کتابت پر ’’ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ درج نہیں ہے، ( لیکن علامہ خالد سیف اللہ رحمانی کی تالیف’’ قاموس الفقہ ‘‘ قسط اول میں صفحہ :۴۶؍ پر تحریر ہے کہ)’’ علامہ حضرت شہاب الدین آلوسی ؒ کی روح المعانی :۲۲/۸۱-۸۲ کے حوالہ سے اس شخص پر جس کے سامنے رسول اللہ ا  کا ذکر کیا جائے اور سننے والے اور لکھنے والے کے لئے بھی جو رسول اللہ ا کا اسم گرامی بھی لکھے؛ لیکن یہ بات تواتر سے ثابت نہیں کیا جاتا ہے۔  (احسن ثمر، جلگاؤں )
جواب:-  شریعت میں جو ذکر جہاں مطلوب ہے ، وہاں زبانی بیان کرنے کی صورت میں اس کو زبانی اور لکھنے کی صورت میں اس کو تحریری طور پر ذکر کرنا مشروع ہے، مثلًا: ابتداء کلام میں اللہ کا ذکر مسنون ہے، پھر جب حضور ا نے خطوط لکھے تو اس میں ابتداء میں تحریری طور پر بسم اللہ تحریر کرایا، (مشکوٰۃ، حدیث نمبر: ۳۹۲۶)اسی پر صلوۃ و سلام کو بھی قیاس کرنا چاہئے، محدثین نے بھی اس کی صراحت کی ہے ، بلکہ حافظ ابن صلاح ؒنے ’’صلی اﷲ علیہ وسلم ‘‘کی بجائے صرف ’’ صلعم ‘‘ لکھنے کی بھی مذمت کی ہے ، (مقدمہ ابن صلاح:۱۲ ) یہ کہنا درست نہیں کہ صحابہ ث  کے مکاتیب میں درود نہیں لکھا جاتا تھا ، صحابہ ث کی تحریروں میں بھی آپ اکے ذکر مبارک کے ساتھ درود موجود ہے اور محدثین نے شروع سے اس کا اہتمام فرمایا ہے ۔
کیا پیشاب لگنے سے وضو واجب ہے؟
سوال:کسی باوضو آدمی پر بچہ پیشاب کردے ، یا جانور کے پیشاب کی چھینٹیں پڑجائیں تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا ؟ یا کپڑا اور بدن کے اس حصہ کا دھولینا کافی ہوگاجہاں پیشاب لگا ہو ؟        ( عتیق اللہ، بابا نگر )
جواب:- جس جگہ پیشاب لگ جائے اس کا دھودینا کافی ہے، وضو کرنے کی ضرورت نہیں ، وضوء تو اس وقت ٹوٹتا ہے، جب جسم کے اندر سے پیشاب خارج ہو، یا کوئی اور نجاست نکلے ۔
نماز شروع کرنے کے بعد نیت میں تبدیلی
سوال:-  اگر نفل نماز پڑھ رہے ہوں ، لیکن رکوع میں جانے سے پہلے نفل کی نیت ختم کرکے فجر کی قضاء کی نیت کرلے ، تو کیا نیت تبدیل کرسکتے ہیں ؟ اور یہ فجر کی قضاء ہوگی، یا نفل ؟                ( عبداللہ حیات، سنتوش نگر )
جواب:-  روزہ کے سوا تمام افعال میں یہ بات ضروری ہے کہ اس فعل کے کرنے سے پہلے ہی نیت کرلی جائے، اس لئے کہ فعل کے آغاز کا وقت ہی اصل میں نیت کا محل ہے، اور اسی وقت کی نیت معتبر ہوگی، جب آپ نماز ایک نیت سے شروع کر چکے ، تو اب نیت کرنے کا کوئی موقع و محل باقی نہیں رہا، لہذا اب بعد میں قضاء فجر کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں ، اس لئے یہ نفل نماز ہی شمار ہوگی ، ہاں ، اگر قضاء فجر کا خیال آنے کے بعد آپ نے دوبارہ تکبیر تحریمہ کہہ کر قضاء فجر شروع کی اور ازسرنو نماز ادا کی تو اب یہ فجر کی قضاء ہوگی ، لیکن چونکہ آپ نفل نماز شروع کرچکے تھے، اورنفل عبادت بھی شروع کرنے کے بعد واجب ہوجاتی ہے، لہذا آپ پر نفل کی ان دورکعتوں کی بھی قضاء کرنی واجب ہوگی(ہندیہ: ۱؍۱۱۳)نیز یہ بات بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ نفل شروع کر کے بلا عذر توڑنا جائز نہیں ہے : إن القطع یکون حراما و مباحا و مستحبا و واجبا ، فالحرام بغیر عذر  (شامی:۲؍۴۴۱)
پہلی صف افضل ہے یا امام سے قریبی جگہ ؟
سوال:-    صف اول کا ثواب زیادہ ہے ، اگر مسجد بہت وسیع ہو اور امام کی آواز نہ پہنچ سکتی ہو ، تو صف اول کو ترجیح دی جائے ، یا صف دوم میں امام سے قربت حاصل کی جائے ؟                  ( عباد الرحمٰن ، سنگاریڈی )
جواب:-  حدیث میں صفِ اول کی فضیلت آئی ہے اور صفِ اول میں امام سے متصل پوری لائن شامل ہے ،خواہ وہ نسبتًا امام سے دور ہی کیوں نہ ہو ، اس لیے صفِ دوم میں وہ فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی ، رہ گئی امام کی آواز جہاں پہنچتی ہو وہاں نماز پڑھنے کی فضیلت ، تو اگر دوری کی وجہ سے آواز نہیں پہنچ پاتی تو ایک تو اسے عبادت میں سبقت کا شرف حاصل ہوا ، اور دوسرے آواز نہ پہنچنے کی وجہ سے یکسوئی اور دلجمعی حاصل کرنے میں مشقت بھی اٹھائی اور عبادت میں شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے جس قدر مشقت ہوگی ، اسی قدراجر میں اضافہ ہوگا ، اس لیے بہر حال صفِ اول کی فضیلت زیادہ ہے ۔(بخاری، حدیث نمبر:۷۲۰)
وعدۂ طلاق، طلاق کا اختیار دینا نہیں ہے
سوال:- (خلاصۂ سوال) زید نے ایک تحریر لکھ کر اپنی بیوی ہندہ کودیا ، جس میں یہ فقرہ تھا ’’ میں ہندہ کو حق دیتا ہوں کہ وہ طلاق حاصل کرے اور میں بغیر رکاوٹ کے طلاق دے دوں گا ‘‘ اس بنیاد پر ہندہ  نے اپنے پر طلاق واقع کر لی اور اس کا اصرار ہے کہ جب شوہر نے اس کو طلاق کا تحریرا حق دے دیا تو وہ اس کو واقع کر نے کا اختیار رکھتی ہے تو کیا واقعی اس تحریر کی بنیاد پر اس کو اپنے پر طلاق واقع کر لینے کا حق حاصل ہے ؟ کیا زید کے طلاق نہ دینے کے باوجود وہ اپنے کو وظیفۂ زوجیت سے کنارۂ کش رہنے پر مجبور کر سکتی ہے اور خود کو مطلقہ گردان سکتی ہے؟           (فیروز اختر ، مہاراشٹر)
جواب:-  (الف)  ہندہ اپنے آپ پر طلاق واقع کرنے کا حق نہیں رکھتی ، اس لئے کہ زید کا یہ فقرہ کہ ’’ہندہ کو میں حق دیتا ہوں ، وہ طلاق حاصل کر لے اور میں بغیر رکاوٹ کے طلاق دیدوں گا‘‘ حق طلاق کی حوالگی نہیں ہے ، بلکہ صرف طلاق کا اختیار دینے کا وعدہ ہے ۔(ب)  چونکہ وہ بیوی برقرار ہے ، اس لئے اس کا خود کو وظیفۂ زوجیت سے علیحدہ رکھنا نشوز اور شوہر کی نافرمانی ہے۔
جھوٹی کامیابی پر حاصل ہونے والی ملازمت
سوال:-ایک شخص نے اپنی تعلیم کے دور میں اساتذہ اور ذمہ داران امتحان کو بہلا پھسلا کر یا رشوت دے کر کامیابی حاصل کی اور اس کی بنیاد پر اسے ملازمت مل گئی، تو کیا نوکری سے ملنے والی تنخواہ درست ہوگی؟     (عظمیٰ ثمرین، نظام آباد )
جواب:-  ذمہ داران امتحان سے غلط طریقہ پر سوالات حاصل کر لینا ، یا زیادہ نمبرات حاصل کر لینا ناجائز اور سخت گناہ ہے اور جو ذمہ داران اس میں شریک ہوں وہ بھی گنہگار اور فسق کے مرتکب ہیں ، (معارف القرآن:۳؍۷۰) اس کامیابی کی بنیاد پر جو ملازمت حاصل کی گئی ہے جھوٹ اور دھوکہ ہونے کی وجہ سے بھی شدید گناہ ہے ، لیکن تنخواہ چونکہ ڈگری کی نہیں بلکہ کام کی دی جاتی ہے ، اس لئے تنخواہ حلال ہوگی ۔
روزہ کی نذر بھول جائے تو خیرات ضروری ہے ؟
سوال:- ریقین نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ، دونوں نے توبہ کی اور آئندہ دنیوی پریشانی سے بچنے کے لیے خدا سے دعا کرتے ہوئے دو نفل روزے رکھنے کا ارادہ کیا ، جس پر ایک فریق نے فورًا عمل کرلیا ، اور وہ دنیا میں کامیاب اور سرور کی زندگی گزار رہا ہے ، جب کہ دوسرا فریق دنیوی مصروفیتوں میں پڑکر روزہ رکھنا بھول گیا اور وہ طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہے ، دو نفل روزوں کے بجائے خیرات و غیرہ کرنا چاہئے؟( تسلیم الدین ، بھونگیر )

جواب:-  اصل میں گناہ کبیرہ کے معاف ہونے کے لیے توبہ کرنا ضروری ہے ، روزہ رکھنا ضروری نہیں ، اب اگر فریقین روزہ رکھنے کے ارادہ کو اپنی زبان پر بھی لے آئے تھے ، تو یہ نذر ہے ، اور نذر کے مطابق روزہ رکھنا ان پر واجب ہے ، جس فریق نے روزہ نہیں رکھا تھا اگر وہ روزہ رکھنے سے معذور نہ ہو تو انہیں روزہ رکھنا ضروری ہے ، اور اگر روزہ رکھنے سے معذور ہو گیا ہو اور بظاہر اس کا امکان نہیں کہ وہ پھر صحت مند ہو جائیں گے اور روزہ رکھ سکیں گے تو ان کے لیے اس کی گنجائش ہے کہ روزہ رکھنے کے بجائے اس کا فدیہ ادا کریں ، اور اگر صرف دل میں روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا ، اس ارادہ کو زبان سے ادا نہیں کیا ، تو یہ نذر نہیں ، کیوں کہ نذر اور قسم میں زبان سے بولنا ضروری ہے : و رکنھا اللفظ المستعمل فیھا  (درمختار مع الرد:۵؍۴۷۳) البتہ چوں کہ اس نے ایک کار خیر کا عزم کرلیا تھا ، اس لیے اس صورت میں بھی روزہ رکھ لینا ہی بہتر ہے،اسی طرح صدقہ کرنا بھی واجب تو نہیں، لیکن چوں کہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ صدقہ آفات کو دفع کرنے کا باعث ہوتا ہے اور اس سے گناہ بھی معاف ہو تا ہے ۔ (مجمع الزوائد:۳؍۱۱۲) اس لیے کچھ صدقہ بھی کرے تو بہتر ہے ۔
نہ نر نہ مادہ جانور
سوال:-  ہماری بکری نے تین بچے دیے ، جس میں ایک بچہ جو اس وقت آٹھ ماہ کا ہے ، نہ وہ نر ہے ، اور نہ مادہ ، اس بچہ کو فروخت کرنا ، یا اس کا گوشت فروخت کرنا اور کھا نا ، کیا جائز ہے ؟       ( فخر الاسلام، امیر پیٹ )
جواب:-  جو جانور حلال ہے ، ان میں نر اور مادہ کی قید نہیں ، اگر ان میں نر یا مادہ کے اعضاء مکمل طور پر نہ ہوں ، یا دونوں ہوں ، تب بھی وہ حلال ہیں، ان کا کھانا ، ان کو فروخت کرنا ، اور ان کی قیمت سے استفادہ کرنا درست ہے ۔

۰    ۰    ۰