Thu, Feb 25, 2021
آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2019.12.13

تبلیغِ اسلام کے لئے دوسرے مذاہب کی کتابوں سے استدلال
سوال:-  آج کل ما شاء اللہ کچھ لوگ برادرانِ وطن میں دعوتِ اسلام کا کام کرتے ہیں ، اس میں بائبل اور ویدوں وغیرہ سے بھی استدلال کرتے ہیں ، بعض علماء اسے ناپسند کرتے ہیں کہ جب قرآن کریم آچکا اور یہ کتابیں منسوخ ہوگئیں ، تو اب ان سے استدلال کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟ (محمد حسن، میوات )
جواب:-  توحید ، رسالت ، آخرت اور نبوتِ محمدی کو ثابت کرنے کے لئے ان کتابوں سے استدلال کیا جائے اور ان کتابوں کے ماننے والوں کو اسلام کی طرف بلایا جائے ، تو یہ جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ؛ چنانچہ قرآن مجید میں مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ کو حضرت ابراہیم ں کے صحیفوں اور تورات و انجیل کے حوالہ سے اسلام کی دعوت دی گئی ہے ، فقہاء نے بھی اس کے درست ہونے کی صراحت کی ہے اور لکھا ہے کہ تورات و انجیل کے حوالہ سے رسول اللہ ا کی نبوت کو ثابت کرنا جائز ہے ؛ کیوںکہ اس کا مقصد ان ہی کی تسلیم شدہ باتوں کو ان پر لازم کرنا ہے :
’’ وأما استدلال العلماء في إثبات رسالۃ سیدنا محمد ا بالمذکور في أسفار التوراۃ والإنجیل ، فذلک للإلزام علیہم بما عندہم ‘‘ (۱)
اس استدلال کا مقصد اس کتاب کو غیر منسوخ سمجھنا نہیں ہے ؛ کیوںکہ نسخ کا تعلق فروعی احکام سے ہوتا ہے ، نہ کہ ایمانیات سے ، اور غیر مسلموں کو دعوت ایمانیات کی دی جاتی ہے ، اسی طرح اس کا منشا اس پوری کتاب کی تصدیق بھی نہیں ہوتا ؛ بلکہ جو باتیں قرآن و حدیث کے موافق ہوں ، بطور استدلال ان کی تصویب مقصود ہوتی ہے ۔
ہائے یہ توہمات !
سوال:-  آج کل مسلم گھرانوں میں بھی بعض باتیں مروج ہیں ، جو بڑے حضرات کی طرف سے چلی آرہی ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں : ٭ کھڑا ہوکر کنگھی کی جائے تو تہمت لگے گی  ٭ کچرا سمیٹ کر ایک جگہ نہ رکھیں  ٭ دروازہ کی زنجیر نہ بجے اورنہ بجائی جائے ٭چھپکلی گھرمیں آئے تو ایمان کمزور ہوتا ہے ٭ دودھ ابل جائے تو نقصان ہوگا ٭ تیل گرے تو فائدہ ہوگا ٭ ٹوٹا ہوا آئینہ نہیں دیکھنا چاہئے ٭ جھاڑ و کھڑی رکھنے پر گھر میں جھگڑے ہوںگے ٭جامن کا درخت گھر میں ہو تو غربت آئے گی  —-  ان خیالات کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا دین میں اس کی کوئی اصل ہے ؟ (گل افشاں،بھونگیر)
جواب:-  اللہ کو ایک ماننے کا مطلب یہی نہیں ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے ؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ صرف اللہ ہی کے نافع و ضار ہونے کا یقین رکھا جائے ، یعنی فائدہ صرف اللہ ہی پہنچاسکتے ہیں ، نقصان بھی صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے ، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی عمل کا نفع یا نقصان بتایا ہو تو چوںکہ اس کے پیچھے بھی اللہ کا حکم متعلق ہے ؛ اس لئے اس سے نفع یا نقصان پہنچے گا ، اس کے بغیر کسی عمل کو نافع و ضار سمجھنا اللہ کو ایک ماننے کے مغائر ہے ، پس ، آپ نے جو باتیں ذکر کی ہیں ، یہ سب اسی نوعیت کی ہیں اور محض توہمات ہیں ، ان کی کوئی اصل نہیں ، برادران وطن اور مشرکانہ ماحول سے متأثر ہونے کی وجہ سے اس طرح کے خیالات جڑ پکڑگئے ہیں ؛ کیوںکہ شرک کا اثر یہی ہے کہ انسان مخلوق سے ڈرنے لگتا ہے اور اس کو نافع و ضار سمجھنے لگتا ہے ، ایسے توہمات سے مسلمانوں کو بچنا چاہئے کہ یہ ان لوگوں کے شایان شان نہیں، جو ایک خدا پر یقین اور اسی سے نفع و نقصان کی امیدیں رکھتے ہیں ۔
لائبریری سے حاصل کردہ کتابوں پر لکھنا جائز نہیں
سوال:-  میں یونیورسٹی کی طالبہ ہوں ، ہم لوگوں کو لائبریری سے استفادہ کرنے کی اجازت ہے ، لائبریری میں مطالعہ کرنے کے علاوہ ہمیں محدود تعداد میں کتابیں نکلوانے کی بھی اجازت ہوتی ہے ، ان کتابوں پر ہم بعض دفعہ یادداشت کے طور پر کچھ لکھ دیتے ہیں ، یا لکیریں کھینچتے ہیں ، بعض لڑکے یادگار کے طور پر اپنا دستخط بھی کردیتے ہیں ، یونیورسٹی کی کتاب میں ہمارے اس طرح لکھنے میں کوئی گناہ تو نہیں ہے ، اگر ہم کوئی بری بات نہیں لکھیں یا ایسی باتیں لکھیں ، جس سے بعد میں مطالعہ کرنے والے طلبہ اورطالبات کو فائدہ پہنچے ؟ تو اس کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ (صاحبہ ناز، گچی باولی )            
جواب:-  یونیورسٹی یا اس کی لائبریری قیمت لئے بغیر جو کتابیں آپ کو دیتی ہے، وہآپ کی ملکیت نہیں ہے ؛ بلکہ عاریت ہے ، اگر لائبریری ممبری فیس لیتی ہو ، تب بھی وہ عاریت ہی سمجھی جائے گی ؛ کیوںکہ ممبری فیس کتاب کی قیمت نہیں ہوتی ہے ، یہ تو لائبریری کے عملہ کا انتظام اور روشنی وصفائی وغیرہ کی اجرت کے طور پر ہوتی ہے ، اور عاریت کے سلسلہ میں اصول یہ ہے کہ اس میں وہی تصرف جائز ہے ،جس کی عاریت پر دینے والے کی طرف سے اجازت ہو ، اگر اس کی طرف سے اجازت نہیں ہو تو جائز نہیں ، چاہے وہ مفید ہی کیوںنہ ہو ؛ چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر آپ کسی سے کتاب لیں اور اس میں کتابت کی غلطی پائیں ، تب بھی آپ کے لئے اسی وقت اس کی اصلاح جائز ہے ، جب کہ اس سے مالکِ کتاب کو ناراضگی نہیں ہو ، ورنہ اپنے طور پر اس کی اصلاح کرنا درست نہیں ، اس سے صرف قرآن مجید کا استثناء ہے ، اگر مصحف قرآنی میں کتابت کی کوئی غلطی رہ گئی ہو ، تو اس کو درست کردینا اور ناشر کو اس پر متنبہ کردینا شرعا واجب ہے اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا ، تو گنہگار ہوگا :
’’ استعار کتاباً فوجدہ بہ خطأ ، أصلحہ إن علم رضا صاحبہ (الجامع الصغیر ، حدیث نمبر : ۱۶۲۸)  فإن علم عدم رضاہ ، ینبغی أن لا یصلحہ ؛ لأنہ تصرف فی ملک الغیر بغیر إذنہ (دیکھئے : فیض القدیر للمناوی : ۲؍۱۸۸ )  ولا یأثم بترکہ إلا في القرآن ؛ لأن إصلاحہ واجب بخط مناسب ‘‘ (۳)
غرض کہ لائبریری کی کتاب پر لکھنا جائز نہیں ؛ کیوںکہ عام طور پر لائبریری کی طرف سے اس کی ممانعت ہوتی ہے ۔
تعمیر میں اسراف اور حدیث نبوی 
سوال :-  کیا یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ ا نے تعمیر میں پیسہ خرچ کرنے کو ناپسند فرمایا ہے؟      ( عاطف خان، وجے واڑہ )
جواب:-  تعمیر کا ایک درجہ تو ضرورت اور بہ سہولت رہائش کی فراہمی کا ہے ، یہ تو جائز ؛ بلکہ اگر گنجائش ہوتو بہتر ہے ؛ کیوںکہ اس میں انسان کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ہے اور رسول اللہ ا اور صحابہ ث کے بھی مکانات تھے ، دوسرا درجہ تعمیر میں غلو کا ہے ؛ یعنی ضرورت سے بہت زیادہ تعمیر اور تعمیر کی آرائش پر کثیر رقم کا خرچ کرنا ، اسے ناپسند کیا گیا ہے ، یہاں تک کہ رسول اللہ ا نے مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کامقابلہ کرنے اور ایک دوسرے پر فخر کرنے کی بھی مذمت فرمائی ہے ، آپ ا نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتے ہیں ، تو اینٹ اور مٹی کی محبت اس کے دل میں ڈال دیتے ہیں :
 إذا أراد اللہ بعبد شرا خضر لہ فی اللبن والطین حتی یبنی‘‘
اس روایت کو طبرانی ؒ اور خطیب بغدادی ؒ نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے ۔ ( الجامع الصغیر، حدیث : ۲۹۷ )
اور علامہ مناوی ؒ نے نقل کیا ہے کہ اس کی سند معتبر و مقبول ہے ، (دیکھئے ، فیض القدیر : ۱/۲۶۴ ) اسی طرح ایک اورروایت حضرت انس ص اور محمد بن بشیر انصاری ص سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کو ذلیل کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ، تو اس کا مال عمارت ، مٹی اور گارے میں خرچ کرادیتے ہیں ؛  لیکن یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔ ( الجامع الصغیر، حدیث : ۲۹۸ )بعض روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ اس طرح عمارتوں کی تعمیر پر پیسہ خرچ کرنا اور اس کے لئے ایک دوسرے پر فخر کرنا قیامت کی علامتوں میں سے ہے ۔
تعمیر کے سلسلہ میں فضول خرچی کو خاص طورپر اس لئے منع کیا گیا کہ اس سے کسی قوم میں تعیش کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے اور جو پیسہ بہتر کاموں میں خرچ ہوتا ، وہ پیسے نامناسب کاموں میں خرچ ہونے لگتے ہیں ، اگر یہی پیسہ تجارت میں صرف کیا جاتا ، تو اس سے خود اسے بھی نفع ہوتا اور بہت سے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوتے ، تعمیر میں جو پیسے لگتے ہیں ، وہ منجمد ہوکر رہ جاتے ہیں ان کا حقیقی نفع نہ اس شخص کوپہنچ پاتا ہے اور نہ سماج کے دوسرے لوگوں کو ، مگر افسوس کہ اس دور میں نہ صرف اپنی ذاتی عمارتوں پر بے دریغ پیسہ خرچ کرنے کا مزاج بن گیا ہے ؛ بلکہ مساجد اور دینی اداروں کی بھی تزئین و آرائش پر بے شمار پیسے خرچ کردیئے جاتے ہیں ، جو یقینا کسی قوم کے لئے بہتر علامت نہیں ، آج ہمارے ملک میںمسلمان سلاطین کی حسین تعمیرات کے کتنے ہی شاہکار موجود ہیں ؛ لیکن غور کیجئے کہ ان سے امت کو کیا فائدہ پہنچا ، یہ آج ہمارے لئے سامان عبرت ہیں ۔
نامکمل حمل ساقط ہونے کے بعد آنے والا خون
سوال:-  اگر عورت کا نا مکمل حمل ساقط ہوجائے تو اس کے جسم سے آنے والا خون کیا نفاس سمجھاجائے گا اور اس کے بعد چالیس دنوں تک نماز ، روزہ کی ممانعت ہوگی ؟ (رخسانہ عادل ، ٹولی چوکی)
جواب:-  اگر کامل الخلقت بچہ پیداہو ، گو مردہ ہو یا اس میں اعضاء بن گئے ہوں ، جیسے انگلی ، ناخن ، بال وغیرہ موجود ہوں ، تب تو وہ بچہ کی ولادت کے حکم میں ہے ، اس کے بعد آنے والا خون نفاس سمجھا جائے گا اور جب تک عورت صاف ستھری نہ ہوجائے ؛ یعنی مکمل طور پر خون آنا نہ بند ہوجائے یا چالیس دن نہ گزر جائیں ، اس کے لئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہوگا ، اگر خون آنا پوری طرح بند ہوگیا ہو تو اگرچہ چالیس دن نہیں گذرے ہوں ، پھر بھی اسے نماز پڑھنی ہوگی اور اگر حمل اس حالت میں ساقط ہوا کہ بچہ کے اعضاء بھی نہیں بنے ہیں تو یہ نفاس کا خون شمار نہیں کیا جائے گا ، اگر اس کے معمول کے لحاظ سے ماہواری کا زمانہ ہوتو حیض کا خون ہوگا ورنہ استحاضہ کا ، اور استحاضہ کی حالت میں نماز ، روزہ وغیرہ کی ممانعت نہیں ہے ۔ ( ہندیہ : ۱؍ ۳۸ ، الفصل الرابع في أحکام الحیض )
غیر مختون شخص اور غسل و استنجاء
سوال:- میں نو مسلم ہوں ، شوگر کا مریض ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں کے مشورہ سے ختنہ نہیں کرایا ہے ، ایسی صورت میں استنجاء کرتے وقت گوشت کے اس حصہ پر پانی نہیں پہنچ پاتا ہے ، جیساکہ مختون مردوں کے ساتھ ہوتاہے ، پانی اوپر چڑھے ہوئے چمڑے کے غلاف تک محدود رہتا ہے تو کیا میرا استنجاء اور غسل درست ہوجائے گا ، یا میرے لئے ختنہ کرانا ضروری ہے ؟  (عبد اللہ، کوکٹ پلی)
جواب:-  اگر ختنہ کرانے میں صحت کے نقصان کا اندیشہ ہو اور ڈاکٹروں نے منع کردیا ہوتو ختنہ نہ کرانے میں کوئی حرج نہیں ؛ کیوںکہ ختنہ کرانا فرض یا واجب نہیں ہے ، اسی طرح ایسی صورت میں چمڑے کے اوپر سے پانی کا گذار دینا اور جہاں تک پانی پہنچ سکتا ہے ، وہاں پانی کا پہنچ جانا کافی ہے ؛ کیوںکہ شریعت کے احکام انسان کی طاقت کے اعتبار سے ہوتے ہیں :
’’(الأقلف) إذا اغتسل من الجنابۃ ولم یصل الماء تحت الجلدۃ وغسل ما فضل من الجلدۃ علی رأس الحشفۃ وما یخرج من البول عن رأس الحشفۃ یخرج من الجنابۃ ‘‘ (فتاوی قاضي خان علی ہامش الہندیۃ : ۱؍۳۴)