Tue, Mar 2, 2021

آپ کے شرعی مسائل
    مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.02.21

نماز جمعہ اور اس کی سنتیں
سوال:- نماز جمعہ فرض ہے یا واجب ؟ اور جمعہ میں کل کتنی رکعتیں ہیں ؟       (محمد مرتضیٰ، کوکٹ پلی)
    جواب:-  جمعہ کی نماز فرض ِ عین ہے،یہاں تک کہ اس کا انکار باعثِ کفر ہے:ھی فرض عین یکفر جاحدھا(الدرالمختار:۱؍۵۳۶) حضرت عبداللہ بن عباس  ص  جمعہ سے پہلے چار رکعت اور جمعہ کے بعد بھی چار رکعت پڑھا کرتے تھے ، (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۱۳۲ ) اس لئے امام ابو حنیفہ ؒکے نزدیک جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعد چار چار رکعتیں سنت ہیں ، بعض روایتوں میں جمعہ کے بعد چار کے علاوہ مزید دو رکعتوں کا ذکر ہے ؛ اس لئے امام ابو حنیفہ ؒکے دونو ں ممتاز تلامذہ امام ابو یوسف ؒ اور امام محمد ؒ جمعہ کے بعد چھ رکعت سنت کے قائل ہیں اور بعض صحابہ ث  سے بھی یہ عمل ثابت ہے؛اس لئے بہتر ہے کہ جمعہ کے بعد چھ رکعتیں اداکی جائیں، گویافریضۂ جمعہ اور اس سے متعلق پہلے اور بعدکی سنتیں ملا کر ۱۲ رکعتیں ہو جاتی ہیں۔
بیٹھے ہوئے شخص کو اٹھاکر بیٹھنا
سوال:-صف میں بیٹھے ہوئے شخص کو اٹھاکر بیٹھنا کیسا ہے؟ (اویس اختر، سعیدآباد)
جواب:-  حضرت عبد اللہ بن عمر ص  سے منقول ہے کہ رسول اللہ انے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دوسرے کو اٹھاکر اس جگہ خودبیٹھ جائے (بخاری، حدیث نمبر: ۶۲۶۹)اس لیے ایسا کرنامکروہ ہے؛ بلکہ حضرت ابوہریرہ ص  سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص مجلس سے اٹھے اور پھر وہاں واپس آئے تو آپ ا نے فرمایا کہ وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے : إذاقام الرجل من مجلس ثم رجع إ لیہ فھو أحق بہ(ابو داؤد، حدیث نمبر: ۴۸۵۳)
سلام اور اس کا جواب کب مکروہ ہے ؟
سوال:-  ہمارے ایک دوست اکثر اوقات کہتے ہیں کہ وضو کے درمیان سلام نہیں کرنا چاہئے اور اگر کوئی سلام کرے تو جواب نہیں دینا چاہئے ، یہ کہاں تک صحیح ہے ؟ اور کن مواقع پر سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا مکروہ ہے ؟ (محمد عفان، چنچل گوڑہ )
جواب:-  وضوء کے درمیان سلام کرنے یا اس کے جواب دینے کی ممانعت حدیث و فقہ کی کتابوں میں مجھے صراحتا نہیں مل سکی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ کوئی رکاوٹ بھی پیدا نہیں ہوتی؛ اس لیے اسے ممنوع نہیں ہونا چاہئے ۔
    کن مواقع پر سلام کرنا مکروہ ہے ؟ علامہ شامی ؒ نے اسے نظم کی شکل میں ذکر کیا ہے ، جو گیارہ اشعار پر شامل ہے ، اس کا خلاصہ اس طرح ہے : نماز میں مشغول شخص ، جو تلاوت ، ذکر ، یا حدیث بیان کرنے میں مشغول ہو ، جو خطبہ دے رہا ہو ، جو احکام فقہیہ بتا رہا ہو ، جو کسی مقدمہ کے فیصلہ کے لیے بیٹھا ہو ، اذان دے رہا ہو ، اقامت کہہ رہا ہو ، درس دینے میں مشغول ہو ، نوجوان اجنبی خاتون ہو ، شطرنج کھیل رہا ہو ، آوارہ قسم کا آدمی ہو ، اپنی بیوی کے ساتھ بے تکلفی کی حالت میں ہو ، غیر مسلم ہو ، بے ستر ہو ، قضائِ حاجت کی حالت میں ہو ، بد دین ہو ، اوباش و بے وقار قسم کا بوڑھا ہو ،لغو گوئی میں مشغول ہو ، جھوٹ بولنے کا عادی ہو ، بازار میں عورتوں پر تاک جھانک کرتا ہو ، بے قصور لوگوں کو بے آبرو کرنا اور انہیں برا بھلا کہنا اس کا شیوہ ہو، مسجد میں نماز کے انتظار میں مصروفِ تسبیح ہو ، حج یا عمرہ کا تلبیہ پڑھنے میں مشغول ہو ،جو شخص کھانے میں مشغول ہو ، اس کو فی نفسہٖ سلام کرنے میں قباحت نہیں ؛ لیکن چوں کہ اس سے کھانے کی طلب کا احساس ہو تا ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ جو شخص بھوکا ہو اور کھانا چاہتا ہو وہ کھانے والے کو سلام کرے؛ ورنہ اس سے بچے(ملخص از ردالمحتار:۲؍۳۷۳)جن مواقع پر سلام کاجواب دینا واجب نہیں ، علامہ شامی ؒنے ان کا بھی چند اشعار میں ذکر فرمایا ہے ، جس کا ما حصل یہ ہے : نماز میں مشغول ہو،جو کھانے ، پینے ، تلاوت ،دعا ، یا ذکر میں مشغول ہو ، خطبہ دے رہا ہو ،تلبیہ پڑھ رہا ہو ، اذان یا اقامت کہہ رہا ہو ، قضاء حاجت میں مشغول ہو ، جوان غیر محرم عورت نے سلام کیا ہو ،فاسق نے سلام کیا ہو ، نابالغ بچہ یا نشہ کی حالت میں رہنے والے نے سلام کیا ہو ، وہ اونگھ رہا ہو، یا نیند کی حالت میں ہو ، بیوی سے صحبت کی حالت میں ہو ، حمام میں ہو ، سلام کرنے والا فاتر العقل ہو ، مقدمہ کے دو فریق کے درمیان فیصلہ کرنے میں مشغول ہو ۔(ردالمحتار: ۲؍۳۷۶)
چیونٹی کو مارنا
سوال:- ایک صاحب نے کہا کہ چیونٹی کو مارنا جائز نہیں ، حالانکہ عام طور پر چیونٹی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے ، اس سلسلہ میں صحیح شرعی حکم کیا ہے ؟   ( سید علاء الدین، ورنگل)
    جواب:-  چیونٹی چوں کہ باعث تکلیف بن جاتی ہے؛اس لیے اس کو مارنا جائز ہے ، اس مقصد کے لیے وہ دوائیں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں ، جو آج کل بنائی گئی ہیں؛البتہ آگ میں جلانا جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سزا کا حق صرف اللہ ہی کو ہے(بخاری، حدیث نمبر: ۳۰۱۶) اور فقہاء نے پانی میں ڈالنے کو بھی مکروہ قرار دیا ہے :  لا بأس بقتل النمل ؛ لأنھا من أھل الأذی و یکرہ إیقاعھا في الماء (فتاویٰ خانیہ:۳؍۴۱۰)

ہوائی جہاز میں سواری کی دعاء
سوال:-  حدیث میں ایک دعا خشکی میں سواری پر چلنے کی ہے اور ایک دعا پانی پر چلنے والی سواری کی، ہوائی جہاز نہ زمین پر چلتا ہے ، نہ پانی میں ، تو ہوائی جہاز کے سفر میں کون سی دعا پڑھنی چاہئے ؟   ( شمیم اختر، پونہ )
جواب:-  ہوائی جہاز میں سفر کے دو مرحلے ہیں ، ایک مرحلہ اس کے رن وے پر دوڑنے کا ہے اور دوسرا مرحلہ اڑان بھرنے کا ، اس حقیر کی رائے ہے کہ جب زمین پر چلنا شروع کرے تو ’’سبحان الذي سخر لنا ہذا الخ ‘‘ پڑھ لے اور جب اڑان بھرے تو ’’ بسم اللہ مجریہا ومرساہا ‘‘ پڑھے ؛ کیوںکہ جیسے پانی کے جہاز پانی میں تیرتے ہیں اسی طرح ہوائی جہاز بھی در اصل فضا میں تیرتے ہیں اور یہ تیرنا پانی کے بجائے ہوا کی پشت پر ہوتا ہے ، خود قرآن مجید میں فضاء میں چلنے کو تیرنے سے تعبیر کیا گیا ہے ؛چنانچہ اللہ تعالیٰ کا سورج اور چاند کے بارے میں ارشاد ہے کہ : وہو الذي خلق اللیل والنہار کل في فلک یسبحون (انبیاء:۳۳) لہٰذا کشتی والی دعا سے اس کو مناسبت حاصل ہے کہ اس میں بھی کشتی کے تیرنے کا ذکر ہے ، غرض کہ ہوائی جہاز کے سفر میں دونوں دعاؤں کو جمع کرلینا بہتر ہے ۔
بینک سے کار کی خریداری
سوال:-  ہم ایک کار خریدنا چاہتے ہیں، اور بینک کی طرف سے سہولت بھی ہے کہ پانچ لاکھ روپے کی کار پر بینک چار لاکھ پچاس ہزار ہی وصول کرتی ہے ، پچاس ہزار کی رعایت (سبسڈی) دے رہی ہے؛ تاہم اسی سبسڈی میں سے چالیس ہزار روپے سود کے طور پر کاٹ لیتی ہے ، جبکہ کار بینک کے ذریعہ لینے والا دس ہزار بچالے رہا ہے ۔         (محمد کامران،مومن پورہ)
    جواب:-   جو صورت آپ نے لکھی ہے ، اگر درست ہے تو اس طرح کار کا خریدنا جائز ہے ، اگر بینک پانچ لاکھ روپے دے کر اس سے زیادہ پیسے وصول کرتا تب یہ شکل سود میں شامل ہوتی ، جو صورت آپ نے ذکر کی ہے ، اس میں یوں سمجھاجائے گا کہ بینک نے پانچ لاکھ روپے کی کار چار لاکھ نوے ہزار میں فروخت کی ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص یا ادارہ کسی شئ کو اس کی مروجہ قیمت سے کم قیمت میں کسی خریدار کے ہاتھوں فروخت کردے ۔
رخصت کی تنخواہ
سوال:-  رخصت اور غیر حاضری میں کیا فرق ہے ؟ آیا دونوں ایک ہی چیز ہے ،یا الگ الگ ؟ رخصت کی اور غیر حاضری کی حد شریعت میں کہاں تک ہے ؟ دورِ حاضر میں مدارس اور کالجس ، یونیورسٹی وکمپنی میں جو رخصت دی جاتی ہے ، ان ایام رخصت کی تنخواہ بعض میں ملازمین ومدرسین کو ادا کی جاتی ہے اور بعض میں ادا نہیں کی جاتی ، مناسب تنخواہ کی تخفیف کہاں تک درست ہے ؟ آیا یہ رخصت صحابہ ، تابعین اور اس وقت کے زمانہ میں تھی یا نہیں ؟ اس زمانہ میں رخصت کے ایام کی تنخواہیں بیت المال سے ادا کی جاتی تھیں ، یا نہیں ؟ جیساکہ یہ شخصی مدارس یا اسکول وکالج والے کرتے ہیں ، یا رخصت مدرسین وملازمین کے لئے کتنی ہونی چاہئے ؟  (محمد شاکر، گلبرگہ)
جواب:-  رخصت اور غیر حاضری وغیرہ فقہی اور شرعی اصطلاحات نہیں ہیں؛ بلکہ یہ عرفی یعنی لوگوں کی مروجہ اصطلاحات ہیں ، عام طور پر اجازت لے کر نہ آنے کو رخصت اور بلا اجازت غائب ہوجانے کو غیر حاضری کہا جاتا ہے ،  —-جہاں تک ایام رخصت کی تنخواہوں کا مسئلہ ہے تو اس کا تعلق فریقین کے باہمی معاہدہ سے ہے ، یا تو معاملہ طے پانے کے وقت یہ بات متعین ہوگئی ہو کہ رخصت کتنے دنوں کی ہوگی ، جس کی تنخواہ دوسرا فریق کام کے بغیر ادا کرے گا ، یا پہلے سے اصول و قواعد بنے ہوئے ہوں ، جن میں رخصت با تنخواہ وغیرہ کا ذکر ہو ، اس کے مطابق فریقین عمل کے پابند ہوںگے ، اور ایام رخصت کی تنخواہ ملازم کے لئے جائز ہوگی ، مقررہ ایام رخصت سے زیادہ دنوں کی تنخواہ ملازم کا اپنے طور پر لے لینا یا جو شخص کمپنی یا ادارہ کی طرف سے اس کی نگرانی پر مامور ہو، اس کا خلافِ اصول اپنے طور پر رخصت با تنخواہ  دے دینا جائز نہیں ، دونوں صورتیں خیانت میں داخل ہونے کی وجہ سے گناہ ہیں ، صحابہ و تابعین کے دور میں کیا تعامل تھا ؟غالبًا اس کی وضاحت نہیں ملتی ؛ لیکن رسول اللہ ا نے ایک اصول مقرر کردیا ہے کہ جو معاہدہ ہو اس پر فریقین قائم رہیں : المسلمون عند شروطہم (سنن بیہقی، حدیث نمبر: ۱۱۷۶۲)؛ لہٰذا جب ملازمت طے پانے کے وقت کمپنی اور ملازم کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا ،تو اب وہ دونوں اس اصول کے مطابق اس کے پابند ہیں ۔
ان صورتوں میں سجدۂ سہو نہیں
سوال:- اگر چار رکعت والی نماز کی تیسری یا چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی ملالے ، یا قیام کی حالت میں تشہد پڑھ دیا ، تو کیا اس پر سجدۂ سہو واجب ہوگا ؟    ( اشفاق عالم، ہمایوں نگر)
    جواب:-  تیسری چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفاء کرنا چاہئے؛ لیکن اگر سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت بھی پڑھ لے ، یا غفلت میں سورۂ فاتحہ ہی کو مکرر پڑھ لے ، یا قیام کی حالت میں تشہد پڑھ جائے تو ان صورتوں میں سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا :إن قرأ الفاتحۃ فی الأخریین مرتین أو ضم فیہا سورۃ أو قرأ التشہد مرتین فی الأخیرۃ أو تشہد قائماأو راکعا أو ساجدا لا سہو علیہ (حلبی کبیری:۴۶۰)
.    .    .