Sun, Feb 28, 2021

آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.01.31

اقامت کے بعد ضروری ہدایات
سوال:-  اقامت کے بعد نماز شروع کرنے سے پہلے امام صاحب تمام مصلیوں سے اس طرح خطاب کرتے ہیں : صفیں درست فرمالیں ، سر پر ٹوپی پہن لیں ، آستین اوپر ہیں تو نیچی کرلیں ، جن کے پائیچے نیچے ہیں ، وہ اوپر کرلیں ، موبائل چیک کرلیں اور کھلا ہو تو بند کرلیں ، کیا نماز سے پہلے اتنا لمبا خطاب کرنا درست ہے ؟         (محمد احسان اللہ، بھیونڈی )
جواب:-  اقامت کے بعد چند فقروں میں ضروری باتوں کی طرف اشارہ کردینا جائز بلکہ مستحب ہے ، رسول اللہ ا بھی اس موقعہ پر صفوں کو سیدھا رکھنے اور درمیان میں فاصلہ نہ چھوڑنے کے سلسلہ میں ہدایتیں دیا کرتے تھے ، (بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۵) اس زمانہ میں چوںکہ دوسرے امور میں کوتا ہی نہیں ہوتی تھی ، اس لئے مزید ہدایات کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ، آج کل صفیں سیدھی نہ رکھنے کے علاوہ ننگے سر نماز پڑھنے ، آستین اوپر چڑھائے رہنے ، پائجامے ٹخنوں سے نیچے تک رکھنے اور موبائل کے سلسلے میں احتیاط نہ کرنے کی شکایت عام ہے ؛ اس لئے ان باتوں کی طرف توجہ دلادینا بھی درست ہے ، رہ گیا اقامت اور نماز کے درمیان وقفہ تو اتنا سا وقفہ دینے میں حرج نہیں ، طویل وقفہ نہیں ہونا چاہئے ، طویل وقفہ سے مراد  — بعض فقہاء کے بیان کے مطابق  —دو رکعت نماز کے بقدر وقفہ ہے اور ان فقروں کے کہنے میں اتنا طویل وقفہ نہیں ہوتا ۔
نماز میں کہنیوں کا کھلا رہنا
سوال:-  اگر مردانی یا زنانی کہنیاں حالت نماز میں کھلی ہوئی ہوں تو ایسی صورت میں نماز ہوجائے گی یا نہیں ؟           (محمد سہراب،کریم نگر )
جواب:-  نماز کی حالت میں کہنیوں کو چھپا کررکھنا چاہئے ، یہ حکم مردوں اورعورتوں دونوں کے لئے ہے ؛ البتہ فرق یہ ہے کہ کہنیاں مردوں کے لئے حصۂ ستر میں شامل نہیں ہیں ؛ اس لئے اگر کہنیاں کھلی رکھ کر نماز اداکرے تو کراہت کے ساتھ نماز ادا ہوجائے گی ، اور یہاں کراہت سے مراد کم درجہ کی کراہت یعنی کراہت تنزیہی ہے ، اور عورتوں کے لئے کہنیاں حصۂ ستر میں شامل ہیں ؛ اس لئے اگر وہ کھلی ہوئی کہنیوں کے ساتھ نماز پڑھیں تو نماز درست ہی نہیں ہوگی ۔
امام کے رکوع سے اٹھتے ہوئے مقتدی کا رکوع میں جانا
سوال:-  نماز کی جماعت میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ شریک ہوا ، لیکن امام صاحب جب رکوع میں گئے ، تو دعاء افتتاحیہ ، ثنا اور پھر سورہ فاتحہ پڑھنے میں مشغول ہوگیا ، جس میں اس قدر تاخیر ہوگئی کہ امام صاحب رکوع سے ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتے ہوئے اٹھنے لگے اور میں رکوع میں داخل ہوا ، تو کیا نماز مکمل ہوگئی یا پھر ایک رکعت چھوٹ گئی ، جسے دوبارہ پڑھنا پڑے گا ، اگر دوبارہ رکعت نہیں پڑھی گئی ، تو کیا دہرانا پڑے گا یا ایسی حالت میں سجدہ سہو کرنے سے کام چل جائے گا ، جب کہ مقتدی ہوں ؟         (عبدالخالق، اجالے شاہ )
    جواب:-  جب امام رکوع میں ہو اور اندازہ ہو کہ ثنا پڑھنے کے باوجود امام کو رکوع میں پاسکے گا ، تب تو ثنا پڑھناچاہئے ، ورنہ تکبیر تحریمہ کہہ کر سیدھے رکوع میں چلا جانا چاہئے ، اس کے علاوہ مقتدی کو سورۂ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ؛ بلکہ اس کا پڑھنا اکثر فقہاء کے نزدیک مکروہ ہے ، بہر حال آپ کا تحریمہ درست ہو گیا ، اگر آپ نے امام کے پوری طرح کھڑے ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا ، تو آپ اس رکعت کو پانے والے سمجھے جائیںگے اوراگر آپ کے رکوع میں جانے تک امام بالکل کھڑاہوچکا تھا ، تو آپ کی رکوع میں شرکت نہیں ہوسکی ؛ اس لئے آپ اس رکعت کو پانے والے نہیں سمجھے جائیں گے ، (ہدایہ:۱؍۱۵۳)ایسی صورت میں اگر امام کے سلام پھیرنے کے بعد آپ نے وہ رکعت ادا نہیں کی ، تو آپ کی نماز ادا نہیں ہوئی ، آپ کو دوبارہ نماز پڑھنی چاہئے ، اگر وقت کے اندر نہیں پڑھ پائے ، تو اب قضاء کرنی ضروری ہے۔
معذور کا اسٹول پر سجدہ
سوال:-  ہماری مسجد میں ایک صاحب فالج کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر اور سامنے اسٹول رکھ کر اس پر سجدہ کرتے ہیں ، اس کے بعد ایک اور صاحب اسی طرح کی شکایت کی وجہ سے کرسی پر نماز پڑھنے لگے ، وہ سامنے اسٹول رکھے بغیر نماز ادا کرتے ہیں ، ان صاحب نے پہلے شخص پر اعتراض کیا کہ اس طرح سامنے اسٹول رکھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں ، براہِ کرم اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں ؟     ( جلیس احمد، نظام آباد)
    جواب:-  مجبوری کی وجہ سے سامنے اسٹول رکھ کر اس پر نماز ادا کرنا درست ہے؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ سرجھکانے کی کیفیت پائی جائے ؛ کیوںکہ معذور شخص کے رکوع وسجدہ کی اصل کیفیت سرکا اشارہ ہے ، جن صاحب نے اسے ناجائز قرار دیا ہے ، شاید انہیں غلط فہمی ہوئی ہے ، ایک صورت یہ ہے کہ کسی چیز پر پیشانی رکھنے کے بجائے اس شئ کو اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگالیا جائے ، یہ صورت مکروہ ہے ، دوسری صورت یہ ہے کہ زمین پر کوئی چیز رکھی ہوئی ہو اور اس پر سجدہ کیا جائے ، یہ صورت جائز ہے ، بلکہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اقدس ا کے سامنے ایک تکلیف کی وجہ سے اس طور پر سجدہ کرنا ثابت ہے ، علامہ شامی ؒ نے اس پر تفصیل سے گفتگو کی ہے : فإن کانت الوسادۃ موضوعۃ علی الأرض وکان یسجد علیہا جازت صلاتہ الخ (ردالمحتار:۲؍۵۶۸)
پڑوسی اور قرابت دار کی مدد
سوال:-  ہمارے محلہ میں کاروباری اصحاب کی تین چار دکانیں قلب شہر میں موجود ہیں ، خدا کے فضل و کرم سے ترقی کے زینہ پر ہیں ؛ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ان کے قریبی رشتہ دار جو ان کے ساتھ اسی گھر میں مقیم بھی ہیں ، اچانک پیر کی ہڈی ٹوٹ جانے پر سودی قرض لے کر درشہوار دوا خانہ میں علاج کرچکے اوراس کے بعد موزوں رشتہ لڑکی کا ملنے پر لاکھوں روپیہ قرض لے کر اس کی تکمیل کرچکے ، خوانگی ملازمت میں حقیر معاوضہ پر صبح سے رات دیر گئے کام کرتے ہیں ، جس کی وجہ وہ اپنی لڑکیوں اور لڑکے کی تعلیم ترک کراکر خانگی ملازمت میں حقیر معاوضہ لے کر گھر کے خرچ میں مدد گار ہیں ، جو قابل عفو اور محتاج انصاف بھی ہے ، دوسری جانب کیو ٹی وی میں ایک عالم دین کی زبانی سناگیا ہے کہ اگر اپنے گھر کے بازو دس گھروں کے اندر کوئی فاقہ سے رہتا ہے تو ہمارا کھانا حرام ہوجاتا ہے ، اس خصوص میں جناب والا سے گزارش ہے کہ مفید مشورے اور ہدایت سے نوازیں۔     (ایک سماجی کارکن، سماجی گوڑہ)
جواب:-  اسلام میں انسانوں اور بالخصوص پریشان حال انسانوں کی مدد کرنا نہایت ہی اجر و ثواب کا کام ہے ، پھر عام انسانوں کے مقابلہ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا حق زیادہ ہے، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جو خود آسودہ ہوکر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو وہ مؤمن نہیں ،(مستدرک حاکم ، کتاب البر والصلۃ ، حدیث نمبر : ۷۳۰۷) اس حدیث میں کھانا تو محض ایک عنوان ہے ، اصل میں مراد تمام ہی ضروریات زندگی ہے ، جو اپنے لئے کپڑے سلوائے اور پڑوسیوں کا خیال نہ رکھے ، جو اپنے بچوں کو تعلیم دلوائے اورباوجود گنجائش کے اپنے پڑوسیوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر نہ کرے ، جو اپنے بچوں کی شادی میں تو داد عیش دے ؛ لیکن اپنے غریب پڑوسیوں کی بچیوں کی شادی کی فکر نہ کرے ، وہ سب اس میں شامل ہیں اور رسول اللہ ا کے ارشاد کے مطابق وہ ایمان کی روح سے محروم ہیں ۔
دوسرا ترجیحی حق ’قرابت داروں ‘کا ہے ، جتنی قریبی رشتہ داری ہو ،اتنا ہی زیادہ اس کا حق ہے ، ایک بار ایک صاحب نے رسول اللہ اسے بار بار استفسار کیا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ آپ ا نے پہلے تین بار ماں کا ذکر کیا ، چوتھی بار والد کا اوراس کے ساتھ ارشاد فرمایا : ’’ ثم الأقرب فالأقرب ‘‘ (سنن ترمذی : ۲/۱۱ ، أبواب البر والصلۃ) یعنی ماں باپ کے بعد قریب ترین رشتہ دار کا حق ہے ، اُس قریبی رشتہ دار کے بعد جو نسبتاً قریبی ہو اس کا حق ہے ، —– آپ نے جس صورت حال کا ذکر کیا ہے ، اس میں حق پڑوس اور حق قرابت دونوں شامل ہیں ؛ اس لئے ان کا حق تو بہت زیادہ ہے ، در اصل ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی سوچ میں انقلابی تبدیلی آئے اور وہ محسوس کریں کہ جیسے مسجد و مدرسہ کے بنانے میں ثواب ہے ، یا بھیک مانگنے والے کو بھیک دینے میں اجر ہے ، اسی طرح بلکہ اکثر حالات میں اس سے بڑھ کر اپنے پڑوسیوں اوررشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا بھی اجر ہے ؛ بلکہ انسانیت کی خدمت اسلام کی نظر میں اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی سے کم فضیلت کی حامل نہیں ہے ؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ عبادت کے محتاج نہیں ہیں، انسان کے لئے خود وجہِ سعادت ہے کہ وہ اللہ کی بندگی کرے ، جبکہ انسان محتاج اورضرورت مند ہے ؛ اسی لئے بہت سی عبادتوں کے کفارہ میں دونوں باتوں کی گنجائش رکھی گئی ہے ، ایک اس عبادت کی ادائیگی اور دوسرے غریب انسانوں کی مدد ۔
غیر قانونی طور پر لکڑی کاٹ کر بیچنا
سوال : –  اگر کوئی شخص جنگل سے لکڑی کاٹ کر بازار میں بیچتا ہے ، تو کیا وہ کمائی صحیح ہے ، کیا وہ شخص شریعت کا گنہگار ہے ، اوراگر جنگل کا ٹنڈر Tender کسی نے لیا ہے ، تب بھی وہ شخص پہاڑوں میں سے لکڑی لاتا ہے ، کیا تب بھی وہ گنہگار ہے ؟ ( یعقوب ملا، ورنگل)
    جواب:-   جنگل کسی شخص کی ملکیت نہیں ہے ، قانونا حکومت کی ملکیت ہے ، لہذا جیسے کسی شخص کی مملوکہ جائداد کا بلا اجازت لے لینا جائز نہیں ہے ، اسی طرح اس اجتماعی ملکیت کا بھی بلا اجازت لے لینا درست نہیں ہے ، پھر یہ کہ ہم حکومت سے وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو حکومت کے قانون پر قائم رکھیں گے ، اور جنگل کی لکڑیاں کاٹ کر لانا اوراسے بیچنا خلاف قانون عمل ہے ، تو یہ حکومت کے ساتھ وعدہ خلافی بھی ہے ، گویا یہ دہرے گناہ کا ارتکاب کرنا ہے؛ اس لئے خلاف قانون اور بلا اجازت نہ جنگلات اور پہاڑوں سے لکڑیاں کاٹ کرلانا جائز ہے نہ اس کی آمدنی ، مسلمانوں کو بہر حال ایسی بات سے بچنا چاہئے ۔
اللہ کے بندے ! میری مدد کر
سوال:- میں نے یہ بات سنی ہے کہ اگر کوئی شخص پریشانی میں ہو ، یا راستہ بھٹک گیا ہو ، تو یوں کہنا کہ : ’’اے اللہ کے بندے میری مددکر‘‘ کیا یہ درست ہے ؟     ( مجتبیٰ حسین، نامپلی)
جواب:-  اگر کوئی آدمی موجود ہو تو اس سے مدد مانگنے میں کچھ حرج نہیں ، لیکن اگر کوئی شخص موجود نہ ہو ، تو اللہ سے مدد کی دعاء کرنی چاہئے ، نہ کہ اللہ کے بندوں سے ، کیونکہ ہر جگہ موجود ہونا اور ہر ضرورت کو پوری کرنے پر قادر ہونا صرف اللہ ہی کی شان ہے ، اللہ کے سوا کسی اور کو یہ قدرت حاصل نہیں، اس لئے اس طرح کا جملہ نہیں کہنا چاہئے ؛ بلکہ اس میں کفر کا اندیشہ ہے ۔
اجرت لے کر مسجد میں تعلیم
سوال:- (الف) کیا مسجد میں بچوں کو تعلیم دی جاسکتی ہے ؟ بعض حضرات کسی ضرورت کی وجہ سے نماز پڑھنے دیر میں آتے ہیں اور تعلیم کی وجہ سے ان کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے ۔
(ب)  بعض حضرات کا خیال ہے کہ مسجد میں فیس لے کر اور اساتذۂ کرام کو تنخواہ دے کر تعلیم نہیں دی جاسکتی ہے ، کیا یہ صحیح ہے ؟     ( سعید الرحمٰن، ہمایوں نگر)
    جواب:-  اصولی طور پر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جہاں دو نا مناسب باتوں میں سے کوئی ایک بہر حال پیش آکر رہے ، وہاں کم تر بات کو مجبورا قبول کرلیا جائے گا ۔ (الأشباہ و النظائر لابن نجیم  : ص : ۲۸۶ ) آپ کا سوال کچھ اسی نوعیت کا ہے ، نما زمیں خلل یا مسجد میں کوئی بھی کام کر کے اس پر اجرت وصول کرنا نامناسب بات ہے ، مگر اس سے زیادہ نامناسب اور نقصان دہ بات یہ ہوگی کہ بچوں کو مبادیات دین کی تعلیم سے بالکل نابلد رکھا جائے ، اور وہ بھی اس عہد بد دینی میں ، اس اصول کی بناء پر فقہاء نے امامت اور دینی تعلیم پر  اجرت لینے کی اجازت دی ہے ، (الفتاوی الھندیۃ :۴/۴۴۸)لہذا:۔
۔(الف) تعلیم دی جاسکتی ہے ، بعد میں آنے والے صاحب کو خود احتیاط کرنی چاہئے کہ کسی گوشہ میں پڑھ لیں ، یا بچوں کی تعلیم کے اوقات میں کہیں اور نماز ادا کرلیں کہ جب جماعت نہیں ملی تو کہیں بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے اور اگر مسجد دو منزلہ ہو تو مناسب ہوگا کہ خود بچوں کی تعلیم کا نظم کسی ایک منزل میں کیا جائے کہ دوسری منزل پر بعد میں آنے والے کسی خلل کے بغیر نماز ادا کرسکیں۔
۔(ب)  اگر مسجد کے بجائے اور نظم مشکل ہو ، جیسا کہ آج کل شہروں میں مکانات کی کمی و تنگی اور مدارس کی معاشی دشواریوں کی باعث ہے تو مسجد میں بھی اجرت لے کر تعلیم دی جاسکتی ہے ۔

.    .    .