Sun, Feb 28, 2021

آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.01.17

پسینہ کی بد بو کی وجہ سے اسپرے کا استعمال
سوال:- میری عمر اکیس سال ہے ، مجھے بہت پسینہ آتا ہے ، خاص طور سے ہاتھ کے نیچے اور اس میں بد بو بھی ہوتی ہے ، میں روزانہ غسل کرکے کپڑا بھی بدلتی ہوں اور پاک صاف رہتی ہوں؛ لیکن پھر بھی بد بو آتی ہے؛ چنانچہ میں اسپرے کا استعمال کرتی ہوں اور اس کے بعد نماز بھی پڑھتی ہوں ، کیا ایسی صورت میں میری نماز ہوجائے گی ؟     ( شگفتہ، نرمل)
    جواب:-  غالبًا آج کل بعضے ایسے کریم ہیں جو بغل و غیرہ کی بد بو کو دور کرتے ہیں؛ اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ کسی میڈیکل اسٹور سے تحقیق کریں کہ آپ کو الکحل سے خالی کوئی متبادل مل جائے یا جب آپ اپنے محرم رشتہ داروں کے درمیان ہوں تو عطریات استعمال کرلیں ، آج کل ’’ الکحل فری اسپرے ‘‘ بھی ملتے ہیں ان کا استعمال کرنے کی بھی گنجائش ہے ، الکحل کو چوں کہ بعض علماء ناپاک قرار دیتے ہیں؛ اس لیے ایسا اسپرے استعمال کرنا مناسب نہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے کوئی حل نکال دے ۔
جب گھرمیں کوئی نہ ہو تو سلام اور اس کا طریقہ
سوال:-  ایک مقرر صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ آدمی کو اپنے گھر میں داخل ہوتے ہوئے بھی سلام کرنا چاہئے، گھر میں بعض اوقات کوئی آدمی موجود نہیں ہوتا ، تو کیا اس صورت میں بھی سلام کیا جاسکتا ہے ؟  ( سید حسنین، چھتہ بازار)
    جواب:-  سلام صرف کلمۂ ملاقات ہی نہیں، بلکہ ایک دعاء بھی ہے ؛ اس لئے یہ صحیح ہے کہ جب گھر میں داخل ہوتو گھر کے لوگوں کو سلام کرے ، اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تواس طرح سلام کے کلمات کہے :السلام علینا و علی عباد اللّٰہ الصالحین (ہندیہ:۵؍۳۲۵) سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔
کسوف و خسوف کے درمیان کھانا
سوال:- میںنے بہت سے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ چاند گہن یا سورج گہن کے درمیان نہیں کھانا چاہئے ؛کیونکہ اس کے درمیان کھانے کی وجہ سے پیٹ میں کیڑے ہوجاتے ہیں، کیا یہ بات درست ہے ؟ (سراج الدین، میڈچل )
جواب:-  یہ بے اصل بات ہے ، نہ کسی حدیث سے ثابت ہے ، نہ صحابہ ؓکے قول و فعل سے ، اور بظاہر میڈیکل سائنس بھی ایسا نہیں کہتی ، سورج گہن اور چاند گہن اللہ تعالی کے مقرر کئے ہوئے قانونِ فطرت کے تابع ہے؛ لیکن چونکہ عام معمول کے خلاف ہے؛اس لئے اس کے ذریعہ اللہ تعالی کی قدرتِ کاملہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے؛اسی لئے اس موقع پر نماز اور ذکر کے اہتمام کا حکم دیا گیا ہے؛ تاکہ انسان کی غافل طبیعت بیدار ہو ،رہ گیا انسان یا کائنات کی دوسری اشیاء پر اس کا مؤثر ہونا تو اس کا کوئی ذکر نہیں ۔
مسلمان خواتین اور نرسنگ
سوال:-  آج کل ہندوستان میں مریضوں کی خدمت اور تیمارداری کے لیے نرسز رکھی جاتی ہیں ، کیا نرسنگ کا کام مسلمان عورتوں کے لیے جائز ہے ؟ ( ثنا اختر، چندرائن گٹہ)
جواب:-  معتدل اور عام حالات میں کسی عورت کے لیے اجنبی مرد کی تیمارداری جائز نہیں ، کہ اس میں فتنہ کے اندیشے ہیں، اور انہیں اندیشہ ہائے دور دراز نہیں سمجھنا چاہئے؛ بلکہ ہسپتالوں میں اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں؛ اس لیے اس بات کی تو گنجائش ہے کہ جو وارڈ خواتین کے لیے مخصوص ہوں ، ان میں خواتین نرس کا کام انجام دیں اور شرعی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے فرائض پورے کریں ، مردوں کے وارڈ میں عورتوں کا بہ حیثیت نرس کام کرنا، یا مرد ڈاکٹر کے ساتھ ان کی تنہائی یا ان کے ایسے لباس یا یونیفارم میں رہنا جو اسلامی حجاب کے تقاضا کو پورا نہ کرتے ہوں ، جائز نہیں، یہ مسلمان بہنوں کے لیے قید و بند نہیں؛ بلکہ ان کی حفاظت و صیانت کی کوشش ہے ، غیر معمولی حالات جیسے اچانک کسی آفتِ سماوی کا آجانا جس سے بہت سے لوگ ہلاک ہوجائیں ، یا جنگی حالات کا معاملہ ، اس سے کسی قدر مختلف ہے ، ایسے مواقع پر اگر زخمیوں کی تیمارداری کے لیے مرد فراہم نہ ہوں تو خواتین بھی شرعی حدود کی ممکن حد تک رعایت کے ساتھ تیمار داری کرسکتی ہیں؛ چنانچہ امام بخاری ؒ نے ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نقل کیا ہے کہ ہم لوگ حضور ا کے ساتھ ( جنگ کے موقع پر ) پانی لاتے تھے ، زخمیوں کا علاج کرتے تھے ، اور مقتولوں کو منتقل کرتے تھے ، بخاری کے حاشیہ پر اس کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے موقع پر اجنبی عورت اجنبی مرد کا علاج کرسکتی ہیں : فیہ جواز معالجۃ المرأۃ الأجنبیۃ للرجل الأجنبي للضرورۃ  (حاشیہ علی صحیح البخاری: ۱؍ ۴۰۳)؛ لیکن جیسا کہ مذکور ہوا کہ خصوصی اور غیر معمولی حالات پر عام حالات کو قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔
قوت حفظ کے لئے تدبیر
سوال:-  میرا حافظہ بہت کمزور ہے ، مجھے کیا پڑھنا چاہئے ؟
( انیس الرحمٰن، ممبئی)
    جواب:-  قوت حفظ کے لئے معالج سے رجوع کرنا چاہئے ؛ کیوںکہ علاج سنت نبوی ا ہے اور دعا کا اہتمام بھی کرنا چاہئے ، حدیث میں زیاتیٔ علم کے لئے ایک خاص دعا منقول ہے اور علم میں فہم اور حفظ دونوں شامل ہے ؛ اس لئے اس دعا کا اہتمام کریں ، اس دعا کو امام ترمذی ؒ نے حضرت ابوہریرہ ص کے واسطہ سے نقل کیا ہے ۔ اللہم انفعني بما علمتني و علمني ما ینفعني وزدني علما ، الحمد للہ علیٰ کل حال ، وأعوذ باللہ من حال أہل النار  (ترمذی، حدیث نمبر: ۳۵۹۹) اے اللہ ! مجھے جو علم عطا فرمایا ہے ، اس سے نفع پہنچایئے اور وہ علم عطا فرمایئے، جو میرے لئے نافع ہو، اور میرے علم میں اضافہ فرمایئے ، تمام تعریفیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور میں اہل دوزخ کے حال سے اللہ کی پناہ میں آتاہوں ۔
    خاص طور پر حفظ قرآن کے سلسلہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ص کی روایت ہے کہ حضرت علی ص نے آپ ا سے ضعف حفظ کی شکایت کی ، آپ ا نے انہیں تلقین فرمائی کہ جمعہ کی شب چار رکعت نماز پڑھیں ، پہلی رکعت میں سورہ ٔ فاتحہ اور سورۂ یٰسین ، دوسری رکعت میںسورۂ فاتحہ اور سورہ الدخان ، تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور الم التنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ اور تبارک الذی ( سورہ ملک ) پڑھیں ، پھر جب تشہد سے فارغ ہوں تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کریں ، انبیاء پر درود بھیجیں اور مؤمنوں کے لئے استغفار کریں اور پھر دعا کریں ، یہ دعا بہت طویل ہے ، آپ  ا نے اسے تین یا پانچ یا سات بار پڑھنے کا مشور دیا ، اس کے سات ہفتہ کے بعد حضرت علی ص خدمت اقدس ا میں آئے اور آپ ا کو قرآن مجید حفظ ہوجانے کی اطلاع دی ، (کتاب عمل الیوم واللیلۃ : ۱۵۶ ) پس جو لوگ حفظ قرآن میں دقت محسوس کرتے ہوں ، ان کے لئے بہتر ہے کہ اسی تفصیل کے مطابق چار رکعت نماز پڑھ کر حفظ میں سہولت اور پختگی کی دعا کریں ۔
غیر مسلموں کے لئے دعاء صحت
سوال:-  اکثر دیکھا جاتا ہے کہ نماز کے اوقات میں ہندو حضرات لوگوں کو نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور نمازیوں سے دعائیں کراتے ہیں اور پانی اور مریض پر دم کراتے ہیں ، کیا دوسری قوموں پر دفع امراض کے لئے دعا کرنا درست ہے؟ ( شفیع احمد، گلبرگہ)
جواب :-  غیر مسلم بھائیوں کی صحت ، دنیوی فلاح اور دنیامیں مصیبتوں سے نجات کی دعا کرنا درست ہے ، رسول اللہ ا نے مشرکین مکہ سے قحط دور ہو نے کی دعا فرمائی ہے اوران کی ہدایت کی دعا کرنا تو کم سے کم سنت ضرور ہے ، رسول اللہ ا نے ہمیشہ ان کی ہدایت کے لئے دعا فرمائی ہے ، ممانعت صرف اس بات کی ہے کہ جس شخص کی موت حالت کفر پر ہو چکی ہو اس کے لئے استغفار کی دعا کی جائے ، اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا؛ اس لئے استغفار یا ایصال ثواب جائز نہیں ، باقی جو لوگ زندہ ہوں ان کے لئے دنیوی واخروی فلاح ونجات کی دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ؛ بلکہ یہ اسلامی اخلاق کا تقاضہ ہے ۔
تاریخ اور دن کا آغاز
سوال :-  انگریزی سن کا ’’دن ‘‘رات کے بارہ بجے سے شروع ہوتا ہے ، ہجری سن کادن کس وقت سے شروع ہوتا ہے ؟ کیا مغرب سے ؟ اگر ایسا ہو تو پھر فجر کی نماز کو دینی کتابوں میں دن کی پہلی نماز کہا گیا ہے ، یہ کیسے پہلی نماز ہوسکتی ہے؟( محمد کوثر، نظام آباد)
    جواب :-  دن اور تاریخ میں فرق ہے ، اسلام میں مہینہ کی تبدیلی پہلی تاریخ کے چاند سے ہواکرتی ہے اور چاند ظاہر ہے غروب آفتاب کے بعد طلوع ہوتا ہے ؛ اس لئے غروب آفتاب سے تاریخ بدلتی ہے ؛ لیکن دن صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور اس لحاظ سے فجر کی نماز دن کی پہلی نماز ہوتی ہے اور یہی معیار لوگوں کے لئے سہولت کا باعث ہے ، آج کل am اورpmرات اور دن کے ۱۲؍ بجے سے شمار کیا جاتا ہے ، رات کے بارہ بجے کا وقت وہی لوگ جان سکتے ہیں، جن کے پاس گھڑی موجود ہو؛ لیکن سورج کا ڈوبنا ہر شخص کو بہ سہولت معلوم ہوجاتا ہے اوریہی اسلام کا مزاج ہے کہ معیار ایسی چیزوں کو بنایا جائے ، جس کی شناخت آسانی سے ہوسکے ۔
مضاربت اور مشارکت میں فرق
سوال:-مضاربت اور مشارکت میں کیا فرق ہے ؟                    ( کریم الدین، نرمل)
جواب:- یہ دونوں اشتراک کے ساتھ کاروبار کی صورتیں ہیں ، فرق یہ ہے کہ مضاربت میں ایک شخص کا صرف سرمایہ ہوتا ہے اور دوسرے شخص کی طرف سے صرف محنت اور نفع میں دونوں شریک ہوتے ہیں ۔
    مشارکت ( جس کو اصل میں فقہاء ’’ شرکت ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ) میں دونوں افراد کا مال یا دونوں کی محنت شامل ہوتی ہے اور نفع میں بھی دونوں شریک ہوتے ہیں ، یہ دونوں ہی صورتیں شریعت میں جائز ہیں اور اسلام میں سرمایہ کاری کی بنیاد ان ہی دونوں معاملات پر ہے ۔