Sun, Feb 28, 2021

آپ کے شرعی مسائل
    مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2019.12.27

درودِ ابراہیمی کے بعد غیر عربی دعائیں
سوال:-  قعدہ اخیرہ میں درودِ ابراہیمی کے بعد قرآن وحدیث سے ثابت ساری یا زیادہ سے زیادہ دعائیں کیا پڑھی جاسکتی ہیں ؟ کیا عربی کے علاوہ دوسری زبان مثلا اردو میں دعاء مانگی جاسکتی ہے ؟       (محمد امان اللہ، مالیگاؤں)
جواب:-  (الف) درودِ ابراہیمی کے بعد تنہا نماز ادا کرنے والا شخص اگر قرآن وحدیث میں مذکورہ بہت سی دعائیں پڑھ لے ، تو حرج نہیں ؛بلکہ ان شاء اللہ باعثِ اجر و ثواب ہوگا ، رسول اللہا سے اللہم إني ظلمت نفسي إلخ کے علاوہ اور بھی دعائیں اس موقع پر پڑھنا منقول ہے ، یہاں ان کا تذکرہ طوالت کا باعث ہوگا ؛ اس لئے چند حوالوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے ، (دیکھئے : ابوداؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب مایقول بعد التشہد ، سنن نسائی ، کتاب الصلاۃ ، باب الدعاء بعد الذکر ، سنن بیہقی ، کتاب الصلاۃ ، باب ما یستحب لہ أن لا یقصر عنہ من الدعاء قبل السلام ، مصنف عبد الرزاق ، باب القول بعد التشہد ، حدیث نمبر : ۳۰۸۲، عن ابن مسعود ص ، وحدیث نمبر : ۳۰۸۶، عن عائشۃ وغیرہ )  — البتہ جو شخص امامت کرے ، اس کو ’’ اللہم إني ظلمت نفسي إلخ ‘‘والی متداول دعا یا اتنی ہی مقدار قرآن و حدیث میں مروی کوئی دوسری دعا پڑھنی چاہئے ، زیادہ لمبی دعاء نہیں پڑھنی چاہئے ؛ تاکہ لوگوں کے لئے مشقت اور حرج کا باعث نہ ہو ۔
    (ب)   جہاں تک اردو میں دعاء کرنے کی بات ہے ، تو نماز سے باہر اس میں کوئی حرج نہیں ، نماز کے اندر عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں دعاء کرنے کے سلسلہ میں فقہاء کے تین نقاطِ نظر ہیں : ایک رائے یہ ہے کہ نماز میں غیر عربی زبان میں دعاء کرنا حرام ہے ، اس کو بعض فقہاء حنفیہ نے علامہ قرافی مالکی ؒ کے حوالہ سے نقل کیا ہے ، دوسرا نقطۂ نظر امام ابوحنیفہؒ کا ہے کہ غیر عربی میں دعاء کرنا جائز ہے ، تیسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ غیر عربی میں دعاء کرنا مکروہ اورخلاف اولی ہے ، علامہ شامیؒ   —جو بڑے محقق حنفی فقیہ ہیں ،  —- کا رجحان یہ ہے کہ نماز میں غیر عربی میں دعاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور نماز کے باہر غیر عربی میں دعاء مکروہ تنزیہی ، یعنی خلاف مستحب  — بہر حال علامہ شامیؒ کا نماز سے باہر بھی غیر عربی میں دعاء کو مکروہ تنزیہی قرار دینا تو ناقابل فہم ہے؛ البتہ اس سلسلہ میں ان کی رائے رسول اللہ ا کے عمل ، صحابہ ث کے آثار اور دین کے مزاج سے قریب تر معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص عربی میں دعاء کرسکتا ہو ، نماز میں اس کا غیر عربی میں دعاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور جو شخص عربی میں دعاء کرنے پر قادر نہیں ہو ، جیسے نو مسلم حضرات ، ان کے لئے غیر عربی میں بھی دعاء کرنے میں حرج نہیں ، جیساکہ امام ابوحنیفہؒ کی اصل رائے ہے ۔
قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد وضو ٹوٹ جائے
سوال:-  اگر نماز میں قعدہ اخیر میں تشہد کے بعد ریاح خارج ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے ؟ کیا اس کی نماز پوری ہو گئی ؟     ( محمد اشتیاق، بی بی نگر)
    جواب:-  ایسی صورت میں وضو کرے ، درمیان میں گفتگو نہیں کرے اور قعدہ اخیرہ میں بیٹھ کر قعدہ کے جوا ور اد باقی رہ گئے ہوں ،اس کو پورا کرے ، پھر سلام پھیرے ، اب اس کی نماز مکمل ہو گئی ؛ کیونکہ سلام کرنا واجب ہے ، ’’ وإن سبقہ الحدث بعد التشھد توضاو سلم لأن التسلیم واجب فلا بد من التوضی لیأتی بہ ‘‘ (ہدایہ : ۱/۱۳۰ ، نیز دیکھئے :  درمع الرد :۲/۳۵۳)
جوڑے کی رقم لینے والے کے ولیمہ میں شریک ہونا
سوال:- ہمارے محلہ میں لڑکے والے لڑکی والوں سے باضابطہ جوڑے کی رقم طلب کر کے لیتے ہیں، ایسی صورت میں لڑکے والوں کی دعوت ، یعنی ولیمہ کا کھانادرست ہے یا نہیں؟           ( شاداب انور، ملے پلی)
    جواب:-  ایسا مطالبہ کرنے والے لوگ ظالم بھی ہیں، اور غاصب بھی ، لہذا جو لوگ رقمی مطالبہ سے واقف ہوں، ان کے لیے مجلس نکاح اور ولیمہ میں شرکت مکروہ تحریمی ہے اور اس سے اجتناب کرنا واجب ہے : دعي إلی الولیمۃ و ثمۃ لعب أو غناء قعد و أکل لو المنکر في المنزل ، فلو علی المائدۃ ، لا ینبغی أن یقعد بل یخرج معرضا لقولہ تعالیٰ : { فلا تقعد بعد الذکر ی مع القوم الظالمین } قولہ : لا ینبغی أن یعقد أی یجب علیہ  ( الدر المختار مع الرد : ۹/۵۰۱۔محشی۔) اگر سماج میں تمام لوگ طے کرلیں کہ وہ ایسی شادیوں میں شریک نہیں ہوں گے ، تو اس سے اس غیر شرعی رسم کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔
کیاناپاک اشیاء کی خریدو فروخت درست ہے ؟
سوال:-آج کل گوبر کھاد کے لئے فروخت کیا جاتا ہے، اب تو بیت الخلاء کے حوض سے نکالا جانے والا انسانی فضلہ بھی بیچاجاتا ہے اور ان کو کھاد کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے ، حالانکہ یہ ناپاک ہے ، کیا ایسی چیزوں کو خریدنا اور بیچنا درست ہے ؟ ( عبدالمقیت، آرام گھر)
    جواب:- ایسی چیزیں جو ناپاک ہوں ، لیکن ان سے نفع اٹھایا جاسکتا ہو ، انہیں خریدنا اور بیچنا درست ہے ، اسی لئے فقہاء نے خالص گوبر کو اور لید فروخت کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے ، اس لئے کہ جانور فضلہ بے آمیز ہوں تب بھی ان سے نفع اٹھا یا جاسکتا ہے ، خالص انسانی فضلہ قابلِ انتفاع نہیں ہوتا ، لیکن اگر مٹی کے ساتھ ملا ہوا ہو تو کھاد کے کام آتا ہے ،اس لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر مٹی غالب ہو ، تو اس کا خریدنا اور بیچنا درست ہوگا : کما بطل بیع  رجیع آدمی لم یغلب علیہ التراب ، فلو مغلوبا بہ جاز ، کسرقین و بعر و اکتفی في البحر خلطہ بتراب  (رد المحتار :۹/۶۰۷۔) بیت الخلاء کے حوض میں مٹی فضلات کو بڑی حد تک تحلیل کردیتی ہے ، اس طرح مٹی غالب ہو تی ہے اور فضلہ مغلوب اس لحاظ سے جو فقہاء فضلہ کے مغلوب اورمٹی کے غالب ہونے کی صورت میں خرید و فروخت کی اجازت دیتے ہیں، ان کی خرید و فروخت ان کے نزدیک بدرجۂ اولی جائز ہوگی ۔
اگر بیچنے والے بازار کے نرخ سے زیادہ بتائیں ؟
سوال:- جائداد فروخت کرنے والے نے بوقتِ فروخت بازاری قیمت سے زیادہ قیمت بتلاکر معاہدہ کرلیا ،لیکن بعد میں پتہ چلا کہ فروخت کنندہ نے غلط بیانی کر کے زائد قیمت بتلائی ہے ، تو ایسی صورت میں معاہدہ کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے ؟   ( سلیمان احمد، کوکٹ پلی)
جواب:- اگر فروخت کرنے والے نے بیچتے وقت صراحتًا یہ بات کہی کہ مارکٹ میں
اس وقت اس جائداد کی یہ قیمت چل رہی ہے اور صورتِ حال یہ ہو کہ مارکٹ میں زیادہ سے زیادہ اس جائداد کی جو قیمت پائی جاتی ہو ، یہ اس سے بھی زیادہ ہو ، تو خریدار کو اس معاہدہ کے ختم کرنے کا حق حاصل ہوگا ؛ کیوں کہ بیچنے والے کی طرف سے دھوکہ دہی پائی گئی ، اسی طرح اگر اس نے کہا کہ اس جائداد کی اس سے کم قیمت نہیں ہو سکتی؛ حالانکہ یہ بات غلط تھی ، تو یہ بھی فروخت کرنے والے کی طرف سے دھوکہ دینے کی صورت ہے؛ لہذا اس صورت میں بھی اسے جائداد کے واپس کرنے کا حق ہوگا ، اگر بیچنے والے نے مارکٹ قیمت کا کوئی ذکر نہیں کیا اور اپنے طور پر ایک قیمت متعین کر کے بتائی ، تو چاہے وہ قیمت مارکٹ ویلو سے زیادہ ہو ، خریدار یک طرفہ طور پر اس معاملہ کو ختم نہیں کر سکتا ہے ۔
غیر مسلم تہواروں میں اجرت پر اشیاء کا دینا
سوال:-مسلم سپلائینگ کمپنی کے مالکین سپلائنگ کمپنی کا سامان گنیش منڈپوں کے لیے کرایہ پر دیتے ہیں، نیز گنیش و سرجن کے موقع پر مسلم لاری مالکان اپنی لاریوں کو بھی کرایہ پر دیتے ہیں ، ڈرائیور و کنڈکٹر بھی زیادہ تر مسلم ہی رہتے ہیں، ساؤنڈ کمپنی والے بھی لاؤڈ اسپیکر ، رنگین بلبس و دیگر الیکٹریکل و الیکٹرانک اشیاء کرایہ پر دیتے ہیں ، دیگر ہندو تہواروں میں بھی متذکرہ مالکان اپنا اپنا سامان کرایہ پر دیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے ؟  ( عبد المبین، سکندرآباد)
    جواب:-  اسلام نے ہمیں دوسرے مذاہب کے بارے میں رواداری اور احترام کی تعلیم دی ہے کہ ہم دوسروں کے مذہبی جذبات کا پاس و لحاظ رکھیں اور ان کی مذہبی شخصیتوں کے بارے میں بے احترامی کا رویہ اختیار نہ کریں ، لیکن اسلام موم کی ناک نہیں کہ اس کو بالکل اس کی مخالف فکر و عقیدہ کے ساتھ جوڑ دیا جائے ، اسلام کی بنیادی تعلیم خدا کی وحدت ہے ،اس کی نگاہ میں سب سے زیادہ خلاف واقعہ بات یہ ہے کہ خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرایا جائے ، جب کہ ہمارے ہندو بھائیوں کی دیوی و دیوتاؤں کی لا محدود تعداد ہے ، اور گنیش جی اور ان کے علاوہ تمام تہوار کسی نہ کسی مشرکانہ فکر پر مبنی ہیں، لہذا اگر آپ اس میں تعاون کریں تو یہ مطلب ہوگا کہ آپ خدا کے ایک ہونے پر بھی یقین رکھتے ہیں، اور خدا کے ساتھ شریک کرنے کو بھی قابلِ قبول تصور کرتے ہیں، ایسے متضاد عمل کو کوئی بھی صاحب عقل درست نہیں کہہ سکتا ، اس لیے گنیش و سرجن کے لیے لاریاں اور دوسری اشیاء کرایہ پر دینا درست نہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں گناہ پر تعاون سے منع فرمایا ہے : و لا تعاونوا علی الإثم و العدوان  ( المائدۃ : ۳) أما المعلم الذی یعلم الصبیان بأجر إذا جلس في المسجد یعلم الصبیان لضرورۃ الحر و غیرہ لا یکرہ ( خلاصۃ الفتاوی: ۱/۲۲۹ ، الفتاوی الھندیۃ : ۱/۱۵۷ ؛ اس لیے فقہاء نے گانے بجانے وغیرہ کے لیے اجارہ کو نادرست قرار دیا ہے : لا تصح الإجارۃ لأجل المعاصی مثل الغناء(الدر المختار : علی ھامش رد المحتار : ۹/۷۵ ۔ ) کوئی مسلمان شراب کے لیے اپنا گھر کرایہ پر دے ، یا اپنی سواری شراب کی بار برداری کے لیے دے تو امام ابو حنیفہ ؒ کے دونوں لائق تلامذہ امام ابو یوسف ؒ اور امام محمد ؒ اسی اصول کی بناء پر اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔(الفتاوی الھندیۃ :۴/۴۴۹ ۔ )

.    .    .