Thu, Feb 25, 2021

آپ کے شرعی مسائل
 خالد سیف اللہ رحمانی
18/09/2020

کتنی مقدار تاخیر سے سجدہ سہو واجب ہوگا؟
سوال: مجھے نماز میں ایسا ہوا کہ تیسری رکعت کے سجدے کے بعد سیدھے کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ گیا، پھر فورا ہی یاد آیا تو تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا, تو کیا اس لمحہ بھر بیٹھ جانے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو جائے گا؟ جیسا کہ مجھ سے میرے بعض احباب نے کہا ہے؛ حالانکہ میں نے سجدہ سہو نہیں کیا، اس صورت میں میری نماز ہوگئی یا مجھے نماز دہرانی ہوگی؟ (ابصار الدین، گولکنڈہ)
جواب:
نماز کے کسی رکن کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے؛ لیکن اس صورت میں جب کہ یہ تاخیر نماز کے ایک رکن کے بقدر ہو گئی ہو، ایک رکن سے کیا مراد ہے؟ تو بعض حضرات نے اس سے رکوع کے بقدر مراد لیا ہے :أن تفکر قدر ما یؤدی فیہ رکن کالرکوع لزم، (الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الہندیۃ: 4/70)، بعض فقہاء نے تین تسبیح کی مقدار کو ایک ر کن کے مقدار قرار دیا ہے جیسے:سبحان ربی الأعلی، سبحان ربی الأعلی، سبحان ربی الأعلی کی مقدار …. بثلاث تسبیحات…. یعتبر الرکن مع سنتہ وہو مقدر بثلاث تسبیحات.(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص: 474)
اس تفصیل کی روشنی میں آپ اندازہ کر لیں کہ آپ کا بیٹھنا کتنی مقدار ہوا؛ اگر تین تسبیحات کے بہ قدر نہیں بیٹھے تو سجدۂ سہو واجب نہیں ہو گا۔
آئیل پینٹ کی دیوار پر تیمم
سوال: بعض دفعہ دیوار پر پر آئل پینٹ کرایا جاتا ہے، اور یہ کافی گاڑھا ہو جاتا ہے، کیا ایسی دیوار پر تیمم کیا جا سکتا ہے؟( سمیع الحق، ملے پلی)
جواب:
تیمم ایسی ہی چیز پر کیا جاسکتا ہے، جو مٹی کی جنس سے ہو؛ اگر اسے جلایا جائے تو پگھلے نہیں اور نہ راکھ بن جائے، آئل پینٹ کی یہ کیفیت نہیں ہوتی؛ اس لیے وہ مٹی کی جنس سے نہیں ہے، لہذا اس پر تیمم کرنا جائز نہیں ہوگا، فقہاء نے رنگ کے بارے میں صراحت کی ہے کہ یہ زمین کی جنس میں سے نہیں ہے:وکذا بالخزب الخالص إلا إذا کان مخلوطا بما لیس من جنس الأرض أو کان علیہ صبغ لیس من جنس الأرض.(البحر الرائق، باب التیمم: 1/155)؛ البتہ اگر دیوار پر چونایا سفید سیمنٹ سے کلر کیا جائے تو اس صورت میں تیمم جائز ہے؛ اس لیے کہ یہ زمین کی جنس سے ہے۔
مسبوق کی اقتداء
سوال: مجھے بعض دفعہ شوافع کی مسجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے، اور ہوتا یہ ہے کہ میری کچھ رکعت امام کے ساتھ چھوٹ گئیں، میں ان رکعتوں کو پورا کرنے کے لیے جب کھڑا ہوتاہوں تو اب کوئی نیا شخص آتا ہے اور میری پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر میرے ساتھ نماز پڑھنے لگتا ہے، یہ ہاتھ رکھنا اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ وہ میری اقتدا کر رہا ہے، کیا یہ صورت درست ہے؟ اور درست نہیں ہے تو میں اس کو روکوں بھی کس طرح؟ (حمید اللہ ، چندرائن گٹہ)
جواب:
جس کی کچھ رکعتیں چھوٹ گئیں اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ اس کو ادا کر رہا ہے، اس نمازی کو مسبوق کہتے ہیں، امام ابوحنیفہ کے نزدیک مسبوق کی اقتدا نہیں کی جاسکتی:”أن لا یکون الإمام مصلیا فرضا غیر فرضہ…..ولا مسبوقا لشبہۃ اقتدائہ ”.(مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح، باب الامامۃ، ص: 110)؛ اس لیے کسی اور صاحب کا آپ کی اقتداء کرنا؛ حالانکہ آپ خود مسبوق ہیں، جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں ہاتھ کے اشارے سے یا کھانس کر ان کو منع کر دیں، اور اگر وہ نہ سمجھ پائیں تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان کو متنبہ کردیں کہ آپ کی نماز درست نہیں ہوئی؛ البتہ امام شافعی کے نزدیک مسبوق کی بھی اقتداء کی جا سکتی ہے؛ اس لیے آپ ان کو برا نہ سمجھیں۔
شادی کے موقع سے دلہن کو مہندی
سوال: شادی کے موقع پر نکاح سے ایک دو روز پہلے لڑکی کو مہندی لگائی جاتی ہے، خواتین جمع ہوتی ہیں، بعض دفعہ گیت بھی گایا جاتا ہے، اور دلہن کو مہندی لگائی جاتی ہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ (طیب حسین، نام پلی)
جواب:
جہاں تک دلہن کو مہندی لگانے کی بات ہے تو یہ جائز ہے؛ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے مہندی لگانے کو پسند فرمایا ہے(سنن ابی داود، حدیث نمبر:۴۱۶۶)، اگر اس کے لئے خاندان کی چند خواتین جمع ہوجائیں، خاص کر وہ عورتیں جن کو مہندی لگانا آتا ہو، تو اس میں بھی حرج نہیں ہے؛ لیکن گیت گانا جائز نہیں ہے، ایک تو خواتین مل کر گیت گاتی ہیں اور ان کی آواز نا محرموں تک پہنچتی ہے، دوسرے: شادی بیاہ کے موقع سے جو گیت گائی جاتی ہے، سننے میں آیا کہ اس میں بعض دفعہ ناشائستہ مضامین بھی ہوتے ہیں، اسی طرح اس کے لیے تقریب کے انداز پر خصوصی پروگرام اور بڑی تعداد میں خواتین کو بلانا مناسب بھی نہیں ہے، یہ ایک رسم ہے، اور رسمیں آہستہ آہستہ لازم سمجھی جانے لگتی ہیں۔
دعوت ولیمہ اور غیر مسلم
سوال: دعوت ولیمہ میں کیا غیر مسلموں کو بھی بلایا جا سکتا ہے؟( محمد شاہد، قاضی پور)
جواب:
جی ہاں، بلایا جا سکتا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرۃ القضاء کے موقع پر حضرت میمونہ سے نکاح فرمایا، اور اس موقع پر اہل مکہ کو دعوت دی(فیض الباری،باب تزویج المحرم:(303/3، یہ اور بات ہے کہ ان حضرات نے دعوت قبول نہیں کی، فقہاء نے مسلمان اور غیر مسلم کی شرط کے بغیر لکھا ہے کہ دعوت ِولیمہ میں پڑوسیوں، قرابت داروں اور دوستوں کو دعوت دینی چاہیے:وہی إذا بنی الرجل بامرأتہ ینبغی أن یدعو الجیران والأقرباء والأصدقاء ویذبح لہم ویصنع لہم طعاما،(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات: 5/343)
’’جہاں چاہو جاؤ ‘‘سے طلاق
سوال: میرے دوست نے غصہ میں آکر اپنی بیوی کے بارے میں کہا کہ اب مجھے اسے رکھنا نہیں ہے، جہاں چاہے جائے،اس صورت میں اس پر واقع ہوگی یا نہیں؟ (نیاز احمد ، آصف نگر)
جواب:
اس جملہ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ اظہار ناراضگی کے لئے کہا: میں اس کو اپنے گھر میں نہیں رکھوں گا، تو یہ غصہ کا اظہار ہوا نہ کہ طلاق، دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے؛ اس لیے بحیثیت بیوی رکھنا نہیں ہے، تو یہ صورۃ طلاق کی ہے، جس تعبیر میں دونوں معنوں کا احتمال ہو، اس کو ”کنایہ” کہا جاتا ہے، اور الفاظ کنایہ کا حکم یہ ہے کہ اگر بولنے والے کو یہ اقرار ہو کہ اس نے طلاق دینے کی نیت سے یہ لفظ کہا ہے، تب تو طلاق واقع ہوجاتی ہے، ورنہ واقع نہیں ہوگی؛ اس لئے اگر آپ کا دوست کہتا ہو کہ میں نے طلاق کی نیت سے کہا ہے، تو طلاق واقع ہو جائے گی،اور اگر کہتا ہو کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی: وإن قال: لم أرد بہ الطلاق أو لم تحضرہ النیۃ لا یکون طلاقا، سواء کانت الحالۃ حالۃ الرضا أو حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو حالۃ الغضب، (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الطلاق، الفصل الخامس: فی کنایۃ الطلاق: 4/460)
جانور کی تول کر فروخت
سوال: ابھی بقر عید گزری ہے اس سال بقر عید میں زیادہ تر تول کر جانور کی خریدو فروخت ہوئی ہے، فی کلو زندہ جانور کے قیمت لگائی جاتی ہے اور تو لے کے بعد کتنا وزن ہوتا ہے اسی لحاظ سے قیمت ادا کی جاتی ہے، ایسے لوگوں کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ (رفیق احمد قاسمی، شاہین نگر)

جواب:
امام محمدؒ کے نزدیک یہ بات کہ کونسی چیز تول کر بیچی جائے گی، کونسی چیز ناپ کر اور کونسی چیز گن کر بیچی جائے گی؟ عرف ورواج پر موقوف ہے، اور عرف زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ بھی بدلتا رہتا ہے، اور جگہ کی تبدیلی کے ساتھ بھی، مثلا سیب اور بعض پھل کسی علاقہ میں گن کر فروخت کیے جاتے ہیں اور کسی علاقے میں تول کر، زیادہ تر کپڑے ناپ کر بیچے جاتے ہیں؛ لیکن بعض کپڑے تول کر بھی بیچے جاتے ہیں؛ لہذا چونکہ یہ بات قرآن و حدیث میں متعین نہیں کی گئی ہے کہ جانور گن کر بیچا جائے یا تول کر، اور جن فقہاء نے تول کر بیچنے کو منع کیا ہے، انہوں نے اپنے زمانہ کے رواج کو سامنے رکھا ہے؛ اسلئے موجودہ زمانہ کے اعتبار سے تول کر جانور کی خرید و فروخت جائز ہو گی؛ کیونکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رواج ہوجانے کی وجہ سے اب تول کر خرید وفروخت فریقین میں نزاع کا سبب نہیں بنتا؛ اس لیے یہ خرید وفروخت جائز ہے اور قربانی درست ہوگئی ۔
خرید وفروخت کی ایک خاص صورت
سوال: آجکل ایئرپورٹ اور مول وغیرہ میں جوس اور کولڈرنکس وغیرہ ایک بندہ الماری میں رکھا ہوتا ہے اور ہر ایک کی قیمت بھی لکھی ہوتی ہے، مقررہ قیمت جب اس میں ڈالی جاتی ہے اور بٹن دبایا جاتا ہے تو مطلوبہ چیز باہر نکل آتی ہے، بیچنے والا موجود نہیں ہوتا تو کیا اس طرح خرید وفروخت درست ہو جائے گی؟ (افروز خان، سکندرآباد)
جواب:
خرید و فروخت کی ایک صورت وہ ہے جسے تعاطی یا معاطاۃ کہا جاتا ہے، یعنی ایک شی ٔرکھی ہوئی ہے، اس کی قیمت معلوم ہے یا لکھی ہوئی ہے، خریدار آیا، اس نے پیسے رکھے اور سامان اٹھالیا، بیچنے والے نے نہ کچھ کہا اور نہ منع کیا تو خرید و فروخت کا عمل مکمل ہو جائے گا؛ کیونکہ رضامندی کا اظہار کبھی زبان کے بول سے ہوتا ہے، اور کبھی خاموشی اور رویہ سے،پس یہ رضامندی ہی کی ایک صورت ہے؛ اس لیے یہ صورت جائز ہے اور فقہی اصطلاح کے اعتبار سے بیع تعاطی کے دائرہ میں آتا ہے۔