Sun, Feb 28, 2021

آپ کے شرعی مسائل
 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
04-09-2020

مساجد کے طہارت خانے
سوال : اسلام میں میں پاکی اور صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، اسی طرح پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کی بطور خاص تاکید فرمائی گئی ہے؛ لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ:
۱۔ اکثر مساجد میں طہارت خانے اتنے تنگ بنائے جا رہے ہیں کہ وہاں ایک عام جسامت کے مصلی کا قضاء حاجت کے لئے بیٹھنا دشوار ہوتا ہے، اور انتہائی احتیاط کے باوجود بھی چھینٹوں کے اچھلنے کا احتمال رہتا ہے، ایسی جگہ چھینٹوں سے کیسے بچا جائے؟
۲۔ ایسا لباس جن پر چھینٹیں اچھلی ہوں، کے ساتھ نماز کی ادائیگی کی کتنی گنجائش ہے؟
۳۔ فی زمانہ چست پینٹ (جینس) پہننے کا رواج عام ہے، ضعیف احباب گھٹنوں میں درد کی وجہ سے بیٹھ کر حاجت سے فراغت حاصل نہیں کر پاتے، اسی طرح گردہ کے عارضہ میں مبتلا افراد بھی قطرات کے اخراج کے لیے کھڑے ہو کر ہی پاؤں کو ملاتے رہتے ہیں، یہ تمام افراد کے پیشاب کی چھینٹیں طہارت خانوں کی اندرونی دیواروں پر وہاں پانی لینے کے لیے موجود ڈبوں میں اور خود ان کے لباس پر اچھلنے کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا، ان احباب کے لیے کوئی رخصت ہو تو بتلائیں؟
۴۔ جو لوگ مذکورہ بالا طہارت خانوں میں بیٹھ کر فارغ ہوں، ان کے کپڑے بھی ان دیواروں سے مس ہوں تو کوئی مضائقہ تو نہیں؟
۵۔ ایسے ڈبے جن میں چھینٹیں اچھلی ہوں کے پاک کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ اور اگر کوئی ان کو ویسے ہی استعمال کر لے تب کیا ہوگا؟
۶۔ آیا مسجد میںنمبر (3) کے تحت بتلائے گئے مصلیوں کے لئے الگ نظم کی ضرورت ہے؛ تاکہ بیٹھ کر فارغ ہونے والوں کو بھی صفائی اور پاکی کا اطمینان رہے؟ جزاکم اللہ
محمد اعجاز الدین
مکان نمبر: 450/54-8-18 عیدی بازار حیدرآباد
جواب:پیشاب نجاست غلیظہ یعنی شدید قسم کی نجاست ہے، اگر جسم یا کپڑے پر ہتھیلی کی گہرائی کے مقدار لگ جائے تو اس کے ساتھ نماز درست نہیں؛ لیکن شریعت کا مزاج یہ ہے کہ جس چیز سے بچنا دشوار ہوتا ہے، اس میں خصوصی رعایت کی جاتی ہے؛ اسی لیے پیشاب کے باریک چھینٹیں معاف ہیں، اور ان کی وجہ سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتا، قصاب جو جانور ذبح کرتا ہے بعض دفعہ احتیاط کے باوجود خون کی باریک چھینٹیں اس کے کپڑے پر پڑ جاتی ہیں، اس کا بھی فقہاء نے یہی حکم لکھا ہے: لکن قد یفرق بینہما بأن البول الذی کرئوس الإبر اعتبر کالعدم للضرورۃ ولم یعتبروا فیہ قدر الدرہم بدلیل ما فی البحر أنہ معفو عنہ للضرورۃ وإن امتلأ الثوب۔۔۔۔۔ وعلیہ ما فی الحاوی القدسی، أن ما أصاب من رش البول مثل رء وس الإبر، ونحوہ الدم علی ثوب القصاب۔ (ردالمحتار:۱/۳۲۴)
جو حکم کپڑوں کا ہے وہی حکم دیوار کا اور استنجاء خانے میں رکھے ڈبوں کا ہوگا؛ کیونکہ خصوصی سہولت دیے جانے کی علت ہر جگہ پائی جارہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ عادتا اس سے بچنا دشوار ہوتا ہے۔
البتہ مسجد کی انتظامیہ کو بھی ایسا نظم بنانا چاہیے کہ لوگوں کے لئے گندگی سے بچنا آسان ہو، لہذا آپ کے سوالات کے جوابات اس طرح ہیں ہے:
۱۔ مساجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ استنجا خانے اتنے کشادہ بنائیں کہ بھاری جسم کے لوگ بھی باآسانی استنجاء کر سکیں، اور بہتر یہ ہیں کہ بیت الخلاء اور پیشاب خانہ کی تقسیم نہ ہو جیسا کہ ہندوستان میں رواج ہے کہ بیت الخلاء کی دیوار تو اونچی ہوتی ہے، جگہ کشادہ ہوتی ہے اور دروازے بھی لگے ہوتے ہیں، پیشاب خانے کی دیوار نیچی ہوتی ہیں، جگہ تنگ ہوتی ہے، اور اس میں دروازے نہیں ہوتے،اس میں نجاست سے آلودگی کا بھی خطرہ ہوتا ہے اور بے پردگی کا بھی اندیشہ رہتا ہے، عرب ممالک اور وسط ایشیائی ملکوں میں پیشاب کے لیے بھی ایسے ہی استنجا خانے ہوتے ہیں۔
۲۔ جیسا کہ مذکورہ ہوا : اگر باوجود احتیاط کے پیشاب کی چھینٹیں کپڑے پر پڑ جائیں تو ان کپڑوں میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
۳۔ اولا تو چست پینٹ پہننے سے منع کرنا چاہیے؛ لیکن ایسے پینٹ والوں یا معذور لوگوں کے لئے اگر چند اونچے استنجاء خانے بنادیے جائیںجو پردہ کی رعایت کے ساتھ ہوں تو یہ بہتر صورت ہوگی، جس میں وہ کھڑے ہوکر پیشاب کرلیں؛کیونکہ ضروت اور مجبوری کی کے موقع پر کھڑے ہوکر استنجاء کرنے کی اجازت ہے؛ حدیث سے اس کا ثبوت ہے۔(سنن الترمذی، حدیث نمبر:۱۳)
۴۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا : اگر کپڑے ایسی دیواروں سے مس ہوگئے ،جن پر پیشاب کی چھینٹیں لگ گئی تھیں تو ناپاک نہیں ہوں گے۔
۵۔ ڈبوں کا بھی وہی حکم ہے جو حکم کپڑوں کا ہے؛ البتہ بہتر ہے کہ ان ڈبوں کو دھو دیا جائے۔
۶۔ جیسا کہ مذکور ہوا ایسے حضرات کے لئے اس نوعیت کا استنجاء خانہ بنا دینا چاہیے جس میں کھڑے ہوکر پیشاب سے فارغ ہوا جاسکے۔
مقروض پر زکوۃ
سوال:زید نے ایک فلیٹ خریدا جس کی پچاس فیصد قیمت ادا کردی ہے اور پچاس فیصد باقی ہے؛ البتہ اس کے پاس کچھ سونا اور کچھ رقم ہے تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی؟
(محمد مصباح، ملک پیٹ)
جواب: جب اس نے پچاس فیصد رقم ہی ادا کی ہے اور پچاس فیصد اس کے ذمہ باقی ہے تو ابھی وہ مقروض ہے اور مقروض پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب قرض کی مقدار کے علاوہ اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جو نصاب زکاۃ کو پہنچ جائے، تو جو سامان آپ کے پاس موجود ہے ،اگر وہ اتنا ہو کہ قرض ادا کرنے کے بعد بھی مقدار زکاۃ کے بقدر رقم بچتی ہو، تب تو آپ پر زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں :ومنہا شروط وجوب الزکاۃ…الفراغ عن الدین قال أصحابنا – رحمہم اللہ تعالی -: کل دین لہ مطالب من جہۃ العباد یمنع وجوب الزکاۃ…کالقرض وثمن البیع وضمان المتلفات وأرش الجراحۃ، (الفتاوی الہندیۃ:1/ 172)
البتہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جو قرض طویل مدت میں قابل ادائیگی ہو اور ہر سال اس کی ایک مختصر قسط ادا کی جاتی ہو تو ہر سال ادا کی جانے والی مختصر قسط ہی زکوۃ سے منہا ہوگی، پورا قرض منہا نہ کیا جائے گا۔
فجر پڑھتے ہوئے آفتاب نکل آیا؟
سوال:ہم چند دوست ایک جگہ رہتے ہیں، بات چیت کرنے میں رات دیر ہوگئی، فجر کے وقت اتنی تاخیر سے اٹھے کہ سنت بھی ادا نہ کر پائے، سیدھے فرض نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کیلنڈر کے مطابق دو منٹ پہلے طلوعِ آفتاب ہو چکا تھا، تو کیا ہم لوگوں کی نماز درست ہوگئی؟
(احمد خضر، ٹولی چوکی)
جواب:اگر فجر کی نماز پڑھنے کے دوران ہی آفتاب نکل آیا، تو نماز فاسد ہوجائے گی، اور بعد میں نماز ادا کرنی ضروری ہوگی؛ کیوں کہ طلوع آفتاب کا وقت نماز کا محل ہی نہیں ہے:
وکذا لا یتصور أداء الفجر مع طلوع الشمس عندنا، حتی لو طلعت الشمس وہو فی خلال الصلاۃ تفسد صلاتہ عندنا.(بدائع الصنائع:1/127)
البتہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ماہرین فلکیات کی رائے کے مطابق طلوع آفتاب کا وقفہ دس منٹ کا ہوتا ہے، اور احتیاطاً بیس منٹ کا فصل رکھا جاتا ہے، پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد میں، تو اگر دو منٹ کا وقت گزرا، اور وہ اس احتیاطی وقت کا حصہ ہو، تو آپ لوگوں کی نماز درست ہوگئی؛ پھر بھی اگر اس کی تحقیق نہ ہو تو قضا کر لینی چاہیے۔
غیر مسلم لڑکے کے ساتھ فرار لڑکی کا ایمان اور نکاح
سوال: میرے گاؤں میں ایک حادثہ پیش آگیا، ایک دین دار گھرانہ کی مسلمان لڑکی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی؛ حالانکہ اس کی شادی ہو چکی تھی، ہفتہ دس روز وہ اسی کے ساتھ رہی، اس کا شوہر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے، کیا اب اس کا نکاح باقی ہے اور کیا اس کو دوبارہ کلمہ پڑھوانا ہوگا؟
(حمید اللہ، بنگلور)
جواب: یہ بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہے، اور اب اس طرح کے واقعات کی کثرت ہو رہی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ آج کل لوگ اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم تو دلاتے ہیں؛ لیکن ان کی تربیت نہیں کرتے، شریعت میں پردہ کی جو حدود مقرر ہیں، ان کی رعایت نہیں کی جاتی اور اجنبی لڑکوں اور لڑکیوں کے اختلاط کی نوبت آتی رہتی ہے، اس پر بہت گہرائی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے، لڑکی کا مسلمان کے ساتھ بھاگنا بھی گناہ کی بات ہوتی ؛ لیکن غیر مسلم کے ساتھ بھاگنا توگناہ بالائے گناہ ہے، اب اگر اس نے وہاں جاکر مشرکانہ عقیدہ کا اقرار کیا ہو، جیسے کہا ہو :میں فلاں فلاں کو خدا مانتی ہوں، یا صریح مشرکانہ فعل کیا ہو، جیسے: مورتی کی پوجا کی ہو، تو وہ مرتد ہوگئی، اب ضروری ہے کہ اس سے کلمئہ شہادت پڑھوایا جائے، مسلمان بنایا جائے اور دوبارہ اس کا نکاح کیا جائے؛ البتہ عدت واجب نہیں ہو گی؛ کیونکہ زنا کی وجہ سے عدت واجب نہیں ہوتی:وقال محمد:…وقد جاء ت السنۃ انہ لا عدۃ علی الزانیۃ.(الحجۃ علی أہل المدینۃ:3/388)
اور اگر اس نے غیر مسلم شخص کے ساتھ رہتے ہوئے کوئی مشرکانہ فعل نہیں کیا یا کوئی مشرکانہ بات نہیں کہی ہو، تو وہ گناہ گار تو ہے اور اسے توبہ کرنی چاہیے؛ لیکن اس کی وجہ سے وہ ایمان کے دائرے سے باہر نہیں ہو جائے گی:لا تکفر مسلما بذنب من الذنوب وإن کانت کبیرۃ إذا لم یستحلہا ولا تزیل عنہ إسم الإیمان ونسمیہ مؤمنا حقیقۃ (شرح الفقہ الأکبر لملا علی قاری، ص: 71)
نیز زنا کا ارتکاب بیوی کرے یا شوہر، اس کی وجہ سے رشتۂ نکاح ختم نہیں ہوجاتا۔
فروخت کی ہوئی چیز کو کم قیمت پر خریدنا
سوال:میرے ایک دوست نے بقرعید کے موقع سے ایک ہزار بکرے خرید کر لئے، انہیں امید تھی کہ بقرعید میں اتنے بکرے فروخت ہو جائیں گے؛ لیکن بکرے فروخت نہ ہو پائے، اور تقریبا دوسو بکرے بچ گئے، اس نے بیچنے والے کو واپس لینے کی پیشکش کی، تو اس نے کہا کہ جس قیمت پر اس نے بیچا تھا، اس سے بیس فیصد کم قیمت میں اسے خریدے گا، تو کیا اس طرح خریدوفروخت درست ہو گی اور یہ اس کے لیے جائز ہوگا؟
(محمد افروز، شاہین نگر)
جواب:
اگر آپ کے دوست نے بکرے خریدے اور اس کی قیمت بھی ادا کر دی اور اب اس کے بعد اسے کم قیمت میںفروخت کردے، تو یہ صورت جائز ہے، اگر قیمت ادا نہیں کی تھی اور اس سے پہلے ہی بیچنے والے کے کے ہاتھ اسے کم قیمت میںفروخت کیا جائے تو یہ صورت جائز نہیں ہوگی، اس کو اصطلاح میں ‘شراء ما باع باقل مما باع’ کہتے ہیں، یعنی کسی چیز کو زیادہ قیمت میں بیچا جائے اور اسی کو کم قیمت میں خرید کر لیا جائے، اس کو منع کیا گیا ہے؛ کیونکہ یہ سود کے لیے چور دروازہ بن سکتاہے؛ لیکن یہ ممانعت اس وقت ہے، جب کہ خریدار نے ابھی قیمت ادا نہ کی ہو؛ اگر خریدار نے قیمت ادا کردی، بیچنے والے نے قیمت حاصل کرلی، معاملہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا، اب کسی وجہ سے خریدار بیچنے والے سے وہ چیز فروخت کر رہا ہے اور پہلے والی قیمت سے کم قیمت میں معاملہ طے پاتا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں: وقید بقولہ: قبل نقد الثمن؛ لأن ما بعدہ یجوز بالإجماع بأقل من الثمن، (فتح القدیر للکمال ابن الہمام:6/433)
موبائل کی ضبطی اور اس کو جلادینا
سوال: ایک مدرسہ میں طلبہ کو موبائل رکھنے کی اجازت نہیں، چنانچہ طلبہ کے موبائل ضبط کر لیے گئے اور تمام ضبط شدہ موبائل کو جمع کرکے ان کو نذر آتش کر دیا گیا، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
(اکرام الدین، ملک پیٹ)
جواب:موبائل میں جہاں بہت سی مفید چیزیں ہیں، وہیں بڑی مقدار میں نقصان دہ چیزیں بھی ہیں؛ بلکہ نو عمر لوگوں کے لئے اس میں فائدے سے زیادہ نقصان ہے؛ اس لیے اگر تربیتی نقطہ نظر سے مدرسہ میں موبائل پر یا کسی خاص قسم کے موبائل پر پابندی لگائی جائے، تو یہ جائز؛ بلکہ مستحسن ہے، اور جو طلبہ قانون کی خلاف ورزی کریں، اور چھپا کر موبائل رکھیں، ان کے موبائل ضبط کرلینا بھی جائز ہے؛ کیونکہ اس کا مقصدخود ان ہی کے اوقات اور اخلاق کی حفاظت ہے؛ البتہ ہونا یہ چاہئیے کہ ضبط شدہ موبائل مدرسہ اپنی تحویل میں رکھے، اور طلبہ کے سرپرستوں کو حوالہ کر دے، خواہ دست بدست دے دے یا بذریعہ پارسل بھیج دے، اور اگر ایسا کرنا دشوار ہو تو طالب علم کے واپس ہوتے وقت اسے دے دے؛ لیکن اسے نذرآتش کردینا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ موبائل بہرحال ایک مال ہے اور بعض مفید چیزوں کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے، اور کسی کا مال تلف کر دینا جائز نہیں ہے علامہ ابن حجر ہیثمیؒ فرماتے ہیں:ولا یختلف أحد من العلماء فی أن إضاعۃ المال والسرف محرمان، (الفتاوی الفقہیۃ الکبری:1/269)
اور اگرموبائل کو جلا دیااور طالب علم اس نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرے، تو موبائل ضبط کرتے وقت اس کی جو قیمت ہوسکتی تھی، ادارے پر اس کو ادا کرنا واجب ہوگا۔
واللہ اعلم