Tue, Mar 2, 2021
آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.07.31
قرض لے کر قربانی 
سوال:-   اگر کسی شخص کے پاس اتنا مال موجود ہے جس سے قربانی واجب ہوجاتی ہے ،لیکن وہ فی الحال اس کے قبضہ میں نہیں ہے ، تو کیا اس شخص کو کسی سے قرض لے کر قربانی کرنی چاہئے ؟ ( محمد ولی اللہ، کریم نگر )
جواب:-  جس شخص پر اپنی املاک کے لحاظ سے قربانی واجب ہوچکی ہو اور اس کے قبضہ میں گھریلو سامان اتنی قیمت کا موجود ہو جس سے قربانی کی جاسکتی ہے ، تو فقہاء نے ایسے شخص کو بھی قربانی کر نے کا حکم دیا ہے : لہ مال کثیر غائب في ید مضاربہ أو شریکہ و معہ  الحجرین أو اثاث البیت مایضحی بہ یلزم (رد المحتار:۹؍۴۵۳)اگرکوئی شخص گھریلو سامان جیسے فرنیچر ، برتن وغیرہ فروخت نہیں کرنا چاہتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ قرض لے کر قربانی کر لے ، جیسا کہ اپنی دوسری ضروریات کے لیے قرض لیا کرتا ہے ۔
کن صورتوں میں قربانی کاگوشت صدقہ کرناواجب ہے ؟ 
 سوال:- سناہے کہ بعض صورتوں میں قربانی کے گوشت کو صدقہ کرناواجب ہوتاہے ، تو یہ کونسی صورتیں ہیں ؟ (سید حسنین، شاہین نگر )
جواب:- مشہور فقیہ علامہ شامی ؒ نے ان صورتوں کو جمع کیاہے جن میں قربانی کاگوشت نہیں کھایاجاسکتا:
۱-  اگر قربانی کی نذر مانی گئی ہو :’’ المنذورۃ ابتداء ً‘‘
۲-  ایام قربانی میں باوجود واجب ہونے کے قربانی نہ کرسکا، اب بعد میں اس کی تلافی کے طور پر جو جانور خرید کیا جائے، اسے صدقہ کردیناچاہیے ، اگر اسے ذبح کیاجائے تو اس کی تمام اشیاء کو صدقہ کردیناواجب ہوگا:والتی وجبت تصدق بعینھابعد أیام النحر.
۳-  مرنے والے نے اپنے مال میں سے قربانی کی وصیت کی ہواو ر اسی کے مال سے وہ وصیت پو ری کی جائے ، تو اس گوشت کو بھی صدقہ کردیناواجب ہے :’’والتی ضحّٰی بھاعن المیت بأمرہ علی المختار
۴-  قربانی کا جانور خریدکیاگیا ، اس جانور نے بچہ کو جنم دیا تو اس کو بھی صدقہ کرناواجب ہے : والذی ولدتہ الأضحیۃ 
۵-  ایک جانور میں سات افراد شریک تھے ، ان میں سے ایک شخص کی نیت پچھلے سال کی قربانی کی قضاکرناتھا ، اب چوں کہ قضا کی قربانی میں صدقہ کرناواجب ہوتاہے ؛ اس لیے اس پورے جانور کوصدقہ کرناواجب ہوجائے گا: و المشتر کۃ بین سبعۃ نوی بعضہ بحصۃ القضاء عن الماضی (رد المحتار: ۹؍۴۷۴)اس کے علاوہ علامہ شامی ؒ نے ایک اورصورت بھی لکھی ہے؛ لیکن راجح یہی ہے کہ اس صورت میں صدقہ کرناواجب نہیں ہوگا۔
غیر مسلموں کو عقیقہ کا گوشت دینا 
سوال:-  قربانی اور عقیقہ کا گوشت کیا ہندو بھائیوں کو دیا جاسکتا ہے ؟ ایک عالم صاحب نے بتایا کہ اگر اہل ہنود کو دینا ہے تو بازار سے علاحدہ خرید کر گوشت دینا چاہئے ۔      ( محمد یامین، چنچل گوڑہ)
جواب:- قربانی اور عقیقہ وغیرہ کا گوشت غیر مسلم بھائیوں کو بھی دیا جاسکتا ہے : و یھب منھا  المسلم والذمی(ہندیہ:۵؍۳۰۰) بلکہ امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک سوائے زکوۃ کے دوسرے صدقات واجبہ ، جیسے: کفارات اور نذر وغیرہ بھی غیر مسلم فقراء کو دینا جائز ہے : ویجوز اعطاء فقراء أھل الذمۃ من الکفارات والنذور وغیر ذلک الا الزکوۃ  (بدائع الصنائع: ۴؍۲۶۳)
جس کی قربانی قضاء ہوجائے ؟ 
سوال:-جس شخص پر قربانی واجب ہے ،اگر وہ ۱۲/ ذی الحجہ تک کسی وجہ سے قربانی نہیں کر سکا اور وقت گزر گیا تو اب اس کے لئے تلافی کی کیا صورت ہوگی ؟        ( قاری فرحان ، ونستھلی پورم )
جواب:-  اگر جانور خریدچکاتھا اور کسی وجہ سے قربانی نہیں کرسکا ، تو اس کو اختیار ہے کہ چاہے تو زندہ صورت میں جانور صدقہ کردے ، یا اس کی قیمت صدقہ کردے ،اور اگر جانورخرید نہیں کیا تھا ، تو قیمت ہی کا صدقہ کردینا واجب ہے : وجوب التصدق بالقیمۃ مقید بما إذا لم یشتر فھو مخیر بین التصدق بالقیمۃ أو التصدق بھا حیّۃ  (رد المحتار : ۹/ ۴۶۵ ۔)
قربانی کی دعاایک نے پڑھی اور ذبح دوسرے نے کیا
سوال:- عید کی قربانی کے وقت یہاں ایک صاحب نے قربانی کی دعاپڑھی اور دوسرے نے جانورذبح کیا، کیایہ قربانی درست ہوئی ؟   (بلال احمد، سنتوش نگر )
جواب :- کسی کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے زبان سے نیت کرناضروری نہیں ، دل سے ارادہ کرلینابھی کافی ہے؛ لہذا اگر ذبح کرنے والے نے دل سے قربانی کی نیت کی اور بسم اللہ کہہ کر جانور ذبح کردیاتو قربانی درست ہوجائے گی ، ہاں یہ بات درست نہیں کہ ایک شخص بسم اللہ پڑھے اور دوسراذبح کرے ، خود ذبح کرنے والے کے لیے بسم اللہ کہناضروری ہے ۔ ’’وفیھا تشتر ط التسمیۃ من الذابح‘‘(رد المحتار: ۹؍۴۳۸)قربانی کے سلسلے میں بھی بہتر یہی ہے کہ جانور ذبح کرنے والا خود قربانی کی دعا پڑھے ۔
عقیقہ کے گوشت کا شادی میں استعمال
سوال:- شادی کے موقعہ پر عقیقہ کاگوشت غرباء کے گوشت کے علاوہ باقی گوشت کے ساتھ ملاسکتے ہیںیانہیں؟      (صلاح الدین، بودھن)
جواب:- عقیقہ کا گوشت تقریب عقدمیں استعمال کرسکتے ہیں ،امیروغریب ،اہل خانہ سب اس میں سے کھاسکتے ہیں ؛ البتہ جس علاقے میں کھانے کے بعد کچھ لین دین کا رواج ہے ، اس میں عقیقہ کاگوشت استعمال کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتاکہ اس میں گوشت کا عوض حاصل ہونے کا شبہ ہے اور عقیقہ کے گوشت پر عوض حاصل کرنادرست نہیں واللہ اعلم۔
بغیر طہارت کے جانور کوذبح کرنا
سوال:-  ہمارے قصبہ میں عرصئہ دارز سے گائے بیل ذبح کرنے کے لئے ایک خصوصی’’ملا‘‘ ہواکرتا تھا، لیکن ان دنوں وہ طریقہ ختم ہوگیاہے ،اور خود مسلم قصاب اپنے طورپر ذبح کرکے گوشت فروخت کرنے لگے ہیںاور بعض پڑھے لکھے لوگوں کی طرف سے یہ مسئلہ اٹھایاجارہا ہے کہ بغیر طہارت ذبح کرنے اور دوسری امکانی بداحتیاطی کی وجہ سے اس قسم کا ذبیحہ حرام کے درجہ میں آتاہے ،اس سلسلہ میں شرعی حکم کیاہے؟(سہیل احمد، سکندرآباد )
جواب:- ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے دوباتیں ضروری ہیں،اول یہ کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو،دوسرے وہ ذبح کرتے وقت ’’ بسم اللہ‘‘ کہے ،جان بوجھ کر بسم اللہ نہ چھوڑے ،رہ گیا ذبح کرنے والے کاطہارت کی حالت میں ہونا، تو یہ ضروری نہیں؛اس لئے اگر مسلمان قصاب خود بھی بسم اللہ کہہ کر جانور کو ذبح کردے تویہ ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے کافی ہے ، ویسے پڑھے لکھے آدمی کومقرر کرنابہتر ہوتاہے؛کیوںکہ ان میں احکام شرعیہ کاپاس ولحاظ زیادہ ہوتاہے۔
جہیز میں دی گئی رقم بھی ورثہ میں تقسیم ہوگی 
سوال:-  ایک لڑکی کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا ، بڑے بھائی اپنی سر پرستی میں اپنے خرچہ سے بہن کی شادی کی ، کچھ دنوں کے بعد لڑکی کو ایک لڑکا پیدا ہوا پیدائش کے چھ گھنٹہ کے بعد لڑکی کا انتقال ہو گیا ، سوال یہ ہے کہ جہیز میں دی گئی رقم جس کی تفصیل یہ ہے کہ جوڑے کی رقم 5000 اور سونا وغیرہ سب ملا کر تقریبا 25000 کی مالیت اور مہر کی رقم مبلغ 7000 ان دونوں چیزوں کی واپسی لڑکی کے بھائی چاہتے ہیں ، کیا وہ اس کے حقدار ہیں ؟   ( شرف عالم، ہمایوں نگر )
جواب:-  جوڑے کی رقم شوہر کے لیے ہبہ ہوتی ہے ، اس لیے اس کا تو شوہر ہی مالک ہوگا ، بقیہ اشیاء جہیز زیورات اور مہر کی رقم مرحومہ کی ملک ہوئی ، اور اب ان کی موت کے بعد پہلے اگر ان کے ذمہ کچھ قرض ہو تو ادا کیا جائے گا ، انہوں نے کچھ وصیت کی ہو تو اس کی تکمیل کی جائے گی ، پھر باقی تمام جائداد ان کے ورثہ میں تقسیم کر دی جائے گی ، مرحومہ کے ورثہ صرف دو ہوں گے ، ایک شوہر دوسرا بیٹا ، شوہر کو متروکہ مال میں سے ایک چوتھائی دیا جائے گا ، اور بقیہ تمام مال لڑکے کا حق ہو گا ۔
کیا جہیز وراثت میں منہا ہوگا ؟
سوال:- آج کل لڑکیوں کی شادی میں مجبورا لڑکوں کے مطالبات پر کافی رقم دینی پڑتی ہے ، یا جہیز کے نام پر قیمتی سامانوں میں کافی رقم صرف ہوجاتی ہے ، تو کیا ۰وراثت میں پھر لڑکیوں کو حصہ دینا پڑے گا ؟ ( جاوید احمد، کوکٹ پلی) 
جواب:- وراثت کا تعلق اس جائداد سے ہے جو موت کے بعدبچ رہے ، زندگی میں لڑکے یا لڑکیوں کو جو کچھ دیا جائے وہ ہبہ ہے ، ہبہ کی وجہ سے حصۂ وراثت پر کوئی اثر نہیں پڑتا؛ اس لیے لڑکیوں کا حق وراثت بہر حال باقی رہے گا ، ہاں ! جو کچھ لڑکی کو جہیز وغیرہ کی صورت میں دیا جائے ، اگر والدین اپنی زندگی میں اسی قدر لڑکوں کو بھی دیدیں تو یہ اولاد میں تقاضائے عدل کے عین مناسب ہوگا ؛ کیوںکہ یہ ایک زائد خرچ ہے ، جو نفقہ اور تربیت و کفالت کے علاوہ ہے ۔ واللہ اعلم 
۰ ۰ ۰