Sat, Feb 27, 2021
آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2019.12.20
نماز میں یا نماز کے آخری وقت میں حیض شروع ہوجائے ؟
سوال:- ظہر کا وقت شروع ہوچکا تھا ؛ بلکہ وقت ختم ہونے کے قریب تھا ، میرا ارادہ نماز ادا کرنے کا تھا کہ اسی درمیان مجھے ایام شروع ہوگئے ، تو کیا ایسی صورت میں نماز کی قضاء لازم ہوگی ؟ اسی طرح اگر نماز شروع ہونے کے بعد یہ صورت حال پیش آجائے تو اس وقت عورت کے لئے کیا حکم ہو گا ؟  (تبسم، کوکٹ پلی)
    جواب:-     نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے اگر عورت معذور ہوگئی ہو ؛ حالاںکہ اس سے پہلے اتنا وقت گذر چکا کہ اگر وہ نماز ادا کرتی تو مکمل ہوجاتی ، یا اسی طرح اگر نماز شروع کرنے کے بعد عذر پیش آگیا ؛ حالاںکہ اس نے تاخیر سے نماز شروع کی تو اس وقت کی نماز کی قضاء واجب نہیں ہوگی ، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے (الفتاوی الہندیۃ : ۱؍۱۳۱ ، باب قضاء الفوائت)؛ البتہ اگر نفل نماز شروع کی ، اوردرمیان میں حیض شروع ہوگیا تو پاک ہونے کے بعد اس نماز کی قضاء کرنی پڑے گی ۔
حیاء کی وجہ سے تیمم
سوال:-  میں حفظ کرتاہوں،  ایک دن مغرب کے بعد قرآن یادکررہاتھا کہ وضوء ٹوٹ گیا ، چوںکہ بہت بچے تھے ؛ اس لئے شرم کی وجہ سے میں وضوء نہیں کرسکا اور تیمم کرکے پڑھنا شروع کیا ، سوچا کہ نماز کے وقت وضو کرکے نماز پڑھ لیںگے ، مگر اس وقت بھی وضو کرنا بھول گیا اور یوں ہی نماز ادا کرلیا ، ایسی صورت میں میری نماز ادا ہوگئی یا نہیں ؟     (عطاء اللہ قریشی،مہدی پٹنم)
    جواب:-  اگر وضو ٹوٹنے کے بعد آپ قرآن مجید زبانی پڑھتے رہے ہوں اور قرآن پاک کو ہاتھ نہ لگایا ہو تب تو آپ کا قرآن پاک پڑھنا درست ہوا ، اگر آپ نے قرآن کو ہاتھ لگایا تو یہ بھی ایک نادرست عمل ہوا اور نماز پڑھنا تو بہر حال بغیر وضو کے بالاتفاق جائز نہیں ، آپ نے خجالت کی وجہ سے وضو کے بجائے تیمم پر اکتفا کیا ، یہ درست نہیں تھا ، تیمم اس وقت جائز ہے جب یا تو پانی قریب میںموجود نہ ہو یا پانی موجود ہو ؛ لیکن طبی اعتبار سے یا دشمن کے خوف کی وجہ سے وہ اس کے استعمال پر قادر نہ ہو ، محض حیاء کی وجہ سے تیمم کرلینا درست نہیں ؛ اس لئے آپ کا تیمم معتبر ہی نہیں ہوا ، آپ کو چاہئے کہ اس نماز کی قضاء کرلیں ، بے وضو قرآن مجید چھونے کے سلسلہ میں استغفار کریں اور آئندہ ایک شرعی مسئلہ میں بے جا حیاء سے کام نہ لیں ، حیا تو گناہ کے کام کرنے میں ہونی چاہئے ، نہ کہ شریعت کے حکم پر عمل کرنے میں ۔
حوض میں وضو کرنا اور مسجد کے آداب
سوال:-  ہنمکنڈہ کی ایک مسجد کے امام جو متولی بھی ہیں، وہ وضو حوض میں کرتے ہیں ، جس سے زیادہ تر وضو کا پانی حوض میں گرتا ہے اور دونوں پیر باہر دھونے کے بجائے حوض میں ڈبو دیتے ہیں ، وہ لنگی اور بنیائن پہنے مسجد آتے ہیں ، اور کرتا مسجد میں لٹکا کر رکھتے ہیں ، بچوں کو مسجد میں آنے سے منع کرتے ہیں ، اور مسجد کے حصے میں بکریاں اور مرغیاں پالتے ہیں ، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ ( محمد شجاع الدین، پہاڑی شریف)
جواب :-  اگر حوض مجموعی طور پر سو مربع ہاتھ یا اس سے زیادہ ہو اور گہرائی اتنی ہو کہ پانی لینے کی وجہ سے سطح زمین کھل نہ جاتی ہو ، تو فقہ کی اصطلاح میں وہ ’ ماء کثیر ‘ ہے ،(الفتاوی الھندیہ : ۱؍۸۱) ایسے حوض میں اگرنجاست بھی گر جائے تو جب تک پانی کے رنگ ، بو اور مزہ میں تغیر نہ ہو پانی ناپاک نہیں ہوگا ، وضوء کا معاملہ اس سے کمتر ہے ؛ چوں کہ وضو کرنے میںجسم سے کوئی محسوس نجاست خارج نہیں ہوتی ؛ اس لیے اس کی وجہ سے پانی ناپاک نہیں ہوتا ، لہذا امام صاحب کے حوض میں وضو کرنے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کے وضو پر کوئی اثر نہیںپڑے گا ؛ البتہ ایسا کرنا تقاضۂ نظافت اور شائستگی کے خلاف ہے ، اور لوگوں کو طبعی طور پر ایسے پانی میں وضو ء کرنے سے کراہت ہوتی ہے ؛ اس لیے امام صاحب کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔
    مسجد میں ایسا لباس پہن کر آنا مستحب ہے جو سطحی نہ سمجھا جاتا ہو ، اور جس کو مہذب اورشائستہ مجلسوں میں استعمال کیا جاتا ہو ؛ اس لیے معتکف کے علاوہ دوسرے لوگوں کا صرف لنگی اور بنیائن پہن کر مسجد میں آنا بہتر نہیں ، چھوٹے بچے جو شور و غل کرتے ہوں یا جن کے پیشاب کر دینے کا اندیشہ ہو ، ان کو مسجد سے روکنا درست ہے ، ذی شعور بچوں کو نہیں روکنا چاہیے ؛ تاکہ ان میں نماز کا اہتمام پیدا ہو ، مسجد کی زمین میں ذاتی مرغیاں اور بکریاں پالنا درست نہیں ؛ کیوں کہ یہ خالی جگہیں مصالح مسجد کے لیے وقف ہیں ، امام ، متولی یا کسی اور شخص کا اپنے ذاتی کام کے لیے مسجد کی جگہ کو استعمال کرنا درست نہیں ، پھر ان جانوروں کی وجہ سے بعض اوقات تعفن پھیلتا ہے ،جو نمازیوں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے ، اور خشوع و خضوع میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے ،البتہ ایسے مسائل کو حکمت سے انتشار پیدا کیے بغیر حل کرنا چاہیے ، اگر واقعی امام صاحب کی وہی کیفیت ہو جو آپ نے لکھی ہے تو انہیں تنہائی میں سمجھانے کی کوشش کیجئے ، اور امام صاحب کو بھی چاہیے کہ اپنے عمل پر اصرار نہ کریں ؛تاکہ مسجد کی خدمت ان کے لیے زادآخرت ثابت ہو ۔
نکاح کے موقع پر طرفین کا ایک دوسرے کو عیب سے مطلع کرنا
سوال:-  کیا نکاح سے پہلے فریقین پر یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے نقص سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں؟ اگر کوئی بیرونی نقص یا بیماری سے متاثر ہوتو اسے مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ؛ کیوںکہ وہ عیاں ہے ، لیکن جیساکہ کوئی توارثی نقص یا بیماری اور زندگی میں نمو پانے والی نقص یا بیماری کا حامل ہو تو کیا اس صورت میں بھی آگہی ضروری ہوجاتی ہے ؟ اور کیا اسے مطلع کردینا ضروری ہے ؟ (ہدایت الاسلام، کریم نگر)
    جواب:-  نکاح سے پہلے شریعت نے دوسرے فریق کو دیکھنے کی اجازت دی ہے، جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ ظاہری نقائص میں تو مبتلا نہیں ، اس حد تک شریعت میں گنجائش ہے ، رہ گئی اندرونی بیماریاں ، تو اس سے کوئی انسان خالی نہیں ہے ، اچھے خاصے بہ ظاہر صحت مند آدمی کا بھی ٹسٹ کرایا جائے تو بہت سی بیماریاں نکل آئیںگی اور اس کو معیار بنایا جائے تو نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی دشوار ہوجائے گی ، شریعت کا مزاج یہ ہے کہ ایسی کھود کرید میں نہ پڑا جائے ؛ البتہ دو صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں ، ایک یہ کہ جس سے اس کی شادی ہورہی ہے ، اس سے دوسرا فریق اس میں پائی جانے والی بیماریوں کے بارے میں دریافت کرے یا کسی اور ایسے آ دمی سے دریافت کرے جو اس کی صحت کے بارے میں واقف ہو تو اس صورت میں سچائی کا اظہار ضروری ہے اور اس پر پردہ ڈالنا دھوکہ ہونے کی وجہ سے گناہ ہے ، دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی فریق ایسے نقص میں مبتلا ہو ، جس سے دوسرے کو شدید ضرر پہنچ سکتا ہو ، جیسے وہ ایڈس یا سوزاک یا آتشک وغیرہ جیسی متعدی بیماریوں میں مبتلا ہو ،یا ایسی بیماری میں ، جس سے دوسرے فریق کا حق مارا جاتا ہو ، جیسے لڑکے کا نامرد ہونا یا طرفین میں سے ایک کا جنون کے مرض میں مبتلا ہونا ، دونوں صورتوں میں واجب ہے کہ دوسرے فریق کو صورتِ حال سے مطلع کردے ؛ کیوںکہ جانتے بوجھتے کسی مسلمان کو ضرر میں مبتلا کرنا جائز نہیں ہے ، آپ ا نے ارشاد فرمایا : ’’ لا ضرر ولا ضرار ‘‘ (سنن ابن ماجۃ ، کتاب الأحکام ، باب من بنی في حقہ ما یضر بجارہ ، حدیث نمبر : ۲۴۳۰)
قار ئ نکاح کا مقررہ اجرت سے زیادہ طلب کرنا
سوال:-  کیا قاضی صاحبان (قاری النکاح ) کی طرف سے لڑکی والوں سے کچھ رقم حاصل کرنا اور لڑکے والوں سے اوقاف کی طرف سے مقرر کردہ فیس سے کچھ زیادہ لینا قاضیوں کے لئے حرام کمائی میں شمارہوگا ؟ (ابو بکر، غوث نگر)
    جواب:-  نکاح پڑھانا ایک عمل ہے ، جو نکاح پڑھانے والے پر واجب نہیں ؛ اس لئے اس کی اجرت لینا جائز ہے ؛ لیکن چوںکہ مخصوص افراد کو اوقاف کی طرف سے نکاح پڑھانے کی اجازت دی گئی ہے اور ان کے لئے اجرت نکاح بھی متعین کردی گئی ہے اور نکاح خواں حضرات نے حکومت سے اسی اجرت پر نکاح پڑھانے کا وعدہ کیا ہے ؛ اس لئے ان کا مقررہ اجرت سے زیادہ رقم وصول کرنا جائز نہیں ، یہ ’’ أکل بالباطل ‘‘ (النساء : ۲۹)  – یعنی باطل طریقہ پر کھانے – میں شامل ہے ؛ اس لئے حرام ہے ، ہاں اگر عاقدین میں سے کوئی مطالبہ کے بغیر اپنی طرف سے کچھ رقم بڑھا کردے دیں تو یہ ہدیہ ہے اور اس کو قبول کرلینے میں مضائقہ نہیں ۔
الکحل اور خواب آور دوائیں فروخت کرنا
سوال:-  بعض دواؤں میں الکحل رہتا ہے ، یا بعض بیماری میں نیند کی گولیاں دی جاتی ہیں ، بعض نوجوان دکان دار کو دھوکہ دے کر اسے خرید کرتے ہیں اور اس کا بے جا استعمال کرتے ہیں ، کیا ایسی دواؤں کا بیچنا جائز ہوگا ؟  ( لیاقت حسین، بنگلور)
    جواب:-  الکحل آمیز دوائیاں اور خواب آور گولیاں بہت سے مریضوں کو بطور علاج دی جاتی ہیں ، او ران کی ایک ضرورت ہے ، اس لیے ایسی دواؤں کو دکان میں رکھنا اورفروخت کرنا جائز و درست ہے ، اس میںکوئی حرج نہیں ، البتہ دو باتو ںکا خیال رکھنا ضروری ہے ، ایک یہ ہے کہ ان دواؤں کے سلسلہ میں حکومت کے مقرر کئے ہوئے احتیاطی قوانین پر عمل کیا جائے ، ڈاکٹر کی تحریر کے بغیر دوائیں نہ دی جائیں ، دوسرے اگر کسی کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ ان دواؤں کو غلط طور پر استعمال کرنے کے لیے لے رہا ہے ،یا خود کشی کرنا چاہتا ہے ، یا بطور نشہ کے استعمال کرنا چاہتا ہے ، تو اس کو دوائیں نہیں دی جائیں ، چونکہ حکومت کے قانون کی خلاف و رزی وعدہ خلافی ہے او رجانتے بوجھتے غلط طور پر استعمال کرنے والے شخص کو ایسی دوائیں دینا گناہ میںتعاون کرنا ہے اور یہ دونوں باتیں ناجائز ہیں ۔
وعظ کہہ کر اپنے لیے تعاون وصول کرنا
سوال:- ہمارے یہاں ہر سال ایک واعظ صاحب آتے ہیں ، مسجدوں میں وعظ کہتے ہیں اور وعظ کہنے کے بعد اپنے لیے تعاون کی اپیل کرتے ہیں ، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ (احمد علی، سنتوش نگر )
    جواب:-  وعظ کو لوگوں سے مانگنے کا ذریعہ بنانا درست نہیں ، یہ دین اور علم دین کی بے احترامی ہے ، فقہاء نے بھی اس سے منع کیا ہے ، فتاویٰ عالمگیری میں ہے : الواعظ إذا سأل الناس شیئا فی المسجد لنفسہ لا یحل لہ ذالک ؛ لأنہ اکتساب الدنیا بالعلم (ہندیہ : ۵ / ۳۱۹) واعظ لوگوں سے مجلس وعظ میں اپنے لیے کچھ مانگے ، یہ اس کے لیے حلال نہیں ، اس لئے کہ یہ علم (دین ) کے ذریعہ دنیا کمانا ہے ، ایسے شخص کو چاہیے کہ وعظ کہنے اور اس کو اپنے لیے مدد کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے وعظ کہے بغیر لوگوں سے تعاون کی اپیل کرے ،اگر واقعی وہ ایسی حالت میں ہو کہ اس کے لئے دست سوال پھیلانا جائز ہو ، اس کا ایک نفسیاتی اثر یہ ہے کہ ایسی اپیل سے وعظ بے اثر ہوجاتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ محض اپنے لیے اعانت جمع کرنے کا ایک بہانہ ہے؛ البتہ یہ حکم ذاتی تعاون کی اپیل کا ہے ، اگر کسی دینی کام جیسے مسجد ، مدرسہ یا کسی اور مصیبت زدہ شخص یا گروہ کے لئے تعاون کا اعلان کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ؛ لیکن ایسے اعلانات میں بھی الحاح نہیں ہونا چاہیے ۔ واللہ اعلم .    .    .