Fri, Feb 26, 2021

آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.05.01

امام رکوع میں ہو تو نیت
سوال:-کوئی شخص مسجدمیں داخل ہوا ،اور امام صاحب باجماعت رکوع میں ہوں تو کیا ایسے شخص کو نیت کرکے جماعت میں شامل ہونا چاہئے ،یاوقت کم ہونے کی وجہ سے نیت کرنا ضروری نہیں ؟ (صدیق احمد، نظام آباد)۔
جواب:- نماز کے لئے نیت کا پایا جانا شرط ہے،اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی،رسول اللہ ا نے ارشادفرمایا : إنّماالأعمال بالنّیات‘‘ (بخاری، حدیث نمبر: ۱) البتہ نیت دل کا فعل ہے نہ کہ زبان کا ، جب ایک شخص وضوء کر کے مسجد میں آتاہے ،تو اسی ارادہ سے آتاہے کہ اسے نماز اداکرنی ہے، یہی نیت ہے، اس لئے اس صورت میں نیت پائی جاتی ہے ،؛ بشرطیکہ درمیان میں کسی غیر متعلق کام میں مشغول نہ ہوا ہو ، زبان سے نیت کے الفاظ کہنا ضروری نہیں ، بلکہ اگر زبان سے نیت کرنے کی صورت میں اس رکعت کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو چاہئے کہ زبان سے نیت کے کلمات کہے بغیر امام کے ساتھ شریک ہوجائے، فتاوی عالمگیری میں ہے : النیۃإرادۃ الدخول في الصلاۃ والشرط أن یعلم بقلبہ(ہندیہ:۱؍۶۵)۔
تراویح میں ثناء اور تعوذ
سوال:- تراویح میں یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ حفاظ کرام تکبیر تحریمہ کے بعد فورا قرآن مجید کی قراء ت شروع کر دیتے ہیں ، شاید ثناء وغیرہ نہیں پڑھتے ، تو کیا تراویح کے لئے ثناء وغیرہ سے متعلق احکا م مختلف ہیں ؟ اور چونکہ طویل نماز ہوتی ہے ، اس لئے قراء ت پر اکتفاء کرلینا درست ہے ؟ ( کریم الدین، سنتوش نگر)۔
جواب:- تراویح کی نماز میں بھی ہر دو رکعت کے شروع میں ثناء ، تعوذ اور بسم اللہ پڑھنے کا وہی حکم ہے جو دوسری نمازوں میں ہے ، اس لئے عجلت کی وجہ سے ان کا چھوڑدینا ، اسی طرح رکوع اور سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان کے وقفہ کو اتنی جلدی ادا کرنا کہ طمانینت کے ساتھ یہ ادا نہ ہو پائیں درست نہیں ہے ، علامہ ابن نجیم مصری ؒ نے ان سب کو نماز تراویح کے منکرات میں شمار کیا ہے : مع اشتمالہا علی ترک الثناء و التعوذ و البسملۃ فی أول کل شفع (بحرالرائق: ۲؍۶۹)۔
نماز کی حالت میں روزہ کی نیت
سوال:-نماز میں روزہ کی نیت کرے تو کیا یہ نیت درست ہوگی ؟ ( محمد عفان، حشمت پیٹ)۔
جواب:- نماز ایسے افعال سے فاسد ہوتی ہے جو اعضاء و جوارح سے انجام دئے جاتے ہیں، یعنی : ہاتھ ، پاؤں ، زبان وغیرہ ، جو افعال قلب سے متعلق ہوں، جیسے خیالات کا نماز کی طرف سے منحرف ہوجانا اور ذہن کا ادھر اُدھر بھٹکنے لگنا، ان سے نماز فاسد نہیں ہوتی، گو حتی المقدور دل کو نماز کی طرف یکسو رکھنا چاہئے، اور انتشارِ خیال سے بچنا چاہئے ، —– نیت کا تعلق دل سے ہے نہ کہ زبان سے ، اگر زبان سے کچھ نہ کہا جائے اور دل ہی دل میں روزہ رکھنے کا ارادہ کرلیا جائے تو روزہ کی نیت ہوگئی، ایسی نیت سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ اگر دل کے ارادہ کا اظہار زبان سے کریں اور الفاظ و کلمات سے اپنا مدعی بیان کریں تو یہ زبان کا فعل ہے اور ایسا کرنے سے نماز فاسد ہوجائے گی ۔
روزہ میں کن باتوں سے پرہیز ضروری ہے ؟
سوال:-روزہ میں کن کن باتوں سے پرہیزکرنا ضروری ہے ؟( منہاج الدین، گلبرگہ)۔
جواب:- روزہ میں تین طرح کی باتوں سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے :اول : یہ کہ جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، جیسے : کھانا پینا ، بیوی سے ہمبستری وغیرہ ،دوسرے: ان چیزوں سے بچنا چاہئے جن سے روزہ ٹوٹتا تو نہیں ، لیکن روزہ کی حالت میں ان کا کرنا مکروہ ہے ،جیسے : کھانے کی چیز کا صرف ذائقہ چکھنا، اسے صرف چباکر پھینک دینا ، بیوی کے ساتھ ایسا عمل کرنا کہ بے قابو ہوجانے کا اندیشہ ہو، منہ میں خاص طور سے تھوک جمع کرنا اور پھر اسے نگل جانا، ایسے افعال کا مرتکب ہونا کہ جس سے بہت زیادہ کمزوری ہوجاتی ہے اور اندیشہ ہے کہ تاب نہ لاکر روزہ توڑ دے گا ۔(طحطاوی علی مراقی الفلاح:۳۷۱)تیسرے وہ باتیں جو روزہ میں آداب کے درجہ میں ہیں، اگر ان کا لحاظ نہ کیا جائے تو قانونی اعتبار سے تو روزہ ہوجائے گا ،لیکن اندیشہ ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں روزہ مقبول نہ ہو، اور اس پر اجر و ثواب حاصل نہ ہو سکے ، جیسے : روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا ، یا غیبت کرنا وغیرہ کہ اس سے جھوٹ اورغیبت کا گناہ تو ہوگا ہی ، اندیشہ ہے کہ روزہ بھی اللہ کے یہاں مقبول نہ ہو۔
بچوں سے روزہ رکھوانا
سوال:- بچوں کو روزہ کتنے سال کی عمر میں رکھنا ہوگا ؟ آج کل بعض بچے چار تا پانچ سال کی عمر میں روزہ رکھتے ہیں، یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط ؟ ( سیدہ فاطمہ، مہدی پٹنم)۔
جواب:- روزہ دوسری عبادتوں کی طرح بالغ ہونے کے بعد ہی فرض ہوتا ہے ،لیکن جسمانی عبادتوں کا اچانک شروع کرنا اور اس پر کار بند رہنا دشوار ہوتاہے ، اسی لئے بلوغ سے پہلے ہی ان عبادتوں کی عاد ت ڈالنی چاہئے تاکہ عبادت فرض ہونے کے بعد اس کی ادا ئیگی میں دشواری نہ ہو ، نماز کے بارے میں تو رسول اللہ ا نے اس کا با ضابطہ حکم دیا کہ بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کو کہا جائے اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر سرزنش بھی کی جائے :قال رسول اللّٰہ ا:مروا أولادکم بالصلاۃ و ھم ابناء سبع سنین و اضربو ھم علیھا و ھم أبناء عشر سنین (ابوداؤد، حدیث نمبر : ۴۹۵) روزہ کے بارے میں غالبا ایسی کوئی صراحت منقول نہیں، لیکن یہ ظاہر ہے کہ نماز سے زیادہ روزہ کی عادت ڈالنے کی ضرورت پیش آتی ہے ؛ اس لئے بدرجۂ اولی بالغ ہونے سے پہلے اس کی عادت ڈالنی چاہئے ، اور نماز پر قیاس کرتے ہوئے سات تا دس سال کی عمر سے کچھ روزے رکھوانے چاہئیں، بچوں کے روزہ کے لئے کسی خاص عمر کی تحدید نہیں ، اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس میں روزہ کو برداشت کرنے کی قوت پیدا ہوگئی ہو اور وہ روزہ کا شعور رکھتا ہو ؛ تاکہ اس کی نیت کر سکے ۔
اگر بس میں افطار کا سامان نہ ہو
سوال:-حالتِ سفر میں بس میں افطار کا وقت ہوگیا ، روزہ افطار کرنے کے لئے نہ کھجور ہے اور نہ پانی ، تو کیا کیا جائے ؟ ( محمد حماد، شری وردھن)۔
جواب:- اصل میں تو روزہ دار کو پہلے سے اہتمام کرنا چاہئے کہ اس کے پاس افطار کے لئے کوئی چیز موجود ہو؛ لیکن اگر غفلت ہوگئی تو یہ ایک مجبوری کی حالت ہے ، اس کے سوا چارہ نہیں کہ آگے جہاں کچھ کھانے پینے کی چیز مل جائے وہاں روزہ افطار کرلے۔
روزہ میں ماہواری شروع ہوجائے
سوال:- اگر کسی عورت نے صبح سے روزہ رکھا اور دوپہر میں اسے ماہواری شروع ہوگئی تو اس دن کا روزہ ہوگا یا نہیں ؟ اور دن کے بقیہ حصہ میں اسے کھانا پینا چاہئے ، یا کھانے پینے سے رکا رہنا چاہئے ؟ ( زیبا ناز، کھمم)۔
جواب:- افطار کے وقت سے پہلے کبھی حیض آجائے ، تو اس دن کا روزہ جاتا رہے گا ، اور اس کے بدلہ قضاء کرنا واجب ہوگی ، جو عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو اسے کھانا پینا چاہئے ، کھانے پینے سے رکنا نہیں چاہئے ، فقہاء نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ اس خاتون کے لئے روزہ رکھنا حرام ہے ، اور کھانے پینے سے رک جانا حرام کی مشابہت ہے ، اور حرام کی مشابہت اختیار کرنا بھی حرام ہے ، البتہ کھلے عام نہیں کھانا چاہئے ، لوگوں کی نگاہ سے چھپ کر کھائے ، کہ یہی تقاضۂ حیاء ہے ۔ و اما فی حالۃ تحقق الحیض والنفاس فیحرم الامساک لان الصوم منھا حرام والتشبہ بالحرام حرام و لکن لا یأکلن جھرا بل سرا (طحطاوی:۳۷۱)۔
روزہ اور جسمانی نقاہت
سوال:-کسی شخص کی روزہ رکھنے کی نیت ہے ، لیکن اپنی جسمانی کمزوری جیسے نقاہت وغیرہ کی وجہ سے عاجز ہے ،اور سمجھتا ہے کہ روزہ رکھوں گا تو پورے نہ کر سکوں گا، ایسی صورت میں اسے کیاکرنا چاہئے ؟(سید حسنین، راجندرنگر )۔
جواب:- اگر واقعی کوئی شخص اتنا کمزور ہوکہ روزہ نہیں رکھ سکتا اور یہ اس کی عارضی بیماری ہو تواسے وقتی طورپر روزہ نہیں رکھنے اور بعد میں روزہ قضا کر لینے کی گنجائش ہے ،لیکن یہ عجز محض وہم کے درجہ کانہ ہو بلکہ یہ کسی معتبر مسلمان ڈاکٹرکی رائے کی روشنی میں ہو ،یا کم سے کم خود روزہ رکھ کر دیکھے اگر تجربہ سے ثابت ہو کہ واقعی وہ روزہ پورا نہیں کر سکتا تو پھر اس کے لئے آئندہ دنوں میں روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہوسکتی ہے ۔
حکومت کچھ سود دے کچھ سود لے
سوال:- سرکاری ملازم اگر کوئی سوسائٹی قائم کرناچاہیںتو سرکار ہر رکن سے سوسائٹی کے قیام کے وقت کچھ اڈوانس رقم وصول کرتی ہے ، رکنیت کے ختم کرنے پر وہ رقم واپس کردیتی ہے ، لیکن اس کاسود ملتا ہے ،ضرورت پر ان اراکین کو حکومت قرض فراہم کر تی ہے اور ا س قرض پر فیصد کچھ سود بھی لیتی ہے ، دریافت کرنایہ ہے کہ ہماری رقم پر جوسود ملتا ہے اس کو حکومت قرض پر جوسود لیتی ہے اس کی جگہ دیاجاسکتا ہے یانہیں ؟ مفصل ومدلل بیان فرمائیں ۔(محمد عادل، نامپلی)۔
جواب:- حکومت جوسود دیتی ہے ، اس میں سے اتنی رقم حلال ہے ، جو حکو مت نے سود کے طور پر وصول کیا ہے ، یعنی سود کے طور پر وصول کی ہوئی رقم منہا کرنے کے بعدحکومت کی جانب سے ملنے والی جو زائد رقم بچ جائے وہی سود ہے ، مثلا حکومت نے پانچ سو روپے سود کے نام سے دئے اور تین سوروپے بہ طور سود کے وصول کیے تو گو حکومت پورے پانچ سو کو سود کانام دیتی ہے ، لیکن شرعی اعتبار سے اس میں سے دوسو روپیے ہی سود کے ہیں ، باقی رقم کاشمار سود میں نہیں ہوگا۔