Tue, Mar 2, 2021

آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.04.10

۔مستحب سے مراد اور اس کے ترک کرنے کا حکمسوال:-  مستحب اور ادب کسے کہتے ہیں اور کیا مستحب کو چھوڑنا مکروہ ہے ؟ اس کی وجہ سے گناہ ہوگا ؟ ( شرف الدین، گنٹور)۔
۔جواب :-  جس کام کو رسول اللہ انے کبھی کیا ہو اور کبھی نہیں کیا ہو ، اس کو مستحب کہتے ہیں ، اس کو مندوب ، ادب اور فضیلت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے :ومستحبہ یسمی مندوبا و أدبا و فضیلۃ ، وہو مافعلہ النبی ا مرۃ و ترکہ أخری(درمختار: ۱؍۲۴۶)۔مستحب کو چھوڑ دینا باعث گناہ نہیں اور نہ اصرار پر ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا درست ہے ، اس میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ مستحب کو ترک کرنا مکروہ تنزیہی یعنی کم درجہ کا مکروہ ہے یا نہیں ؟ اور صحیح یہی ہے کہ اس میں کراہت تنزیہی بھی نہیں ہے ، اسی کو مشہور محقق علامہ شامیؒ نے ترجیح دیا ہے ۔ (ردالمحتار: ۱؍۲۴۷)۔ —- البتہ نابالغ بچوں کو تربیت کے طور پر مستحب اعمال کو بھی انجام دینے کا پابند کیا جاسکتا ہے اور اس کے چھوڑنے پر معمولی تنبیہ بھی کی جاسکتی ہے ، کہ یہ بہ طور حکم شرعی کے نہیں ہے ؛ بلکہ تربیت اخلاق کے طور پر ہے ۔
امام مہد ی
۔سوال :-  امام مہدی دنیامیں آئے ہیں یا نہیں ؟ امام مہدی اور ان کے والد اور والدہ کا کیا نام ہوگا ؟ اور وہ دنیا کے کس خطے میں پیدا ہوں گے ؟     (صغیر احمد، چھتہ بازار )۔
۔جواب :-  امام مہدی ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے ، امام مہدی کے ظہور کے وقت اور خود امام مہدی سے متعلق جو حالات حدیث میں منقول ہیں ،وہ ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئے ہیں اور جن لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے ؛ اسی وجہ سے امت کے سواداعظم نے ان کے دعویٰ کو قبول نہیں کیا ہے ،امام مہدی کے بارے میں احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ خلیفہ راشدہوں گے ،مکہ مکرمہ میں ان کے ہاتھوں پر بیعت کی جائے گی ،حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے پیدا ہوں گے (ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۲۲۳۰)۔دوسری روایات میں یہ بھی بات وارد ہوئی ہے کہ ان کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہو گا ، ان کا تعلق مشرق کے علاقہ سے ہو گا اور اسی خطہ کے لوگ ان کے معاونین اور انصار بن کر کھڑے ہوں گے ۔
تعوذ کے الفاظ
۔سوال :-  ہمارے یہاں ایک قاری صاحب قرأت میں ’’اعوذ باللہ السمیع العلیم ‘‘ پڑھتے ہیں اور وہ ہمیشہ اسی طرح قرآن مجید کے شروع میں تعوذ پڑھتے ہیں ،کیا قرآن شریف کے شروع میں اس طرح تعوذ پڑھا جا سکتا ہے ؟    ( ثناء اللہ، مہدی پٹنم)۔
۔جواب :-  تعوذ کے معنی شیطان کے مقابلہ اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہنے کے ہیں ،اس کے لیے کوئی خاص فقرہ متعین نہیں ہے ؛ اس لیے فقہاء نے لکھا ہے : أعوذ باللہ العلي العظیم ‘‘ یا ’’ أعوذ باللہ السمیع العلیم پڑھ دے تو یہ بھی کافی ہے ؛ البتہ ’’ أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ‘‘ پڑھنا افضل ہے ؛ کیونکہ یہ قرآن مجید کی تعبیر سے قریب تر ہے اور یہی متوارث طریقہ ہے : أحب إلي أن یقول أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ، حتی یقول موافقا لقرآن ،ولوقال أعوذ باللہ العظیم أو أعوذ باللہ السمیع العلیم جاز  (ہندیہ: ۵؍۳۱۶)۔
جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے
۔سوال:- احقر نے سورۂ کہف کی آیت نمبر : ۳۶ پڑھی ہے ، جس کا ترجمہ یوں ہے : ’’ مخلوقات کا اللہ کے سوا کوئی خبر گیر نہیں ، اوروہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا ‘‘ یہاں حکومت سے کیا مراد ہے ؟     ( محمد جاوید، بی بی نگر )۔
۔جواب :-  اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جب رسول اللہ ا  تشریف لائے تواہل کتاب کے درمیان اصحاب کہف کی تعداد اور ان کے سوئے رہنے کی مدت کے سلسلہ میں اختلاف تھا ، اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اصحاب کہف تین سو نو سال غار میں سوئے رہے ، پھر فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے رہنے کی مدت سے پوری طرح واقف ہیں ، کیوںکہ جوکچھ ہوتا ہے ، اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے خلاف رائے زنی نہیں کرنی چاہئے : والمعنی أنہ تعالی لما حکم أن لبثہم ہو ہذا المقدار فلیس لأحد أن یقول قولا بخلافہ(تفسیر کبیر: ۱۰؍۲۹۱)۔اس واقعاتی پس منظر سے اندازہ ہوتاہے کہ اس آیت میں حکم کا ترجمہ حکم ہی سے کرنا بہتر ہے بجائے حکومت ،اور اس حکم کا دائرہ تشریعی اور تکوینی دونوں طرح کے احکام یعنی ’’بندوں سے مطلوب افعال اور کائنات میں پیش آنے والے واقعات ‘‘ سب کو شامل ہے ، کہ جو کچھ ہوتاہے ، اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے ۔
سوتے وقت روشنی رکھیں یا بند کردیں ؟
۔سوال:- رات کے وقت کمرہ کی لائٹ بند کر کے سونا بہتر ہے ، یا روشن رکھتے ہوئے سونا ؟ براہِ کرم احادیث کی روشنی میں جواب دیں !         ( سلطان احمد، محبوب نگر)۔
۔جواب:-  اصل میں اس کا مدار انسان کے اپنے مزاج پر ہے ، بعض لوگوں کو روشنی میں نیند نہیں آتی ، اور بعض حضرات کی نیند روشنی سے بے نیاز ہوتی ہے ، بعض دفعہ آدمی ایسی جگہ میں ہوتا ہے ،جہاں حفاظت کے نقطۂ نظر سے روشنی جلا کر رکھنا بہتر ہوتا ہے ؛ اس لیے تمام افراد کے بارے میں کوئی ایک ہی حکم مقرر نہیں کیا جاسکتا ، البتہ انسان کی عام فطرت اوراحادیث کے مجموعی مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ روشنی بجھا کر سونا چاہیے ؛ کیوں کہ رسول اللہ انے چراغ بجھا کر سونے کا حکم دیا ہے ، ’’ و أطفئوا مصابیحکم‘‘ اس روایت کوامام ابوداؤد اور نسائی نے حضرت جابر ص سے نقل کیا ہے ،اور علامہ سیوطی نے اسے حدیث معتبر قرار دیا ہے ، (الجامع الصغیر، حدیث نمبر: ۸۰۵)۔ —- دوسرے سوتے وقت بعض دفعہ کپڑے برابر نہیں ہوتے ، تاریکی بھی انسان کے لیے پردہ کا کام کرتی ہے ، اگر روشنی جلتی ہے تو بے ستری کا اندیشہ ہوتا ہے ، اس لیے اگر کوئی عذر نہ ہو تو روشنی بند کرکے سونا بہتر معلوم ہوتا ہے ۔
ایک مؤذن ، دو مسجدیں
۔سوال:-  میں ایک مسجد میں اذان دیتاہوں ، مجھے ایک اورمسجد میں بھی اس خدمت کی پیش کش آئی ہے ، دونوں مسجدوں میں اذان کے وقت کے درمیان پندرہ سے بیس منٹ کا فرق ہوتا ہے ، صرف مغرب میں تقریبا ایک ساتھ اذان ہوتی ہے ، ایسی صورت میں اگر میں دونوں مسجدوں میں اذان کی خدمت انجام دوں اور مغرب کی اذان ایک مسجد کے ذمہ داروں سے معاف کرالوں ، تو کیا اس کی گنجائش ہو گی ؟    (اعلاء الحق، سعیدآباد)۔
۔جواب:-  اذان صرف نماز کا اعلان ہی نہیں بلکہ یہ ایک عبادت بھی ہے ، اور جن عبادتوں کو مکرر کرنا ثابت نہیں ہے ، ان کو مکرر طور پر ادا کرنا درست نہیں ، اس لئے ایک ہی شخص کا دو مسجدوں میں اذان کی خدمت انجام دینا اور ایک ہی وقت کی اذان یکے بعد دیگرے دو مسجدوں میں دینا مکروہ ہے ، فقہاء نے اس کی ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے کہ اذان ان عبادتوں میں سے نہیں ہے ، جو بطور نفل کی جائیں : یکرہ لہ أن یؤذن فی مسجدین ؛ لأنہ إذا صلی في المسجد الأول یکون متنفلا للأذان فی المسجد الثاني والنفل بالأذان غیر مشروع (درمختار مع الرد: ۲؍۷۱)۔اس لئے یہ بات درست نہیں ہے کہ آپ بیک وقت دو مسجدوں میں مؤذن کی خدمت انجام دیں ۔
عدتِ وفات اور عدتِ طلاق میں فرق
۔سوال:-   عدت وفات اور عدت طلاق میں کیا فرق ہے ؟        (گلفام احمد، کھمم)۔
۔جواب:-  عدت طلاق اور عدت وفات میں عدت کی مدت اور احکام دونوں اعتبار سے فرق ہے ، جس کا خلاصہ اس طرح ہے :(الف)۔    حاملہ عورت کے لئے دونوں ہی عدت ولادت سے پوری ہوگی ؛ لیکن اگر بیوی حمل کی حالت میں نہ ہو تو عدت وفات چار ماہ دس دن ہے اور عدت طلاق جوان عورتوں کے لئے تین ماہواری اور نابالغہ وسن رسیدہ عورتوں کے لئے تین ماہ۔(ب)۔طلاق رجعی کی عدت میں عورتوں کے لئے بناؤ سنگار جائز ؛ بلکہ مستحب ہے ، عدت وفات میں مطلقا جائز نہیں ہے۔(ج)۔اگر نکاح کے بعد بیوی کے ساتھ خلوت کی نوبت ہی نہیں آئی اور اس سے پہلے طلاق واقع ہوگئی تو اس پر عدت واجب نہیں اور اگر خلوت سے پہلے شوہر کی وفات ہوگئی تب بھی اس پر عدت وفات واجب ہوگی ۔(د)۔عدت طلاق میں مخصوص حالات کے علاوہ شب و روز عورت کو اسی گھر میں رہنا چاہئے جس میں وہ عدت گذار رہی ہے ؛جبکہ عدت وفات میں دن کے وقت گھر سے باہر نکلنے کی گنجائش ہے ۔
تجارت میں نفع کی حد
۔سوال:-  کسی شئے کی قیمت پر زیادہ سے زیادہ کتنانفع لے سکتے ہیں ،مثلاً ایک چیز کی اصل قیمت سو روپے ہے ، زیادہ سے زیادہ اسے کتنے میں فروخت کرسکتے ہیں ؟   ( سید وجاہت اللہ، سکندرآباد)۔
جواب:-  شریعت میں کم سے کم اورزیادہ سے زیادہ نفع کے لیے کوئی مقدار متعین نہیں ہے اور کاروبار کی مصلحت کاتقاضہ بھی یہی ہے کہ قیمت کو فطری اتار چڑھاؤ پر چھوڑ دیا جائے ، اسی لیے آپ ا نے ایسے طریقوں کو منع فرمایا ، جن کے ذریعہ مصنوعی طور پر قیمت گھٹائی یا بڑھائی جاتی ہے ؛(بخاری عن ابن عباس  ص ، کتاب البیوع ، باب ہل یبیع حاضر لباد بغیر أجر و ہل یعینہ أو ینصحہ)۔ البتہ شریعت کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء نے یہ اصول رکھا ہے کہ ایک شئے کی بازار میں زیادہ سے زیادہ جو قیمت ہوتی ہے ، گاہک کی مجبوری یا ناواقفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے زیادہ پیسے وصول کرلیناجائز نہیں، یہ ایک طرح کا دھوکہ ہے ، مثلاً ایک شئے ایک سو سے ایک سو بیس روپئے تک میں فروخت کی جاتی ہے ، اب اسے ایک سو پچیس روپئے میں بیچنا مکروہ ہوگا ؛ کیوں کہ یہ قیمت کے معروف و مروج دائرہ سے باہرہے جس میں زیادہ سے زیادہ وہ شئے فروخت کی جاتی ہے ۔
سود کا مصرف
۔ سوال :-  بینک میں جمع رقم پر اضافہ سود ہے ، چٹ فنڈ سے زائد رقم کا حصول سود ہے ، اندر اوکاس وغیرہ جیسے اور سرکاری امدادی کاموں میں رکھی گئی رقم پر اضافہ سود ہے ، تو کیا اس زائد رقم سود کو بلا نیت ثواب ان اداروں کو دیا جاسکتا ہے ، جو غرباء اور مستحقین کی مدد کرتے ہیں ، کیا اس رقم سے غریب رشتہ داروں کی مدد کی جاسکتی ہے ؟( مزمل حسین، نامپلی)جواب :- یہ صحیح ہے کہ بینک میں جمع شدہ رقم پر ملنے والا اضافہ ، چٹ فنڈ سے حاصل ہونے والی زائد رقم اور اندراوکاس وغیرہ میں لگائی گئی رقم پر ملنے والی زائد رقم سود کے دائرہ میں آتی ہے اور اس کا استعمال کرنا حرام ہے ؛ البتہ اس رقم کو لے کر غرباء کی ضرورت پر یا رفاہی کاموں میں خرچ کردینا چاہئے ، جو ادارے غرباء کو تعاون پہنچاتے ہوں ، رقم کی نوعیت کی وضاحت کرکے ان کو رقم دی جاسکتی ہے ، اسی طرح اپنے غریب رشتہ داروں پر بھی اس کا خرچ کرنا درست ہے ؛ البتہ کسی قانونی مجبوری کے بغیر ایسی اسکیموں میں رقم کا لگانا بھی جائز نہیں ، جن میں سود دیا جاتا ہو ۔
.    .    .