Sat, Feb 27, 2021

آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.03.13

جانور کی نذر
سوال:-میں چھ ماہ قبل سخت بیمار ہوا تھا ، زندگی کی امید نہ تھی ، میں نے اپنی جان کے بدلہ ایک عدد بکرا زکوۃ دینے کی خدا سے منت مانگی تھی ، میں صحت کی جانب تیزی سے رواں دواں ہوں، زکوۃ کی تقسیم کا طریقہ کیا ہے ؟ جتنی رقم میں بکرا خریدا جا سکتا ہے ، اتنی رقم میں گائے ، بیل خریدے جاسکتے ہیں ، کیا یہ تبدیلی درست ہے ، بکرے کی یا بیل و گائے کی عمر کیا ہونی چاہئے ؟ ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ ایسی زکوۃ کا بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ اپنے کسی قریبی عزیزوں میں قیمت تقسیم کر دیں ، یا بیت المال میں جمع کروائیں ، یا فقراء کو کھانا کھلادیں ، یا دینی مدارس کو رقم حوالہ کر دیں یا یتیم لڑکے ، لڑکیوں کے کام میں لائیں ، یہ بھی تحریر کریں کہ کیا غیر مسلم کو دی جا سکتی ہے ؟ ( محمد فرقان، کریم نگر)
جواب:- اگر کسی جائز چیز کی نذر مان لی جائے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے ، اور خود حدیث شریف میں اس کی تاکید آئی ہے (در مختار:۱؍۲۹۴) اس لئے آپ پر ایک بکرے کی قربانی واجب ہے ، جب آپ نے بکرے کی نذر مانی ہے تو آپ پر بکرا دینا ہی واجب ہے ، نہ کہ گائے یا بیل ، جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے، ان کو اس جانور کا گوشت بھی دیا جا سکتا ہے ، اگر کسی متعین بکرے کے بارے میں آپ نے نذر نہیں مانی تھی ، بلکہ مطلق بکرے کی نذر مانی تھی ، تو ایک سال کا بکرا ہونا چاہئے ، جیسا کہ قربانی کا حکم ہے ، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے : و لا یجوز فیھما إلا ما یجوز فی الأضاحی (بدائع الصنائع: ۴؍۲۳۳) جن لوگوں کو زکوۃ دی جا سکتی ہے ان کو اس بکرے کا گوشت بھی دیا جا سکتا ہے ۔ البتہ زکوۃ کے علاوہ دوسرے صدقات واجبہ غیر مسلموں کو دیئے جا سکتے ہیں ، اگر بکرا ذبح کرنے کی منت نہیں مانی ہے ، بلکہ بکرا صدقہ کرنے کی نذر مانی ہے تو کسی مستحق زکوۃ کو پورا جانور بھی صدقہ کیا جا سکتا ہے ۔
قرآن شریف کی قسم اور کفارہ
سوال:- ایک لڑکی نے قرآن شریف کی قسم کھائی کہ وہ کبھی بھی اس کی سہیلی کے گھر نہیں جائے گی ، لیکن اس کی سہیلی بار بار اس کے گھر آنے کو کہہ رہی ہے ، وہ کو ئی نہ کوئی بہانہ بنالیتی ہے ، اسے وہ سہیلی بہت عزیز بھی ہے ، لڑکی کو خیال آتاہے کہ اگر میں اپنی سہیلی کے گھر نہ جاؤں تو شاید ا س کی موت واقع ہوجائے ، اس سلسلہ میں حکم شرعی کیاہے ؟     (ریاست علی، کھمم )
    جواب:- قرآن شریف کی قسم کھانے سے قسم ہوجاتی ہے ، اگر سہیلی کے یہاں نہ جانے کی قسم کھانا کسی امر شرعی کی بناپرتھا ، جیسے غیر محرم کاآمنا سامنا وغیرہ ، تب تو یہ قسم درست تھی اور اگر محض کدورت کی بناپر تھا ، تو اس کی قسم کھانا درست نہیں ، بہر حال قسم سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اگر شرعانامناسب ہونے کی وجہ سے یاخود اپنی مجبوری کے تحت قسم توڑنی پڑے ، تو قسم کاکفارہ اداکردے ، کفارہ دس مسکینوں کودووقت کھاناکھلانا، یادس مسکینوں کے لیے کپڑے بناناہے ، اگراس کی طاقت نہ ہوتو تین دنوں تک روزے رکھ لے ،(مائدہ: ۸۹) باقی یہ سمجھناکہ اس کی خلاف ورزی کی وجہ سے موت واقع ہوجائے گی تو ایسی کوئی بات قرآن وحدیث میں منقول نہیں ، یہ محض وہم ہے ، اس لڑکی کو چاہیے کہ پہلے سہیلی کے یہاں جائے ، اس کے بعد قسم کاکفارہ ادا کردے پھر آئندہ جانے پر دوبارہ کفارہ واجب نہیں ہوگا۔
نقصان کو قبول کئے بغیر مضاربت
سوال:-{1870} میں کسی خانگی ادارہ میں 1500/- روپے ماہانہ پر ملازمت کرتا ہوں اسی میں بیوی بال بچے کے اخرجات کو کسی طرح پورا کرتاہوں ، معاشی حالت کچھ بہتر کرنے کے لئے میں نے 10,000/-قرض لئے اور اسے دواؤں کی ایجنسی میں مشغول کردیا ، جہاں سے 600/- روپے ماہانہ نفع حاصل ہو رہا ہے ، مجھے نقصان سے کوئی مطلب نہیں ہے ، واضح رہے کہ یہ منافع میرے سرمایہ کا تیس سے چالیس فیصد کے درمیان ہے، تو کیا اس طرح نفع حاصل کرنا درست ہے ؟                              ( احمد علی ، چنچل گوڑہ)
    جواب:-  جوصورت آپ نے لکھی ہے ،اسے فقہ کی اصطلاح میں ’’مضاربت‘‘کہتے ہیں،یعنی ایک شخص کا سرمایہ ہو اور دوسرے شخص کی محنت ۔اور نفع میں دونوں شریک ہوں ،شریعت نے اصولی طور پر اس صورت کو جائز قرار دیاہے ، تاکہ صاحب سرمایہ اور عامل دونوں ایک دوسرے کی صلاحیت سے استفادہ کر سکیں ، البتہ اس معاملہ کے درست ہونے کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان نفع کا تناسب متعین ہو ، جیسے پچاس فیصد ،پچیس فیصد وغیرہ،نہ کہ نفع کی قطعی مقدار ،جیسے پانچ سو ، چھ سو ،نیز نفع میں جس تناسب سے حصہ داری ہو اسی تناسب سے نقصان میں بھی دونوںشریک ہوں ، آپ نے جو صورت لکھی ہے، اس میں یہ دونوں شرطیں نہیں پائی جاتیں،نفع کی ایک مقدار یعنی /۶۰۰روپے متعین ہے اور نقصان میں آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ، اس لیے یہ صورت جائز نہیں ۔البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ہر ماہ دس ہزار روپے کی متعین دوائیں آپ کے وکیل کی حیثیت سے یہ صاحب خرید کریں، اور دس ہزار چھ سو میں یہ دوائیںآپ ان ہی کے ہاتھ فروخت کردیں ، البتہ اس کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ یا تو آپ خود ان کے ساتھ جاکر 10000کی دواخرید کریں ،یا کم سے کم جب وہ دوا خرید کر لائیں، تو ایک لمحہ کے لیے سہی ، آپ ان دوائوں کو اپنے قبضہ میں لے لیں ، کیو نکہ جب تک کسی چیز پر خریدار قبضہ نہ کرلے ، اس کے لیے اس کو فروخت کرنا اور اس پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں ،کیو نکہ رسول اللہ ا نے قبضہ سے پہلے کسی شی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے (بخاری، حدیث نمبر: ۲۱۳۶) اور جو چیز آدمی کے ضمان میں نہ آئی ہو اس کے نفع کو نادرست قراردیا ہے۔(حوالۂ سابق)
بینک سے زیور پرکھنے کی اجرت
سوال:-میں ایک زیورات کی دکان کا مالک ہوں ، مجھے ایک بینک میں سونے کے زیورات جو گروی رکھے جاتے ہیں ، انہیں کسوٹی پر پرکھنے اور اصلی و نقلی کی پہچان کرنے پر کمیشن ملتا ہے ، آیا میں بینک سے کمیشن قبول کرسکتا ہوں یا نہیں؟ (آفتاب عالم، ہمایوں نگر)
جواب:- کسوٹی پر پرکھنے اور اصلی و نقلی پہچان کرنے کی اجرت لینا تو جائز ہے ، لیکن بینک کی پوری آمدنی بنیادی طور پر سودی آمدنی ہوتی ہے ، اس لیے بینک سے اس طرح کی اجرت لینا جائز نہیں ، (جدید فقہی مسائل: ۱؍۴۰۰) آپ کے موجودہ کاروبار ہی میں اللہ برکت دے گا ، اسی پر اکتفا کرلیں ۔
نماز کے بعد قرآن مجید کی تلاوت
سوال:- کتاب حصن حصین میں بتلائی گئی چند آیاتِ قرآنی مسجد میں بعد نمازِ فجر اور عصر کی دعاء کے بعد پڑھی جاتی ہیں ، اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ آیات کا مختصر حصہ امام صاحب پڑھتے ہیں اور مصلی اسے اجتماعی طور پر بہ آواز بلند دہراتے ہیں، اس طرح تمام آیات کی تلاوت ہوتی ہے ، ابتداء ً اس طریقے کو اس غرض سے اختیار کیاگیا تھا ، کہ سب مصلیوں کو یاد ہوجائے اور کئی سال سے یہی طریقہ جاری ہے ، ایک صاحب نے فرمایا کہ سورۂ اعراف کے آخری صفحہ میں حکم ربانی ہے کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو ، تو پوری توجہ سے سنو اور خاموش ہوجاؤ ، اس طرح تمام مصلی کا بیک آواز بلند پڑھنا اس حکم ربانی سے مطابقت نہیں رکھتا ، انہوں نے رائے دی کہ ایک صاحب پڑھیں اور سب خاموشی سے سنیں ، سننے والوں کو زیادہ ثواب ملے گا ، یا بغیر آواز خاموشی سے پڑھ کر ، آیات یاد کرلیں اور الگ الگ انفرادی طور پر پڑھ لیں ، تو مناسب ہے؟ رہنمائی فرمائیں کہ کون سا طریقہ درست اور مناسب رہے گا ؟ ( عظیم الدین، گلبرگہ)        
    جواب:-  چند دنوں تک امام صاحب نے لوگوں کو یاد دلانے کے لیے جو زور سے آیات قرآنی پڑھا ، یہ تو درست تھا ، کیوں کہ اس کا مقصد تعلیم تھا ، لیکن اس کو مستقل معمول بنا لینا مکروہ ہے : یکرہ للقوم أن یقرؤا القرآن جملۃ لتضمنھا ترک الاستماع والأنصات المأمور بھا کذا في القنیۃ ‘‘ (ہندیہ: ۵؍۳۱۷) قوم کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ ایک ساتھ قرآن پڑھیں، کیوں کہ سننے اور خاموش رہنے کا حکم ( قرآن مجید میں ) دیا گیا ہے ، اس عمل کی وجہ سے وہ چھوٹ جاتا ہے ؛لہذا صحیح طریقہ یہ ہے کہ الگ الگ اور آہستہ آہستہ پڑھ لیں اور اس عمل کوواجب و لازم خیال نہ کریں۔
دلہن کا لباس عروسی
سوال:-  مسلمان نوشہ یا دلہن کا لباس نکاح یا شب عروسی میں کیسا ہونا چاہئے ؟ عام طور پر دلہنیں سرخ لباس استعمال کرتی ہیں ،جو شاید غیر مسلموں کی مشابہت ہے ، شب عروسی میں سفید لباس پہننے کی بات آتی ہے تو اسے بیواؤں کا لباس کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے ،براہ کرم شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔  (زیبا ناز، شاہین نگر)
جواب:-  شریعت میں کچھ امور متعین کردئے گئے ہیں اور کچھ امور وہ ہیں جن کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے ، یہ جو دوسری طرح کے مسائل ہیں ان کے بارے میں شریعت کی طرف سے سکوت امت کے لئے رحمت ہے ، اور اس میں اشارہ ہے کہ آدمی اپنے منشاء و خواہش کے مطابق عمل کرسکتا ہے ،لباس اور خاص کر لباس عروسی بھی ایسی ہی چیزوں میں ہے ، بس اس کی رعایت ضروری ہے کہ لباس ساتر ہو ، مردوں کا لباس ریشمی نہ ہو اور بہت شوخ کلر نہ ہو ،مردوں کا لباس عورتوں کے اورعورتوں کا لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو ، خواتین کے لئے سرخ رنگ کا لباس بھی جائز ہے اور سفید رنگ کا بھی ، جیسے ہندوستان میں تمام قوموں کے لوگ  — جن میں ہندو بھی شامل ہیں  — سرخ رنگ کا لباس استعمال کرتے ہیں ، اسی طرح یورپ میں عیسائی اور دوسری قوموں کے لوگ دلہنوں کو سفید رنگ کا لباس پہناتے ہیں ، اس کا مذہب سے تعلق نہیں ہے ، تہذیب سے تعلق ہے ، تہذیب ایک مقام پر رہنے والی مختلف اکائیوں کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی تہذیبی عمل ایک ہی مذہبی گروہ کے ساتھ مخصوص نہ ہو تو وہ غیر مسلموں کی مشابہت کے دائرہ میں نہیں آتا ؛ اس لئے دلہنوں کا لباس عروسی سرخ ہو تو کوئی حرج نہیں ؛ البتہ آج کل نوشہ ایسے کامدار لباس استعمال کرتے ہیں ، اور ایسے کلر کے کپڑے پہنتے ہیں ، جو بعض اوقات خواتین کے لباس کے بہت زیادہ مشابہ ہوتا ہے ، یہاں تک کہ فیشن کے طور پر مرد حضرات بھی اوڑھنیاں استعمال کرتے ہیں ، یہ صورت مکروہ تحریمی یعنی قریب بہ حرام ہے ؛ کیوںکہ رسول اللہ ا نے مردوں کو عورتوں اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والوں پر  لعنت فرمائی ہے ۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۵۸۸۵)