Sun, Feb 28, 2021
آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.03.06
عمل کے بغیر دعوت
سوال:- ہمارے محلہ میںایک صاحب دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑے ہوئے ہیں، ان کے بارے میںلوگوں کا عام تاثر یہ ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے ، اس لیے لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں دوسروں کو دعوت دینے سے احتیاط کرنی چاہئے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :  لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ اس سلسلہ میں صحیح بات کیا ہے ؟ اگر ایک آدمی خود کسی گناہ سے نہ بچ سکے تو کیا وہ دوسروں کو اس گناہ سے بچنے کی دعوت دے سکتا ہے ؟( ممتاز احمد، بیدر)
جواب:-  عمل سے دعوت میں تاثیر پیدا ہوتی ہے ، اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس نیکی کی دعوت دی جائے ، پہلے اس پر خود عمل کیا جائے اور جس برائی سے روکا جائے پہلے اس سے خود بچایا جائے؛ لیکن ایسا نہیںہے کہ اگر کوئی شخص کسی بات پر عمل سے محروم ہو ،تو وہ دوسروں کو اس کی دعوت ہی نہ دے؛ کیوں کہ معروف پر عمل کرنا اور منکر سے روکنا ایک مستقل فریضہ ہے اور خود معروف پر عمل کرنا اور منکر سے بچنا مستقل فریضہ ہے، اگر کوئی شخص ایک فریضہ کو ادا کرنے سے محروم ہو ، تو ضروری نہیں کہ وہ دوسرے فریضہ سے بھی منہ موڑ لے ، اگر وہ دوسروں کو دعوت دے تو کم سے کم ایک گناہ سے تو محفوظ رہے گا ، چنانچہ امام عبد الرشید طاہر بخاری ؒ نے لکھا ہے : جو شخص کسی برائی کو دیکھے اور وہ خود بھی اس میں مبتلا ہو ، تب بھی اس کے لیے اس برائی سے روکنا واجب ہے ؛ اس لئے کہ اس پر ترکِ منکر بھی واجب ہے اور نہی عن المنکر بھی ، اگر ایک واجب کو ترک کر رہا ہے تو کم سے کم دوسرے واجب کو تو ترک نہ کرے : لأن الواجب علیہ ترک المنکر و النھي عن المنکر و اذا ترک أحدھما لا یترک الآخر (خلاصۃ الفتاویٰ:۴؍۸۳۳)اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب آدمی دوسروں کو دعوت دیتا ہے تو بالآخر خود اس کو بھی اس پر عمل کی توفیق میسر آتی ہے ۔
جہاں تک مذکورہ آیت کی بات ہے تو اس کا مقصود یہ ہے کہ جو کام کرتے نہیں ہو؛ کیوں کہتے ہو کہ تم نے اسے کیا ہے ، یعنی چھوٹے ادّعا کی مذمت ہے نہ کہ دعوت کی ممانعت ۔
مسلم خواتین کے لئے عصری تعلیم
سوال:-   اسلامی حدود میں رہتے ہوئے مسلم خواتین جدید عصری علوم مثلا ڈاکٹری کی تعلیم وغیرہ حاصل کرسکتی ہیں یا نہیں ؟ بعض پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ مسلم خواتین کو صرف دینی تعلیم ہی دینی چاہئے ، اور یہ کہ انہیں صرف پڑھنا سکھانا چاہئے ، لکھنا نہیں سکھانا چاہئے ، کیا ہمارے لیے دنیاوی علم حاصل کرنے کی ممانعت ہے ؟ برائے کرم اس موضوع پر اسلامی نقطۂ نظر سے روشنی ڈالیں ؟( جلال الدین، ہمایوں نگر)
جواب:-  اسلام بنیادی طور پر علم و تحقیق کے کاموں کا حامی ہے نہ کہ مخالف ؛ بلکہ اگر کہا جائے کہ مذاہب عالم میں یہ اس کا امتیاز ہے تو غلط نہ ہوگا؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ علم انسانیت کے لئے نفع بخش اور مفید ہو ، عصری علوم بھی زیادہ تر نفع بخش اور فائدہ مند ہیں ، اور ان کے ذریعے انسانیت کی خدمت سر انجام پاتی ہے ، اسلام نے مردوں کی طرح عورت پربھی تعلیم کا دروازہ کھلا رکھا ہے؛اس لئے ایسے عصری علوم جو نافع ہوں ، اگر شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ مسلمان لڑکیاں حاصل کریں تو کچھ حرج نہیں ، خاص کر میڈیکل تعلیم تو لڑکیوں کے لئے نہایت ضروری ہے ، مرد ڈاکٹروں سے علاج میں خواتین بے پردگی سے دوچار ہوتی ہیں ، بعض دفعہ تو نسوانی امراض کے لئے بھی ان ڈاکٹروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور اس میں بے ستری اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے؛ بلکہ بعض اوقات ناخوشگوار واقعات بھی پیش آجاتے ہیں ، خواتین ڈاکٹروں کی موجودگی سے یہ نوبت نہیں آئے گی ؛ کیونکہ ایک عورت کا عورت کے سامنے بے پردہ ہونا مرد کے سامنے بے پردہ ہونے سے کمتر ہے ۔
شرعی حدود سے مراد یہ ہے کہ بے پردگی نہ ہو ، غیر محرم مردوں کے ساتھ تنہائی و خلوت نہ ہو، فتنہ کے مواقع سے بچنے کا اہتمام ہو ، ایسا علم نہ ہو جو شرعا ناجائز ہو جیسے رقص و موسیقی وغیرہ کی تعلیم ، ایسی تعلیم نہ ہوجو عورت کی فطری صلاحیت اور دائرۂ کار کے مغائر ہو ، اور ان کا یہ تعلیم حاصل کرنا اپنے ولی کی اجازت سے ہو ، یعنی شادی سے پہلے باپ کی ، اور شادی کے بعد شوہر کی اجازت ضروری ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کی علاحدہ درس گاہ قائم کریں: تاکہ لڑکیاں مخلوط تعلیم سے بچتے ہوئے شرعی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کریں ۔
جہاں تک عورت کو کتابت سکھانے کی ممانعت کی بات ہے ، تو بعض موضوع روایتوں میں اس کا ذکر ہے :شعب الإیمان للبیھقي :۲/۴۷۷ ، حدیث نمبر : ۴۷۸) جس کو محدثین نے من گھڑت اور بے اصل قرار دیا ہے:سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ :۵/۳۰ ، حدیث نمبر : ۲۰۱۷) صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن میں مختلف خواتین کتابت سے واقف تھیں (فتوح البلدان ترجمہ اردو :۲/۲۵۲، )حضرت شفاء عدویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا خط بہت اچھا ہوتا تھا ، اور رسول اللہ ا نے ان سے خواہش فرمائی تھی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھنا سکھا دیں ، (سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۸۸۷ ) اس لئے عورتوں کو کتابت و تحریر سکھانے میں کوئی حرج نہیں ؛ بلکہ قباحت ان کو علم سے محروم رکھنے میں ہے ۔
اگر چھینک یا کھانسی پر پیشاب کے قطرات آجائیں
سوال:- زید کا لڑکا ۱۸؍ سال کا ہے ،اسے چھینک آنے پر ، کھانسی کرنے پر، وزن اٹھانے پر پیشاب کے قطرات نکل آتے ہیں، کیا وہ بغیر غسل کے نماز اور قرآن پڑھ سکتا ہے ؟        ( مزمل حسین، نرمل)
جواب:-   پیشاب کی وجہ سے وضوء واجب ہوتا ہے نہ کہ غسل ، ایسے لڑکے کو چاہئے کہ نماز سے پہلے یا قرآن چھونے سے پہلے وضوء کرلے، زبانی قرآن پڑھنے کے لئے وضوء کرنا ضروری نہیں، اگر پیشاب کے قطرات ہتھیلی کی گہرائی کے برابر پھیل گئے ہوں، تو کپڑے کے آلودہ حصہ کو بھی دھونا واجب ہوگا، اگر اس سے کم ہو تو واجب نہیں؛بلکہ مستحب ہے۔(ہندیہ:۱؍۴۶)
وضوء کے بعد سورئہ قدرپڑھنا
سوال:-  وضوء کے بعد آسمان کی طرف نظر کر کے سورئہ قدر پڑھنا مستحب ہے؟اس سلسلہ میں رہبری کیجئے۔(انعام الحسن، حمایت نگر)
جواب:-  احادیث میں اس بات کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ پوری طرح وضوء کرنے کے بعد: أشہد أن لاإلٰہ إلا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ وأشہد أنّ محمّداً عبدہ ورسولہپڑھاجائے:قال رسول اللّٰہ ا : من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال : أشہد أن لاإلٰہ إلا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ وأشہد أنّ محمّداً عبدہ ورسولہ، اللّٰھم اجعلني من التوابین و اجعلني من المتطھرین ، فتحت لہ ثمانیۃ أبواب الجنۃ یدخل من أیھا شاء  (الجامع للترمذي، حدیث نمبر : ۵۵ ) فقہاء ؒ نے لکھاہے کہ کھڑاہوکر اور قبلہ کی طرف رخ کر کے پڑھے اور بعض حضرات نے اس کو بھی مستحب قرار دیاہے کہ اس موقعہ پر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا جائے (طحطاوی ومراقی الفلاح :۴۳ ) علامہ حصکفیؒ نے اس موقع سے سورۂ قدر کی تلاوت کا بھی ذکر کیا ہے اور علامہ شامیؒ نے اس سلسلہ میں فقیہ ابو اللیثؒ کی ذکر کی ہوئی حدیثوں کا حوالہ دیا ہے (رد المحتار : ۱/۲۳۱) ان سب کو ملاکر واضح ہواکہ وضوء کے بعد قبلہ رخ ہوکر کھڑاہو،آسمان کی طرف نگاہ کرے ، انگشت ِشہادت اٹھائے اور کلمئہ شہادت پڑھے،اور وضوء کے افعال سے فارغ ہونے کے بعد سورۂ قدر کی تلاوت بھی کرلے ۔
طہارت خانہ کی چھت پر نماز
سوال:-ایک مسجد میں صحن بیت الخلاء کی چھت سے متصل ہے ، جب جمعہ و غیرہ کے موقع پر لوگ زیادہ ہوجاتے ہیں تو طہارت خانہ کی چھت پر نماز ادا کرتے ہیں ، ہماری مسجد کے ایک مصلی صاحب کا خیال ہے کہ طہارت خانہ کی چھت پر نماز درست نہیں ہوتی ؟    ( راشد انور، کھمم)
جواب:- یہ بات درست نہیں کہ مسجد شرعی کے نیچے بیت الخلاء یا طہارت خانہ بنایا جائے ، یہ احترام مسجد کے خلاف ہے؛ البتہ اگر مسجد تو نہ ہو ؛ لیکن مسجد سے متصل ہو اور بوقت ضرورت لوگ اس پر نماز پڑھ لیتے ہوں تو یہ درست ہے ؛ کیونکہ ناپاکی سطح زمین میں ہے اور نماز پڑھنے کی جگہ اور سطح زمین کے درمیان خلاء اور چھت کا فاصلہ موجود ہے ، اور ایسے فاصلہ کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے : وإذا صلی علی حجر الرحی  ظاہرہ طاہر وباطنہ نجس یجوز عند محمد (ہندیہ: ۱؍۶۲)  إذا صلی علی  بساط غلیظ أوعلی مکعب ظاھرہ طاھر و باطنہ نجس یجوز(حوالۂ سابق) مذکورہ صورت میں بھی نجاست اور نماز پڑھنے والے کے درمیان چھت حائل ہے ؛ اس لئے نماز درست ہوجائے گی ـ۔
امام کی وجہ سے نماز کا اعادہ
سوال:- ہماری مسجد کے امام صاحب غیر شرعی افعال میں مبتلا ہیں ، اس کی وجہ سے اکثریت ناراض ہے اور ان کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے ، کچھ لوگ نماز ادا کرتے ہیں؛ لیکن فورا نماز دہرالیتے ہیں: تاکہ نماز بھی درست ہوجائے اور جماعت کا ثواب بھی مل جائے ، مسجد کی کمیٹی کو کئی بار امام صاحب کے ان افعال سے آگاہ کیا گیا ؛ لیکن لگتا نہیں ہے کہ ان کو نکالا جائے گا، تو کیا میرا اس طرح امام صاحب کے ساتھ نماز پڑھنا اور پھر دہرانا درست ہے ؟ واضح ہو کہ ایک اور مسجد ہے؛ لیکن کافی فاصلہ پر ہے ؟ (شیخ سیف اللہ، مراد نگر )
جواب:- اول تو اپنے آپ کو ٹٹولئے کہ کہیں آپ کو غلط فہمی تو نہیں ہوئی ہے ، اور امام صاحب کے جن افعال کو آپ برا سمجھتے ہیں کیا واقعی وہ برے ہیں ، اور کیا وہ اب تک اپنے اس طرز عمل پر قائم ہیں ؟ اگر اب تبدیلی آگئی ہو ، تو پچھلی کوتاہیوں کو نظر انداز کیجئے ؛ لیکن اگر امام صاحب کا کوئی عمل صریحاً شریعت کے خلاف ہو ، اور خوشگوار طریقہ پر ان کی اصلاح یا علاحدگی ممکن نہ ہو تو کمیٹی سے اپنی رائے ظاہر کرنے کے بعد آپ برئ الذمہ ہوگئے ، اور آپ ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں ، غور کیجئے کہ حجاج بن یوسف سے بڑھ کر بھی کوئی فاسق ہوگا ؟ جس کی گردن پر بیسیوں صحابہ ث کا خون ہے ؛ لیکن حضرت عبداللہ بن عمر ص  جیسے بزرگ صحابی اور دوسرے صحابہ ث  اور اجلہ تابعین ؒحجاج کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے ، آج نہ کوئی امام حجاج جیسا بدکار ہو سکتا ہے ، اور نہ کوئی مقتدی حضرت عبداللہ بن عمر ص  جیسا عبادت گذار و پرہیز گار ، پھر ہماری نماز ایسے ائمہ کے پیچھے کیوں نہیں ہوگی؟ رسول اللہ انے خود ارشاد فرمایا کہ نیک اور بد ، اچھے اور برے دونوں کے پیچھے نماز ادا ہوجاتی ہے : صلوا خلف کل بر و فاجر (سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۵۹۴ )جب تک نماز کے فاسد ہونے کی کوئی وجہ نہ ہو ، خواہ مخواہ نماز کا دہرانا مناسب نہیں ، رسول اللہ ا نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ایک نماز دوبار پڑھی جائے : لا تصلوا صلاۃ في یوم مرتین (سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۵۷۹ ) اس لئے آپ کو دوبارہ نماز پڑھنے کی حاجت نہیں ۔(فتاوی رشیدیہ : ص : ۳۵۰ )
.    .    .