Fri, Feb 26, 2021
آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.02.28
میراث کی کسی چیز میں قرعہ اندازی کرنا
سوال:-  ورثہ کے مال کی تقسیم دو بھائیوں کے درمیان ہو رہی ہو ، کوئی چیز بچ جائے ،اس کی قیمت طے ہوچکی ہو ، لیکن دونوں بھائی قیمت دے کر وہ چیز حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟     (نوشاد فیضی، آصف آباد )
جواب:-  ایسی صورت میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ چیز دونوں بھائیوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے تو دونوں میں تقسیم کردی جائے ، اگر تقسیم کے لائق نہیں ، تو دونوں باری باری اس کا استعمال کریں، مثلا ایک ماہ یہ اور ایک ماہ وہ ، اگر ان دونوں صورتوں پر آمادہ نہ ہوں ، اور اس پر آمادہ ہوں کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ ان دونوں میں سے ایک کو وہ شیٔ دے دی جائے ، اور جس کے نام پرقرعہ نکلے ، وہ اس کی نصف قیمت دوسرے وارث کو ادا کردے ، تو یہ صورت اختیار کی جائے ، متعدد حق داروں کے درمیان حصہ کی نوعیت متعین کرنے میں قرعہ اندازی سے کام لیا جاسکتا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ: حضورا جب سفر پہ تشریف لے جاتے ، تو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے ، ایک بار حضرت عائشہ ضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام سے قرعہ نکلا ، چنانچہ یہ دونوں امہات المؤمنین آپ ا کے ساتھ تشریف لے گئیں‘‘(صحیح مسلم:۲؍۲۸۶)قرعہ اندازی کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ایک کاغذ پر اس شیٔ کا نام لکھاجائے ، اور دوسرے کاغذ پر قیمت درج کی جائے ، اور یہ خفیہ کاغذ دونوں سے اٹھوایا جائے ، جس کے نام اس شیٔ کی پرچی آئے وہ اس شی کو حاصل کرلے ، قرعہ اندازی کی اور دوسری صورتیں بھی ہوسکتی ہیں، اگر اس پر بھی ورثہ متفق نہ ہوں تو اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس سامان کو فروخت کرکے دونوں بھائیوں کو برابر برابر پیسے دے دئے جائیں ۔
اگر امانت چوری ہوجائے ؟
سوال:- ایک شخص نے کسی کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی اتفاق سے چوری ہوگئی اور وہ امانت رکھی ہوئی چیز بھی چور لے گئے ، ایسی صورت میں کیا اس امانت کی ادائیگی ضروری ہے ؟    ( سعید احمد، ہمایوں نگر)
جواب:-  جس شحص کے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھوائی جائے ، وہ اس کی حفاظت میں کوتاہی سے کام نہ لے ، پھر بھی کسی طرح وہ چیز ضائع ہوجائے ، تو اس شخص پر اس کا تاوان اور بدل واجب نہیں ، چنانچہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی اس پر ضمان نہیں ، (ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۲۴۲۴) ایک اور روایت میں ہے کہ امانت رکھنے والے نے اگر خیانت سے کام نہیں لیا تو اس پر ضمان نہیں (دارقطنی:۲؍۳۰۶)
ڈاکٹر وغیرہ کا کمیشن
سوال:-  مختلف کاموں کے انجام دینے والے لوگ گاہک بھیجنے والے کو کمیشن دیتے ہیں، مثلا : ایکسرے والے ڈاکٹر وںکو ، ہوٹل والے اسٹیشن سے مسافر لانے والے آٹو کے ڈرائیوروں کو ، میکانک گاڑی لانے والے ڈرائیور کو ، کیا یہ صورتیں جائز ہیں ؟(محمد توحید، راجندرنگر)
جواب:-  یہ صورت جو آج کل مروج ہو چکی ہے ، رشوت میں داخل ہے ، اورجائز نہیں ہے، رسول اللہ انے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۳۵۸۰) سب سے زیادہ افسوس ڈاکٹری کے پیشے پر ہوتا ہے ، جس کا اصل مقصد خدمتِ خلق ہے ، لیکن آہستہ آہستہ اس پیشہ پر خالص تاجرانہ رنگ چڑھتا جارہا ہے ، اور اس وجہ سے علاج گراں سے گراں اور متوسط آمدنی کے حامل لوگوں کی قوت سے باہر ہوتاجا رہا ہے ۔
اصلاح کی غرض سے شکایت کرنا
سوال:-  مدارس اور اسکولوں میں بعض طلبہ وطالبات دوسروں کو ستاتے ہیں ، غیر اخلاقی گفتگو کرتے ہیں ، یا ایسا لٹریچر لاتے ہیں ، جو اخلاق کو برباد کرنے والا ہو ، اگر طلبہ اساتذہ یا انتظامیہ سے ان کی شکایت کرے تو ان کا یہ عمل جائز ہوگا ، یا غیبت میں شامل ہوگا ؟ (ذاکر حسین، بیگم پیٹ)
جواب:-  غیبت کے معنی کسی کی عدم موجودگی میں اس میں پائی جانے والی برائی کو ذکرکرناہے ، غیبت کی ممانعت اس لئے ہے کہ عام طوپر اس کا مقصد اس شخص کو بے آبرو کرنا اوراس کو رسوا کرنا ہوتا ہے ، اگر یہ مقصد نہ ہو ؛ بلکہ دوسرے لوگوں کو اس کے شر سے بچانا اورماحول کی اصلاح کرنا مقصود ہوتو ایسے موقع پر اس شخص کی کمزوریوں کا تذکرہ جائز ہے ؛ البتہ نیت کو ہمیشہ صاف رکھنا چاہئے : الرجل إذا کان یصوم ویصلی ویضر الناس بالید واللسان ، فذکرہ بما فیہ لا یکون غیبۃ وإن أخبر السلطان بذلک لیزجرہ فلا إثم علیہ کذا في فتاوی قاضی خاں (ہندیہ:۵؍۳۶۲)
منکرات پر مشتمل تقریبات میں شرکت
سوال:-  اکثر شادی بیاہ میں دیکھا جاتا ہے کہ گانا بجانا اور ناچنا وغیرہ ہوتاہے، او ربہت سی قسم کے رسم ورواج ہوتے ہیں، شادی میں ٹیبل پر کھانا بھی عام ہوگیا ہے، کیا ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا جائز ہے؟ جوڑے کی رقم او رجہیز وغیرہ بھی لیا جاتاہے، ایسی شادیاں رشتہ داروں اور دوستوں میں ہوتی ہیں، اور نہ جانے پر ناراضگی پیدا ہوتی ہے، کیاہمارے لئے اس میں شریک ہونا جائز ہے؟   (محمد توفیق، ناندیڑ)
جواب:-  جس شادی میں ناچنا، گانا، پیسوں کا مطالبہ وغیرہ غیر شرعی امور ہوں، ان میں شریک ہونا جائز نہیں ہے، خواہ وہ قریبی رشتہ دار او ردوست ہی کیوں نہ ہوں، اس لئے کہ مخلوق کو خوش کرنے کے لئے خالق کو ناراض کرنے کی گنجائش نہیں، اور خالق کی خوشنودی کے مقابلہ مخلوق کی ناراضگی قابل توجہ نہیں، البتہ کرسی ٹیبل پرکھانا ناجائز یا مکروہ نہیں ہے، بلا عذر اس طرح کھانا بہتر طریقہ کے خلاف ہے، اس لئے اگر کہیں اس طرح کھانے کا نظم ہو تو کھالینے میں حرج نہیں، نیز اگر میزبان کو ٹیبل کرسی پر کھلانے میںانتظامی اعتبار سے سہولت ہو تو اس طرح کھلانے میں بھی قباحت نہیں، البتہ روزہ مرہ زندگی میں زمین پر بیٹھ کر کھانے کا انتظام کرنا چاہئے؛ تاکہ گھر کے ماحول میں سادگی اور بہتر طریقہ کا رواج باقی رہے۔
مہندی میں کُمکُم
سوال:-  گوڑ کی مہندی میں کم کم ( جو غیر مسلم حضرات استعمال کرتے ہیں ) ملاکر تیار کرتے ہیں ، آج کل یہ بازار میں فروخت ہورہی ہے ، اس کے لگانے سے رنگ تو آجاتا ہے، مگر دو تین دنوں میں اس کا رنگ نکلنا شروع ہوجاتا ہے ، کیا ایسی مہندی لگاکر نماز پڑھنے سے نماز ہوجاتی ہے ؟     (ترنم کہکشاں، بی بی نگر )
جواب:-  عورتوں کو از راہ زینت اپنے ہاتھ کو رنگین کرنا جائز ہے ، اسی کی ایک صورت مہندی بھی ہے ؛ البتہ اس میں دوباتیں ضروری ہیں ، ایک یہ کہ جو چیز لگائی جائے اس کی پرت نہ بن جاتی ہو ، جو جسم تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو ، کم کم میں جو چیز استعمال کی جاتی ہے ، وہ رنگ ہی ہوتی ہے اور چوں کہ غیر مسلم حضرات اس کو دوسرے طریقے پر استعمال کرتے ہیں اور مہندی میں اس کی آمیزش کی صورت جداگانہ ہے ، اس لئے اس کو غیر مسلموں سے تشبیہ قرار نہیں دیا جاسکتا، اور بہ ظاہر اس میں کوئی ناپاک جزء بھی شامل نہیں ہوتا ؛ البتہ یہ بات دیکھنے کی ہے کہ مہندی میں اس کو ملانے کی وجہ سے کیا جسم پر اس کی تہہ جم جاتی ہے ، جس کی وجہ سے چمڑے تک پانی نہیں پہنچ پاتا ہے ؟ اگر ایسا ہو تو وضو درست نہیں ہوگا اور جب وضو درست نہیں ہوگا تو نماز بھی درست نہیں ہوگی ۔
بینک کی ملازمت اور دوسری سرکاری ملازمتوں میں فرق
سوال:-بینک کی نوکری کے سلسلہ میں فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ جائز نہیں ، کیوں کہ اس میں سودی معاملہ ہوتا ہے ، لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں صرف بینک کی نوکری ہی تخصیص کیوں ؟ اس میں وہ تمام نوکریاں شامل ہوں جو حکومت کی جانب سے ملتی ہیں، کیوں کہ حکومت خود ورلڈبینک سے قرض حاصل کرتی ہے ، اور گورنمنٹ کے ہر ملازم کو گویا سود سے اس کی ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے ۔  (محفوظ عارف، گنتکل)
جواب:-  اول تو گورنمنٹ کی پوری آمدنی ورلڈ بینک کے قرض سے ہی نہیں ہوتی ، بلکہ آمدنی کا غالب حصہ اندرونِ ملک کے وسائل سے حاصل ہوتا ہے ، اس لیے اس میں قدرتی صنعتیں ، عوام سے لیا جانے والا ٹیکس ، ریلوے اور پوسٹ وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدنی اور بہت سے دوسرے ذرائع ہیں، دوسرے حکومت ورلڈ بینک سے سود لیتی نہیں ہے ، بلکہ سود دیتی ہے ، اور سودی قرض حاصل کرتی ہے ، بخلاف بینک کے کہ وہ لوگوں سے سود حاصل کرتا ہے ، سود لینے کی صورت میں فعل بھی گناہ ہے اور حاصل ہونے والا پیسہ بھی حرام اور سودی قرض لینے کی صورت میں فعل تو گناہ کا ہوتا ہے ، لیکن یہ رقم حلال ہوتی ہے ، بینک کی ملازمت اس لیے ناجائز ہے کہ اکثر اوقات یہ سودی لین دین میں تعاون ہوتا ہے ، اور سودی معاملات میں تعاون بھی جائز نہیں ، (مائدہ:۲) جب کہ گورنمنٹ کی دوسری ملازمتوں میں ملازمت کرنے والوں کا سود لینے اور دینے والوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، اس لیے بینک کی ایسی ملازمت جس میں سودی کاروبار کے لکھنے یا لینے اور دینے میں تعاون ہوتا ہو جائز نہیں ہے اور دوسری سرکاری ملازمتیں جن میں براہِ راست کسی حرام کا ارتکاب نہ ہوتا ہو جائز ہیں ۔
اعراف سے کیا مراد ہے ؟
سوال :-  اعراف کیا ہے ؟ اور اس سے کیا مراد ہے ؟ ( کبیر الدین، شیموگہ)
جواب:-  اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان کا درجہ ہو گا ، اس میں ابتداء ً وہ لوگ رکھے جائیں گے ،جو دوزخ کے مستحق تو نہ ہوئے ہوں ؛ لیکن اہل جنت کے درجہ کو بھی نہ پہنچ پائے ہوں ، پھر اپنی کوتاہیوں کے اعتبار سے وقت گذار کر بتدریج جنت میں داخل کر دیے جائیں گے ، اعراف کا مقام بلند ی پرواقع ہو گا اور عرب میں بلند چیز کو ’’ اعراف ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، علامہ ابن قتیبہؒ کے بقول اسی لئے اس درمیانی مقام کو ’’ اعراف ‘‘ کہا گیا ۔
مکھی سے متعلق حدیث کی تحقیق
سوال:- کیا یہ بات صحیح حدیث میں آئی ہے کہ اگر مکھی کھانے میں گرجائے تو اسے ڈبوکر پھینک دے اور یہ کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور ایک میں شفا ، بظاہر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک ہی چیز مضرت رساں بھی ہو اور فائدہ مند بھی ، اور یہ بات نفاست و تہذیب کے خلاف بھی معلوم ہوتی ہے ؟   (فہیم الدین، تالاب کٹہ)
جواب:-  یہ مضمون صحیح اور معتبر حدیث میں آیا ہے ، خود امام بخاری نے کتاب بدء الخلق ، حدیث نمبر : ۳۱۴۲ ، اور کتاب الطب ، حدیث نمبر :۵۴۴۵ میں حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت کیا ہے ، جب کوئی بات صحیح حدیث سے ثابت ہو تو اسے بے چون و چرا تسلیم کرلینا چاہئے ؛ کیوںکہ دوسری صلاحیتوں کی طرح انسان کی عقل بھی محدود ہے ؛ اس لئے ہماری عقل دھوکہ کھاسکتی ہے ، اللہ اور اس کے رسول کی بات غلط نہیں ہوسکتی ، رہ گیا ایک چیز میں دو متضاد صلاحیتوں کا جمع ہونا ، تو یہ کوئی خلاف عقل بات نہیں ، انڈے میں زردی بھی ہوتی ہے اورسفیدی بھی ، دونوں کی خصوصیات الگ الگ ہیں ، گیہوں کا چھلکا ہضم میں معاون ہوتا ہے اور چھلکے کے بغیر اس کا گودا، جس کا سفوف ’میدہ ‘کہلاتا ہے، ثقیل ہوتا ہے ، دوسرے بعض اوقات ایک چیز کا مضر اثر خود اسی کے ذریعہ دور ہوتا ہے ، اگر سانپ کاٹ لے تو سانپ ہی کے زہر سے اس کا علاج کیا جاتا ہے ؛ اس لئے یہ باعث تعجب نہیں کہ مکھی کے ایک پر یا ایک حصہ میں جو جراثیم ہوتے ہیں ، دوسرے پریا دوسرے حصہ سے ان کا تدارک ہوجائے ، مجھے یقین ہے کہ سائنس داں جب تحقیق کے سفر میں اور آگے بڑھیںگے تو وہ اس حدیث کی تصدیق پر مجبور ہوںگے ۔
جہاں تک بات نفاست و تہذیب کی ہے تو اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضور ا نے مکھی نکال کر اس کو کھانے کی  ترغیب نہیں دی ہے ، یا اسے واجب نہیں قرار دیا ہے ؛ بلکہ فرمایا ہے کہ اگر اس کو ڈبوکر پھینک دیا جائے اور استعمال کرلیا جائے تو ایسا کرنا جائز ہے ، اب اگر کسی کی طبیعت کو اس طرح کا کھانا مرغوب نہ ہو اور وہ اس سے بچنا چاہے تو کوئی حرج نہیں ، پھر یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شریعت کا حکم چائے کی پیالی اور گلاس ہی کے لئے نہیں ہے ؛ بلکہ بڑے سے بڑے برتن کے لئے بھی ہے ، مثال کے طور پر کسی کے یہاں دودھ کی بڑی دیگ چڑھی ہو ، اس میں دو مکھیاں بھی آگریں ، اب سوچئے کہ کیا وہ اتنا سارا دودھ پھینک دے ؟ ایک غریب آدمی کے لئے یا ایک ایسے شخص کے لئے جس کے یہاں مہمان کی آمد آمد ہو ، یہ کس قدر دشوار ہوگا ، غرض کہ شریعت کے احکام تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر دئیے جاتے ہیں ۔