Fri, Feb 26, 2021
آپ کے شرعی مسائل
 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
24.07.2020
تدفین کے بعد نماز جنازہ
سوال: کورونا سے اموات کے سلسلہ میں اس طرح کی باتیں بھی آرہی ہیں کہ بعض جگہ دفن کر دیا گیا؛ حالاں کہ نماز جنازہ بھی نہیں ہو سکی، ہسپتال نے اپنے طور پر تدفین کی ذمہ داری ادا کی، ایسے لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا ان پر نماز جنازہ کی کوئی صورت ہے؟ (طفیل احمد، محبوب نگر)
جواب:اولاََ تو ہر شہر میں مسلمان ذمہ دار اداروں، تنظیموں اور شخصیتوں کو اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ حکومت اور ان ہسپتالوں سے جہاں کورونا کے مریضوں کا علاج ہوتا ہے، رابطہ میں رہیں اور ان سے گزارش کریں کہ جو مسلمان کورونا کی وجہ سے مر جائے ، ضروری کارروائی کے بعد ان کی تدفین کی ذمہ داری ہمیں دے دی جائے اور یقین دلائیں کہ ہم سارا کام حکومت کی مقرر کردہ گائیڈ لائن کے مطابق کریں گے، یہ بڑے ہی اجروثواب کا کام ہے؛ لیکن بہر حال جہاں ایسی صورت پیش آگئی ہو، وہاں اتنی مدت گزرنے سے پہلے— جس میں لاش پھٹ جاتی ہے، جس کا اندازہ فقہاء نے تین دن سے لگایا ہے— قبر پر نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے: وإن دفن وأھیل علیہ التراب بغیر صلاۃ أو بھا بلا غسل أو ممن لا ولایۃ صلی علی قبرہ استحسانا ما لم یغلب علی الظن تفسخہ من غیر تقدیر ‘‘ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ الجنازۃ: ۳؍۱۲۵) کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی خدمت کرنے والے ایک حبشی خادم یا خادمہ کی قبر پر نماز جنازہ ادا فرمائی ہے:…… فأتی قبراََ فصلی علیہ  (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۱۳۲۲) 
اگر اذان کے درمیان مائیک بند ہو جائے؟
سوال: میری مسجد میں مؤذن صاحب اذان دے رہے تھے کہ اسی درمیان لائٹ چلی گئی، اذان مسجد کے اس کمرے سے دی جا رہی تھی، جو محراب کے بازو میں ہے، اور جس میں لاؤڈسپیکر نصب کیا گیا ہے، تو ایسی صورت میں وہ وہیں اذان پوری کر لے، یا باہر نکل کر اذان پوری کرے؟ (نصیر الدین، کوتہ پیٹ)
جواب:اذان کا مطلب صرف کلمات اذان کی ادائیگی نہیں ہے، لوگوں تک اس کی آواز پہنچانا بھی ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی وجہ سے اذان میں وقفہ ہو جائے تو اذان کو دہرانا چاہئے: اذا وقف فی خلال الأذان یعیدہ (ہندیہ، الباب الثانی فی الاذان: ۱؍۵۵) بجلی کا چلا جانا اذان کی آواز پہنچانے میں رکاوٹ کی ایک صورت ہے؛ اس لئے اس صورت میں باہر نکل کر دوبارہ اذان دینی چاہئے، اور اگر ایک دو منٹ میں لائٹ آجائے تو مائیک میں دوبارہ اذان کہنی چاہئے۔
زیر کفالت کم عمر لڑکے کو محرم بنانے کی صورت
سوال: میرے ایک دوست کو اولاد نہیں تھی، انھوں نے قانونی طور پر ہاسپیٹل سے ایک بچہ حاصل کر لیا، ابھی یہ بچہ چند ماہ کا ہے، علماء نے بتایا کہ اگرچہ میری بیوی قانون کی نظر میں اس کی ماں ہے؛ لیکن وہ اس کی حقیقی ماں نہیں ہے؛ اس لئے جب بچہ بڑا ہو جائے تو میری بیوی کے لئے اس سے پردہ کرنا ضروری ہوگا، براہ کرم اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں؟ ( وحید الدین، ایرا گڈہ)
جواب:علماء نے آپ سے جو بات کہی ہے، وہ درست ہے، وہ بچہ آپ کی بیوی کے لئے غیر محرم ہے اور بالغ ہونے کے بعد اس سے پوری طرح پردہ کرنا ضروری ہے؛ البتہ آپ ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے ، غالباََ بعض ایسے انجکشن بھی ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے حمل اور ولادت کے بغیر عورت کے سینہ میں دودھ آجاتا ہے، اگر ایسا ممکن ہو اور آپ کی اہلیہ کے سینہ میں دودھ آجائے تو اس خاص صورت میں گنجائش ہے کہ آپ کی اہلیہ اسے دودھ پلا دیں، ایک دفعہ دودھ پلانا کافی ہے، اس کی وجہ سے وہ لڑکا آپ کی بیوی کے لئے رضاعی بیٹا یعنی محرم ہو جائے گا، اور آئندہ اس کے بچے بھی آپ لوگوں کے لئے محرم ہوں گے: بکر لم تزوج قط نزل لھا لبن فأرصعت صبیا صارت أما للصبي وثبت جمیع أحکام الرضاع بینھما (فتاویٰ قاضی خان: ۱؍۲۰۴)
غیر محرم خاتون کو سلام یا سلام کا جواب
سوال: آج کل بہت سی جگہ خواتین کو استقبالیہ پر بیٹھایا جاتا ہے، اگر آفس میں جانا ہو تو وہ سلام کرتی ہیں، اگر جواب نہ دیا جائے تو اس کا بہت برا مانتی ہیں، خاص کر اگر غیر مسلم ہوں؛ کیوں کہ شرعی احکام سے واقف نہیں ہو تی ہیں، اس لئے وہ سمجھتی ہیں کہ اسلام میں عورتوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کے سلام کا جواب بھی نہیں دیا جاتا ہے، ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے، میں چوں کہ ایک بلڈر ہوں؛ اس لئے مجھے بار بار آفسوں میں جانا پڑتا ہے اور یہی صورت حال پیش آتی ہے، ہم سلام کا جواب دیں یا نہیں دیں، دوسری ضروری باتیں تو ان سے کرنی ہی پڑتی ہیں۔  (عبدالمقتدر، اے، سی گارڈن)
جواب:غیر محرم مردو عورت کی ایک دوسرے سے گفتگو بعض اوقات دل ودماغ میں غلط احساسات کو جنم دیتی ہے اور کبھی کبھی گناہ تک بھی پہنچا دیتی ہے؛ اس لئے اصل حکم یہی ہے کہ ان سے گفتگو نہیں کی جائے؛ مگر غیر محرم سے ضروری حد تک گفتگو کرنا فی نفسہ نا جائز نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابیات سوالات کیا کرتی تھیں، اپنے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا کرتی تھیں، اسی طرح صحابہؓ سے بھی خواتین کا گفتگو کرنا ثابت ہے، قاضی کے سامنے عورت اپنا دعویٰ پیش کرے، ڈاکٹر کے سامنے اپنی بیماری کا اظہار کرے تو فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے؛ اس لئے جو صورت آپ نے لکھی ہے، اس میں ان خواتین سے گفتگو کرنا ضرورت میں داخل ہے اور جب گفتگو کی جا سکتی ہے تو سلام کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے، اگر عام حالات میں کوئی اجنبی عورت سلام کر دے اور وہ جوان ہو تو دل ہی دل میں جواب دینا چاہئے: وإ ذا سلمت المرأۃ الأجنبیۃ علی رجل إن کانت شابۃ رد علیھا فی نفسہ(ردالمحتار: ۹؍۵۳۰) اور اگر معمر عورت ہو تو زبان سے بھی جواب دیا جا سکتا ہے، جو حکم سن رسیدہ عورتوں کا ہے، وہی حکم کم عمر بچیوں کا بھی ہے: وإذا سلمت المرأۃ الأجنبیۃ علی رجل إ ن کانت عجوزا رد الرجل علیھا السلام بلسانہ بصوت تسمع (ردالمحتار: ۹؍۵۳۰)
مقدمہ پر ہرجانہ وصول کرنا
سوال: میں پلاٹس کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہوں، ایک گاہک نے مقررہ وقت پر پیسے ادا نہیں کئے اور مجھ پر جھوٹا دعویٰ کر کے عدالت میں گھسیٹا ، کئی سال تک یہ کیس چلتا رہا، اور میری ایک بہت بڑی رقم اس کیس کی وجہ سے خرچ ہوگئی؛ چوں کہ یہ کیس بالکل جھوٹا تھا اور صرف مجھے پریشان کرنے اور میرا حق دبانے کے لئے کیا گیا تھا؛ اس لئے بالآخر ہمارے حق میں فیصلہ ہوا اور کورٹ نے اس جابر انسان پر میرے حق میں ہرجانہ کا فیصلہ کیا ہے، کیا میرے لئے یہ رقم لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہوگا؟( عبدالرشید، بنگلور)
جواب:مقدمہ پر ہرجانہ کا مسئلہ فقہ کی کتابوں میں بھی آیا ہے، جس کو اصطلاح میں ’’تضمین ساعی‘‘ کہتے ہیں، بعد کے دور کے اہل علم نے لوگوں کی بدنیتی کو دیکھتے ہوئے اس رقم کو جائز قرار دیا ہے، امام ابو حنیفہؒ کے ممتاز شاگرد امام محمدؒ کی بھی یہی رائے ہے اور اسی پر فتویٰ دیا گیا ہے:  وضمن عند محمدؒ وبہ یفئی لغلبۃ السعایۃ فی زماننا (مجمع الضمانات: ۱؍۳۶۲) ماضی قریب کے علماء میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے؛ چنانچہ فرماتے ہیں:’’ اگر کسی کو اپنے حق کی حفاظت کے لئے بہ مجبوری نالش ’’ مقدمہ دائر کرنا‘‘ کرنا پڑے اور فریق مخالف کی طرف بالکل مخاصمانہ کارروائیوں کی وجہ سے بہت سے مصارف برداشت کرنا پڑیں تو اس صورت میں خرچہ کا روپیہ بہت سے علماء کے نزدیک — ومنہم مولانا رشید احمد صاحبؒ— جائز ہے‘‘ (امدادالفتاویٰ: ۳؍۱۲۳) اس لئے یہ رقم آپ کے لئے جائز ہے، اور وہ اسے اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں۔
بلڈنگ کا مالک ہونے لئے رجسٹری ضروری نہیں
سوال: بعض دفعہ زبانی مکان کی خریدوفروخت ہو جاتی ہے ، قانونی طور پر خریدار کے نام پر رجسٹری نہیں ہوتی ہے، تو کیا اس زمین کا مالک خریدار کو سمجھا جائے گا یا بیچنے والے کو؟ اور اس بلڈنگ کا ٹیکس اور بجلی کا بل کس سے متعلق ہوگا؟ ( عبدالرشید، بنگلور)
جواب:خریدوفروخت میں اصل اہمیت باہمی رضامندی سے دونوں فریق کے معاملہ طے کرنے کی ہے، جس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ ایجاب وقبول‘‘ کہتے ہیں، اگر ایجاب وقبول ہو جائے اور جس مکان کو بیچا گیا ہے، وہ متعین ہوگیا ہے تو اب خریدار اس کا مالک ہوگیا، اس مکان سے متعلق تمام ذمہ داریاں— بہ شمول ٹیکس اور لائٹ کا بل— خریدار کے ذمہ ہیں:  البیع ینعقد بالایجاب والقبول ….. وإ ذا حصل الایجاب والقبول لزم البیع ( ہدایہ: ۳؍۲۰)
نابالغ کی سرزنش
سوال: گاؤں کے چند نابالغ بچوں نے ایک بزرگ شخص پر اس لئے ہاتھ اٹھا دیا کہ وہ انہیں راستہ میں کرکٹ کھیلنے سے منع کر رہے تھے، اس پر پنچایت ہوئی، پنچوں نے فیصلہ کیا کہ ان بچوں کو سزا دی جائے اور بہ طور سزا ان کی پٹائی کی جائے؛ لیکن گاؤں کے ایک عالم صاحب اس کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ نابالغ چوں کہ مکلف نہیں ہوتا؛ اس لئے اس کی غلطی پر سزا نہیں دی جا سکتی؛ حالاں کہ یہ بچے بہت کم عمر نہیں ہیں، عقل وشعور رکھتے ہیں، اس سلسلے میں وضاحت کیجئے؛ تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو؟  (سعید الرحمان، اننت پور)
جواب:ایک عمل ہے: غلطی کی سزا دینا ، دوسری چیز ہے: تادیب، تادیب کے معنیٰ ہیں، ادب سکھانا، اور تربیت کرنا، سزا تو بالغوں کے لئے ہے؛ لیکن ادب سکھانے اور تربیت کرنے کے لئے بچوں کی بھی سرزنش کی جا سکتی ہے؛ بشرطیکہ اتنا چھوٹا بچہ نہ ہو کہ ابھی فہم وشعور سے عاری ہو، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے، علامہ علاء الدین کاسانیؒ نے ذی شعور نابالغ کی سرزنش کا حکم لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تعزیر کی جائے گی؛ لیکن یہ تعزیر بہ طور عقوبت کے نہیں ہوگی، بہ طور اصلاح کے ہوگی…… فإنہ یعزر تأدیباََ لا عقوبۃ؛ لأنہ من أھل التأدیب (بدائع الصنائع:۵؍ ۵۳۴)؛ البتہ بچوں کی سرزنش ان کے لحاظ سے ہونی چاہئے، ایسی سرزنش ہو جس سے ان کو کوئی مستقل جسمانی مضرت نہ پہنچ جائے۔
٭ ٭ ٭