Sun, Feb 28, 2021

اچھا مولیٰ ! تیری مرضی
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی


خوف اور شوق انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے اور انسانی زندگی اسی سے مرکب بھی ہے،یہ دونوں ہی انسان کی زندگی کی درست رہنمائی کرتے ہیں اور اسے بے لگام ہونے نہیں دیتے ،خوف وشوق انسان کی زندگی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں ،شوق ہر اچھے اور نیک کام کی طرف اُبھار تا ہے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور خوف ہر بُرے اور ناجائز کام سے رکنے کی تلقین کرتا ہے اور ناجائز کاموں کی طرف بڑھنے سے اس کے قدم روکتا ہے ،انسان کی زندگی میں خوف اور امید یکساں ہونی چاہئے ، انسان کبھی تو اپنے جیسے انسانوں سے خوف کھاتا ہے اور کبھی امید رکھتا ہے ،اس کے ڈر سے کسی کام کو یا تو انجام دیتا ہے یا چھوڑ دیتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ اس کے عتاب وغصہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی شوق وامید میں کسی کام کو کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اس سے عطا وبخشش کی آرزو رکھتا ہے ،مگر یہ خوف وشوق عارضی اور وقتی کہلاتا ہے کیونکہ انسان جب کسی انسان سے خوف وشوق رکھتا ہے تو کسی ضرورت کے تحت ہی ایسا کرتا ہے اور جب ضرورت ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس سے منہ پھیر لیتا ہے ، مگر ایک دوسرا خوف اور شوق ہے جو مستقل اور دائمی ہے اور ایک انسان کو اس کا پابند بھی بنایا گیا ہے ،وہ’’ خوف خالق ہے ’’ ،انسانوں کو باربار بتایا گیا ہے او ر اس بات کو ان کے ذہنوں میں بسایا گیا ہے کہ انہیں ہر وقت اپنے خالق ومالک اور آقا ومولیٰ سے خوف وامید رکھتے ہوئے زندگی گزارنا چاہئے،کیونکہ خوف وامید ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسانی زندگی کو درست سمت کی طرف لے جاتی ہے اور غلط راہ سے بچاتی ہے ۔
دنیا میں جتنے انسان اب تک آئے ہیں اور دنیا جب تک قائم رہے گی تب تک آتے رہیں گے چاہئے وہ جس مذہب ومشرب کے ماننے والے ہوں ان سب کی زندگیوں میں ایسا وقت ضرور آتا ہے کہ وہ سب اپنے حقیقی مالک ومولیٰ کی طرف نیازمند انہ متوجہ ہوتے ہیں اور اسی سے خوف وامید باندھتے ہیں، مگر اہل ایمان کا معاملہ سب سے جدا اور بالکل الگ ہے ،وہ ہر وقت اور ہر حال میں اسی کا خوف رکھتے ہیں اور اسی سے امید باندھتے ہیں ،وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہی وہ ذات واحد ہے جس کے قبضہ قدرت میں پوری کائنات ہے اور کائنات کی کوئی شے اس کے علم سے مخفی اور چھپی ہوئی نہیں ہے ،وہ جب پکڑ تا ہے تو کوئی اس کے پنجے سے چھڑا نہیں سکتا اور جس وقت وہ عطا کرتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا ،اسی کی سزا وپکڑ کا خوف انسان کو خلوت وجلوت میں گناہوں سے بچاتا ہے اور اسی کی عطا وبخشش کی امیدپر وہ بہت کچھ پاتا ہے ، جب تک انسان خوف وامید کے سایہ میں زندگی گزارتا ہے تب تک انسان اپنے نفس اور شیطان کے مکر وفریب سے بچتا رہتا ہے ،کیونکہ شیطان انسان کو خوف وامید دونوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لئے نت نئے طریقے اپنا تا رہتا ہے ،امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں کہ انسان کا دل پرندہ کی مانند ہے ،محبت اس کا سر ہے اور خوف وامید اس کے دو پَر ہیں اور جب تک سر اور اس کے دونوں پر سلامت ہیں تب تک پرندہ بہترین پرواز کر سکتا ہے اور اگر اس کا سر کٹ جائے تو وہ مرجاتا ہے اور اس کے دونوں پَر خراب ہو جائیں تو وہ ہر شکاری اور جان لینے والے کا سامان بن جاتا ہے ( مدارج السالکین)۔
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ذات الٰہی سے ڈر نے اور دل میں اس کا خوف اور خشیت رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے ،کیونکہ خوف انسان کو ہر گناہ سے بچاتا ہے اور امید انسان کو ہر نیکی کی طرف لے جاتی ہے ،جس سے اس کی زندگی بندگی بن کر گزرتی ہے ،یقینا یہ بندہ مومن کا قیمتی سرمایہ ہے ،اسی کے ذریعہ وہ راہ مستقیم پر استقامت کے ساتھ چل سکتا ہے اور یہی چیز اسے آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے ،قرآن کریم میں ہے: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی o فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوٰی(النازعات:۳۹،۴۰) ’’لیکن وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بُری خواہشات سے روکتا تھا‘‘،دنیوی زندگی میں خدا کا خوف رکھنے والا لازماً گناہوں سے ، نافرمانیوں سے اور نفسانی خواہشات سے بچتاہے اور اپنی زندگی سنوار تا ہے ،اس زندگی پر آخرت میں اسے جنت کی شکل میں انعام واکرام سے نوازا جائے گا ،بلاشبہ ذات الٰہی کا خوف اور اس کی خشیت ایمان کی شاخوں میں سے ہے اور توحید کی علامتوں میں سے ہے ،جو انسان صرف اللہ کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے تو وہ موحد کامل کہلاتا ہے اور جو کسی اور کا ڈر بھی اپنے دل میں پالتا ہے تو وہ کامل مومن نہیں کہلاتا ہے بلکہ ایک طرح سے شرک کی بو اس میں پائی جاتی ہے ،قرآن کریم میں اللہ نے اپنے بندوں کو صرف اسی سے ڈرنے اور اسی کا خوف دل میں رکھنے کی تعلیم دی ہے ارشاد ہے: وَإِیَّایَ فَارْہَبُون( البقرہ:۴۰)’’اور تم ( کسی اور سے نہیں،بلکہ) صرف مجھی سے ڈرو ‘‘ رسول اللہ ؐ نے اپنے ارشادات کے ذریعہ اپنے اصحاب ؓ کو خوف الٰہی کی تعلیم دیتے تھے اور اسی کا ڈر وخوف دل میں رکھنے کی تلقین کرتے رہے ، جس کے نتیجہ میں اصحاب رسول ؐ کے قلوب خوف الٰہی سے لبریز رہتے تھے ،دن کے اُجا لے ،رات کے اندھیرے اور خلوت وجلوت ہر وقت ان کے دلوں پر خشیت الٰہی کا غلبہ رہتا تھا ،حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ؐ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو گے کم اور زیادہ رونے لگو گے ، صحاب ؓ نے ( یہ بات سنتے ہی ) اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا اور ان کے رونے کی آواز (دور تک) آرہی تھی (بخاری) ۔
جو لوگ اپنے دلوں میں معرفت الٰہی رکھتے ہیں وہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذات الٰہی سے ڈرتے ہیں ،قرآن کریم میں ارشاد ہے: إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ( الفاطر: ۲۸)’’ اللہ سے وہی بندے ڈر تے ہیں جو ( اس کا اور اس کی معرفت ) کا علم رکھتے ہیں‘‘ ،یعنی وہ لوگ جو اللہ کے احکامات اور اس کے فرمودات کا علم رکھتے ہیں ،مرضیات ومنہیات سے واقف رہتے ہیں ،انعام وعتاب کو جانتے ہیں ،تعلیمات نبوی سے خوب واقفیت رکھتے ہیں یقینا انہیں کے دلوں میں خوف خدا اور خشیت الٰہی کا غلبہ رہتا ہے ،چناچہ اہل علم فرماتے ہیں کہ حقیقی خشیت الٰہی کے لئے علوم الٰہیہ کا ہونا بہت ضروری ہے ، اس کے بغیر نہ مرضیات معلوم ہوتے ہیں اور نہ ہی منہیات ،رسول اللہ ؐ کی ذات اقدس چونکہ تمام علوم ومعارف کا سر چشمہ اور منبع ومخزن تھی اس لئے تمام مخلوقات میں آپ ہی اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے ،ایک موقع پر خود آپ ؐ کی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ اللہ کی خشیت اور اس کا تقویٰ رکھنے والا ہوں ،حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس دن تیز ہوا ہوتی یا بادل ہوتے تو اس کے اثر ات رسول اللہ ؐ کا چہرہ انور پر نظر آتے، آپ ؐ کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے،اگر بارش برستی تو آپ ؐ خوش ہوجاتے اور آپؐ کی مذکورہ کیفیت ختم ہوجاتی (مسلم)،رسول اللہ ؐ کی تربیت یافتہ یعنی حضرات صحابہ ؓ پر بھی صبح وشام خوف وخشیت کا غلبہ رہتا تھا ، سیدنا علی ؓ نے ایک مرتبہ نماز فجر کا سلام پھیرا ،تو ان پر شدت غم کی وجہ سے افسردگی چھائی ہوتی تھی اور وہ اپنے ہاتھوں کو مل رہے تھے ،یہ کہتے ہوئے کہ میں نے محمد ؐ کے صحابہ ؓ کو دیکھا ہے لیکن آج میں کسی کو نہیں دیکھتا جو ان کی طرح ہو،وہ صبح کرتے تو ان کے بال بکھرے ہوئے ،پیٹ خالی اور حلیہ انتہائی سادہ ہوتا اور رات بھر طویل سجدوں کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا کہ ان کی آنکھوں کے درمیان کوئی سخت ومضبوط چیز جوڑ دی گئی ہو ،جبکہ رات بھر وہ سجدے اور قیام میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہوئے گزارتے اور سر بسجود رہتے ،اور جب صبح ہوتی تو اللہ کا ذکر کرتے اور ایک طرف اللہ کے عذاب سے ڈرتے اور دوسری طرف اس سے ثواب وجنت کی امید کرتے،وہ ایسے ہوجاتے جیسے سخت تیز آندھی میں درخت کی حالت ہوتی ہے ،ان کی آنکھوں سے ( محبت وخشیت کے) آنسو جاری ہوجاتے ،یہاں تک کہ ان آنسوؤں سے ان کے گریبان بھیگ جاتے ،حضرات صحابہ ؓ کے بعد تابعین اور ان کے بعد ہر زمانے کے علماء واولیاء ،اتقیاء وبزرگان دین کا یہی حال تھا کہ خوف الٰہی سے ان کے دل کانپتے رہتے تھے اور وہ خشیت الٰہی میں ڈوب کر یاد الٰہی میں مشغول رہتے تھے ۔
بلاشبہ جو اپنے دل میں خوف وخشیت رکھتے ہیں ان کے دل ہر غم وخوف سے آزاد رہتے ہیں ،کیونکہ جو دل اللہ سے ڈر تے ہیں ان سے ہر چیز ڈرتی ہے ،رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے: جو اللہ سے ڈرتا ہے تو ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو غیر اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اسے ہر چیز سے ڈراتے ہیں (الترغیب) ،اس وقت پوری دنیا پر ایک خوف طاری ہے ،ایک معمولی وائرس نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے ،خوف ودہشت سے وہ گھبرائے ہوئے ہیں اور کپکپارہے ہیں ، طاقتور ترین انسان صرف اس بیماری کا نام سن کر نفسیاتی مرض میں مبتلا ہورہے ہیں،ڈرکے مارے گھروں میں مقید بلکہ مقفل ہیں ،کئی لوگ تو بیماری سے نہیں بلکہ بیماری کے نام سے بیمار ہورہے ہیں ،ان کے ذہن ودماغ میں بیماری بلکہ موت کا خوف طاری ہے،ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ گویا موت ان کی نگاہوں کے سامنے رقص کر رہی ہے اور انہیں تیز نگاہوں سے گھور رہی ہے ،یہ بات بالکل درست ہے کہ بیمار ی سے بچاؤ کے لئے احتیاط ضروری ہیں اور شریعت نے اس کی بھر پور اجازت بھی دی ہے اور احتیاط کرنا بھی چاہئے اور لوگ احتیاط کر بھی رہے ہیں مگر اس قدر اس کا خوف خود پر طاری کر لینا جس سے ذہن ودماغ الجھ کر رہ جائے اور اعصاب شکستہ ہو جائیں یہ کہاں تک درست ہے ،اس موقع پر تو انسان کو اس بیماری کے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو نا چاہئے ،کیونکہ وہی ذات ہے جو بیماری کی خالق ہے اور اسی کے حکم سے بیماری کسی کو لگتی ہے اور اسی کی اجازت سے وہ بیماری رفع اور دفع ہوتی ہے ، بیماری اگر آنا ہے تو آکر رہے گی اور ایک دن موت کا گلے لگنا طے ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احتیاطی تدابیر چھوڑ کر آزادانہ انداز میں گھومنا شروع کریں مگر یہ بھی نہیں کہ بیماری اور پھر موت کا تصور لے کر ڈر ڈر کر مرتے جائیں ، اس موقع پر بیماری کا خوف دل میں آنے نہ دیں بلکہ اس کے خالق ومالک کا ڈر پیدا کریں، اسی کی نافرمانی اور حکم عدولی کی وجہ سے یہ بیماری مسلط ہوئی ہے،آج اس بیماری کا جتنا خوف ہم پر سوار ہے اگر خوف الٰہی کا کچھ حصہ بھی اپنے دل میں پیدا کر لیں تو ہم بہت سی نافرمانیوں سے بچ جائیں گے اور بہت سے احکام الٰہی پر عمل پیرا ہوجائیں گے ، یقینا جو خوف الٰہی سے ڈر تے ہیں وہ کسی اور سے ڈرا نہیں کرتے،خدا کا ڈر ہی سارے ڈروں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے ڈر نے کے بعد پھر کسی کا ڈر نہیں ہوتا ،خدا کا ڈر جہاں ایمان کو مضبوط ،اعمال کو درست اور زندگی کو صحیح سمت کی طرف لے جاتا ہے وہیں سارے خوف دل سے نکالتا ہے اور آخرت کی توجہ دلا تا ہے اور جس کے دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے وہ نہ تو بیماری سے ڈر تا ہے اور نہ موت سے بلکہ وہ ہر حال میں اور ہر حالت میں خوش اور مطمئن رہتا ہے اور زبان حال وقال دونوں سے کہتا ہے ؎
اچھا مولیٰ ! تیری مرضی تو جس حال میں رکھے
٭٭٭