Fri, Feb 26, 2021

طاق راتوں میں عبادتوں کا اہتمام اور عید کی خریدی سے اجتناب کریں
بازاروں میں بھیڑ لگا کر فرقہ پرستوں کو الزام تراشی کا موقع نہ دیں مفتی عبدالمنعم فاروقی کی اپیل

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم کو رمضان المبارک کے تیسرے عشرہ میں داخل ہوچکے ہیں ،یہ وہ مبارک عشرہ ہے جس میں امت مسلمہ کو شب قدر کے گراں قدر انعام سے نوازا گیا ہے ،شب قدر وہ عظیم رات ہے جس میں عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر دیا جاتا ہے ، گویا یہ رات امت مسلمہ کے لئے نیکیوں کا خزانہ ہے ،جو اسے پاتا ہے وہ مالا مال ہوجاتا ہے اور جو اسے کھوتا ہے وہ محرومی اور بد قسمتی کی گہری کھائی میں جاگرتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس رات کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک میں رکھا ہے تاکہ بندے اس کے حصول زیادہ سے زیادہ رب رحیم ورؤف کی طرف متوجہہ ہو کر بارگاہ الٰہی سے معافی کے ساتھ نیکیوں کا خزانہ حاصل کر سکیں ،رسول اللہ ؐ نے شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلا ش کرنے کا حکم دیا ہے ، یعنی اکیس ،تیٔس،پچیس،ستائیس اور اُنتیس راتوں میں سے کسی ایک رات میں شب قدر کا ہونا یقینی ہے ،ان راتوں میں شب بیداری کے ساتھ جو لوگ عبادتوں میں مشغول رہتے ہیں انہیں ضرور شب قدر نصیب ہوتی ہے ،خود رسول اللہ ؐ طاق راتوں میں عبادات کے ذریعہ اس مبارک رات کے حصول کا اہتمام کرتے تھے بلکہ اپنے افراد خانہ یعنی ازواج مطہرات ودیگر متعلقین کو بھی متوجہ کرتے تھے ،ایک حدیث شریف میں آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ عبادت کیلئے کھڑا ہو گا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے جائیں گے ، اس حدیث شریف میں امت کو بہت بڑی خوشخبری سنائی گئی ہے ، رحمت الٰہی کا حصول اور پروانہ ٔ مغفرت بہت بڑی دولت ہے ،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ماہ مبارک نیز آخری عشرہ میں عبادتوں کا خوب اہتمام کرتے ہیں اور رحمت الٰہی سے پروانہ ٔ مغفرت حاصل کرتے ہیں،لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بند ہیں ، بازار خالی ہیں ،لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ، باہر کی مصروفیات نہ ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے پاس کافی وقت ہے، ایسے میں رمضان کی عبادتیں اور شب قدر کے اہتمام کا بہترین موقع ہے،گویا لاک ڈاؤن کثرت عبادت اور نیکیوں کے حصول کا زرین موقع ہے ،اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عبادتوں کا خوب اہتمام کرنا چاہئے ، گھر کے ماحول کو دینی خطوط پر ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے ،کیا بعید کہ یہ نورانی ماحول ہمیشہ گھر میں جاری رہے ، حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں دئے گئے ہدایات کی پابندی ضروری ہے ، بلا وجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں ،علماء کرام نے عید سادگی سے منانے کی تلقین کی ہے اس پر عمل کریں ،بازاروں میں نکل کر فرقہ پرستوں کو موقع فراہم نہ کریں ،فرقہ پرست طاقتیں ، یکجہتی کے دشمن اور اسلام اور مسلمانوں سے نفرت رکھنے والے تاک میں ہیں کہ مسلمان عید کی خریداری کے لئے باہر نکلیں اور ان پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام لگایا جائے ،مردوں سے گزارش ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خود بھی بلا ضرورت باہر نکلنے سے احتیاط کریں اور گھر کی عورتوں کو بھی خریداری سے باز رکھیں ،یاد رکھیں کہ عید عمدہ لباس وپوشاک پہننے اور ہمہ اقسام کے کھانے پکا نے کا نام نہیں بلکہ اپنے عمل سے خدا کو راضی اور خوش رکھنے کا نام ہے ،ہم کو اس نازک موقع پر ضرورت مندوں کا بھر پور خیال کرنا چاہئے ،ان کی اعانت ومدد کرتے ہوئے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئے ، یقینا یہ وہ عمل ہے جس سے خدا کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور نیکیوں کا خزانہ حاصل ہوتا اور بارگاہ الٰہی سے رضاء الٰہی کا پروانہ عطا ہوتا ہے ۔