Sun, Feb 28, 2021

مدارس کا استحکام ملت کا اجتماعی فریضہ
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gail,com
9849270160

دینی مدارس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلام کی تاریخ ہے،دینی مدارس زمانہ نبوت سے لے کر آج تک اپنے ایک مخصوص انداز سے چلے آرہے ہیں ،در اصل یہ اس پہلی دینی درسگاہ ’’ صفہ ‘‘ کا عکس اور پرتو ہیں جس کی بنیاد بنفس نفیس معلم انسانیت ،ہادیہ عالم ،پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ نے مسجد نبوی کے چبوترہ پر رکھی تھی ،اس مدرسہ کے معلم نبی آخر الزماں ؐ تھے تو اس کے متعلم امت کے سب سے پاکیزہ نفوس اصحاب نبی ؐ تھے ،اس مدرسہ میں کتاب وحکمت کی تعلیم اور تزکیہ وتصفیہ کی تربیت دی جاتی تھی ،اس میں پڑھنے والوں کی تعداد کم وبیش ستر اور کبھی سو سے زائد ہوتی تھی ،حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت انس ؓ اسی مدرسے کے اولین طلبہ میں سے تھے ، دنیا میں آج جہاں کہیں اور جس شکل میں مدارس اسلامیہ پائے جاتے ہیں دراصل یہ سب اُسی عظیم درسگاہ ’’صفہ‘‘ کا پَر تُو اور اسی کی شاخیں ہیں ، مدارس اسلامیہ کی نسبت صفہ چبوترہ سے ہے اور ان میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کی نسبت معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی ؐ اور ان کے فیض یافتہ حضرات صحابہ ؓ سے ہے ، مدارس اسلامیہ نہ صرف گہوارۂ علم ہیں بلکہ عظیم الشان تربیت گاہیں بھی ہیں ،مدارس کے طلبہ اور یہاں کے فضلاء علم وعمل کا سنگم ہوتے ہیں اور اخلاق وکردار کا بے مثال نمونہ ہوتے ہیں ، مدارس اسلامیہ کا عصری مدارس سے ہر گز تقابل نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ عصری مدارس میں بڑے بڑے دنیوی علوم وفنون تو سکھائے جاتے ہیں مگر جن سے انسانوں کے اخلاق وکردار سنور تے ہیں ،انسان انسانیت کے لباس سے مزین ہوتا ہے اور اسے اپنے خالق ومالک کی پہچان نصیب ہوتی ہے وہ علوم مدارس اسلامیہ ہی میں پڑھائے جاتے ہیں ، مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم کی بنیاد اور ماخذ قرآن وحدیث ہوا کرتا ہے اور بات یہ ہے کہ تاریخ انسانیت کی کسی کتاب میں اتنی اخلاقیات کی تعلیم نہیں دی جاتی جتنی کہ قرآن کریم اور سیرت رسول ؐ کے ذریعہ دی گئی ہے ،پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ؐ اخلاق وکردار کے بلند وبالا مقام پر فائز تھے ،جن کے اخلاق وکردار،شرافت وعدالت ،اخوت و محبت اور احترامِ انسانیت کی گواہی خود دشمنوں نے دی ہے ،مدارس اسلامیہ میں انہی اخلاق وکردار کا درس دیا جاتا ہے ،انسانوں کو انسانیت کا سبق پڑھایا جاتا ہے اور ان کے ذریعہ معاشرہ کو تعلیم یافتہ ،مہذب ،سنجیدہ ، با اخلاق اور انسانیت کا پاس ولحاظ رکھنے والے افراد فراہم کرکے اسے پاکیزگی کے نور سے منور کر نے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
نبیرہ حجۃ الاسلام حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمی ؒ نے مدارس اسلامیہ کو علم اور اخلاق کے مینارۂ نور قرار دیا ہے ،مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی الحسنی الندوی ؒ نے مدارس اسلامیہ کو اسلامی پاور ہاوس قرار دیا ہے ، جہاں سے نہ صرف اسلامی آبادی میں بلکہ پوری انسانی آبادی میں ایمانی ، اخلاقی اور روحانی پاور سپلائی ہوتاہے ، مدارس اسلامیہ کی فضاء میں ہر وقت قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں گونجتی رہتی ہیں ، یہاں ہر آن رحمتوں کی بارش کا سلسلہ جاری رہتا ہے ، ان مقامات کو فرشتے قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور ان پر رشک کرتے ہیں، فرشتے ان کے احترام میں اپنے بازؤں کو جھکا دیتے ہیں اور ان کے گذرگاہوں پر اپنے پر بچھا تے ہوئے استقبال کرتے ہیں ، مدارس اسلامیہ کے معلمین کو معلم انسانیت نے ’’ خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘کا عظیم الشان ایوارڈ عطا کیا ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کاہر ایوارڈ بے حیثیت اور بے وزن ہو کر رہ جاتا ہے،علماء کرام اور فاضلین عظام کو انبیاء کرام کی علمی دولت سے حصہ ملا ہے چنانچہ زبان نبوت سے انہیں ’’ وارثین انبیاء ‘‘ کا خطاب ملا ہے ۔
ہمارے ملک ہندوستان پر ۱۸۵۷ء کے بعدجب انگریزوں کا ناجائز، غاصبانہ اور ظالمانہ تسلط ہوا، اقتدار کے نشے میں آکر انہوں نے باشندگان ہند پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھانے لگے ، خصوصاً ان کا اصل نشانہ مسلمانوں کی نسل نو اور ان کے دینی مدارس رہے ،انہوں نے ایک خاص منصوبے کے تحت مدارس کو بے نشان کر کے ان کی جگہوں پر عصری اسکولوں وکالجوں کی بنیاد رکھنا شروع کیا ، عصری تعلیم تو صرف بہانہ تھی مگر نشانہ مسلمانوں کی نوخیز نسل تھی ، مغربی تہذیب وتمدن کو فروغ دینے کا یہی آسان طریقہ تھا اور اس کے ذریعہ انہیں نہایت سرعت کے ساتھ اپنا مشن کامیاب ہوتا نظر آنے لگا ،چنانچہ اس کی تصدیق خود ایک انگریز مصنف مسٹر لار ڈمیکالے کی تحریر سے ہوتی ہے ، وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ’’ہمیں اپنا نظام تعلیم ہندوستان میں پھیلا کر ایسے نوجوان تیار کرنا ہے ،جو رنگ ونسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہوں مگر روح وفکر کے لحاظ سے ا نگلستانی، ایسے نازک حالات میں دشمنان اسلام کے عزائم خاک میں ملانے کے لئے چند مخلص ،بیدار مغز ،دور اندیش ،علوم اسلامی کے ماہر اور روحا نی فیوض سے مالا مال علماء وصوفیاء نے مدارس اسلامیہ کی داغ بیل ڈال کر دشمنان اسلام اور باطل طاقتوں کا نہایت جرأت وثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا، حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒنے اپنے چند مخلص رفقاء کے ساتھ مل کر ۱۲۸۳ھ میں ام المدارس ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کی بنیاد رکھی گئی ،اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں اور صوبوں میں مدارس اسلامیہ کا جال پھیلتا چلا گیا ،الحمد للہ آج ملک کے طول وعرض میں ہزاروں چھوٹے ،بڑے مدارس اسلامیہ قائم ہیں جن میں لاکھوں کی تعداد میں طالبان علوم نبوت اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں ،یہی وہ مدارس ہیں جہاں انسانیت کے رہبر ورہنما تیار ہوتے ہیں ،یہاں اخلاص وللہیت کے پیکر تیار ہوتے ہیں ،یہاں اخلاق وکردار کے نمونے تراشے جاتے ہیں ،یہاں اسلام کے جانباز سپاہی جنم لیتے ہیں ،یہاں محدثین ومفسرین ،خطباء وواعظین،علماء وصوفیاء اور وارثین انبیاء پیدا کئے جاتے ہیں ،بلاشبہ یہی وہ مدارس اسلامیہ ہیں جنہوں نے بے سروسامانی کے باوجود بتوفیق الٰہی اور خالص اسی کی مدد ونصر سے ظاہری اسباب سے لیس باطل قوتوں کا منہ توڑ جواب دے کر ان کی سازشوں کو ناکام بنایا،الحمد للہ آج اس کے نتائج وثمرات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
اسلام دشمن جانتے ہیں کہ جب تک مسلمان مدارس اسلامیہ اور فاضلین مدارس یعنی علماء کرام سے وابستہ رہیںگے تب تک انہیں دین وایمان سے دور نہیں کیا جا سکتا اور علماء کرام کی سر پرستی جب تک انہیں حاصل رہے گی تب تک ان پر کئے گئے حملوں میں کامیابی مل نہیں سکتی ،گویا مدارس اور فضلاء مدارس ڈھال بن کر ہمہ وقت امت مسلمہ کے دین وایمان کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں اور ہر وقت دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناتے رہتے ہیں ،انہیں دشمن جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو اسلام اور تعلیمات اسلام سے دور کرنا ہے تو سب سے پہلے مدارس اور فضلاء مدارس سے انہیں بد ظن اور بر گشتہ کرنا ہوگا اور ان کے دلوں میں مدارس اور فضاء مدراس کے متعلق بد گمانی کا بیج بونا ہوگا ،جب تک مدارس ، علماء مدارس اور عوام الناس کے درمیان بد ظنی پھیلا کر نفرت کی دیوار کھڑی کرکے ان کا ربط منقطع نہیں کیا جاتا تب تک مسلمانوں اور ان کی نوخیز نسل کو دین اور اخلاق دین سے بھی دور نہیں کیا جاسکتا چنانچہ وہ اپنی طاقت اور ظاہری قوت کے سہارے طرح طرح کی کوششوں کے ذریعہ مدارس اسلامیہ کو نقصان پہنچانے اور ان کے فیضان سے امت کو محروم رکھنے کی انتھک کوششوں میں لگے ہوئے ہیں جن سے امت مسلمہ خوب واقف ہے ،مگر بات یہ ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،ان کا دوسرا شاطرانہ حربہ مسلمانوں کو برگشتہ کرکے ان کے تعاون سے محروم کرنا ہے ،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کا انتظام و استحکام مسلمانوں کے تعاون ہی سے حاصل ہے ،وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قوم مسلم مدارس اسلامیہ کو اپنا قلب وجگر مانتے ہیں اور ان کے تعاون کو اپنا دینی اور ملی فریضہ سمجھتے ہیں اور ہر حالت میں اپنی حیثیت کے مطابق اپنا تعاون جاری رکھتے ہیں ،چنانچہ انہوں نے مدارس کی خدمات اور مالی شفافیت پر سوال اٹھا نا شروع کر دیا، اسے شدت کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان گشت کرایا ، دین بے زار ،خالی الذہن ، بھولے بھالے اور مکار چالوں سے ناواقف لوگ سب سے پہلے اس کا شکار بنے اور اس کے بعد اورلوگ بھی اس سازشی جال کا شکار ہوتے چلے گئے ، بعض زبان درازوں نے مدارس پر رقیق حملے بھی کئے ،بعضوں نے ان کے انتظامات پر انگلی اٹھائی تو کچھ نے انہیں بے روز گاری سے جوڑ نے کی کوشش بھی کی اور بعض آزاد ذہنوں کے مالکوں نے تو مدارس کا مضحکہ بھی اڑایا ، ان اعتراضات کے ذریعہ مدارس مخالفین کو کچھ امید نظر آنے لگی اور اس کے ذریعہ اپنی سازش کا میاب ہوتی دکھائی دینے لگی تھی ،لیکن اس کے باوجود عام مسلمانوں کے اعتماد میں کمی نہیں آئی ،وہ بدستور آج بھی مدارس کے لئے اپنا دست تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے گراں قدر تعاون ہی سے مدارس اسلامیہ میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات قیام وطعام کی مکمل سہولیات کے ساتھ اپنا علمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ، سب جانتے ہیں کہ متمول مسلمان عموماً رمضان المبارک ہی میں اپنے مال وجائداد کی زکوٰۃ سے مدارس اسلامیہ کا تعاون کرتے ہیں اس کے علاوہ خصوصی عطیات سے بھی انہیں مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں،مدارس کو رمضان المبارک میں زکوٰۃ ،صدقات اور عطیات کے ذریعہ گراں قدر تعاون حاصل ہوتا ہے ، گویا ان کے لئے یہ سالانہ مالیہ فراہمی کا مہینہ ہوتا ہے، جس سے ان کی بہت سی ضروریات پائے تکمیل کو پہنچتی ہیں ، موجودہ عالمی وبا ء کے نتیجہ میں ملک میں لاک ڈاؤن نافذ ہے جس کی وجہ سے معیشت روبہ زوال ہے،کاروبار بند ہونے کی وجہ سے غریب اور متوسط افراد بد حالی کا شکار ہو چکے ہیں ،بہت سے گھرانے فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں ، اصحاب ثروت اور انسانیت کا درد رکھنے والے مخیر حضرات اور بہت سے دینی فلاحی ادارہ بلا لحاظ مذہب وملت ان کی خدمت واعانت میں لگے ہوئے ہیں ،بعض مسلمان حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے پیش گی زکوٰۃ نکال کر مستحقین کی اعانت کر رہے ہیں ،ان کا یہ عمل بہت ہی مستحسن بلکہ قابل تقلید ہے ،مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ ہمارے ملک میں عظیم وقدیم ایسے مرکزی دینی ادارہ ہیں جن کی علمی خدمات ناقابل فراموش ہین ،ان کے علاوہ ہمارے ارد گرد ایسے بہت سے مدارس اسلامیہ ہیں جہاں ملت اسلامیہ کے نونہال اپنی دینی علمی پیاس بجھانے میں مصروف ہیں اور ان میں اکثر وبیشتر کی مالی حیثیت کمزور ہونے کی وجہ سے ادارہ ہی ان کی کفالت کرتا ہے ،کہیں ایسا نہ ہوکہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں ان کی حق تلفی ہو جائے اور آگے چل کر ان مدارس میں پڑھنے والے نونہالوں کے لئے تعلیمی سفر جاری رکھنا دوشوار ہو جائے ،اس لئے مخیر حضرات اس جانب بھی توجہ دیںبلکہ ان کا تعاون کرنے کواپنا دینی ،مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھیں ،ملک کی بگڑ تی ہوئی صورت حال اور معاشرہ میں پھیل رہی اخلاقی خرابیوں کے پیش نظر ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان مدارس اسلامیہ کو پہلے سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کریں اور صرف زکوٰۃ ،صدقات پر اکتفاء نہ کریں بلکہ موقع بموقع اپنے عطیات کے ذریعہ ان کا تعاون کرتے رہیں ،مدارس اسلامیہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ حکومت سے تعاون لئے بغیر صرف ملت اسلامیہ ہی کے گراں قدر تعاون سے چلتے ہیں ،انہیں اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے اور مخیر ،درد مند اور اصحاب خیر پر کا مل اعتماد ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنا تعاون جاری رکھیں گے اور اس عظیم دینی وعلمی کام میں تعاون کرتے ہوئے اپنے لئے دنیا میں خیر وبرکت اور اخرت میں اجر وثواب کے مستحق بنیں گے ۔
٭٭٭