Fri, Feb 26, 2021

رمضان کی عبادتوں کا اپنے گھروں میں اہتمام کریں
مدارس اسلامیہ کا بھر پور تعاون کریں
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی کی اپیل

ماہ مقدس جس کا ہر صاحب ایمان کو بے چینی سے انتظار رہتا ہے اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے کو ہے ، یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کی آمد کا انتظار خود رسول اللہ ؐ دو ماہ قبل ہی سے فرمایا کرتے تھے اور ہلال رجب دیکھ کر رمضان میں داخل ہونے کی دعا فرمایا کرتے تھے اور جب رمضان المبارک آجاتا تو نہ صرف اس میں عبادتوں کا اہتمام فرماتے بلکہ اپنے ازواج مطہراتؓ اور اصحابؓ کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرواتے تھے ، آپ ؐ نے اسے نیکیوں کا موسم قرار دیا ہے اور امت کو کثرت سے اعمال صالحہ کرنے کی ترغیب دی ہے ، اس مہینے میں رحمت الٰہی جوش میں ہوتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ، جہنم بند کردی جاتی ہے اور سر کش شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں ، خدا کی طرف سے عبادات پر غیر معمولی انعام واکرام سے نوازا جاتا ہے ،نوافل پر فرائض کے بقدر اور فرض پر ستر فرضوں کے برابر ثواب دیا جاتا ہے ، آپ ؐ نے اس میں روزے ،نماز تراویح ،تلاوت قرآن ،اعتکاف اور دیگر عبادات کے اہتمام کی ترغیب دی ہے ، نیز اس ماہ کو صبر کا مہینہ قرار دیا ہے ،ہمدر دی وغمخواری کی ترغیب دی ہے،آپ ؐ نے اس ماہِ مبارک کے پہلے عشرہ کو رحمت ، درمیانی کو مغفرت اور آخری عشرہ کو دوزخ کی آگ سے آزادی کا ذریعہ فرمایا ہے، مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی نبیرہ حضرت قطب دکن ؒ خطیب جامع مسجد اشرفی قلعہ گولکنڈہ حیدرآباد اپنے صحافتی بیان کے ذریعہ یہ بات بتائی ،مفتی فاروقی نے کہا کہ موجودہ ملکی وعالمی مہلک وباء کے پیش نظر حکومت لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے اور سماجی فاصلے پر سختی سے عمل کی تاکید بھی کی ہے جس کی وجہ سے مساجد میں نمازوں پر عارضی روک لگائی گئی ہے اور لاک ڈاؤن تک فرائض کے علاوہ ، افطار کا اہتمام اور نماز تراویح بھی مسلمانوں گھروں میں ہی ادا کرنا ہوگا ،حکومت کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام ومفتیان عظام نے بھی مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں عبادات کا اہتمام کریں اور مساجد میں آنے سے گریز کریں ،لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی بازاروں کی مصروفیات اور دیگر کاموں سے فرصت حاصل ہے ،اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مکمل یکسو ہو کر رمضان کے ایک ایک لمحہ کا صحیح استعمال کر سکتے ہیں ،اپنے گھروں کو عبادت کا مرکز بنا سکتے ہیں اور افراد خاندان کے ساتھ مل کر عبادات انجام دے سکتے ہیں ،چنانچہ اس کا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے ،رسول اللہ ؐ نے اس ماہ میں خصوصیت کے ساتھ خیر خیرات کی ترغیب دی ہے بلکہ خود بھی تیز ہواؤں کی طرح فیاضی کا مظاہرہ فرماتے تھے ، چنانچہ اہل خانہ کے علاوہ رشتہ دار ،دوست احباب ، پڑوس اور مستحق افراد کا بھر پور خیال رکھنا چاہئے ،کسی کے کام آجانا بہت بڑی سعادت اور کا میابی ہے ، ان کے علاوہ مدارس اسلامیہ کا بھی بھر پور خیال رکھیں ، یہ مدارس ملت کا سر مایہ افتخار ہیں ،یہ اسلامی مراکز اور دینی قلعہ ہیں ،یہیں سے علماء ، مفتیان، حفاظ ، مفسر ومحدث اور مساجد کو امام ومؤذن فراہم ہوتے ہیں اور یہ امت کی دینی رہبری کے عظیم مراکز ہیں چونکہ عموماً رمضان میں زکوٰۃ ،صدقات اور عطیات نکالنے کا معمول ہے اور بہت سے مخیر حضرات مدارس کا تعاون کرتے ہیں ،ان حالات میں سبھی مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے کہ وہ مدارس کا بھر پور تعاون کریں ،ایسا نہ ہو کہ لاک ڈاؤں میں مساکین ومستحقین کی طرف تو جہ دینے میں مدراس اسلامیہ ذہن سے نکل جائیں ،یہ بات یاد رکھیں کہ بھوک اور فقر تو ہم برداشت کر سکتے ہیں مگر دین سے دوری ہمیں برداشت نہیں ہے اور مدارس کا عدم تعاون کہیں ہماری نسل کو دین سے دور نہ کر دیں ،اس لئے نازک ترین صورت حال میں ملکی قوانین کو نظر انداز نہ کریں ، شریعت کی اجازت کا فائدہ اٹھائیں ،گھروں میں رہ کر رمضان کے اوقات کا صحیح استعمال کریں اور مستحقین کے ساتھ مدارس کا بھر پور تعاون کریں ،یقینا اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔
٭٭٭