Tue, Mar 2, 2021

کوو یڈ19 اور قرآنی ہدایات
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی

عالمی وبا کووڈ 19 کا قہر جاری ہے ،اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں لاکھوں لوگ کووڈ 19 کے مہلک ترین مرض کا شکار ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ،اس مرض نے پوری دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے ، بڑے بڑے لوگ جنہیں اپنے علم وہنر پر ناز تھا بے بسی کی مورت بنے بیٹھے ہیں،مارے ہیبت کے گھروں میں ہی رکے رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، مختلف ممالک کے حکام نے بھی اپنے اپنے ملک میں لاک ڈون نافذ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگ تقریبا ً ایک ماہ سے اپنے گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں ، دنیا بھر میں اب تک بائیس لاکھ لوگ اس مرض کے لپیٹ میں آچکے ہیں اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ اس بیماری کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ،اس بیماری سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے متجاوز ہے ، اس بیماری کی دہشت سے کئی لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں ، بڑے بڑے شہروں کے بڑے بڑے شاپنگ مالس انسانوں کے دیدار کو ترس رہے ہیں اور کشادہ سڑکیں جہاں پر انسانوں کی آمد ورفت کو کنٹرول کرنے کے لئے سگنل نصب کئے گئے تھے آج وہ بجھے پڑے ہیں اور سڑکوں پر وایرانی اور اداسی چھائی ہوئی ہے ، عالمی تنظیم صحتW,H,O کا پورا عملہ اس بیماری کی دوا بنانے میں رات دن مصروف ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک مرض سے بچاؤ کا وحد راستہ احتیاط کے سوا کچھ نہیں ہے ،کیونکہ یہ مرض متعدی ہے اور متاثرہ شخص سے کئی اور اشخاص متاثر ہو سکتے ہیں اس لئے اس سے حفاظت کے لئے سماجی دوری بے حد ضروری ہے ،یہی وجہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے دوری بنائے ہوئے ہیں ،ملاقاتوں سے گریز کر رہے ہیں اور دینی ،مذہبی ،سیاسی،سماجی اور نجی تقریبات بالکل منسوخ ہو چکے ہیں ،بلاشبہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور اسی میں عافیت ہے۔
قرآن حکیم جو قیامت تک ساری دنیا کے انسانوں کے لئے راہ ہدایت ہے ،جس کی ہر آیت سر چشمہ ٔ ہدایت ہے ،یہ ہر موڑ پر انسانیت کی رہبری کرتا ہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس عالمگیر وباء کی نازک ترین صورت حال میں اس کے پاس کوئی ایسا نسخہ ہے جس کی روشنی میں انسان اس وباء سے اور اس کے ضرر اور نقصان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے ؟ کسی پوچھنے والے نے عالم اسلام کی عظیم المرتبت شخصیت محبوب العلماء حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی سے کچھ اس طرح کا سوال کیا تھا اور جاننے کی کوشش کی تھی کہ موجودہ نازک صورت حال میں قرآن حکیم نے اس مرض کی کونسی دوا تجویز کی ہے اور اس کی رہنمائی میں ہم اس مرض سے کس طرح چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت پیر نقشبندی نے فرمایا کہ:قرآن حکیم کوئی سائنسی کتاب نہیں کہ جس میں بیماریوں کی دوا تلاش کر سکے ،یہ تو کتاب ہدایت ہے ،اس کے ذریعہ انسانوں کو رہنمائی حاصل ہوتی ہے اور جو اس سے رہنمائی حاصل کرتا ہے وہ مشکل ترین حالات سے نجات پاجاتا ہے ،چنانچہ ان حالات میں قرآن حکیم کی جن آیات سے ہم کو رہنمائی حاصل ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے ،ارشاد ہے : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْن(البقرہ:۱۵۳)اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو،بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے،یعنی بندہ مومن جب بھی کسی ناموافق حالات سے دوچار ہوتا ہے اور مصائب وآلام اسے اپنے شکنجہ میں کس لیتے ہیں تو ایسے حالات میں قرآن حکیم کی یہ آیت مبارکہ اسے دو باتوں کی ہدایت دیتی ہے (۱) صبر و ثبات اور تحمل وبرداشت کے ذریعہ خدا سے مدد طلب کرنا اور (۲) نماز کے ذریعہ خدائے ذوالجلال کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس سے فریاد طلب کرنا ،کیونکہ خود خدائے رحمن نے ان کے ذریعہ اس سے استعانت طلب کرنے اور اس کی رحمت کو متوجہ کرنے کا حکم دیا ہے ،بندہ مومن کا یہ ایمان وایقان ہے کہ راحت ومصیبت خدا ہی کے قبضہ قدرت میں ہے ، جس طرح سے مصیبت اُسی کے اِذن سے آتی ہیں تو اُسی کے حکم سے جاتی بھی ہیں ،حالات کا بدلنا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر ایک چیز اسی کے حکم کی محتاج ہے اور وہ مختار کل ہے ، نماز اور صبر دو ایسی چیزیں ہیں جو آدمی کے ہر مشکل کو آسان اور مصیبت کو راحت میں تبدیل کردیتی ہیں اور یہ ایسے اعمال ہیں جن کے ذریعہ ہر نبی ؑ، امام الانبیاءؐ ، اصحاب رسولؓ اور پھر ہر دور کے متقین ومقربین نے اسی کا سہارا لے کر خدا سے استعانت طلب کی تھی اور انکی مدد ونصرت کی گئی تھی ۔
قرآن حکیم کی ایک دوسری آیت ہے جس سے ان حالات میں ہم کو رہنمائی ملتی ہے ، ارشاد ہے : وَلاَ تُلْقُوْا بِأَیْْدِیْکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ (البقرہ: ۱۹۵) اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو،اس آیت مبارکہ میں بڑی وضاحت اور نہایت کھلے الفاظ میں اجمالاً یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اسباب حفاظت اختیار کئے بغیر کسی بھی ایسے کام کو اختیار کرنا جس میں نقصان کا امکان ہو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت کی طرف ڈھکیلنے کے مترادف ہے ،ناموافق حالات میں نہایت سنجیدگی سے حالات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے قدم بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہوش مند وہی کہلاتا ہے جو احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہے اور جو احتیاط کو توکل کے خلاف سمجھتا ہے تو ایسا شخص خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ہلاکت کا باعث بنتا ہے ،رسول اللہ ؐ نے بھی کئی مواقع پر احتیاطی تدابیر اختیار فرمائی تھی بلکہ اپنے اصحاب ؓ کو بھی اس کی تعلیم دی تھی ،حالات کی سنگینی کو نظروں سے دیکھنے کے باوجود حفاظتی ذرائع سے بے نیاز ہوجانا خود کو اپنے ہاتھوں ہلاک وبرباد کرنا ہے ۔
قرآن حکیم میں اس چیونٹی کی قول کو نقل کیا گیا ہے جس نے دیگر چیونٹیوں سے حضرت سلیمانؑ کے لشکر سے بچنے کے لئے اپنے اپنے بلوں میں چلے جانے کی تلقین کی تھی تا کہ غیر ارادی طور پر ہی صحیح ان کے قدموں کے نیچے آکر ہلاک نہ ہو جائیں ،ارشاد ہے : حَتَّی إِذَا أَتَوْا عَلَی وَادِیْ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَۃٌ یَا أَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْْمَانُ وَجُنُودُہُ وَہُمْ لَا یَشْعُرُونَ (النمل:۱۸)یہاں تک کہ ایک دن جب (حضرت سلیمان ؑ اور ان کا لشکر ) یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان ؑاور ان کا لشکر تمہیں پیس ڈالے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے،اس آیت مبارکہ میں عقلمند ، چالاک اور حالات کے انجام سے باخبر اس چیونٹی کی نصیحت کو ذکر کیا گیا ہے جس نے اپنے ساتھیوں سے احتیاط برتنے کی بات کہی تھی ،اس میں انسانوں کے لئے رہنمائی ہے کہ وہ ان مقامات اور جگہوں پر جانے سے گریز کریں جن سے ان کی صحت وتندرستی خطرہ میں پڑ سکتی ہے یا ان کی جان کے جوکھم میں پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ، جس جگہ وبائی امراض اپنے ہلاکت خیزی کا طوفان مچارہے ہوں اور وہاں پہنچنے والوں کی گردنیں ٹوٹ رہی ہوں تو ان جگہوں پر جانا خود کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈھکیلنے کے مماثل ہوگا اور یہ ایک طرح کی خود کشی ہوگی اس لئے ایسے مقامات پر جانے سے شریعت نے منع کیا ہے اور قرآن حکیم کی اس آیت سے ہم کو یہی ہدایت ملتی ہے ، اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائر س نہ نظر آنے والا لشکر بن کر ہر طرف حملہ آور ہے ،گھروں سے باہر نکلنے والوں کو وہ اپنے پیروں تلے روندتا جارہا ہے ،اس کی طاقت کو جاننے کے باوجود اس کی طرف قدم بڑھانا ایک قسم کی حماقت اور موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے اس لئے اس سے بچنے کا علاج وہی ہے جو چیونٹی نے اپنے ساتھیوں کے لئے تجویز کیا تھا یعنی گھروں تک خود کو محدود کر لینا اور اس وقت تک مقید ہو جانا جب تک یہ لشکر واپس نہیں لوٹ جاتا ۔
حضرت عقبہ بن عامر ؓ ایک مشہور صحابی ہیں ،وہ فرماتے ہیں کہ: قلت یا رسول اللہ ؐ ! ماالنجاۃ ؟ قال : امسک علیک لسانک ،ولیسعک بیتک وابک علی خطیئتک( ترمذی ،باب ماجاء فی حفظ اللسان :۲۴۰۶)’ میں نے رسول اللہ ؐ سے گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول ؐ مجھے بتلائیے کہ دنیا اور آخرت میں نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ رسول اللہ ؐ نے جواب میں تین چیزوں کی طرف نصیحت فرمائی اور انہیں نجات کا سبب بتایا؛ (۱) اپنی زبان کو قابو میں رکھو(۲) تمہارا گھر تمہاری کفایت کرے یعنی گھر میں رہا کرو (۳) اپنے خطاؤں پر رویا کرو،اس حدیث مبارکہ میں آپ ؐ نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ کے واسطے سے امت کو بہت ہی اہم ترین نصیحتیں ارشاد فرمائی ہیں ،یقینا یہ وہ نصیحتیں ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے آدمی نہ صرف بہت سے گناہوں اور برائیوں سے محفوظ رہتا ہے بلکہ توبہ کے ذریعہ وہ اپنے نامہ اعمال کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کرا لیتا ہے ، اس کا شمار توبہ کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو خدا محبوب رکھتا ہے اور انہیں اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے ،اس حدیث مبارکہ میں آپ ؐ نے اپنی امت کو گھروں میں قرار پکڑنے اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی نصیحت فرمائی ہے یقینا گھروں کا قیام آدمی کو بہت سے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے، یعنی بُری مجلسوں اور بُرے لوگوں کی صحبت سے بچاتا ہے، بد نگاہی سے محفوظ رکھتا ہے ،بازاروں کے فتنوں سے دور رکھتا ہے،نیز بہت سے فتنے اور فساد سے اور آفتوں ومصیبتوں سے بچاتا ہے ، جو لوگ بقدر ضرورت گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور ضروریات کی تکمیل پر گھروں کی طرف لوٹ جاتے ہیں ان کے لئے گھروں میں قیام کرنا کسی دشواری کا باعث نہیں رہتا اور جو لوگ باہر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان کے لئے خود اپنے گھروں کا قیام بڑی دشواری کا سبب بن جاتا ہے ، اگر ہم ہر طرح سے عافیت چاہتے ہیں تو گھروں کے ماحول کو پُر رونق اور پُر سکون بنانا ہوگا تاکہ اس میں قیام سے طبیعت کو سکون وچین حاصل ہو سکے اور باہر کے ماحول سے گھٹن محسوس ہو نے لگے تاکہ ضرورریات کی تکمیل کے بعد آدمی گھر پر رہ کر خوشی و مسرت پا سکے اور متعدد تکالیف سے محفوظ رہ سکے ۔
٭٭٭